افادہ بست ۲۷ وہفتم (بالفرض اگر کتب میں اصلاً پتا نہ ہوتا تاہم ایسی حدیث کا بعض کلمات علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی بس ہے) اقول بھلایاں تو طرق مسندہ باسانید متعددہ کتب حدیث میں موجود علمائے کرام تو ایسی جگہ صرف کلمات بعض علما میں بلاسند مذکور ہونا ہی سند کافی سمجھتے ہیں اگرچہ طبقہ رابعہ وغیرہا
کسی طبقہ حدیث میں اُس کا نام نہ نشان نہ ہو، حضور اقدس سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے وصال اقدس کے بعد امیرالمومنین عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا حضور والا کوندا کرکے بابی انت وامی یارسول اللّٰہ ۱؎ میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول اللہ کہہ کر حضور کے فضائلِ جلیلہ وشمائل جمیلہ عرض کرنا،
(۱؎ نسیم الریاض شرح شفا باب اول الفصل الرابع فی قسمہ تعالٰی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۱۹۶)
یہ حدیث امام ابومحمد عبداللہ بن علی لخمی اندلسی رشاطی نے کہ پانچویں صدی کے علماء سے تھے ۴۶۶ھ میں انتقال کیا اپنی کتاب اقتباس الانوار والتماس الازہار اور ابوعبداللہ محمدمحمد ابن الحاج عبدری مکی مالکی نے کہ آٹھویں صدی کے فضلا سے تھے ۷۳۷ھ میں وصال ہوا اپنی کتاب مدخل میں ذکر کی دونوں نے محض بلاسند ائمہ کرام وعلمائے اعلام نے اس سے زائد اس کا پتا نہ پایا کُتبِ حدیث میں اصلا نشان نہ ملا مگر ازانجا کہ مقام مقامِ فضائل تھا اسی قدر کو کافی سمجھا، ان نادانوں کُند حواسوں فرق مراتب ناشناسوں کی طرح طبقہ رابعہ میں ہونا درکنار اصلاً کسی طبقہ میں نہ ہونا بھی اُنہیں اُس کے ذکر وقبول سے مانع نہ آیا بلکہ اس سے استناد فرمایا علامہ ابوالعباس قصار نے اسے شرح قصیدہ بردہ شریف میں ذکر کیا اور اِنہیں زشاطی کا حوالہ دیا، پھر امام علّامہ احمد قسطلانی عہ۱ نے مواہب للدنیہ میں بصیغہ جزم ذکر کی، اسی شرح قصار ومدخل کی سند دی، اسی مواہب شریف ونسیم الریاض علّامہ شہاب خفاجی مصری ومدارج النبوۃ شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی وغیرہا میں علمائے کرام نے اس حدیث کو زیر بیان آیہ کریمہ
لااقسم بھذا البلدہ ط وانت حل بھذا البلد ۲؎
(میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں اور اے محبوب! تُو اس میں جلوہ افروز ہے۔ ت)جس میں رب العزّت جل وعلانے شہرِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی قسم یاد فرمائی ہے محلِ استناد میں ذکر کیا کہ قرآنِ عظیم نے حضور پُرنور سید المحبوبین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جان پاک بھی قسم کھائی کہ
لعمرک انھم لفی سکرتھم یعمھون ۳؎
(تیری جان کی قسم یہ کافر اپنے نشہ میں بہک رہے ہیں) اور حضور کے شہر مکہ معظمہ کی بھی قسم کھائی کہ لااقسم بھذا البلدہ ۴؎ مگر اس قسم میں اُس قسم سے زیادہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی تعظیم ہے جس طرح امیرالمومنین عمرفاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس طرف اشارہ کیا کہ عرض کرتے ہیں میرے ماں باپ حضور پر قربان یارسول اللہ، اللہ عزوجل کے نزدیک حضور کا مرتبہ اس حد کو پہنچا کہ حضور کے خاک پاکی قسم یاد فرمائی
لااقسم بھذا البلدo ۔
عہ۱ : الفصل الاول من المقصد العاشر ۱۲ منہ (م) دسویں مقصد کی پہلی فصل میں دیکھو۔ (ت)
(۲؎ القرآن ۹۰ /۲) (۳؎ القرآن ۱۵/ ۷۲) (۴؎ القرآن ۹۰/ ۱)
نسیم(عہ۲) کی دلکشا عبارت یہ ہے : قدقالوا ان ھذا القسم ادخل فی تعظیمہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من القسم بذاتہ وبحیاتہ کمااشار الیہ عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بقولہ بابی انت وامی یارسول اللّٰہ قدبلغت من الفضیلہ عندہ ان اقسم بتراب قدمیک فقال
لااقسم بھٰذا البلدہ ۱؎۔
مفسرین نے تحریر کیا ہے کہ آپ کے شہر کی قسم، آپ کی ذات اور عمر کی قسم سے زیادہ تعظیم پر دلالت کرتی ہے جیسا کہ اس کی طرف حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان الفاظ کے ساتھ اشارہ فرمایا: یارسول اللہ! میرے والدین آپ پر فدا ہوں آپ اللہ تعالٰی کے ہاں اتنے عظیم المرتبت ہیں کہ اللہ تعالٰی نے آپ کے مبارک قدموں کی قسم اٹھاتے ہوئے فرمایا ہے: لااقسم بھذا البلد (میں اس شہر کی قسم کھاتا ہوں) (ت)
عہ۲ : الفصل الرابع من الباب الاول ۱۲ منہ (م) باب اول کی چوتھی فصل میں دیکھو۔ (ت)
(۱؎ نسیم الریاض شرح شفا باب اول الفصل الرابع فی قسمہ تعالٰی مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۱۹۶)
مواہب (عہ) میں ہے : علی کل حال فھذا متضمن للقسم ببلد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ولایخفٰی مافیہ من زیادۃ التعظیم وقدروی ان عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال للنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بابی انت وامی یارسول اللّٰہ لقد بلغ من فضیلتک عنداللّٰہ ان اقسم بحیاتک دون سائر الانبیاء ولقد بلغ من فضیلتک عندہ ان اقسم بتراب قدمیک فقال لااقسم بھٰذا البلد ۲؎۔
ہر حال میں یہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے شہر کی قسم کو متضمن ہے اور اس قسم میں جو عظمتِ مرتبہ ہے وہ مخفی نہیں، حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول نہیں، حضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ اُنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں عرض کیا: یارسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں آپ کی فضیلت اللہ تعالٰی کے ہاں اتنی بلند ہے کہ آپ کی حیاتِ مبارکہ کی ہی اس نے قسم اٹھائی ہے نہ کہ دوسرے انبیاء کی، اور آپ کی عظمت ومرتبت اس کے ہاں اتنی عظیم ہے کہ اس نے ''لااقسم بھذا البلد'' کے ذریعے آپ کے مبارک قدموں کی خاک کی قسم اٹھائی ہے۔ (ت)
عہ: المقصد السادس النوع الخامس الفصل الخامس ۱۲ منہ (م) چھٹےمقصد کی نوع خامس سے پانچویں فصل دیکھو ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ المواہب اللدنیہ مع شرح الزرقانی الفصل الخامس من النوع الخامس الخ مطبعۃ عامرہ مصر ۶/ ۲۷۰)
مدارج (عہ) میں اسے نقل کرکے فرمایا : یعنی سوگند خوردن ببلد کہ عبارت است کہ از زمینے کہ پے سپر میکند، آنرا (پائے آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) سوگند بخاک پائے خوردن ست، وایں لفط درظاہر نظر سخت مے درآید، نسبت بجناب عزّت چوں گویند کہ سوگند میخورد بخاک پائے حضرت رسالت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ونظر بحقیقت معنی صاف وپاک ست کہ غبارے براں نمی نشیند، وتحقیق ایں سخن آنست کہ سوگند خوردن حضرت رب العزّت جل جلالہ پچیزے غیر ذات وصفات بود برائے اظہار شرف وفضیلت وتمیزآں چیزست نزدمردم ونسبت بایشاں تابدانند کہ آں امرے عظیم وشریف است نہ آنکہ اعظم است نسبت بوئے تعالٰی ۱؎ الخ
یعنی شہر کی قسم کھانے سے مراد یہی ہے کہ اس خاکِ پاکی قسم اٹھائی ہے کیونکہ شہر سے مراد وہ زمین اور جگہ ہے جہاں حضور پاؤں رکھ کر چلتے ہیں، بظاہر یہ الفاظ سخت معلوم ہوتے ہیں کہ باری تعالٰی حضور کے خاکِ پاکی قسم اٹھائے، لیکن اگر اس کی حقیقت کو دیکھا جائے تو اس میں کوئی پوشیدگی وغبار نہیں وہ اس طرح کہ اللہ تعالٰی جب اپنی ذات وصفات کے علاوہ کسی شَے کی قسم اٹھاتا ہے تو وہ اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ شیئ (معاذاللہ) اللہ تعالٰی سے عظیم ہے، بلکہ حکمت یہ ہوتی ہے کہ اس چیز کو وہ شرف وعظمت نصیب ہوجائے جس کی وجہ سے عام لوگوں پر اس کا امتیاز قائم ہو اور لوگ محسوس کریں کہ یہ شے بنسبت دوسری چیزوں کے نہایت عظیم ہے نہ کہ وہ معاذاللہ بنسبت اللہ تعالٰی کے عظیم ہے میں ایک اسی حدیث بے سند کو کیا ذکر کرتا کہ اس کی تو صدہا نظیریں کتبِ علماء میں موجود ہیں زیادہ جانے دیجئے یہ پچھلے زماے کے بڑے محدّث شاہ ولی اللہ صاحب بھی جابجا اپنی تصانیف میں ایسی کتب کی حدیثوں سے سند لاتے ہیں جو نہ کسی طبقہ حدیث میں داخل نہ اُن میں سند کا نام ونشان،
عہ: قسم اول باب سوم فصل دوم ۱۲ منہ (م)
(۱؎ مدارج النبوۃ وصل مناقب جلیلہ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۵)
نوٹ: مدارج النبوۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر کے نسخہ میں خط کشیدہ عبارت نہیں ہے غوروفکر سے معلوم ہوتا ہے کہ اتنی عبارت اس نسخے میں کسی وجہ سے رہ گئی اور اعلحٰضرت کی عبارت میں جو اضافہ ہے وہ درست ہے۔ نذیراحمد سعیدی
قرۃ العینین میں روایات مذکورہ تاریخ یافعی وروضۃ الاحباب وشواہد النبوۃ مولانا جامی قدس سرہ السامی سے استناد موجود، مثلاً لکھا:
اما اتصاف شیخین بصفات کاملہ تلبیہ ۲؎ پس بطریق اتم بودو ظہور خرق عوائد وتربیت الٰہی ایشاں رابرؤیا وماندآں ازیشاں بسیار مروی شدہ حدیثی چند ازیں جملہ نیز روایت کنیم ۱؎۔
شیخین (صدیق وفاروق) صفات کاملہ مشہورہ کے ساتھ بطریق اتم متصف تھے اور اُن سے خرقِ عادت اور تربیت الٰہیہ کے طور خواب وغیرہ جسے معاملات کا اظہار بھی احادیث میں مروی ہے ان میں سے ایک حدیث کا میں یہاں ذکر کرتا ہوں،
درشواہد النبوہ ازابومسعود انصاری منقول است کہ گفتہ است اسلام ابوبکر شبیہ بوحی است زیراکہ وے گفتہ است کہ شبی پیش ازبعث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کہ شبی پیش ازبعث رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم درخواب دیدم کہ نورے عظیم ازآسماں فروآمد وبربامِ کعبہ ۲؎ افتاد الخ۔ ونیز درشواہد مذکور است کہ امیرالمومنین ابوبکر صدیق گفتہ است کہ روزے درایامِ جاہلیت درسایہ درختے نشستہ بودم ناگاہ میل بمن کردبجانب من کرد آوازے ازاں درخت بگوش من آمد کہ پیغمبرے درفلاں وقت بیرون خواہد آمدے باید کہ تو سعادت مند ترین مردمان باشی بوے الخ ونیز درشواہد ازابوبکر صدیق منقول است کہ درمرض آخر خود گفت کہ امشب درتفویض امرخلافت بتکرار استخارہ کردم ۳؎ الخ ملتقطا۔
شواہد النبوۃ میں ابومسعود انصاری سے مروی ہے کہا گیا ہے کہ سیدنا ابوبکر کا اسلام مشابہ بالوحی ہے کیونکہ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم نور آسمان سے نیچے آیا اور کعبہ کی چھت پر اترا ہے الخ شواہد النبوۃ میں یہ بھی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں دورِ جاہلیت میں ایک دن ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہواتھا اچانک وہ درخت میری طرف جھُک گیا اور اس درخت سے میرے کانوں میں یہ آواز آئی کہ فلاں وقت اللہ کا پیغمبر آئے گا تو ان کے ساتھیوں میں نہایت ہی سعادت مند ہوگا الخ اور یہ بھی شواہد میں حضرت ابوبکر صدیق سے منقول ہے کہ آپ نے آخری مرضِ وصال میں فرمایا کہ آج میں نے خلافت کے معاملات کو سپرد کرنے کے لئے باربار استخارہ کیا ہے الخ ملتقطا (ت)
اُسی میں ہے : چونوبت خلافت بفاروق رسید سیاستی بردست اوواقع شدکہ غیر نبی برآں قادر نباشد واگر عقل سلیم رااعمال نمایم درامورے کے خلافتِ انبیاء رامی شاید بہتر از حال وے متصور نگر دد زیر اکہ حضرت پیغامبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بدو چیز مشغول بودند یکے تعلیم علم فاروق اعظم ۱؎ مسائل را تفحص کرد و ترتیبِ کتاب وسنت واجماع وقیاس آورد وسد مداخل تحریف نمود چنانچہ علمائے صحابہ ہمہ گواہی دادند کہ وے اعلم زمان خود است دیگر جہاد کفار و فاروق تحمل اعبائے جہاد بوجہے نمود کہ خوب ترازاں صورت نگیرد وقال الیافعی فی السنۃ الرابعۃ عشر فتحت دمشق ۲؎ الخ در روضۃ الاحباب مذکور ست کہ در زبان خلافت وے ہزار وسی وشش شہر باتوابع ولواحق آں فتح شد و چہار ہزار مسجدساختہ گشت وچہار ہزار کنیسہ خراب گردید ویک ہزار ونہ صد منبر بناکردند ۳؎ اھ بالالتقاط۔
جب خلافت حضرت فاروقِ اعظم کے سپرد ہوئی تو آپ نے سیاست کو اس طرح بہتر انداز میں نبھایا کہ کسی غیر نبی سے ایسا ممکن نہ تھا اگر عقلِ سلیم کو امورِ خلافت بروئے کار لایا جائے تو محسوس ہوگا کہ انبیاء کی خلافت کا کام ان سے بہتر نبھایا نہیں جاسکتا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جن دو معاملات کی طرف بہت ہی زیادہ توجہ دیتے تھے ان میں سے ایک تعلیم علم ہے اور فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ نے مسائل میں کھود کرید کرکے اور نہایت ہی محنت و کوشش کے ساتھ کتاب وسنت،اجماع و قیاس کی ترتیب کو قائم فرماکر تحریف کے تمام راستے بند کردئے،چنانچہ تمام صحابہ نے اس بات کی گواہی دی ہے کہ وہ اپنے دور میں سب سے زیادہ عالم تھے۔اور دوسرا معاملہ جہاد کاتھا فاروق اعظم نے اس معاملہ کو اس طرح نبھایا کہ اس سے بہتر تصور نہیں کیا جاسکتا۔یافعی کہتے ہیں کہ ۱۴ھ میں دمشق فتح ہوگیا الخ اور روضۃ الاحباب میں ہے کہ فاروق اعظم کے دور میں ایک ہزارچھتیس(۱۰۳۶) شہر مع مضافات فتح ہوئے،چار ہزار(۴۰۰۰) مساجد کی تعمیر ہوئی،چار ہزار(۴۰۰۰) کنیسے تباہ کئے گئے،ایک ہزارنوسو(۱۹۰۰) منبر تیار ہوئے اھ بالالتقاط۔(ت)
یوں ہی تفسیر عزیزی وغیرہ تصانیف مولانا شاہ عبد العزیز صاحب میں ایسے بہت اسناد ملیں گے اس کا گننا ہی کہاتھا مجھے تو یہاں یہ نص قاہر وباہر سنانا ہے کہ حدیث مذکور فاروقی بابی انت وامی یارسول اللّٰہ کا ایک پارہ امام قاضی عیاض رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بھی شفا شریف میں یونہی بلاسند ذکرفرمایا اس پر امام خاتم الحفاظ جلال الملۃ والدین سیوطی نے مناہل (عـہ) الصفا فی تخریج احادیث الشفا پھر اُن کے حوالہ سے علامہ خفاجی نے نسیم میں ارشاد کیا :
لم اجدہ فی شیئ من کتب الاثر لکن صاحب اقتباس الانوار وابن الحاج فی مدخلہ ذکراہ فی ضمن حدیث طویل وکفٰی بذلک سند المثلہ فانہ لیس ممایتعلق بالاحکام ۱؎۔
میں نے یہ حدیث کسی کتابِ حدیث میں نہ پائی، مگر صاحبِ اقتباس الانوار اور ابن الحاج نے مدخل میں ایک حدیث طویل اسے ذکر کیا، ایسی حدیث کو اتنی ہی سند بہت ہے کہ وہ کچھ احکام سے تو متعلق نہیں۔ (ت)
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء باب اول الفصل السابع فیما اخبر اللہ تعالٰی الخ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۲۴۸)