یہیں اور روایات بھی ابن عساکر وابو شیخ وابن مردودیہ ودیلمی وغیرہم سے مذکور ہیں یہیں عہ ہے:
ثعلبی ازشعبی روایت کردہ است کہ شخصے نزد او آمد وشکایت درد گردہ کردہ شعبی باوگفت کہ ترالازم است کہ اساس القرآن بخوانی وبرجائے درد دم کنی اوگفت کہ اساس القرآن چیست شعبی گفت فاتحۃ الکتاب ۲؎۔
ثعلبی نے شعبی سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے شعبی کے پاس آکر شکایت کی کہ مجھے دردگردہ ہے، انہوں نے فرمایا تو اساس القرآن پڑھ کر جائے درد پر دم کر، اس نے عرض کیا کہ اساس القرآن کہا ہے؟ فرمایا سورۃ الفاتحہ۔ (ت)
عہ: ودریں بعض روایات اقتران دارقطنی یا طبرانی یا وکیع مخالف راسود ندہد زیراکہ ازیں چنانکہ احتمال ایں معنی رونمایند کہ اسناد باینہا مقرون بطبقہ ثالثہ است ہمچناں ایں امر برمنصّہ ثبوت نشیند کہ ہمہ احادیث طبقہ رابعہ ساقط ازدرجہ اعتبار نیست باز احتمال مذکور بملاحظہ روایات دیگر کہ تنہا ازطبقہ رابعہ ست ازل باشد زعم مخالف راہیچ کن باشد فافہم ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
اور اس میں بعض روایات کے دارقطنی یا طبرانی یا وکیع کے ساتھ اقتران سے مخالف کو سودمند نہیں کیونکہ اس طرح سے یہ معنی پیدا ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ اسناد سے طبقہ ثالثہ سے مقرون ہیں اور اسی طرح یہ ثابت ہے کہ طبقہ رابعہ کی تمام احادیث درجہ اعتبار سے ساقط نہیں پھر احتمال مذکور دیگر روایات کے ملاحظہ سے کہ جو صرف طبقہ رابعہ سے ہیں یہ بھی زعمِ مخالف کو زیادہ زائل کرنے والا ہے، مخالف کا جو بھی زعم ہو، اسے اچھی طرح سمجھو ۱۲ منہ (ت)
(۲؎تفسیر عزیزی آخر سورہ فاتحہ شیطان راچہار باردر عمر خود نوحہ الخ مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۵۹)
عزیزی سورہ بقرہ ذکر بعض خواص سور وآیات میں ہے :
ابن النجار درتاریخ خود ازمحمد بن سیرین روایت کردہ کہ حدیثی ازعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما شنیدہ بودم کہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ اند ہرکہ درشب سی وسہ آیت بخواند او را در آں شب درندہ و دُزدے ایذا نر ساند الحدیث اھ مختصراً ۱؎۔
ابن نجار نے اپنی تاریخ میں محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں کہ ایک حدیث میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے سُنی جس میں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص رات کو تینتیس۳۳ آیات پڑھے گا اسے کوئی درندہ اور ڈاکو نقصان نہیں دے گا الحدیث اھ مختصرا۔ (ت)
روی (عہ۲) ابن جریر عن مجاھد قال سأل سلیمان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن اولٰئک النصاری الحدیث ۲؎۔
ابن جریر نے مجاہد سے روایت کیا کہ حضرت سلمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ان نصارٰی کے بارے میں سوال کیا الحدیث (ت)
عہ۱ : زیر آیہ ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصارٰی ۱۲ منہ (م)
اس آیت کے تحت ہے ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصارٰی ۱۲ منہ (ت)
عہ۲ : شاہ صاحب درعجالہ نافعہ جائیکہ ذکر طبقات اربعہ کردہ است تفسیر ابن جریر را از ہمیں طبقہ رابعہ شمردہ است کماذکرہ فی السیف المسلول علی من انکر اثر قدم الرسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
شاہ صاحب نے عجالہ نافعہ میں جہاں چار طبقات کا ذکر کیا ہے وہاں تفسیر ابن جریر کو بھی چوتھے طبقے میں شمار کیا ہے جیسا کہ السیف الملول علی من انکر اثر قدم الرسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ تفسیر عزیزی سورۃ البقرۃ زیر آیت ان الذین اٰمنوا والذین ھادوا والنصارٰی مطبوعہ لال کنواں دہلی ص ۲۷۱)
عزیزی آخر والّیل میں ہے : حافظ خطیب بغدادی ازجابر رضی اللہ تعالٰی عنہ روایت می کند کہ روزے بخدمت آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حاضر بودیم ارشاد فرمودند کہ حالا شخصے می آید کہ حق تعالٰی بعد ازمن کسے رابہتر ازوپیدا نکردہ است وشفاعت اُو روزِ قیامت مثل شفاعتِ پیغمبران باشد جابر گوید کہ مہلے نہ گزشتہ بود کہ حضرت ابوبکر تشریف آوردند ۱؎۔
حافظ خطیب بغدادی حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوا آپ نے فرمایا ابھی ایک شخص آئے گا کہ میرے بعد اس سے بہتر شخص اللہ تعالٰی نے پیدا نہیں فرمایا اس کی شفاعت روزِ قیامت اللہ تعالٰی کے پیغمبروں کی شفاعت کی طرح ہوگی۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کہتے ہیں کہ ابھی تھوڑی دیر گزری تھی کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ تشریف لائے۔ (ت)
تحفہ (اثنا عشریہ) میں (عہ) ہے : در روایات شیعہ وسُنّی صحیح وثابت است کہ ایں امر خیلے بر ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ شاق آمد وخودر ابردرسرائے زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہما حاضر آور د و امیرالمومنین علی رضی اللہ تعالٰی عنہ راشفیع خود ساخت تا آنکہ حضرت زہرا رضی اللہ تعالٰی عنہا ازو خوشنود شد اما روایات اہلسنت پس درمدارج النبوۃ وکتاب الوفا وبیہقی وشروح مشکٰوہ موجود است بلکہ درشرح مشکٰوۃ شیخ عبدالحق نوشۃ است کہ ابوبکر صدیق بعد ازیں قصہ بخانہ فاطمہ رفت ودرگرمی آفتاب بفدربا باستاد عذرخواہی کرد وحضرت زہرا ازو راضی شدو در ریاض النضرۃ نیزایں قصّہ بہ تفصیل مذکورست ودرصل الخطاب بروایت بیہقی ازشعبی نیز ہمیں قصہ مروی ست وابن السمان درکتاب المواقۃ از اوزاعی روایت کردہ کہ گفت بیرون آمد ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ بردر فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا در روز گرم ۲؎ الخ
شیعہ اور سُنّی دونوں کے ہاں روایاتِ صحیحہ میں ثابت ہے کہ یہ معاملہ حضرت ابوبکر پر نہایت شاق گزرا، لہذا آپ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر کے دروازے پر حاضر ہُوئے اور امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کو سفارشی بنایا تاکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا ان سے راضی ہوجائے، روایاتِ اہلسنّت مدارج النبوۃ، الوفاء ،بیہقی اور شروح مشکٰوۃ میں موجود ہیں بلکہ شرح مشکٰوۃ میں شیخ عبدالحق رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر اس واقعہ کے بعد سیدہ فاطمۃ الزہرا کے گھر کے باہر دھوپ میں کھڑے ہوگئے اور معذرت کی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما ان سے راضی ہوگئیں۔ ریاض النضرۃ میں بھی یہ واقعہ تفصیلاً درج ہے اور فصل الخطاب میں بروایت بیہقی، شعبی بھی یہ ہی واقعہ منقول ہے اور ابن السمان نے الموافقۃ میں اوزاعی سے روایت کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ گرمی کے وقت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر آئے الخ۔ (ت)
عہ: درطعن سیزدہم ازمطاعن ملاعنہ برحضرت افضل الصدیقین رضی اللہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)
ملعون لوگوں کے ان اعتراضات میں سے تیرھویں طعن میں ہے جو اُنہوں نے افضل الصدیقین حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ پر کیے ہیں ۱۲ منہ (ت)
(۲؎ تحفہ اثنا عشریۃ طعن سیزدہم از مطاعن ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور ص ۲۷۸)
سابعاً طرفہ تر یہ کہ شاہ صاحب نے تصانیف حاکم کو بھی طبقہ رابعہ میں گنا حالانکہ بلاشُبہ مستدرک حاکم کی اکثر احادیث اعلٰی درجہ کی صحاح وحسان ہیں بلکہ اُس میں صدہا حدیثیں برشرطِ بخاری ومسلم صحیح ہیں قطع نظر اس کہ تصانیف شاہ صاحب میں کتب حاکم سے کتنے اسناد ہیں اور بڑے شاہ صاحب کی ازالۃ الخفاء وقرۃ العینین تو مستدرک سے تو وہ تودہ احادیث نہ صرف فضائل بلکہ خود احکام میں مذکور
کمالایخفی علی من طالعھما
(جیسے کہ اس پر مخفی نہیں جس نے ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) لطیف ترید ہے کہ خود ہی بستان المحدثین میں امام الشان ابوعبداللہ ذہبی سے نقل فرماتے ہیں :
انصاف آنست کہ درمستدرک قدرے بسیار شرط ایں ہردو بزرگ یافتہ میشودیا بشرط یکے از زینہا بلکہ ظن غالب آنست کہ بقدر نصف کتاب ازیں قبیل باشد، وبقدر ربع کتاب از آں جنس است کہ بظاہرعہ اسناد او صحیح ست لیکن بشرط ایں ہردونیست وبقدر ربع باقی واہیات ومناکیر بلکہ بعضے موضوعات نیزہست چنانچہ من دراختصار آں کتاب کہ مشہور بتلخیص ذہبی است خبردار کردہ ام ۱؎انتہی ۔
انصاف یہ ہے کہ مستدرک میں اکثر احادیث ان دونوں بزرگوں (بخاری ومسلم) یا ان میں سے کسی ایک کے شرائط پر ہیں بلکہ ظنِ غالب یہ ہے کہ تقریباً نصف کتاب اس قبیل سے ہے اور تقریباً اس کا چوتھائی ایسا ہے کہ بظاہر ان کی اسناد صحیح ہیں لیکن ان دو (بخاری ومسلم) کی شرائط پر نہیں اور باقی چوتھائی واہیات اور مناکیر بلکہ بعض موضوعات بھی ہیں اس لئے میں نے اس کے خلاصہ جوکہ تلخیص ذہبی سے مشہور ہے، میں اس بارے میں خبردار کیا ہے، انتہٰی (ت)
عہ: لفظ بظاہر درآنچہ امام خاتم الحفاظ درتدریب ازذہبی آور دنیست لفظش ہمین است کہ فیہ جملۃ وافرۃ علی شرطھما وجملۃ کثیرۃ علی شرط احدھما، لعل مجموع ذلک نحونصف الکتاب وفیہ نحو الربع مماصح سندہ، وفیہ بعض الشیئ، اولہ علۃ ومابقی وھونحو الربع فھو مناکیر اوواھیات لایصح وفی بعض ذلک موضوعات ۲؎ ۱۲ منہ (م)
لفظ ''بظاہر'' وہ جو امام خاتم الحفاظ نے تدریب میں امام ذہبی سے نقل کیا ہے اس میں نہیں ہے اس کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں بہت سی احادیث شیخین کی شرائط پر ہیں اور بہت سی ان دونوں میں سے کسی ایک کی شرط پر ہیں، شاید اس کا مجموعہ تقریباً آدھی کتاب ہو اور اس میں چوتھائی ایسی احادیث ہیں جن کی سند صحیح ہے، بعض ایسی ہیں جن میں کوئی شیئ یا علت ہے اور جو بقیہ چوتھائی ہے وہ مناکیر یا واہیات ہیں جو صحیح نہیں، اور بعض اس میں موضوع بھی ہیں ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ بستان المحدثین مع اردو ترجمہ مستدرک میں احادیث موضوع کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳)
(۲؎ تدریب الرادی عدد احادیث مسلم وتساہل الحاکم فی المستدرک دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۱۰۶)
تنبیہ : بحمداللہ ان بیانات سے واضح ہوگیا کہ اس طبقہ والوں کی احادیث متروکہ سلف کو جمع کرنے کے معنی اسی قدر ہیں کہ جن احادیث کے ایراد سے اُنہوں نے احتراز کیا انہوں نے درج کیں نہ یہ کہ انہوں نے جو کچھ لکھا سب متروک سلف ہے مجرد عدم ذکر کو اس معنے پر محمول کرنا کہ ناقص سمجھ کر بالقصد ترک کیا ہے محض جہالت ورنہ افراد بخاری متروکات مسلم ہوں اور افراد مسلم متروکات بخاری اور ہر کتاب متاخر کی وہ حدیث کو تصانیف سابقہ میں نہ پائی گئی تمام سلف کی متروک مانی جائے، مصنفین میں کسی کو دعوائے استیعاب نہ تھا۔ امام بخاری کو ایک لاکھ احادیث صحیحہ حفظ تھیں صحیح بخاری میں کُل چار ہزار بلکہ اس سے بھی کم ہیں
کمابینہ شیخ الاسلام فی فتح الباری شرح صحیح البخاری
(جیسا کہ شیخ الاسلام نے فتح الباری شرح صحیح البخاری میں بیان کیا ہے۔ ت)
ثامناً شاہ صاحب اس کلام امام ذہب کو نقل کرکے فرماتے ہیں:
اسی لئے محدثین نے یہ ضابطہ مقرر کردیا ہے کہ مستدرک حاکم پر ذہبی کی تلخیص دیکھنے کے بعد اعتماد کیا جائے گا۔ (ت)
(۱؎ بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرک میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۳)
اور اس سے پہلے لکھا: ذہبی گفتہ است کہ حلال نیست کسے راکہ برتصحیح حاکم غرہ شودتا وقتیکہ تعقبات وتلخیصات مرانہ بیند ونیز گفتہ است احادیث بسیار درمستدرک کہ برشرط صحت نیست بلکہ بعضے از احادیچ موضوعہ نیز ست کہ تمام مستدرک بآنہا معیوب گشتہ ۲؎۔
امام ذہبی نے کہا ہے کہ امام حاکم کی تصحیح پر کوئی کفایت نہ کرے تاوقتیکہ اس پر میری تعقبات وتلخیصات کا مطالعہ نہ کرلے، اور یہ بھی کہا ہے کہ بہت سی احادیث مستدرک میں شرطِ صحت پر موجود نہیں بلکہ بعض اس میں موضوعات بھی ہیں جس کی وجہ سے تمام مستدرک معیوب ہوگئی ہے۔ (ت)
(۲؎بستان المحدثین مع اردوترجمہ مستدرک میں احادیث موضوعہ کا اندراج مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۰۹)
ان عبارات سے ظاہر ہوا کہ وجہ بے اعتماد یہی اختلاط صحیح وضعیف ہے اگرچہ اکثر عہ صحیح ہی ہوں جیسے مستدرک میں تین ربع کتاب کی قدر احادیث صحیحہ ہیں نہ کہ سب کا ضعیف ہونا چہ جائے ضعف شدید یا بطلان محض کہ کوئی جاہل بھی اس کا اعاد نہ کرے گا اور اس بے اعتمادی کے یہی معنی اگر خود لیاقت نقد رکھتا ہو آپ پرکھے ورنہ کلام ناقدین کی طرف رجوع کرے بے اس کے حجت نہ سمجھ لے ۔
عہ: اسی طرح عدم اعتبار کثرت وقلّت کی دلیل واضح امام الشان کا یہ ارشاد منقول تدریب ہے:
قال الشیخ الاسلام غالب مافی کتاب ابن الجوزی موضوع والذی ینقد علیہ بالنسبۃ الی مالاینتقد قلیل جداقال، وفیہ من الضرران یظن مالیس بموضوع موضوعا عکس الضرر بمستدرک الحاکم فانہ یظن مالیس بصحیح صحیحا قال ویتعین الاعتناء بانتقاد الکتابین فان الکلام فی تساھلھما اعدم الانتفاع بھما الا لعالم بالفن لانہ مامن حدیث الا ویمکن ان یکون قد وقع فیہ تساھل ۱؎ اھ ۱۲ منہ (م)
شیخ الاسلام نے کہا کہ ابن جوزی کی کتاب میں اکثر روایات موضوع ہیں، جن روایات پر انہوں نے تنقید کی وہ ان سے بہت کم ہیں جن پر تنقید نہیں کی، اور کہا کہ اس میں تکلیف وہ امر یہ ہے کہ وہ غیر موضوع کو موضوع گمان کرتے ہیں یہ اس کا عکس ہے جو مستدرکِ حاکم کا ضرر ہے کیونکہ وہ غیر صحیح کو بھی صحیح گمان کرتے ہیں، کہا کہ ان دونوں کتابوں کی کاٹ چھانٹ ضروری ہے کیونکہ کلام ان دونوں میں تساہل کی وجہ سے ان سے نفع حاصل کرنے کو معدوم کردیتا ہے مگر اس شخص کے لئے جو اس فن کا ماہر ہو، کیونکہ ان کی کوئی ایسی روایت نہیں ہُوئی جس میں تساہل نہ ہو ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ تدریب الراوی نقد کتاب موضوعات ابن الجوزی دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۲۷۹)