اوّلاً خود شاہ صاحب اثباتِ عقیدہ وعمل کا انکار فرمارہے ہیں اور وہ فضائل اعمال میں تمسک کے منافی نہیں، ہم افادہ ۲۲ میں روشن کر آئے کہ دربارہ فضائل کسی حدیث ضعیف سے استناد کسی عقیدہ یا عمل کا اثبات نہیں، تو اس بات کو ہمارے مسئلہ سے کیا تعلق!
ثانیا تصانیف خطیب وابونعیم بھی طبقہ رابعہ میں ہیں اور شاہ صاحب بُستان المحدثین میں امام ابونعیم کی نسبت فرماتے ہیں :
فائدہ بخش تصنیفیں کہ فن حدیث میں محدثین کے بضاعت ومحل تمسک ہیں۔
(۱؎ بستان المحدثین مع اُردو ترجمہ تاریخ بغداد للخطیب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۸۸)
پھر امام حافظ ابوطاہر سلفی سے اُن تصانیف کی مدح جلیل نقل کی، سبحان اللہ کہاں شاہ صاحب کا یہ حُسنِ اعتقاد اور کہاں اُن کے کلام کی وہ بیہودہ مراد کہ وہ کتب سراسر مہمل وناقابلِ استناد۔
ثالثاً جناب شاہ صاحب مرحوم کے والد شاہ ولی اللہ صاحب کہ حجۃ اللہ البالغہ میں اس تقریر طبقات کے موجود اُسی حجۃ بالغہ میں اسی طبقہ رابعہ کی نسبت لکھتے ہیں :
اصلح ھذہ الطبعۃ ماکان ضعیفا محتملا ۲؎۔
یعنی اس طبقہ کی احادیث میں صالح تر وہ حدیثیں ہیں جن میں ضعیف قلیل قابل تحمل ہو۔
(۲؎ حجۃ اللہ البانعۃ باب طبقہ کتب حدیث، الطبعۃ الرابعہ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ۱/ ۱۳۵)
ظاہر ہے کہ ضعیف محتمل ادنٰی انجبار سے خود احکام میں حجت ہوجاتی ہے اور فضائل میں تو بالاجماع تنہا ہی مقبول وکافی ہے پھر یہ حکم بھی بلحاظ انفراد ہوگا ورنہ ان میں بہت احادیث منجبرہ حسان ملیں گی اور عندالتحقیق یہ بھی باعتبار غالب ہے، ورنہ فی الواقع ان میں صحاح، حسان سب کچھ ہیں کماستسمع بعونہ تعالٰی (جیسے کہ تُو عنقریب سُنے گا۔ ت)
رابعاً یہی شاہ صاحب قرۃ العینین عہ فی تفضیل الشیخین میں لکھتے ہیں:
چوں نوبت علم حدیث بطبقہ دیلمی وخطیب وابن عساکر رسید ایں عزیزاں دیدندکہ احادیث صحاح وحسان رامتقدمین مضبوط کردہ اندپس مائل شدند بجمع احادیث ضعیفہ ومقلوبہ کہ سلف آنرادیدہ ودانستہ گزاشتہ بودند وغرض ایشاں ازیں جمع آں بود کہ بعد جمع حفاظ محدثین دراں احادیث تامل کنند وموضوعات را ازحسان لغیرہا ممتاز نمایند چنانکہ اصحاب مسانید طرق احادیث جمع کروند کہ حفاظ صحاح وحسان وضعیف از یکد گرممتاز سازند ظن ہردوفریق راخدا تعالٰی محقق ساخت بخاری ومسلم وترمذی وحاکم تمییز احادیث وحکم بصحت وحسن ومتاخران در احادیث خطیب وطبقہ اوتصرف نمودند ابن جوزی موضوعات رامجرد ساخت وسخاوی ورمقاصد حسنہ حسان لغیرہا ازضعاف ومناکیر ممیز نمود خطیب وطبقہ اودر مقدماتِ کتب خودبایں مقاصد تصریح نمودہ اند جزاھم اللّٰہ تعالٰی عن امۃ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خیرا ۱؎ اھ ملتقطا۔
جب علمِ حدیث دیلمی، خطیب اور ابنِ عساکر کے طبقہ تک پہنچا تو انہوں نے دیکھا کہ مقتدمین علماء نے ایسی احادیث جو صحیح اور حسن تھیں کو محفوظ کردیا ہے لہذا انہوں نے ایسی احادیث جمع کیں جو ضعیفہ ومقلوبہ تھیں جنہیں اسلاف نے عمداً ترک کیا تھا ان کے جمع کرنے سے غرض یہ تھی کہ حفاظ محدثین ان میں غور تأمل کرکے موضوعات کو حسن لغیرہ سے ممتاز کردیں گے جیسا کہ اصحابِ مسانید نے تمام طرقِ حدیث کو جمع کیا تاکہ حفاظِ حدیث صحیح، حسن اور ضعیف کو ایک دوسرے سے ممتاز کردیں دونوں فریقوں کو اللہ تعالٰی نے توفیق اور کامیابی عطا رفرمائی، بخاری، مسلم، ترمذی اور حاکم احادیث میں امتیاز کرتے ہوئے ان پر صحیح، حسن ہونے کا حکم لگایا اور متاخرین نے خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں کی احادیث میں تصرف کیا وحکم لگایا، ابن جوزی نے موضوعات کو الگ کیا، امام سخاوی نے مقاصد حسنہ میں حسن لغیرہ کو ضعیف اور منکر سے ممتاز کیا۔ خطیب اور ان کے طبقہ کے لوگوں نے اپنی کتب کے مقدمات میں ان مقاصد کی تصریح کی ہے اللہ تعالٰی ان تمام کو نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُمت کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اھ ملتقطا۔ (ت)
عہ: قسم دوم ازفصل دوم درشبہات وارقان ۱۲ منہ
دوسری فصل کی قسم دوم کا تبین کے شبہات سے متعلق ہے اس کے تحت اس کا بیان ہے (ت)
(۱؎ قرۃ العینین فی تفضیل الشیخین قسم دوم ازشبہات الخ مطبوعہ المکتبۃ السلفیہ لاہور ص ۲۸۲)
دیکھو کیسی صریح تصریح ہے کہ کتب طبقہ رابعہ میں نہ صرف ضعیف محتمل بلکہ حسان بھی موجود ہیں اگرچہ لغیرہا کہ وہ بھی بلاشُبہہ خود احکام میں حجّت نہ کہ فضائل۔
خامساً انہیں شاہ صاحب نے اسی حجۃ میں سنن ابی داؤد وترمذی ونسائی کو طبقہ ثانیہ اور مصنف عبدالرزاق وابوبکر بن ابی شیبہ وتصانیف ابی داؤد طیالسی وبیہقی وطبرانی کو طبقہ ثالثہ اور کتب ابونعیم کو طبقہ رابعہ میں گنا، امام جلیل جلال سیوطی خطبہ جمع الجوامع میں فرماتے ہیں:
رمزت للبخاری خ ولمسلم م ولابن حبان حب وللحاکم فی المستدرک ک وللضیاء فی المختارۃ ض وجمیع مافی ھذہ الکتب الخمسۃ صحیح سوی مافی المستدرک من المتعقب فائبہ علیہ، ورمزت لابی داؤد د فماسکت عہ علیہ فھو صالح ومابین ضعفہ لقلتہ عنہ، وللترمذی ت وانقل کلامہ علی الحدیث وللنسائی ن ولابن ماجۃ ہ ولابی داؤد الطیالسی ط ولاحمد حم ولعبدالرزاق عب ولابن ابی شیبۃ ش ولابی یعلی ع وللطبرانی فی الکبیر طب والاوسط طس وفی الصغیر طص ولابی نعیم فی الحلیۃ حل وللبھیقی ق ولہ فی شعب الایمان ھب وھذہ فیھا الصحیح والحسن والضعیف فابینہ غالبا ۱؎ اھ مختصرا۔
میں نے حوالہ جات کے لئے یہ رموز وضع کیے ہیں، خ سے بخاری، م سے مسلم، حب سے ابنِ حبان، ک سے مستدرک حاکم، ض سے مختارہ للضیاء، ان پانچوں کتب میں صحیح احادیث ہیں ماسوائے حاکم کے جن پر اعتراض کیاگیا ہے اس پر توجہ رکھ، د سے ابوداؤد جس پر وہ خاموش رہیں وہ صالح ہے اور جس کا ضعف انہوں نے بیان کیا ہے میں نے اسے نقل کردیا ہے، ت سے ترمذی میں ان کا حدیث پر تبصرہ بھی نقل کروں گا، ن سے نسائی، ہ سے ابن ماجہ، ط سے ابوداؤد طیالسی، حم سے احمد، عب سے عبدالرزاق، ش سے ابن ابی شیبہ ع سے ابویعلی، طب سے طبرانی کی معجم کبیر، طس سے معجم اوسط، طص سے معجم صغیر، حل سے حلیہ ابونعیم، ق سے سنن بیہقی، ھب سے شعب الایمان للبیہقی مراد ہوگا، ان تمام کتب میں احادیث صحیح بھی ہیں حسن اور ضعیف بھی اور میں اکثر طور پر ان کے بارے میں نشان دہی بھی کروں گا اھ مختصراً۔ (ت)
عہ: فی الاصل الذی وقفت علیہ بین لفظی فماوعلیہ کلمۃ لم تبین فی الکتابۃ فکتبت مکانھا لفظۃ سکت اذھو المراد واذ کان لابدمن التنبیہ نبھت علیہ ۱۲ منہ (م)
وہ اصل کتاب جس پر میں نے واقفیت حاصل کی ہے اس میں لفظ فما اور علیہ کے درمیان ایک کلمہ ہے جو کتابت میں واضح نہیں تو میں نے اس کی جگہ لفظ سکت لکھ دیا ہے اور چونکہ اس سے آغاہ کرنا ضروری تھا تو میں نے آگاہ کردیا، ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ جامع الاحادیث بحوالہ جمع الجوامع خطبہ کتاب، دارالفکر بیروت ۱ /۱۸ ، ۱۹)
دیکھو امام خاتم الحفّاظ نے ان طبقات ثانیہ وثالثہ ورابعہ سب کو ایک ہی مشق میں گنا اور سب پر یہی حکم فرمایا کہ ان میں صحیح، حسن، ضعیف سب کچھ ہے۔
سادساً خود جناب شاہ صاحب کی تصانیف تفسیر عزیزی وتحفہ اثنا عشریہ وغیرہما میں جابجا احادیث طبقہ رابعہ سے بلکہ اُن سے بھی اُتر کر استناد موجود، اب یا تو شاہ صاحب معاذاللہ خود کلام اپنا نہ سمجھتے یا یہ سفہا ناحق تحریف معنوی کرکے احادیث طبقہ رابعہ کو مہمل ومعطل ٹھہرانا اُن کے سر کیے دیتے ہیں، تمثیلاً چند نقول حاضر، عزیزی آخر تفسیر فاتحہ میں ہے :
ابونعیم ودیلمی ازابو الدرداء روایت کردہ اندکہ آنحضرت صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرمودہ کہ فاتحہ الکتاب کفایت مے کندازانچہ ہیچ چیزاز، قرآن کفایت نمی کنند ۱؎ الحدیث۔
ابونعیم اور دیلمی نے حضرت ابودرداء رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جہاں قرآن کی دوسری سورۃ کافی نہ ہو وہاں فاتحہ کافی ہے الحدیث (ت)