Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
130 - 157
پھر امام مذکور بعد اس تحقیق کے کہ اُس وقت غافلانہ بے نیت ثواب درود نہ پڑھنا چاہئے ارشاد فرماتے ہیں:
امامن استیقظ عند اخذ الطیب اوشمہ الی ماکان علیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من محبتہ للطیب واکثارہ منہ فتذکر ذلک الخلق العظیم فصلی علیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حینئذ لماوقر فی قلبہ من جلالتہ واستحقاقہ علی کل امتہ ان یلحظوہ بعین نھایۃ الاجلال عندرؤیۃ شیئ من آثارہ اومایدل علیھا فھذا لاکراھۃ فی حقہ فضلا عن الحرمۃ بل ھو اٰت بمافیہ اکمل الثواب الجزیل والفضل الجمیل وقد استحبہ العلماء لمن رأی شیئا من اٰثارہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولاشک ان من استخصر ماذکرتہ عندشمہ الطیب یکون کالرأی لشیئ من اٰثارہ الشریفۃ فی المعنی فلیسن لہ الاکثار من الصلاۃ والسلام علیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۲؎ ح اھ مختصرا۔
ہاں خوشبو لیتے یا سُونگھتے وقت متنبہ ہوکر حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اسے دوست رکھتے اور بکثرت استعمال فرماتے تھے اس خلق عظیم کو یاد کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود بھیجے کہ حضور کی عظمت اور تمام امت پر حضور کا یہ حق ہونا اُس کے دل میں جماکہ جب حضور کے آثار شریفہ یا اُن پر دلالت کرنے والی کوئی چیز دیکھیں تو نہایت تعظیم کی آنکھ سے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا تصوّر کریں تو ایسے کے حق میں حرمت چھوڑ کراہت کیسی، اس نے تو وہ کام کیا جس پر ثواب کثیر وفضل جمیل پائے گا کہ زیارتِ آثارِ شریفہ کے وقت درود پڑھنا علما نے مستحب رکھا ہے اور شک نہیں کہ جس نے خوشبو سُونگھتے وقت یہ تصور کیا وہ گویا معنیً بعض آثار شریفہ کی زیارت کررہا ہے تو اُسے اس وقت حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود وسلام کی کثرت سنت ہے اھ مختصرا۔
 (۲؎ خاتمہ مجمع بحارالانوار فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن    نولکشور لکھنؤ    ۲/ ۵۱۲ و۵۱۳)
دیکھو باآنکہ احادیث موضوع تھیں اور خاص فعل کی اصلا سند نہیں پھر بھی علما نے جائز رکھا اور بہ نیت نیک باعث اجر عظیم وفضلِ کریم قرار دیا۔

(۳)    فتح الملک المجید کے باب ثامن عشر میں بعد ذکر احادیث ادعیہ واذکار صبح وشام ہے :
یشبھما مایتداولہ اولہ السادۃ الصوفیۃ من قول لاالٰہ الااللّٰہ سبعین الف مرۃ یذکرون اللّٰہ تعالی یعتق بھا رقبۃ من قالھا واشتری بھا نفسہ من النار ویحافظون علیھا لانفسھم ولم مات من اھالیھم واخوانھم وقدذکرھا الامام الیافعی والعارف الکبیر المحی الدین ابن العربی واوصی بالمحافظۃ علیھا وذکروا انہ قدورد فیھا خبر نبوی لکن قال بعض المشایخ لم تردبہ السنۃ فیما اعلم وقدوقفت علی صورۃ سؤال للحافظ ابن حجر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن ھذا الحدیث وھو من قال لاالہ الا اللّٰہ سبعین الفافقد اشتری نفسہ من اللّٰہ وصورۃ جوابہ الحدیث المذکور لیس بصحیح ولاحسن ولاضعیف بل ھو باطل موضوع اھ ھکذا قال النجم الغیطی وعقبہ بقولہ لکن ینبغی للشخص ان یفعل ذلک اقتداء بالسادۃ وامتثالا لالقول من اوصی بھا وتبرکا بافعالھم ۱؎ اھ ملخصا
انہیں دعاؤں کا مشابہ ہے وہ جو سادات صوفیہ کرام میں ستّر ہزار بار لاالٰہ الّااللّٰہ کا رواج ہے اور بیان کرتے ہیں کہ جو ایسا کہے گا اللہ عزّوجل اُسے آزاد فرمائے گا اُس نے اپنی جان دوزخ سے بچالی اور اُس پر اپنی اور پانے وموات اقارب واحباب کے لئے محافظت فرماتے ہیں اسے امام یافعی اور عارف کبیر سید محی الدین ابن عربی قدس سرہما نے ذکر کیا اور شیخ اکبر نے اس پر محافظت کی تاکید فرمائی صوفیہ کرام اس باب میں حدیث نبوی کا آنا بیان فرماتے ہیں، 

لیکن بعض مشائخ نے کہا میری دانست میں کوئی حدیث اس میں وارد نہ ہوئی اور میں نے ایک فتوٰی دیکھا کہ امام ابنِ حجر سے اس حدیث کی نسبت سوال ہوا تھا کہ جو کوئی ستّر ہزار بار لاالٰہ الّا اللّٰہ کہے اُس نے اپنی جان اللہ عزّوجل سے خرید لی، امام نے جواب لکھا کہ یہ حدیث نہ صحیح ہے نہ حسن نہ ضعیف بلکہ باطل وموضوع ہے، علامہ نجم الدین غیطی نے اس فتوے کو ذکر کرکے فرمایا کہ آدمی کو چاہئے کہ اس عمل کو بجالائے کہ اولیائے کرام کی پیروی اور اس کے وصیت فرمانے والوں کا حکم ماننا اور اُن کے افعال سے برکت لینا حاصل ہو اھ ملخصا۔
 (۱؎ فتح الملک المجید)
بیاران ودوستان فرمایند کہ ہفتاد ہفتاد ہزاربار کلمہ طیبہ لاالٰہ الاللّٰہ بروحانیت مرحومی خواجہ محمد صادق وبرحانیت مرحومہ ہمشیرہ اوام کلثوم نجوانند وثواب ہفتا دہزار بار رابر وحانیت یکے بخشمند وہفتاد ہزار دیگر رابر وحانیت دیگرے ازدوستان دعا وفاتحہ مسئول است ۱؎۔
دوست واحباب سے فرمایا کہ ستّرستّر ہزار بار کلمہ طیبہ لاالٰہ الااللّٰہ خواجہ محمد صادق مرحوم کی روحانیت کے واسطے اور ان کی ہمیشہ اُم کلثوم کی روح طیبہ کے واسطے پڑھیں اور ستّر ہزار ایک رُوح کو اور ستّر ہزار دوسرے کی رُوح کو ایصالِ ثواب کریں اور دوستوں سے دُعا وفاتحہ کا سوال ہے۔ (ت)
 (۱؎ مکتوبات امام بربانی    مکتوب ۱۴ بمولانا برکی الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲/ ۳۹)
باقی اس باب میں مرقاۃ عہ  شرح مشکوٰہ کی عبارت افادہ ۱۵ اور احادیث کریمہ حضراتِ اولیائے کرام کی تحقیق افادہ ۱۹ میں دیکھئے۔

عہ شیخ اکبر قدس سرہ الاطہر کی روایت کہ مرقاۃ سے گزری فتح الملک المجید میں بھی نقل کی طرفہ یہ کہ وہابیہ نانوتہ ودیوبند کے امام مولوی قاسم صاحب نے بھی اسے نقل کیا اور حضرت شیخ کی جگہ حضرت سید الطائفہ جنید بغدادی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا نام پاک لکھا اور ستّر ہزار کا لاکھ یا پچھّتر ہزار بنایا شاید یہ دھوکا اُنہیں سوم کے چنوں سے لگا ہو۔ 

تحذیر الناس میں لکھتے ہیں: ''حضرت جنید کے کسی مرید کا رنگ یکایک متغیر ہوگیا سبب پُوچھا تو بروئے مکاشفہ کہا اپنی ماں کو دوزخ میں دیکھتا ہوں، حضرت جنید نے لاکھ یا پچھتر ہزار کلمہ پڑھا تھا یوں سمجھ کر بعض روایتوں میں اس قدر کلمہ کے ثواب پر وعدہ مغفرت ہے جی ہی جی میں اسکو بخش دیا بخشتے ہی کیا دیکھتے ہیں کہ وہ جوان بشاش ہے کہ اب والدہ کو جنت میں دیکھتا ہوں آپ نے فرمایا اس جوان کے مکاشفہ کی صحت مجھ کو حدیث سے معلوم ہُوئی اور حدیث کی تصحیح اس کے مکاشفہ سے ہوگئی ۳؎ اھ تلخیص ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ (م)
 (۲؎ الاسرار المرفوعۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی    احادیث الذکر علٰی اعضاء الوضوء    دارالکتاب العربیۃ بیروت    ص ۳۴۵)
 (۴)مولانا علی قاری علیہ رحمۃ الباری نے موضوعاتِ کبیر میں فرمایا: احادیث الذکر علی اعضاء الوضوء کلھا باطلۃ۲؎۔
جن حدیثوں میں یہ آیا ہے کہ وضو میں فلاں فلاں عضو دھوتے وقت یہ دُعا پڑھو سب موضوع ہیں۔
 (۳؎ تحذیر الناس خلاصہ دلائل    دار الاشاعت کراچی    ص ۴۴، ۴۵)
باینہمہ فرمایا: ثم اعلم انہ لایلزم من کون اذکار الوضوء غیر ثابتۃ عنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان تکون مکروھۃ اوبدعۃ مذمومۃ بل انھا مستحبۃ استحبھا العلماء الاعلام والمشایخ الکرام لمناسبۃ کل عضو بدعاء یلیق فی المقام ۱؎۔
پھر یہ جان رکھ کر ادعیہ وضو کا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت نہ ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ مکروہ یا بدعت شنیعہ ہوں بلکہ مستحب ہیں علمائے عظام واولیائے کرام نے ہر ہر عضو کے لائق دعا اس کی مناسبت سے مستحب مانی ہے۔
 (۱؎ الاسرار المعرفۃ المعروف بالموضوعات الکبرٰی       احادیث الذکر علی اعضاء الوضوء     مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ص ۴۳۴۵)
اس عبارت سے روشن طور پر ثابت ہوا کہ اباحت تو اباحت موضوعیت حدیث استحباب فعل کی بھی منافی نہیں اور واقعی ایسا ہی ہے کہ موضوعیت عدم حدیث ہے اور وہ ورود حدیث بخصوص فعل لازم استحباب نہیں کہ اس کے ارتفاع سے اس کا انتفا لازم آئے کمالایخفی۔

تنبیہ: اس بارہ میں سب احادیث کا موضوع ہونا ابن القیم کا خیال ہے اسی سے مولانا علی قاری نے نقل فرمایا اور ایسا ہی ذہبی نے ترجمہ عباد بن صہیب میں حسبِ عادت حکم کیاگیا مگر عندالتحقیق اُس میں کلام ہے اس باب میں ایک مفصل حدیث ابوحاتم اور ابنِ حبان نے تاریخ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی انصافاً غایت اسکی ضعف ہے اور مقام مقام فضائل،
راجع الحلیۃ شرح المنیۃ للامام ابن امیرالحاج تجد مایرشدک الی الحق بسراج وھاج فی لیل داج۔
امام ابن امیرالحاج کی کتاب حلیہ شرح منیہ کا مطالعہ کرو اس میں تُو اندھیری رات میں روشن چراغ کے ساتھ حق کو پالے گا۔ (ت)

(۵)    سب سے طرفہ تر یہ کہ حدیث مسلسل بالاضافۃ کہ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس کی اجازت مع ضیافت آب وخرما اپنے شیخ علامہ ابوطاہر مدنی سے لی اور اسی طرح مع ضیافت اپنے صاحبزادہ مولانا شاہ عبدالعزیز اور انہوں نے اپنے نواسے میاں اسحاق صاحب کو دی اُس کا مدار عبداللہ بن میمون قداح متروک پر ہونے کے علاوہ خود الفاظِ متن ہی سخت منکر واقع ہوئے ہیں بااینہمہ اکابر محدثین کرام آج تک اس سے برکت تسلسل چاہا کئے ہیں ان کے اسماءِ کرام سلسلہ سند سے ظاہر شیخ شیخانی الحدیث مولانا عابد سندی مدنی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے ثبت حصر الشارو میں اُسے ذکر کرکے فرماتے ہیں:
ھذا بماتفردبہ عبداللّٰہ بن میمون القداح وصرح غیر واحد بانہ متھم بالکذب والوضع قال السخاوی لایباح ذکرہ الامع ذکر وضعہ لکن المحدثین مع کثرۃ کلامھم فیہ ورمبالغتھم فیہ ورمیہ بالوضع لایزالون یذکرونہ یتبرکون بالتسلسل ۱؎ اھ
یہ حدیث صرف بروایت قداح آئی اور متعدد ائمہ نے اُس کے متہم بکذب ووضع ہونے کی تصریح فرمائی، امام سخاوی فرماتے ہیں اُس کا ذکر بے بیان موضوعیت روا نہیں مگر محدثین کثرت سے کلام اور مبالغہ آرائی کرتے رہے اور اُس پر وضع حدیث کا طعن کرتے رہے پھر بھی ہمیشہ اس حدیث کو ذکر کرتے اس سے مسلسل برکت چاہتے رہے ہیں۔ اھ (ت)
(۱؎ ثبت حصر الشارد)
اقول یہ حدیث ہمیں اپنے مشائخ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے دو۲ طریق سے پہنچی، اول بطریق شیخ محقق مولانا عبدالحق محدّث دہلوی:
بسندہ الی الامام ابی الخیر شمس الدین محمد بن محمد بن محمد ابن الجزری بسندہ الی ابی الحسن الصقلی بطریقۃ الی القداح عن الامام جعفر الصادق عن آبائہ الکرام عن امیرالمؤمنین علی کرم اللّٰہ تعالٰی وجوھھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے امام ابوالخیر شمس الدین ابن جزری تک وہ اپنی سند سے ابوالحسن الصقلی تک وہ اپنی سند سے قداح تک امام جعفر صادق سے وہ اپنے آباءِ کرام سے وہ حضرت علی کرم اللہ وجوھھم سے وہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ت)
دوسری بطریق شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی : بسندہ الی ابی الحسن الی القداح الی امیرالمؤمنین عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔
اپنی سند سے ابوالحسن تک وہ قداح تک وہ امیرالمومنین علی کرم اللہ وجہہ تک وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں۔ (ت)
قداح رجال جامع ترمذی سے ہے متروک سہی حد وضع تک منتہی نہیں متن طریق دوم میں مبالغات عظیمہ ہیں اُس پر حکمِ بطلان نہیں شاہ ولی اللہ صاحب کی روایت وہی ہے اور اُسی میں ہمارا کلام مگر طریق اول میں صرف اتنا ہے کہ :
من اضاف مؤمنا فکانما اضاف آدم ومن اضاف اثنین فکانما اضاف آدم وحواء ومن اضاف ثلثۃ فکانما اضاف جبرائیل ومیکائیل واسرافیل ۲؎۔
وہ شخص جس نے کسی ایک مومن کی ضیافت کی گویا اس نے آدم کی ضیافت کی اور جس نے دو۲ کی ضیافت کی اس نے آدم وحوا کی ضیافت کی جس نے تین مومنوں کی ضیافت کی گویا اس نے جبریل، میکائیل اور اسرافیل کی مہمان نوازی کی۔ (ت)
 (۲؎ کنزالعمال    کتاب الضیافت من قسم الافعال حدیث ۲۵۹۷۵    مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ /۲۶۹)
Flag Counter