طرفہ تریہ کہ انہیں میں تخریج الاحیاء للعراقی بھی گِن دی سبحان اللہ کہاں تخریج احادیث کتاب کہاں تصنیف فی الموضوعات، اسی فہم پر ابوحنیفہ وشافعی سے دعوٰی مساوات ولاحول ولاقوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم۔
نتیجۃ الافادات: الحمدُللہ کلام اپنے ذروہ اعلٰی کو پہنچا اور احقاقِ حق حدِ اقصٰی کو، ان چودہ۱۴ افادوں نے ماہِ شب چہاردہ کی طرح روشن کردیا کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں اگر تعددِ طُرق وعملِ اہلِ علم سے متقوی نہ بھی ہوں تو انتہا درجہ ضعیف بضعفِ خفیف، اور فضائلِ اعمال میں باجماعِ علماء محدثین وفقہاء مقبول وکافی اور ثبوتِ استحبابِ عمل کے لئے مفید ووافی ہیں منکرین کی ساری چہ میگوئیاں کہ اُن کے ابطال واہمال کے لئے تھیں بعونہٖ تعالٰی اپنی سزائے کردار کو پہنچ گئیں والحمدللہ رب العالمین، اب پھر دستِ استعانت قائد توفیق کے ہاتھ میں دیجئے اور بعنایت الٰہی واعانتِ حضرت رسالت پناہی علیہ الصلٰوۃ والسلام غیر المتناہی تحقیق مرام میں اس سے بھی وسیع تر تنزلی کلام اور آخر میں ازالہ وازہاق بقیہ اوہام منکرین لیام کیجئے وباللہ التوفیق۔
افادہ بست۲۶ وششم (ایسی جگہ اگر سند کسی قابل نہ ہوتو صرف تجربہ سند کافی ہے) اقول بالفرض اگر ایسی جگہ ضعفِ سند ایسی ہی حد پر ہوکہ اصلاً قابلِ اعتماد نہ رہے مگر جو بات اس میں مذکور ہُوئی وہ علما وصلحا کے تجربہ میں آچکی تو علمائے کرام اس تجربہ ہی کو سند کافی سمجھتے ہیں کہ آخر سند کذب واقعی کو مستلزم نہ تھا، حاکم نے بطریق عمر بن ہارون بلخی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نماز قضائے حاجت کیلئےایک ترکیب عجیب مرفوعاً روایت کی جس کے آخر میں ہے :
ولاتعلموھا السفھاء فانہ یدعون بھا فیستجابون ۱؎۔
بیوقوفوں کو یہ نماز سکھاؤ کہ وہ اس کے ذریعہ سے جو چاہیں گے مانگ بیٹھیں گے اور قبول ہوگی۔
(۱؎ الترغیب والترہیب فی صلاۃ الحاجۃ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۲۸
نصب الرایۃ الحدیث الثانی والاربعون من کتاب الکراہیۃ مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ لصاحبہا الحاج ریاض الشیخ ۴/ ۲۷۳)
ائمہ جرح وتعدیل نے عمر بن ہارون کو سخت شدید الطعن متروک بلکہ متہم بالکذب تک کہا۔ امام احمد وامام نسائی وامام ابو علی نیشاپوری نے فرمایا: متروک الحدیث ہے۔ امام علی بن مدینی وامام دارقطنی نے کہا: سخت ضعیف ہے۔ صالح جزرہ نے کہا: کذاب ہے۔ امام یحیٰی بن معین نے فرمایا:
محض لاشیئ کذاب خبیث ۲؎ ہے۔
(بالکل کوئی شے نہیں کذاب وخبیث ہے۔ ت)
کل ذلک فی المیزان
(یہ سب میزان میں ہے۔ ت) لاجرم حافظ الشان نے تقریب میں فرمایا:
متروک وکان حافظاً ۳؎
(یہ متروک ہے اور حافظ تھا۔ ت) ذہبی نے میزان میں کہا:
کان من اوعیۃ العلم علی ضعفہ، وکثرۃ مناکیرہ وما اظنہ ممن یتعمد الباطل ۴؎۔
اس ضعف وکثرت مناکیر کے باوجود وہ علم کا ذخیرہ تھا اور میں گمان نہیں کرتا کہ کوئی باطل کا ارادہ کرتا ہو۔ (ت)
تذکرۃ الحفاظ میں آخر کہا:
امام اجل ثقہ حافظ عبدالعظیم زکی منذری نے کتاب الترغیب عہ۱ میں یہ حدیث بروایت حاکم نقل کرکے عمر بن ہارون کے متروک ومتہم ہونے سے اُسے معلول کیا،
حیث قال قدتفرد بہ عمربن ھارون البلخی وھو متروک متھم اثنی علیہ ابن مھدی وحدہ عہ۲ فیما اعلمہ ۱؎ اھ
جہاں کہا کہ اس کے بیان کرنے میں عمر بن ہارون بلخی متفرد ہے اور وہ متروک ومتہم ہے میرے علم کے مطابق ابن مہدی نے فقط اسے بہتر قرار دیا ہے اھ ۔
عہ۱ : فی الترغیب فی صلاۃ الحاجۃ ۱۲ منہ (م) (ترغیب میں نماز حاجت کے تحت اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
عہ۲ : اقول ھذا عجیب من مثل الحافظ مع قول نفسہ فی خاتمۃ الکتاب ضعفہ الجمھور وثقہ قتیبۃ وغیرہ اھ فی تذکرۃ الحفاظ عن الابار عن ابی غسان عن بھربن اسد انہ قال اری یحیٰی بن سعید حسدہ قال وساق الخطیب باسنادہ عن ابن عاصم انہ ذکر عمربن ھارون فقال عمر عندنا احسن اخذا للحدیث من ابن المبارک وقال المروزی سئل ابوعبداللّٰہ عن عمربن ھارون فقال مااقدر ان اتعلق علیہ بشیئ کتبت عنہ کثیرا فقیل لہ قدکانت لہ قصّۃ مع ابن مھدی فقال بلغنی انہ کان یحمل علیہ وقال احمد بن سیار کان کثیر السماع کان قتیبۃ یطریہ ویوثقہ الخ ثم ذکر تکذیبہ وترکہ وجرحہ عن ابن معین واٰخرین ثم قال قلت لاریب فی ضعفہ وکان لما حافظا فی حروف القرأت مات سنۃ اربعین وتسعین ثلٰث مائۃ اھ ۱۲ منہ (م)
اقول حافظ جیسے لوگوں پر تعجب ہے کہ خود انہوں نے خاتمہ کتاب میں کہا کہ اسے جمہور نے ضعیف کہا اور قتیبہ وغیرہ نے اسکی توثیق کی اھ اور تذکرۃ الحفاظ میں ازابار ازابن غسان ازبہربن اسد ہے وہ کہتے ہیں میں نے یحیٰی بن سعید کو دیکھا وہ ان پر حسد کرتے تھے کہا اور خطیب اپنی سند سے ابوعاصم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمربن ہارون کا ذکر کیا تو کہا کہ عمر ہمارے نزدیک حدیث اخذ کرنے میں ابی المبارک سے احسن ہے، اور مروزی نے کہا ابوعبداللہ سے عمر بن ہارون کے متعلق پُوچھا گیا تو کہا میں ان کے بارے میں کوئی شیئ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا میں نے ان سے بہت روایات لکھی ہیں، ان سے کہاگیا کہ ان کا ابن مہدی کے ساتھ فلاں معاملہ ہے، تو انہوں نے کہا مجھے خبر پہنچی ہے کہ وہ اس پر حملہ کرتا تھا، اور احمد بن سبار نے کہا کہ وہ کثیر السماع تھا، قتیبہ اس کی تعریف وتوثیق کرتا تھا الخ) پھر اس کی تکذیب، ترک اور جرح ابن معین وغیرہم سے ذکر کرنے کے بعد کہا میں کہتا ہوں اس کے ضعف میں کوئی شک نہیں، اور وہ قراء اتِ حروف میں امام وحافظ تھے ان کا وصال ۳۹۴ھ میں ہوا اھ ۱۲ منہ (ت)
قلت بل اختلف الروایۃ عن ابن مھدی ایضا فقال فی المیزان قال ابن مھدی واحمد والنسائی متروک الحدیث ثم قال وقال ابن حبان کان ابن مھدی حسن الرای فی عمر بن ھارون ۱؎ اھ فاللّٰہ تعالٰی اعلم۔
قلت (میں کہتا ہوں) کہ ابن مہدی سے بھی روایت مختلف ہے، میزان میں ہے کہ ابنِ مہدی، احمد اور نسائی نے کہا کہ یہ متروک الحدیث ہے، پھر کہا کہ ابنِ حبان کہتے ہیں کہ ابن مہدی عمر بن ہارون کے بارے میں اچھی رائے رکھتے تھے اھ فاللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
(۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ ۶۲۳۷ عمر بن ہارون مطبوعہ دارالمعرفت بیروت ۳ /۲۲۸ و ۲۲۹)
باینہمہ از انجا کہ مستدرک میں تھا: قال احمد بن حرب قدجربتہ فوجدتہ حقا، وقال ابراھیم بن علی الدّیبلی عہ۱ قدجربتہ فوجدتہ حقا، وقال الحاکم قال لنا ابوزکریا قدجربتہ فوجدتہ حقا قال الحاکم قدجربتہ فوجدتہ ۲؎ حقا۔
احمد بن حرب نے کہا میں نے اس نماز کو آزمایا حق پایا، ابراہیم بن علی دیبلی نے کہا میں نے آزمایا حق پایا ہم سے ابوزکریا نے کہا میں نے آزمایا حق پایا، حاکم کہتے ہییں خود میں نے آزمایا تو حق پایا عہ۲۔
عہ۱ : نسبۃ الٰی دیبل بفتح الدال المھملۃ وسکون الیاء المثناۃ من تحت وضم الباء الموحدۃ والاٰخر لام قصبۃ بلاد السند کمافی القاموس ۱۲ منہ (م)
یہ دَیبلُ کی طرف منسوب ہے۔ دیبل دال مہملہ کے فتح کے ساتھ، یاء مثنٰی کے سکون باء موحدہ کے پیش کے ساتھ اور آخر میں لام ہے کہ بلادِ سندھ میں ایک قصبہ ہے قاموس میں ایسے ہی ہے ۲ منہ (ت)
عہ۲ :اقول بحمداللہ تعالٰی اس فقیر نے بھی کئی بار آزمایا حق پایا بعض قریب تر اعزّہ کو سخت ناسازی تھی طول ہوا یہاں تک کہ ایک روز حالت مثل نزع طاری ہوئی سب رونے لگے فقیر مشغولِ نماز مذکور ہُوا پڑھ کر آیا تو عزیز مذکور بیٹھا باتیں کرتا پایا وللہ الحمد بیس۲۰ سال ہونے کو آئے جب سے بحمداللہ فضلِ الٰہی ہے ماشاء اللہ لاقوۃ الّاباللہ ۱۲ منہ (م)
امام ابن امیرالحاج حلیہ عہ۳ میں حدیث کا وہ ضعف شدید اور امام ابن جوزی کا اُسے بایقین موضوع کہنا عہ ذکر کرکے فرماتے ہیں:
ومشی علی ھذا فی الحاوی القدسی فانہ ذکر ھذہ الصلٰوۃ للحاجۃ علٰی ھذا الوجہ من الصلٰوۃ المستحبۃ ۱؎۔
حاوی قدسی میں اسی پر عمل کیا کہ انہوں نے حاجت کے لئے اس ترکیب کو مستحب نمازوں میں ذکر فرمایا۔
عہ۳ : اٰخر الکتاب فی الفضائل الثالث عشر فی صلاۃ الحاجۃ من فصول تکمیل الکتاب ۱۲ منہ (م)
یہ کتاب کے آخر میں فضائل کے بیان میں جو تیرھویں فصل نمازِ حاجت کے بیان میں تمیل کتاب کی فصول میں سے ہے (ت)
عہ: ھواٰخر حدیث من باب الصلاۃ فی الموضوعات قال المخرج موضوع، عمربن ھارون کذاب قال خاتم الحفاظ عمرروی لہ الترمذی وابن ماجۃ وقال فی المیزان کان من اوعیۃ العلم الی آخر مانقلنا قال ووجدت للحدیث طریقا آخر فذکر مااسند ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نحوہ وسکت علیہ خاتم الحفاظ واللّٰہ تعالی اعلم ۱۲ منہ (م)
نماز کے باب میں موضوعات میں یہ آخری حدیث ہے تخریج کرنے والے نے کہا یہ موضوع ہے عمر بن ہارون کذاب ہے، خاتم الحفاظ نے کہا عمر سے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت لی ہے، میزان میں ''کان من اوعیۃ العلم الٰی آخر مانقلنا'' (وہ علم کا ذخیرہ تھا آخر تک جو عبارت ہم نے نقل کی ہے) کہا اور کہا کہ اس حدیث کی ایک اور سند بھی میں نے دیکھی ہے پھر وہ سند ذکر کی جو ابن عساکر نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اس کی مثل روایت کی ہے اس پر خاتم الحفاظ نے سکوت کیا ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
مرقاۃ شرح مشکٰوۃ سے امامِ اجل سیدی شیخ اکبر محی الدین ابن عربی قدس سرہ الشریف کا ارشاد لطیف افادہ ۱۵ میں گزرا کہ میں نے صحتِ حدیث کو اس جوان کی صحتِ کشف سے پہچانا یعنی جب اس کے کشف سے معلوم ہوا کہ حدیث میں جو وعدہ آیا تھا ٹھیک اُترا معلوم ہُوا کہ حدیث صحیح ہے اب صدر رسالہ میں امام سخاوی کے نقول دیکھ لیجئے کہ اس تقبیل ابہامین کے کتنے تجربے علما وصلحا سے منقول ہوئے ہیں لاجرم علامہ طاہر فتنی نے فرمایا
روی تجربۃ ذلک عن کثیرین ۲؎
(اس کا تجربہ بہت سے لوگوں سے روایت کیا گیا) تو عزیزو! اگر بفرض غلط سند کسی قابل نہ سمجھو تاہم تجربہ علما کو سند کافی جانو۔