Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
129 - 157
فقیر بعون رب قدیر جل وعلا تنزل پر تنزل کرکے روشن تر سے روشن تر کلام کرے مگر حضرات منکرین کی آنکھیں خدا ہی کھولے۔

افادہ بست۲۸ وہشتم (حدیث اگر موضوع بھی ہوتو تاہم اس سے فعل کی ممانعت لازم نہیں) اقول اچھا سب جانے دیجئے اپنی خاطر پُورا تنزل لیجئے بالفرض حدیث موضوع وباطل ہی ہو تاہم موضوعیت حدیث عدمِ حدیث ہے نہ حدیث عدم، اُس کا اصل صرف اتنا ہوگا کہ اس بارہ میں کچھ وارد نہ ہوا نہ یہ کہ انکار ومنع وارد ہوا، اب اصل فعل کو دیکھا جائے گا اگر قواعد شرع ممانعت بتائیں ممنوع ہوگا ورنہ اباحت اصلیہ پر رہے گا اور بہ نیت حسن حسن ومستحسن ہوجائے گا۔
کماھو شان المباحات جمیعا کمانص علیہ عہ فی الاشباہ وردالمحتار وانموذج العلوم وغیرھا من معتمدات الاسفار۔
جیسا کہ تمام مباحات کا معاملہ ہے جیسا کہ اس پر اشباہ و ردالمحتار اور انموذج العلوم اور ان جیسی دیگر معتمد کتب میں تصریح کی ہے۔ (ت)
عہ: قال فی الاشباہ من القاعدۃ الاولٰی اما المباحات فانھا تختلف صفتھا باعتبار ماقصدت لاجلہ ۲؎ الخ وعنھا نقل فی اوائل نکاح ردالمحتار وفیہ ایضا من کتاب الاضحیۃ فی مسئلۃ العقیقۃ وان قلنا انھا مباحۃ لکن یقصد الشکر تصیر قربۃ فان النّیۃ تصیر العادات عبادات، والمباحات طاعات ۳؎ اھ وکلام الانموذج مرّفی الافادۃ الحادیۃ والعشرین ۱۲ منہ(م)

 اشباہ میں قاعدہ اولٰی میں ہے کہ مباحات صفت کے اختلاف سے مختلف ہوجاتے ہیں اس اعتبار کے ساتھ جس کا ارادہ کیاگیا ہو الخ اس عبارت کو ردالمحتار کی کتاب النکاح کے اوائل میں نقل کیاگیا ہے، ردالمحتار کی کتاب الاضحیۃ میں بھی عقیقہ کے مسئلہ کے متعلق ہے کہ ہم کہتے ہیں یہ اگرچہ مباح ہے لیکن شکر کے ارادہ سے عبادت بن جاتا ہے کیونکہ نیت عادت کو عبادت میں اور مباحات کو عبادت وفرمانبرداری میں بدل دیتی ہے اھ اور انموذج العلوم کا کلام اکیسویں۲۱ افادہ میں گزرچکا ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    بیان دخول النیۃ فی العبادات الخ        مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی    ۱/ ۳۴)

(۳؎ ردالمحتار کتاب الاضحیۃ        داراحیاء التراث العربی بیروت    ۵/ ۲۰۸)
حدیث کے موضوع ہونے سے فعل کیوں ممنوع ہونے لگا موضوع خود باطل ومہل وبے اثر ہے یا نہی وممانعت کا پروانہ لاجرم علامہ سیدی احمد طحطاوی ؎ ومصری حاشیہ درمختار میں زیرقول
رملی واما الموضوع فلایجوز العمل بہ بحال ۱؎
فرماتے ہیں:
ای حیث کان مخالفا لقواعد الشریعۃ واما لوکان داخلا فی اصل عام فلامانع منہ لالجعلہ حدیثا بل لدخولہ تحت الاصل العام ۲؎۔
یعنی جس فعل کے بارے میں حدیث موضوع وارد ہو اُسے کرنا اُسی حالت میں ممنوع ہے کہ خود وہ فعل قواعدِ شرع کے خلاف ہو اور اگر ایسا نہیں بلکہ کسی اصل کلی کے نیچے داخل ہے تو اگرچہ حدیث موضوع ہو فعل سے ممانعت نہیں ہوسکتی نہ اس لئے کہ موضوع کو حدیث ٹھہرائیں بلکہ اس لئے کہ وہ قاعدہ کلیہ کے نیچے داخل ہے۔
 (۱؎ الدرالمختار   کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۳)

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ دارالمعرفہ بیروت    ۱/ ۷۵)
اقول فقدافاد رحمہ اللّٰہ تعالٰی بتعلیلہ ان المراد جواز العمل بمافی موضوع لالکونہ فی موضوع وسنلقی علیک تحقیق المقام بتوفیق الملک العلام فانتظر۔
اقول سید احمد طحطاوی نے اس تعلیل کے ذریعے یہ ضابطہ بیان فرمادیا کہ مراد یہ ہے (کہ موضوع حدیث کے مفہوم میں جو شرعی قاعدہ کے موافق ہے اس پر عمل ہے نہ کہ موضوع حدیث پر عمل ہے) عنقریب ہم اللہ تعالٰی کی توفیق سے اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے پس آپ انتظار کریں۔ (ت)

یہ تو تصریح کُلی تھی اب جزئیات پر نظر کیجئے تو وہ بھی باعلی ندا شہادت جواز دے رہے ہیں جس نے کلمات علماءِ کرام حشرنا اللہ تعالٰی فی زمرتہم کی خدمت کی وہ جانتا ہے کہ درود موضوعات واباطیل اُن کے نزدیک موجب منع فعل نہ تھا بلکہ باوصف اظہار وضع وبطلان حدیث اجازت افعال کی تصریح فرماتے یہاں بنظرِ اختصار چند امثلہ پر اقتصار۔
 (۱) امام سخاوی مقاصدِ حسنہ میں فرماتے ہیں : حدیث لیس الخرقۃ الصوفیۃ وکون الحسن البصر لبسھا من علی قال ابن دحیۃ وابن الصلاح الہ باطل وکذا قال شیخنا، انہ لیس فی شیئ من طرقھا مایثبت ولم یرد فی خبر صحیح ولاحسن ولاضعیف ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم البس الخرقۃ علی الصورۃ المتعارفۃ بین الصوفیۃ لاحد من اصحابہ ولاامر احدا من اصحابہ بفعل ذلک وکل مایروی فی ذلک صریحا فباطل، ثم ان ائمۃ الحدیث لم یثبتوا اللحسن من علی سماعا فضلا عن ان یلبسہ الخرقۃ ولم یتفرد شیخنا بھذا بل سبقہ الیہ جماعۃ حتی من لبسھا والبسھا کالد میاطی والذھبی والھکاری وابی حیان والعلائی ومغلطائی والعراق وابن الملقن والابناسی والبرھان الحلبی وابن ناصرالدین ھذا مع الباسی ایاھا لجماعۃ من اعیان المتصوفۃ امتثالا لالزامھم لی بذلک حتی تجاہ الکعبۃ المشرقۃ تبرکا بذکر الصلحین واقتفاء لمن اثبتہ من الحفاظ المعتمدین ۱؎ اھ بتلخیص۔
خرقہ پوشی صوفیہ کرام کی حدیث اور یہ کہ حضرت حسن بصری قدس سر السری نے امیرالمومنین مولٰی علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ الکریم سے خرقہ پہنا امام ابن وحیہ وامام ابن الصحاح نے فرمایا باطل ہے، ایسا ہی ہمارے استاد امام ابنِ حجر عسقلانی نے فرمایا کہ اس کی کوئی سند ثابت نہیں نہ کسی خبر صحیح نہ حسن نہ ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس صورت معمولہ صوفیہ کرام پر کسی کو خرقہ پہنایا یا اس کا حکم فرمایا جو کچھ اس بارہ میں صریح روایت کیا جاتا ہے سب موضوع ہے پھر ائمہ حدیث تو حضرت حسن کا حضرت مولٰی سے حدیث سُننا بھی ثابت نہیں کرتے خرقہ پہنانا تو بڑی بات ہے اور یہ بات کچھ ہمارے شیخ ہی نے نہ فرمائی بلکہ اُن سے پہلے ایک جماعت ائمہ محدثین ایسا ہی فرماچکی یہاں تک کہ وہ اکابر جنہوں نے خود پہنا پہنایا جیسے امام(۱) دمیاطی امام(۲) ذہبی امام(۳) شیخ الاسلام سیدنا ہکّاری امام(۴) ابوحیان امام(۵) علاء الدین علائی امام(۶) مغلطائی امام(۷) عراقی امام(۸) ابن ملقن (۹) امام ابناسی امام(۱۰) برہان حلبی امام(۱۱) ابن ناصرالدین دمشقی یہ باآنکہ میں نے خود ایک جماعت عمدہ متصوفین کو خرقہ پہنایا کہ مشائخ کرام نے مجھ پر لازم فرمایا تھا یہاں تک کہ خاص کعبہ معظمہ کے سامنے پہنایا ذکر اولیائے کرام سے برکت لینے اور حفّاظ معتمدین کی پیروی کی جو اُسے ثابت کرگئے۔ (ت)
رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین، دیکھو یہ جماعت کثیرہ ائمہ دین وحملہ شرع مبین باآنکہ احادیث خرقہ کو باطل محض جانتے پھر بھی خرقہ پہنتے پہناتے اور اسے باعثِ برکات مانتے۔
 (۱؎ المقاصد الحسنۃ    حرف اللام    مطبوعہ دارالکتاب العلمیہ بیروت    ص ۳۳۱)
تنبیہ: یہ انکار محدثین اپنے مبلغ علم پر ہے اور وہ اس میں معذور مگر حق اثبات سماع ہے محققین نے اُسے بسند صحیح ثابت کیا امام خاتم الحفاظ جلال سیوطی نے خاص اس باب میں رسالہ اتحاف الغرفۃ تالیف فرمایا اُس میں مروی ہیں:
اثبتہ جماعۃ وھو الراجح عندی لوجوہ وقد رجحہ ایضا الحافظ ضیاء الدین المقدسی فی المختارۃ وتبعہ الحافظ ابن حجر فی اطراف المختارۃ ۱؎۔
حضرت حسن کا حضرت مولٰی سے سماع ایک جماعت محدثین نے ثابت فرمایا اور یہی متعدد دلیلوں سے میرے نزدیک راجح ہے اسی کو حافظ ضیاء الدین مقدسی نے ملخصاً صحیح مختارہ میں ترجیح دی اور امام الشان ابن حجر عسقلانی نے اطراف مختارہ میں ان کی تبعیت کی۔ (ت)
(۱؎ الحادی للفتاوٰی رسالہ اتحاف الفرقۃ دارالفکر بیروت  ۲/۱۰۲)
پھر دلائل ترجیح لکھ کر فرماتے ہیں: امام ابن حجر نے فرمایا: مسند ابی یعلی میں ایک حدیث ہے کہ:
حدثنا جویریۃ بن اشرس قال اخبرنا عقبۃ بن ابی الصھباء الباھلی قال سمعت الحسن یقول سمعت علیا یقول قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مثل امتی مثل المطر الحدیث ۲؎
جویریہ بن اشرس نے ہمیں حدیث بیان کی کہ عقبہ بن ابی صہبا باہلی نے ہمیں خبر دی کہ میں نے حسن بصری سے سُنا وہ کہتے تھے میں نے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کی مثال بارش کی طرح ہے الحدیث۔ (ت)
 (۲؎الحادی للفتاوٰی رسالہ اتحاف الفرقۃ    دارالفکر بیروت    ۲/ ۱۰۴)
ہمارے شیخ المشائخ محمد بن حسن بن صیرفی نے فرمایا یہ حدیث نص صریح ہے کہ حسن کو مولٰی علی سے سماع حاصل ہے اس کے رجال سب ثقات ہیں جویریہ کو ابن حبان اور عقبہ کو امام احمد ویحیٰی بن معین نے ثقہ کہا انتہی۔

اقولیہ تو بطور محدثین ثبوت صریح وصحیح ہے اور حضرات صوفیہ کرام کی نقل متواتر تو موجب علم قطعی ویقینی ہے جس کے بعد حصولِ سماع ولبس خرقہ میں اصلاً محلِ سخن نہیں وللہ الحمد۔
 (۲)    علامہ طاہر فتنی آخر مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:  من شم الورد ولم یصل علی فقد جفانی ھو باطل وکذب وکذا من شم الورد الاحمر الخ عہ زقدکتبت فی شان الصلٰوۃ علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عند الطیب لشیخنا الشیخ علی المتقی قدس سرہ ھل لہ اصل فکتب الجواب عن شیخنا الشیخ ابن حجر قدس سرہ اوغیرہ بمانصہ اما الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عند ذلک ونحوہ فلااصل لھاومع فی ذلک فلاکراھۃ عندنا ۱؎ اھ ملخصا۔
یہ حدیث کہ جس نے پھُول سُونگھا اور مجھ پر درود نہ بھیجا اُس نے مجھ پر ظلم کیا باطل وکذب ہے ایسی ہی وہ حدیث جو گلاب کا پھُول سُونگھنے میں آئی الخ (ز) میں نے اس باب میں اپنے شیخ حضرت شیخ علی متقی مکّی قدس سرہ الملکی کو لکھا کہ خوشبو سُونگھتے وقت درودپاک کی کچھ اصل ہے؟ انہوں نے ہمارے استاد امام ابن حجر مکی رحمہ اللہ تعالٰی یا کسی اور عالم کے حوالہ سے جواب تحریر فرمایا کہ ایسے وقت نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر درود پڑھنے کی کچھ اصل نہیں تاہم ہمارے نزدیک اس میں کوئی کراہت بھی نہیں اھ ملخصاً۔
عہ: الفتنی یکتب زعلی مایزید من عند نفسہ فلعلھا رمز للزیادۃ ۱۲ منہ (م)

علامہ فتنی جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے ہیں تو ''ز'' لکھ دیتے ہیں غالباً اس ''ز'' سے اس اضافہ کی طرف اشارہ کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎خاتمہ مجمع بحارالانوار     فصل فی تعیین بعض الاحادیث المشتہرۃ علی الالسن    نولکشور لکھنؤ    ۲/ ۵۱۲ و ۵۱۳)
Flag Counter