اب انصافاً یہ حکم نہ صرف کتب طبقہ رابعہ بلکہ ثانیا ثالثہ سب پر ہے کہ جب منشا اختلاط صحیح وضعیف ہے اور وہ سب میں قائم تو یہی حکم سب پر لازم آخر نہ دیکھا کہ ائمہ دین نے صاف صاف یہی تصریح سنن ابی داؤد وجامع ترمذی ومسند امام احمد وسنن ابن ماجہ ومصنف ابوبکر ابن ابی شیبہ ومصنّف عبدالرزاق وغیرہا سنن ومسانید کتب طبقہ ثانیہ وثالثہ کی نسبت بھی فرمائے جس کی نقل امام الشان وعلّامہ قاری سے افادہ ۲۱ میں گزری، یونہی امام شیخ الاسلام عارف باللہ زکریا انصاری وامام سخاوی نے تنصیص عہ ا کی،
عہ۱: ذکرنا نصھما فی رسالتنا مدارج طبقات الحدیث ۱۲ منہ (م)
ہم نے ان دونوں کی عبارتوں کو اپنے رسالہ مدارج طبقات الحدیث میں ثکر کیا ہے ۱۲ منہ (م)
امام خاتم الحفاظ کا قول ابھی سُن چکے کہ انہوں نے ان سب کتب کو ایک سلک میں منسلک فرمایا اب شاید منکر کج فہم ان نصوص ائمہ کو دیکھ کر سُنن ابی داؤد وترمذی ونسائی وابن ماجہ کی نسبت بھی یہی اعتقاد کرے گا کہ وہ بھی معاذاللہ مہل وبیکار واصلاً ناقابل استناد واعتبار ہیں ولاحول ولاقوۃ الّا باللّٰہ العلی العظیم۔ بالجملہ حق یہ کہ مدار اسناد ونظر وانتقاد یا تحقیق نقاد پر ہے نہ فلاں کتاب میں ہونے فلاں میں نہ ہونے پر قلم ضراعت رقم جب اس محل پر آیا فیض کرم وکرم قدم نے خوش فرمایا اس مقام ومرام طبقات حدیث کی تحقیق جزیل وتدقیق جمیل فقیر ذلیل غفرلہ المولی الجلیل پر فائض ہوگی کہ اگر یہاں ایراد کرتا اطناب کلام و ابعاد مرام سامنے لہذا اسے بتوفیقہ تعالٰی رسالہ منفردہ عہ اور بلحاظ تاریخ مدارج طبقات الحدیث(۱۳۱۳ھ) لقب دیا وللّٰہ المنۃ فیما الھم ولہ الحمد علی ماعلّم وصلّی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا ومولانا محمد واٰلہ وصحبہ وسلّم۔
عہ: الحمدللہ یہ عربی رسالہ مختصر عجالہ باوصف وجازت فوائد نفسیہ پر مشتمل اس میں:
اوّلاً طبقات اربعہ حدیث میں حجۃ اللہ البالغہ کا کلام نقل کیا۔
ثانیا ایک مسلسل بیان میں اس کی وہ تقریر ادا کی جس سے کلام منتظم ہوکر بہت شبہات کا ازالہ ہوگیا۔
ثالثاً پھر بہت ابحاث رائقہ مؤلفہ ذائقہ ایراد کیں جن سے روشن ہوگیا کہ طبقات اربعہ کی تحدید نہ جامع نہ مانع نہ ناقد کے کام کی نہ مقلد کو نافع۔
رابعاً اپنی طرف سے ایک عام وشامل تام وکامل ضابطہ وضع کیا جس سے ہرگونہ ناقد وغیرناقد متوسط وعامی ہر قسم کے آدمی کو حد استناد وطریق احتجاج واضح ہوگیا آخر میں اُسے کلماتِ علماء سے مؤید کیا اُس کے ضمن میں صحاح ستہ وغیرہا کتب حدیث کا مرتبہ اور باہمی تفاوت اور بعض دیگر کتب صحاح کا شمار اور نیز یہ کہ ائمہ وعلما میں کن کن کو دربارہ تصحیح احادیث تساہلی اور کہیں درباب حکم وضع تشدد یا معاملہ جرح رجال میں نعت تھا بیان کیا جو کچھ دعوٰی کیا ہے اُس کا روشن ثبوت دیا ہے وللہ الحمد ۱۲ منہ (م)
افادہ بست ۲۵ وپنجم (کتبِ موضوعات میں کسی حدیث کا ذکر مطلقاً ضعف کو ہی مستلزم نہیں) اقول کتابیں کہ بیان احادیث موضوعہ میں تالیف ہوئیں دو۲ قسم ہیں، ایک وہ جن کے مصنفین نے خاص ایراد موضوعات ہی کا التزام کیا جیسے موضوعاتِ ابن الجوزی واباطیل جوزقانی وموضوعات صغانی ان کتابوں میں کسی حدیث کا ذکر بلاشبہہ یہی بتائے گا کہ اس مصنّف کے نزدیک موضوع ہے جب تک صراحۃً نفی موضوعیت نہ کردی ہو ایسی ہی کتابوں کی نسبت یہ خیال بجا ہے کہ موضوع نہ سمجھتے تو کتابِ موضوعات میں کیوں ذکر کرتے پھر اس سے بھی صرف اتنا ہی ثابت ہوگا کہ زعمِ مصنّف میں موضوع ہے بہ نظر واقع عدمِ صحت بھی ثابت نہ ہوگا نہ کہ ضعف نہ کہ سقوط نہ کہ بطلان ان سب کتب میں احادیث ضعیفہ درکنار بہت احادیث حسان وصحاح بھردی ہیں اور محض بے دلیل اُن پر حکمِ وضع لگادیا ہے جسے ائمہ محققین ونقاد منقحین نے بدلائل قاہرہ باطل کردیا جس کا بیان مقدمہ ابن الصلاح وتقریب امام نووی والفیہ امام عراقی وفتح المغیث امام سخاوی وغیرہا تصانیف علما سے اجمالاً اور تدریب امام خاتم الحفاظ سے قدرے مفصلاً اور انہی کی تعقبات ولآتی مصنوعہ والقول الحسن فی الذب عن السنن وامام الشان کے القول المسدد فی الذب عن مسند احمد وغیرہا سے بنہایت تفصیل واضح دروشن مطالعہ تدریب سے ظاہر کہ ابن الجوزی نے اور تصانیف درکنار خود صحاح ستّہ ومسند امام احمد کی چوراسی۸۴ حدیثوں کو موضوع کہہ دیا جن کی تفصیل یہ ہے: مسند امام(۱) احمد، صحیح بخاری(۲) شریف بروایت حماد بن شاکر، صحیح مسلم(۳) شریف، سنن(۴) ابی داؤد، جامع(۵) ترمذی، سنن(۶) نسائی، سنن ابن(۷) ماجہ دوم وہ جن کا قصد صرف ایراد موضوعات۲۳ واقعیہ نہیں بلکہ دوسروں کے حکمِ وضع کی تحقیق وتنقیح جیسے لآلی امام سیوطی یا نظر وتنقید کے لئے اُن احادیث کا جمع کردینا جن پر کسی نے حکم وضع کیا جیسے اُنہیں کا ذیل اللآلی امام ممدوح خطبہ مضوعہ میں فرماتے ہیں:
ابن الجوزی اکثر من اخراج الضعیف بل والحسن بل والصحیح کمانیہ علی ذلک الائمۃ الحفاظ وطال مااختلج فی ضمیری انتقاؤہ وانتقادہ فاورد الحدیث ثم اعقب بکلامہ ثم انکان متعقبا بنھت علیہ اھ ۱؎ ملخصا۔
ابن جوزی نے کتاب موضوعات میں بہت ضعیف بلکہ حسن بلکہ صحیح حدیثیں روایت کردی ہیں کہ ائمہ حفاظ نے اس پر تنبیہ فرمائی مدت سے میرے دل میں تھا کہ اُس کا خلاصہ کروں اور اُس کا حکم پرکھوں تو اب میں حدیث ذکر کرکے ابن جوزی کا کلام نقل کروں گا پھر اس پر جو اعتراض ہوگا بتاؤں گا۔
اُسی کے خاتمہ میں فرماتے ہیں :
واذ قد اتینا علی جمیع مافی کتابہ فنشرع الآن فی الزیادات علیہ، فمنھا مایقطع بوضعہ ومنھا مانص حافظ علی وضعہ ولی فیہ نظر فاذکرہ لینظر فیہ ۲؎۔
اب کہ ہم تمام موضوعاتِ ابن الجوزی بیان کرچکے تو اب اُس پر زیادتیں شروع کریں ان میں کچھ وہ ہیں جن کا موضوع ہونا یقینی ہے اور کچھ وہ جنہیں کسی حافظ نے موضوع کہا اور میرے نزدیک اس میں کلام ہے تو میں اُسے نظرِ غور کے لئے ذکر کروں گا۔
پُر ظاہر کہ ایسی تصانیف میں حدیث کا ہونا مصنف کے نزدیک بھی اس کی موضعیت نہ بتائے گا کہ اصل کتاب کا موضوع ہی تنہا ایراد موضوع نہیں بلکہ اگر کچھ حکم دیا یا سند متن پر کلام کیا ہے تو اسے دیکھا جائے گا کہ صحت یا حسن یا ثبوت یا صلوح یا ضعف یا سقط یا بطلان کیا نکلتا ہے مثلاً ''لایصح'' (یہ صحیح نہیں۔ ت) یا ''لم یثبت'' (یہ ثابت نہیں۔ ت) یا سند پر جہالت یا انقطاع سے طعن کیا تو غایت درجہ ضعف معلوم ہُوا، اور اگر ''رفعہ'' کی قید زائد کردی تو صرف مرفوع کا ضعف اور بنظرِ مفہوم موقوف کا ثبوت مفہوم ہُوا، وعلی ہذا القیاس اور کچھ کلام نہ کیا تو امر محتاج نظر وتنقیح رہے گا کمالایخفی شوکانی کی کتاب موضوعات مسمّی بہ فوائدِ مجموعہ بھی اسی قسمِ ثانی کے ہے خود اُس نے خطبہ کتاب میں اس معنٰی کی تصریح کی کہ میں اس کتاب میں وہ حدیثیں بھی ذکر کروں گا جنہیں موضوع کہنا ہرگز صحیح نہیں بلکہ ضعیف ہیں بلکہ ضُعف بھی خفیف ہے بلکہ اصلاً ضعف نہیں حسن یا صحیح ہیں کہ اہلِ تشدّد کے کلام پر تنبیہ اور اُس کے رَد کی طرف اشارہ ہوجائے، عبارت اُس کی یہ ہے:
(۱؎ اللآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ خطبہ کتاب مطبع ادبیہ مصر ۱/ ۲)
(۲؎اللآلی المضوعہ فی الاحادیث الموضوعہ خاتمہ کتاب مطبع ادبیہ مصر ۲/ ۲۵۱)
وقد اذکر مالایصح اطلاق اسم الموضوع علیہ بل غایۃ مافیہ انہ ضعیف بمرۃ وقدیکون ضعیفا ضعفاً خفیفاً، وقدیکون اعلی من ذلک والحاصل علی ذکر ماکان ھٰکذا، التنبیہ علی انہ قدعد ذلک بعض المصنفین موضوعات کابن الجوزی فانہ تساھل فی موضوعاتہ حتی ذکر فیھا ماھو صحیح فضلا عن الحسن فضلا عن الضعیف وقدتعقبہ السیوطی بمافیہ کفایۃ، وقد اشرت الی تعقبات ۱؎ الخ
کبھی میں اس کتاب میں وہ احادیث ذکر کروں گا جن پر موضوع کا اطلاق درست نہیں بلکہ وہ ضعیف ہوں گی اور بعض کے ضعف میں خفت ہوگی بلکہ بعض میں ضعف ہی نہیں ان کے ذکر کا سبب یہ ہے تاکہ اس بات پر تنبیہ کی جائے کہ بعض مصنفین نے انہیں موضوع قرار دیا ہے جیسے ابن جوزی نے اپنی موضوعات میں تساہل سے کام لیا ہے۔ حتی کہ صحیح روایات کو موضوعات میں ذکر کردیا چہ جائیکہ حسن اور ضعیف، امام سیوطی نے ان کا تعاقب
کیا ہے، میں نے بھی ان کے تعقبات کی طرف اشارہ کیا ہے الخ (ت)
تو متکلمِین طائفہ کا یہ سفیہانہ زعم کہ حدیث تقبیل ابہامین شوکانی کے نزدیک موضوع نہ ہوتی تو کتابِ موضوعات میں کیوں کرتا، کیسی جہالتِ فاحشہ ہے۔
تنبیہ: ہر چند یہ افادہ اُن گیارہ افادات سابقہ سے زیادہ متعلق تھا جن میں حضرات طائفہ کے زعمِ موضوعیت کا ابطال ہوا مگر ازانجا کہ ایسی لچربے معنی بات سے توہمِ موضوعیت کسی ذی علم کا کام نہ تھا لہذا ان افادات کے ساتھ منسلک کیا کہ واضح ہوکہ ذکر فی الموضوعات ضعفِ شدید کو بھی مستلزم نہیں جو ایک مسلک پر قبول فی الفضائل میں مخل ہو بلکہ حقیقۃ نفس ذکر بے ملاحظہ حکم تو مفید مطلق ضعف بھی نہیں کہ دونوں قسم میں صحاح وحسان تک موجود ہیں کماتبین۔
لطیفہ :اقول حضرات وہابیہ کے پچھلے متکلم اگر موضوعات شوکانی کو موضوع نہ سمجھے تو کیا عجب کہ خود ان کے امام شوکانی کی سمجھ بھی ایسی ہی ناقص اور ناکافی تھی یہیں خطبہ موضوعات میں علمائے نافیان کذب کی دو قسمیں کیں ایک وہ جنہوں نے رواۃ ضعفاء وکذابین وغیرہم کے بیان میں تصنیفیں کیں جیسے کامل ومیزان وغیرہما وقسم:
جعلوا مصنفاتھم مختصۃ بالاحادیث الموضوعۃ ۲؎
دوسرے وہ جنہوں نے اپنی تصانیف احادیث موضوعہ سے خاص کیں جیسے ابن جوزی وصغانی وغیرہما۔
(۲؎ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم شہات الخ مکتبہ سلفییہ لاہور ص ۲۸۲)
اور اسی قسم دوم میں مقاصد حسنہ امام سخاوی کو گن دیا حالانکہ وہ ہرگز تصانیف عہ مختصہ بہ موضوعات سے نہیں بلکہ اُس کا مقصود ان احادیث کا حال بیان کرنا ہے جو زبانوں پر دائر ہیں عام ازیں کہ صحیح ہوں یا حسن یا ضعیف یا بے اصل یا باطل،
عہ: افادہ ۲۴ میں شاہ ولی اللہ کا قول گزرا کہ ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ومقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود، ۲؎ یہیں سے ظاہر کہ مقاصد حسنہ کتب موضوعات سے کتنے جُدا ہیں ۱۲ منہ (م)
ولہذا اُس میں بہت احادیث کو ذکر کرکے فرماتے ہیں: یہ صحیح بخاری میں ہے یہ صحیح مسلم کی ہے یہ صحیحین دونوں کے متفق علیہ ہے، بھلے مانس نے اُس کے نام کو بھی خیال نہ کیا
المقاصد الحسنۃ فی بیان کثیر من الاحادیث المشتھرۃ علی الالسنۃ ۱؎
(مقاصد حسنہ زبانوں پر دائر بہت سی مشہور حدیثوں کے بیان میں۔ ت) نہ اُسی کو آنکھ کھول کر دیکھا اس کے پہلے ہی ورق کی چوتھی حدیث ہے حدیث آیۃ
المنافق ثلث متفق علیہ ۲؎
(منافق کی تین علامات ہیں، بخاری ومسلم۔ ت) وہیں ساتویں حدیث ہے حدیث
ابدأ بنفسک مسلم فی الزکٰوۃ من صحیحہ ۳؎
(اپنے آپ سے ابتدا کرو، اسے امام مسلم نے اپنی صحیح میں زکٰوۃ کے باب میں ذکر کیا ہے۔ ت)