ظاہر ہے کہ تفرد متروک مستلزم وضع نہیں،کمابیناہ فی الافادۃ التاسعۃ اماما اعلہ الشیخ ابومحمد محمد بن الامیر المالکی المصری المدرس بالجامع الازھر بعد ایرادہ فی ثبتہ بالمتن الثانی المذکور فیہ الاضافۃ الی تمام العشرۃ بذک الملئکۃ فی الضیافۃ وھم لایاکلون ولایشربون قال فان صح فھو خارج مخرج الفرض والتقدیر ۲؎ اھ کماانبأنا بہ فی جملۃ مرویانۃ شیخنا العلامۃ زین الحرم السید احمد بن زین بن دحلان المکی عن الشیخ عثمان بن حسن الدمیاطی عن مؤلفہ الشیخ الامیر المالکی ،
جیسا کہ ہم نے اسے نویں افادہ میں بیان کردیا ہے لیکن شیخ ابومحمدمحمد بن امیر مالکی مصری جو جامع ازہر کے مدرس بھی ہیں انہوں نے اس کو اپنے ثبت میں متن ثانی مذکور کے ساتھ ذکر کرنے کے بعد جو علّت بیان کی ہے، اس متن میں ضیافۃ میں ذکرِ ملائکہ کے ساتھ دس مومنوں تک کا اضافہ ذکر ہے حالانکہ نہ وہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہوتو یہ تمثیل بطور فرض وتقدیر ہے اھ جیسا کہ اس کی خبر ہمیں ان کی جملہ مرویات میں ہمارے شیخ علّامہ زین الحرم سید احمد بن زین بن دحلان مکی نے شیخ عثمان بن حسین دمیاطی سے اس کے مؤلف شیخ امیر مالکی سے دی ہے ۔
(۲؎ ثبت ابومحمد محمد بن امیر مالکی مصری)
فاقول لیس باعجب مماانبأنا السید حسین بن صالح جمل اللیل المکی عن الشیخ محمد عابد السندی المدنی بسندہ المشھور الٰی صحیح مسلم بسندہ المعلوم الی ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان اللّٰہ عزوجل یقوم یوم القیٰمۃ یاابن اٰدم مرضت فلم تعدنی الحدیث'' وفیہ یاابن اٰدم استطعمتک فلم تطمعنی قال یارب کیف اطعمک وانت رب العٰلمین قال اما علمت انہ استطعمک عبدی فلان فلم تطعمہ اماعلمت انک لواطعمتہ لوجدت ذلک عندی یاابن آدم استسقیتک فلم تسقنی الحدیث المعروف ۱؎۔
فاقول یہ اس سے کوئی زیادہ عجیب نہیں جس کی خبر ہمیں سید حسین بن صالح جمل اللیل المکی نے شیخ محمد عابد سندھی مدنی سے اپنی مشہور سند کے ساتھ دی جوکہ صحیح مسلم تک ہے وہک اپنی سند معلوم سے حضرت ابوہریرہ سے راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اللہ عزوجل قیامت کے روز فرمائے گا اے ابنِ آدم! میں بیمار ہواتھا تُونے میری عیادت نہ کی ''الحدیث'' اور اسی میں ہے کہ اے ابنِ آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا تھا تُونے مجھے نہیں کھلایا وہ عرض کرے گا اے میرے رب! میں تجھے کیسے کھلاتا حالانکہ تُو تمام جہانوں کا رب ہے، فرمایا کیا تُو نہیں جانتا تجھ سے میرے فلاں بندے نے کھانا مانگا تھا اور تُونے نہیں دیاتھا کیا تُو نہیں جانتا کہ اگر تُو اسے کھِلادیتا تو اسے آج میرے پاس پاتا، اے ابن آدم! میں نے تجھ سے پانی مانگا تھا تُونے مجھے نہیں پلایا۔ حدیث معروف ہے۔ (ت)
(۱؎ صحیح مسلم باب فضل عیادۃ المریض مطبوعہ مطبع اصح المطابع قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۳۱۸)
ثمّ اقول تحقیق مقام یہ ہے کہ عمل بموضوع وعمل بمافی موضوع میں زمین آسمان کا فرق ہے
کمایظھر مماقدمناہ فی الافادۃ الحادیۃ والعشرین
(جیسا کہ ظاہر ہے اسے ہم اکیسویں فائدے میں بیان کرآئے ہیں۔ ت) ثانی مطلقا ممنوع نہیں ورنہ ایجاب وتحریم کی باگ مفتریان بیباک کے ہاتھ ہوجائے لاکھوں افعال مباحہ جن کے خصوص میں نصوص نہیں وضاعین ان میں سے جس کی ترغیب میں حدیث وضع کردیں حرام ہوجائے جس سے ترہیب میں گھڑلیں وہ واجب ہوجائے کہ تقدیر اول پر فعل ثانی پر ترک مستلزم موافقت موضوع ہوگا اور وہ ممنوع لطف یہ کہ اگر ترغیب وترہیب دونوں میں بنادیں تو فعل وترک دونوں کی جان پر بنادیں نہ کرتے بَن پڑے نہ چھوڑتے
(جان لے سمجھ لے اگر تُو سمجھ سکتا ہے۔ ت) اور اول میں بھی حقیقۃً مخدور نفس فعل میں نہیں بلکہ نظر امتثال واعتقاد ثبوت میں تو بفرض وضع اس نظر سے منع ہے نہ اصل فعل سے، سفہائے وہابیہ ہمیشہ ذات وعارض میں فرق نہیں کرتے ع
افادہ بست۲۹ ونہم (اعمالِ مشایخ محتاجِ سند نہیں اعمال میں تصرف وایجادِ مشایخ کو ہمیشہ گنجایش)بالفرض کچھ نہ سہی تو اقل درجہ اس فعل کو اعمالِ مشایخ سے ایک عمل سمجھئے کہ بغرض روشنائی بصر معمول ایسی جگہ ثبوتِ حدیث کی کیا ضرورت، صیغہ اعمال میں تصرف واستخراجِ مشایخ کو ہمیشہ گنجائش ہے ہزاروں عمل اولیائے کرام بتاتے ہیں کہ باعثِ نفع بندگانِ خدا ہوتے ہیں کوئی ذی عقل حدیث سے ان کی سند خاص نہیں مانگتا کتبِ ائمہ وعلما ومشایخ واساتذہ شاہ ولی اللہ وشاہ عبدالعزیز اور خود ان بزرگواروں کی تصانیف ایسی صدہا
باتھوں سے مالامال ہیں اُنہیں کیوں نہیں بدعت وممنوع کہتے، خود شاہ ولی اللہ ہوا مع میں لکھتے عہ۱ ہیں:
اجتہاد رادر اختراع اعمال تصریفیہ راہ کشادہ است مانند استخراج اطبانسخہا سے قرابا دین را این فقیر را معلوم شدہ است کہ دروقت اول طلوع صبح صادق تا اسفار مقابل صبح نشستن وچشم رابآں نورد وختن ''دیانور'' رامکرر گفتن تاہزاربار کیفیت ملکیہ راقوت میدہد واحادیث نفس می نشاند ۱؎ اھ ملخصا۔
اعمالِ تصریفیہ میں نئی نئی ایجاد کے لئے اجتہاد کا دروازہ کھولنا ایسے ہی ہے جیسے اطباع قرابا دین سے نسخوں کا استخراج کرلیتے ہیں اس فقیر کو معلوم ہے کہ اول صبح صادق سے سفیدی تک صبح کے مقابل بیٹھنا اور آنکھ کو اس کے نور واجالے کی طرف لگانا اور یانور کا لفظ باربار ایک ہزار تک پڑھنا کیفیت ملکیہ کو قوّت دیتا ہے اور وسواس سے نجات دلاتا ہے۔ اھ ملخصاً (ت)
عہ۱ : ہامہ عاشرہ ازہوا مع مقدمہ ۱۲ منہ (م)
اس عہ۲ میں ہے: چند نوع کرامت ازہیچ ولی الاّ ماشاء اللہ منفک نمی شوداز انجملہ فراست صادقہ وکشف واشراف برخواطر واز انجملہ ظہور تاثیر درد عاورقے واعمال تصریفیہ او تا عالم بفیض نفس اومنتفع شود ۲؎ اھ ملتقطا۔
چند کرامات تو ایسی ہیں جو کسی ولی سے الّا ماشاء اللہ جُدا نہیں ہوتیں ان میں سے بعض یہ ہیں فراستِ صادقہ، کشفِ احوال، دلوں کے رازوں سے آگاہی اور ان میں سے دُعا وتعویذ، دَم اور اعمالِ تصرفیہ میں برکت ہے یہاں تک کہ سارا جہان ان کے اس فیض سے مستفید ہوتا ہے اھ ملتقطا (ت)
عہ۲ : ہامعہ خامسہ تحت قول شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ وہب لنامن لدنک ریحا طیبۃً الخ (م)