Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
123 - 157
یہاں کاف نے زیادتِ توسیع کا پتا دیا، تحدید اول پر امر سہل وقریب ہے کہ ایک جماعت علما حدیث کذابین ومتہمین پر اطلاقی وضع کرتے ہیں تو غیر موضوع سے انہیں خارج کرسکتے ہیں مگر ثانی تصریحات ومعاملات جمہور وعلما وخود امام الشان سے بعید اور ثالث بظاہرہ ابعد ہے ہم ابھی روشن بیان سے واضح کرچکے ہیں کہ خود حافظ نے متروک شدید الضعف راوی موضوعات کی حدیث کو بھی فضائل میں محتمل رکھا مگر بحمداللہ تعالٰی ہمارا مطلب ہر قول پر حاصل ہم افادات سابقہ میں مبرہن کرآئے ہیں کہ تقبیل ابہامین کی حدیثیں ہرگُونہ ضعف شدید سے پاک ومنزّہ ہیں اُن پر صرف انقطاع یا جہالتِ راوی سے طعن کیاگیا یہ ہیں بھی تو ضعفِ قریب نہ ضعف شدید والحمدللّٰہ العلی المجمید ''ھذا'' (اسے یاد رکھو۔ ت)
ورأیتنی کتبت ھھنا علی ھامش فتح المغیث، کلاماً یتعلق بالمقام احببت ایرادہ اتماماً للمرام، فذکرت اولاماعن الشامی عن الطحطاوی عن ابن حجر ثم ایدتہ باطلاق العلماء ثم اوردت ماعن النسیم عن السخاوی عن الحافظ ثم قلت مانصہ۔
اور مجھے یاد آرہا ہے کہ میں نے اس مقام پر فتح المغیث کے حاشیہ میں ایسی گفتگو کی ہے جو اس مقام پر مناسب ہے میں اتمامِ مقصد کی خاطر اس کا یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں، پہلے میں وہ ذکر کروں گا جو امام شامی نے طحطاوی سے اور انہوں نے ابنِ حجر سے نقل کیا ہے پھر اسے مزید قوی کروں گا علماء کے اطلاق سے پھر وہ نقل کروں گا جو نسیم نے سخاوی سے انہوں نے حافظ سے نقل کیا۔ پھر میرا قول یہ ہے:
اقول وھذا کماتری مخالف لاطلاق مامر عن النووی عن العلماء قاطبعۃ، ولتحدید مامر عن الطحطاوی عن شیخ الاسلام نفسہ لکن یظھرلی دفع التخالف عن کلامی شیخ الاسلام بانہ ھھنا ذکر المتفرد وفیما سبق قال ''لایخلوطریق من طرقہ، فیکون الحاصل ان شدید الضعف بغیر الکذب والتھمۃ لایقبل عندہ فی الفضائل حین التفرد، اما اذاکثرت طرقہ فح یبلغ درجۃ یسیر الضعف فی خصوص قبولہ فی الفضائل، بخلاف شدید الضعف بالکذب والتھمۃ فانہ وان کثرطرقہ التی لاتفوقہ بان لایخلو شیئ منھا عن کذاب اومتھم لایبلغ تلک الدرجہ، ولایعمل بہ فی الفصائل، وھذا ھو الذی یعطیہ کلام السخاوی فیما مرحیث جعل قبول مافیہ ضعف شدید مطلقا ولوبغیر کذب فی باب الفضائل موقوفا علی کثرۃ الطرق، لکنہ یخالفہ فی خصلۃ واحدۃ، وھو حکمہ بالقبول بکثرۃ الطرق فی الضعف بالکذب ایضا کماتقدم، وھو کماتری مخالف لصریح مانقل عن شیخ الاسلام وعلی کل فلم یرتفع مخالفۃ نقل شیخ الاسلام عن العلماء جمیعا لنقل الامام النووی عنھم کافۃ، فانھم لم یشرطوا للقبول فی الفضائل فی شدید الضعف کثرۃ الطرق ولاغیرھا سوی ان ان لایکون موضوعا، فصریح مایعطیہ کلامھم قبول مااشتد ضعفہ لفسق اوفحش غلط، مثلا وان تفرد ولم یکثر طرقہ، فافھم، وتأمل، فان المقام مقام خفاء وزلل، واللّٰہ المسؤل لکشف الحجاب، وابانۃ الصواب الیہ المرجع والیہ المآب اھ، مااردت نقلہ مما علقتہ علی الھامش۔
اقول جیسا کہ تمہیں معلوم ہے یہ بات علّامہ نووی کے نقل کردہ تمام علماء کے اطلاق اور خود شیخ الاسلام سے امام طحطاوی کی گزشتہ نقل کردہ تعریف کے خلاف ہے۔ لیکن شیخ الاسلام کی دونوں کلاموں میں مخالف کو ختم کرنے کی وجہ مجھ پر ظاہر ہورہی ہے وہ یہ کہ یہاں انہوں نے راوی کی تفرد کی بات کی ہے اور پہلے انہوں نے کہا ہے کہ طُرق میں سے کوئی طریق بھی (کذاب ومہتم سے) خالی نہ ہو، پس حاصل یہ ہوا کہ کذب وتہمت کے بغیر شدید ضعف ہوتو ان کے ہاں تفرد کی صورت میں فضائل میں قابل قبول نہیں، لیکن جب وہ کثرتِ طُرق سے مروی ہوتو اس صورت میں وہ شدید ضعف سے خفیف ضعف کے درجہ میں آجائےگی پس اب وہ صرف فضائل میں مقبول ہوجائیگی، اس کے برخلاف جو کذب اور تہمت کی وجہ سے شدید ضعف والی ہوتو بیشمار کثرتِ کے باوجود وہ مقبولیت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتی اور نہ ہی فضائل میں قابلِ عمل ہوسکتی ہے کیونکہ اس کے ہر طریق میں کوئی نہ کوئی کذاب اور مہتم ضرور ہوتا ہے۔ یہی بات علمامہ سخاوی کے گزشتہ کلام سے حاصل ہوتی ہے جہاں انہوں نے شدید ضعف والی حدیث کے فضائل میں مقبول ہونے کو کثرتِ طرق پر موقوف کیا وہاں شدّتِ ضعف مطلق مراد ہے خواہ وہ کذب کے علاوہ ہی ہو، لیکن یہ بات ان کو ایک جگہ آڑے آئے گی۔ جہاں انہوں نے ضعف بالکذب پر بھی کثرتِ طرق کی بنا پر مقبول ہونے کا حکم کیا ہے جیسا کہ گزرا ہے حالانکہ تمہیں معلوم ہے کہ یہ بات شیخ الاسلام سے نقل کردہ کے صراحۃً خلاف ہے، بہرصورت شیخ الاسلام کا تمام علماء سے نقل کردہ مؤقف اور امام نووی کا نقل کردہ انہی تمام علماء کا مؤلف مختلف ہے یہ اختلاف مرتفع نہیں ہوسکتا، کیونکہ علماء نے فضائل میں شدید ضعف والی حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرت طُرق وغیرہا کی شرط نہیں لگائی صرف یہ کہا ہے کہ وہ موضوع نہ ہو، ان کے کلام کا صریح ماحصل یہ ہے کہ مثلاً فسق یا فحش غلطی کی بنا پر جس حدیث کا ضعف شدید ہو خواہ اس کا راوی متفرد ہی کیوں نہ ہو اور اس حدیث کے طرق کثیر بھی نہ ہوں تب بھی یہ حدیث (فضائل میں) مقبول ہے، غور وتأمل کرو، کیونکہ یہ مقامِ خفی ہے اور غلط فہمی پیدا کرسکتا ہے، پردوں کو کھولنے اور درستی کو ظاہر کررنے کا سوال صرف اللہ تعالٰی سے ہے اسی کی طرف لوٹنا ہے اور وہی جائے پناہ ہے۔ فتح المغیث کے حاشیہ میں سے جو میں نقل کرنا چاہتا تھا وہ ختم ہوا۔ (ت)
فان قلت ھذا قید زائد افادہ امام فلیحمل اطلاقاتھم علیہ دفعاً للتخالف بین النقلین قلت نعم لولا ان ماذکروا من الدلیل علیہ لایلائم سریان التخصیص الیہ، وکیف نصنع بما نشاھدھم یفعلون یرون شدۃ الضعف ثم یقبلون، وبالجملۃ فالاطلاق ھو الاوفق بالدلیل والالصق بقواعد الشرع الجمیل فنودان یکون علیہ التعویل والعلم بالحق عند الملک الجلیل۔
اگر اعتراض کے طور پر تو یہ کہے کہ امام شیخ الاسلام کے بیان میں ایک زاید قید ہے جس پر علماء کے اطلاقات کو محمول کیا جاسکتا ہے اس سے دو نقل کردہ کلاموں میں اختلاف ختم ہوسکتا ہے قلت (تو میں جواباً کہتا ہوں) ہاں اگر علماء کے ذکر کردہ پر کوئی دلیل نہ ہو تب بھی ان کے کلام کو اس قید سے خاص کرنا ممکن نہیں کیونکہ یہ ان کا کلام ہی نہیں ہے بلکہ وہ شدید ضعف پاکر بھی قبول کرنے پر عمل پیرا ہیں جس کا ہم مشاہدہ کررہے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ (شدید ضعیف حدیث کو قبول کرنے کے لئے کثرتِ طرق) کی قید نہ لگانا، دلیل کے زیادہ موافق اور قواعدِ شرح جمیل کے زیادہ مناسب ہے، ہماری خواہش ہے کہ یہی قابلِ اعتماد ہو اور حق کا علم اللہ جل جلالہ، کے ہاں ہے۔ (ت)
فائدۃ جلیلۃ (فائدۃ جلیلۃ فی احکام انواع الضعیف والجبار ضعفھا) ھذا الذی اشرت الیہ من کلام السخاوی المار المتقدم ھو قولہ مع متنہ فی بیان الحسن، ان یکن ضعف الحدیث لکذب اوشذوذ بان خالف من ھو احفظ اواکثر اوقوۃ الضعف بغیرھما فلم یجبر ولوکثرت طرقہ، لکن بکثرۃ طرقہ یرتقی عن مرتبۃ المردود المنکر الی مرتبۃ الضعیف الذی یجوز العمل بہ فی الفضائل وربما تکون تلک الطرق الواھیۃ بمنزلۃ الطریق التی فیھا ضعف یسیر بحیث لوفرض مجیئ ذلک الحدیث باسناد فیہ ضعف یسیر کان مرتقیا بھا الٰی مرتبۃ الحسن لغیرہ ۱؎ اھ ملخصا۔
فائدہ جلیلہ (ضعیف حدیثوں کے احکام، اقسام اور انکی کمی کو پُورا کرنے کے بیان میں) امام سخاوی کے جس گزشتہ کلام کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے وہ بمع متن، حدیث حسن کے بارے میں ہے کہ حدیث کا ضعف کذب یا شذوذ یعنی وہ حدیث احفظ راوی یا کثیر رواۃ کی روایت کے خلاف ہو، یا یہ ضعیف قوی ہو جوان دو مذکورہ (کذب اور شذوذ) کے علاوہ کسی اور وجہ سے پیدا ہوا ہو، یہ ضعف کثرتِ طُرق سے بھی ختم نہیں ہوسکتا، لیکن کثرتِ طرق کی بنا پر یہ حدیث مردود منکر کے مرتبہ سے ترقی کرکے ایسے ضعف کے مرتبہ پر پہنچ جاتی ہے جس سے فضائل میں عمل کے لئے مقبول ہوجاتی ہے اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حدیث کے متعدد کمزور طُرق ایک معمولی کمزور طریقہ جیسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ حدیث کسی معمولی ضعف والی سند کے ساتھ مروی فرض کرلی جائے تو یہ درجہ حسن لغیرہ پر فائز ہوجاتی ہے، ملخصاً۔ (ت)
 (۱؎ فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث    الحسن دارالامام الطبری بیروت    ۱/ ۸۳)
ورائتنی علقت علیہ ھھنا مانصہ اقول حاصل ماتقرر وتحررھھنا مع زیادات نفیسۃ منا ان الموضوع لایصلح لشیئ اصلا ولایلتئم جرحہ ابدا ولوکثرت طرقہ ماکثرت، فان زیادۃ الشرلایزید الشیئ الا شرا، وایضا الموضوع کالموضوع کالمعدوم والمعدوم لایقوی ولایتقوی، ومنہ عند جمع منھم شیخ الاسلام ماجاء بروایۃ الکذابین وعند آخرین منھم خاتم الحفاظ مااتی من طریق المتھمین، وسوّٰھما السخاوی بشدید الضعف الآتی لذھابہ الی ان الوضع لایثبت الابالقرائن المقررۃ ان تفرد بہ کذاب اووضاع کمانص علیہ فی ھذا الکتاب، وھو عندی مذھب قوی اقرب الی الصواب، اما الضعف بغیر الکذب والتھمۃ من ضعف شدید مخرج لہ عن حیز الاعتبار کفحش غلط الراوی فھذا یعمل بہ فی الفضائل علی مایعطیہ کلام عامۃ العلماء وھو الاقعد بقضیۃ الدلیل والقواعد، لاعند شیخ الاسلام علی احدی الروایات عنہ ومن تبعہ کالسخاوی الا اذاکثرت طرقہ الساقطۃ عن درجۃ الاعتبار فح یکون مجموعھا کطریق واحد صالح لہ فیعمل بھا فی الفضائل ولکن لایحتج بھا فی الاحکام ولاتبلغ بذلک درجۃ الحسن لغیرہ الا اذاانجبرت مع ذلک بطریق اخری صالحۃ للاعتبار فان مجموع ذلک یکون کحدیثین ضعیفین صالحین متعاضدین فح ترتقی الی الحسن لغیر فتصیر حجۃ فی الاحکام ،اما مطلقا علی ماھو ظاھر کلام المصنف اعنی العراقی اوبشرط تعدد الجابرات الصالحات البالغۃ مع ھذہ الطرق القاصرۃ المتکثرۃ القائمۃ مقام صالح واحد حد الکثرۃ فی الصوالح علی مافھمہ السخاوی من کلام النووی وغیرہ الواقع فیہ لفظ الکثرۃ مع نزاع لنا فیہ مؤید بکلام شیخ الاسلام فی النزھۃ والنخبۃ المکتفیتین عہ بوحدۃ الجابر مع جواز ان تکون الکثرۃ فی کلام النووی بمعنی مطلق التعدد، وھو الاوفق بما رأینا من صنیعھم فی غیر مقام والضعیف بالضعف الیسیر اعنی مالم ینزلہ عن محل الاعتبار یعمل بہ فی الفضائل وحدہ، وان لم ینجبر فان انجبر ولوبواحد صار حسنا لغیرہ، واحتج بہ فی الاحکام علی تفصیل وصفنالک فی الجابر، فھذہ ھی انواع الضعیف، اما الذی لانقص فیہ عن درجۃ الصحیح الا القصور فی ضبط الراوی غیر بالغ الی درجۃ الغفلۃ فھو الحسن لذاتہ المحتج بہ وحدہ حتی فی الاحکام، وھذا اذاکان معہ مثلہ ولوواحدا صار صحیحا لغیرہ اودونہ ممایلید فلاالا بکثرۃ انتھی ماکتبت بتخلیص۔
اور مجھے یاد ہے کہ میں نے اس کے اس مقام پر حاشیہ لکھا ہے جو یہ ہے اقول ہماری زائد ابحاث کے ساتھ جو یہاں ثابت اور واضح ہوچکا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ موضوع حدیث کسی طرح کارآمد نہیں ہے اور کثرت طُرق کے باوجود اس کا عیب ختم نہیں ہوسکتا کیونکہ شرکی زیادتی سے شر مزید بڑھتا ہے، نیز موضوع، معدوم چیز کی طرح ہے اور معدوم چیز نہ قوی ہوسکتی ہے اور نہ قوی بنائی جاسکتی ہے، موضوع کی ایک قسم وہ ہے جس کو ایک جماعت نے، جس میں شیخ الاسلام بھی ہیں، نے بیان کیا ہے، وہ یہ کہ جس کو کذاب لوگ روایت کریں، اور ایک دوسری جماعت جس میں سے ''خاتم الحفاظ'' بھی ہیں، نے بیان کیا ہے کہ ''موضوع'' وہ ہے جس کو متہم بالکذب روایت کریں۔ امام سخاوی نے ان دونوں بیان کردہ قسموں کو ''شدید الضعف'' کے مساوی قرار دیا ہے، جس کو عنقریب بیان کرینگے، امام سخاوی کا خیال ہے کہ موضوع کی پہچان مقررہ قرائن ہی سے ہوتی ہے جیسا کہ روایت کرنے والا کذّاب یا وضّاع اس روایت میں متفرد ہو، جیسا کہ امام سخاوی نے اس کتاب میں بیان کیا ہے میرے نزدیک یہی مؤقف قوی اور اقرب الی الصواب ہے، مگر کذب اور تہمتِ کذب کے بغیر کوئی بھی شدید ضعف جس کی بنا پر حدیث درجہ اعتبار سے خارج ہوجاتی ہے مثلاً راوی کی انتہائی فحش غلطی ہو، ضعیف کی یہ قسم فضائل میں کارآمد ہوسکتی ہے جیسا کہ عام علماء کے کلام سے حاصل ہے اور یہی موقف دلیل وقواعد سے مطابقت رکھتا ہے، مگر شیخ الاسلام سے ایک روایت میں اور امام سخاوی کی طرح ان کے پیروکار حضرات کے ہاں یہ قسم فضائل میں معتبر نہیں ہے تاوقتیکہ اس کے کمزور طرق کثیر نہ ہوں اور یہ طرق کثیر ہوں تو ان سب کے مجموعہ کو وہ ایک طریقہ صالحہ کے مساوی قرار دے کر فضائل میں قابلِ عمل قرار دیتے ہیں، تاہم اس قسم کی ضعیف حدیث کو احکام کے لئے حجت قرار نہیں دیا جاسکتا اور نہ ہی یہ درجہ ''حسن لغیرہ'' کو پاسکتی ہے۔ ہاں اگر ان متعدد طرق کے ساتھ ساتھ کسی دوسرے صالح طریق سے اس کی کمزوری زائل ہوجائے تو اور بات ہے، کیونکہ کمزور متعدد طرق اور ایک صالح طریق کی بنا پر وہ حدیث دو ایسی ضعیف حدیثوں کی طرح بن جاتی جو آپس میں مل کر تقویت کا باعث بن جاتی ہیں اور وہ ضعیف حدیث ''حسن لغیرہ'' کے مرتبہ کو پہنچ کر احکام میں حجّت بن جاتی ہے، اب یہ اختلاف اپنی جگہ پر ہے کہ صرف اسی قدر سے مقبول ہے جیسا کہ مصنف یعنی علّامہ عراقی کے کلام سے عیاں ہے یا بشرطیکہ بمع متعدد صالح طرق جن کی بنا پر کمزوری زائل ہوسکے ان متعدد صالح وجوہ اور کمزور طرق، جو ایک صالح طریق کے مساوی ہیں، مل کر کثرت طرقِ صالحہ بن جاتے ہیں جیسا کہ امام سخاوی نے امام نووی وغیرہ کے کلام سے سمجھا جن میں لفظِ کثرت استعمال ہُوا ہے، باوجودیکہ ہمارا اس میں اختلاف ہے جوکہ شیخ الاسلام کے اس کلام سے مؤید ہے جو انہوں نے ''النزبۃ'' اور ''الننجۃ'' میں کیا دونوں کتابوں میں ایک جابر (کمزوری کو زائل کرنے والا امر) کا بیان ہے (نیز اپنی تائید میں ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں) کہ امام نووی کے کلام میں لفظِ کثرت سے مطلق تعدّد ہے اور یہی احتمال ان کی عادت کے زیادہ قریب ہے جیسا کہ ہم نے متعدد جگہ یہ استعمال پایا ہے اور ضعیف کی ایسی قسم جس میں معمولی ضعف ہو یعنی جس سے حدِ اعتبار ساقط نہ ہو یہ فضائل میں تنہا معتبر ہے خواہ کوئی مؤید بھی نہ ہو، اور اگر کوئی ایک ایسا مؤید پایا جائے جو اس کے ضعف کو زائل کردے تو یہ ''حسن لغیرہٖ'' بن جاتی ہے اور اس کو احکام میں حجت قرار دیا جائیگا جس کی تفصیل ہم نے کمزوری کو زائل کرنے والے امور میں بیان کردی ہے۔ یہ تمام ضعیف کی انواع ہیں۔ اگر صحیح حدیث کے شرائط میں ماسوائے ضبط راوی کی کمزوری کے اور کوئی کمزوری نہ ہوتو یہ حدیث ''حسن لذاتہٖ'' ہوگی بشرطیکہ ضبط راوی کی یہ کمزوری غفلت کے درجہ تک نہ پہنچتی ہو، تو یہ ''حسن لذاتہٖ'' واحد حدیث بھی احکام کے لئے حجت ہوسکتی ہے اگر حسن لذاتہٖ کے ساتھ اس کی ہم مثل ایک اور بھی مل جائے تو یہ حدیث ''صحیح لغیرہ'' بن جاتی ہے اور اگر اس سے کم درجہ کی کوئی مؤید اس سے مل جائے تو ''صحیح لغیرہ'' نہ بنے گی تاوقتیکہ اس سے کم درجہ کی متعدد روایات جمع نہ ہوجائیں میری لکھی ہُوئی تعلیق ختم ہُوئی، ملخصاً۔ (ت)
عہ: حیث قال متی توبع السیئ الحفظ بمعتبر کان یکون فوقہ اومثلہ لادونہ وکذا المختلط الذی لایتمیز والمستور والاسناد المرسل وکذا المدلس اذا لم یعرف المحذوف مند صار حدیثہم حسناً لالذاتہ بل وصفہ بذلک باعتبار المجموع لان کل واحد منہم (اے ممن ذکر من السیئ الحفظ والمختلط الخ) باحتمال کون روایتہ صواباً اوغیر صواب علی حد سواء فاذا جاء ت من المعتبرین روایۃ موافقۃ لاحدھم رجح احد الجانبین من الاحتمالین المذکورین دول ذلک علی ان الحدیث محفوظ فارتقی من درجۃ التوقف الی درجۃ القبول واللّٰہ اعلم ۱؎ اھ وانظر کیف اجتزئ فی المتن بتوحید معتبر وفی الشرح بافراد روایۃ وحکم بالارتقاء الی درجۃ القبول وما المرادبہ ھھنا الاالقبول فی الاحکام فانہ جعل الضعیف صالحا للاعتبار من الرد ومع انہ مقبول فی الفضائل بالاجماع ویظھرلی ان الوجہ معھما اعنی العراقی وشیخ الاسلام لمابین فی النزھۃ من الدلیل لھما منقولا مما علقتہ علی فتح المغیث ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)

ان کے الفاظ یہ ہیں: جب راوی سوءِ حفظ کا متابع معتبر راوی بن جائے جو اس سے اوپر ہو یا اس کی مثل اس سے کم نہ ہو اور اسی طرح وہ مختلط جو امتیاز نہیں کرتا، مستور، اسناد مرسل اور اسی طرح مدلس جبکہ محذوف منہ کو  نہ پہچانتا ہو تو ان کی حدیث حسن ہوجائے گی ہاں لذاتہٖ نہیں بلکہ باعتبار المجموع ہوگی کیونکہ ہر ایک ان میں سے (یعنی سوءِ حفظ اور مختلط جن کا ذکر ہوا الخ) برابر احتمال رکھتا ہے کہ اس کی حدیث صحیح ہو یا غیر صحیح، پس جب معتبر راویوں میں سے کسی ایک کے موافق روایت آجائے تو مذکورہ دونوں احتمالوں میں سے ایک کو ترجیح حاصل ہوجائے گی اوریہ بات دلالت کرتی ہے کہ یہ حدیث محفوظ ہے اور درجہ توقف سے درجہ قبول پر فائز ہوگئی ہے اھ واللہ اعلم، ذرا غور کرو متن میں محض ایک معتبر کے ساتھ اور شرح میں کئی افراد کے ساتھ موافقت روایت پر اکتفا کیسے کیا اور اسے قبول کا درجہ دیا ہے اور یہاں قبول سے مراد احکام میں قبولیت مراد ہے کیونکہ انہوں نے حدیث ضعیف کو صالح للاعتبار والرد کہا ہے کیونکہ حدیث ضعیف فضائل میں تو بالاجماع مقبول ہے، خواہ اس کے ساتھ کوئی دوسری روایت نہ ہو اور میرے لئے یہ ظاہر ہوا کہ وجہ ان دونوں عراقی اور شیخ الاسلام کے ساتھ ہے، اس بنا پر جو نزہۃ میں ان دونوں کی دلیل بیان کی گئی ہے یہ فتح المغیث پر میری تعلیق سے منقول ہے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)
 (۱؎شرح ننجۃ الفکر    بحث سوء الحفظ   مطبوعہ مطبع علیمی اندرون لوہاریگیٹ لاہور    ص ۷۴)
یہ چند جملے لوحِ دل پر نقش کرلینے کے ہیں کہ بعونہٖ تعالٰی اس تحریر نفیس کے ساتھ شاید اور جگہ نہ ملیں، وباللّٰہ التوفیق ولہ الحمد، الحمداللّٰہ القادر القوی علم ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی ناصر الضعیف واٰلہ وسلم، قبول ضعیف فی فضائل الاعمال کا مسئلہ جلیلہ ابتدائً مسووہ فقیر میں صرف دو۲ افادہ مختصر میں تین صفحہ کے مقدار تھا اب کو ماہِ مبارک ربیع الاول ۱۳۱۳ھ میں رسالہ بعونہٖ تعالٰی بمبئی میں چھپنا شروع ہوگیا اثنائے تبییض میں بارگاہِ مفیض علوم ونعم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بحمدہ اللہ تعالٰی نفائس جلیلہ کا اضافہ ہوا افادہ شانزدہم سے یہاں تک آٹھ افاداتِ نافعہ اسی مسئلہ کی تحقیق میں القا ہُوئے قلم روکتے روکتے اتنے اوراق املا ہوئے، امید کی جاتی ہے کہ اس مسئلہ کی ایسی تسجیل جلیل وتفصیل جزیل اس تحریر کے سوا کہیں نہ ملے، مناسب ہے کہ یہ افادے اس مسئلہ خاص میں جدا رسالہ قرار دئے جائیں اور
بلحاظ تاریخ الھاد الکاف فی حکم الضعاف عہ (۱۳۱۳ھ)
 (ضعیف حدیثوں کے حکم میں کافی ہدایت۔ ت)
لقب پائیں وباللّٰہ التوفیق ولہ المنۃ علی مازرق من نعم تحقیق ماکنا لعشر معشاار عشرھا نلیق والصلاۃ والسلام علی الحبیب الکریم واٰلہ وصحبہ ھداۃ الطریق اٰمین۔
عہ : منقوص محلی باللام سے بھی حذف یا فصے کلام میں شایع وذایع ہے یوم التلاق، یوم التناد الکبیر المتعال الی غیر ذلک امام ابن حجر عسقلانی کی کتاب ہے الکاف الشاف فی تخریج احادیث الکشاف ۱۲ منہ (م)
افادہ بست ۲۴ وچہارم (حدیث کا کتبِ طبقہ رابعہ سے ہونا خواہی نخواہی مستلزم مطلق ضعف ہی نہیں چہ جائے ضعفِ شدید) وباللہ استعین کسی حدیث کا کتب طبقہ رابعہ سے ہونا موضوعیت بالائے طاق، ضعفِ شدید درکنار مطلق ضعف کو بھی مستلزم نہیں اُن میں حسن، صحیح، صالح، ضعیف، باطل ہر قسم کی حدیثیں ہیں، ہاں بوجہ اختلاط وعدم بیان کہ عادت جمہور محدثین ہے ہر حدیث میں احتمال ضعف قدیم لہذا غیر ناقد کو بے مطالعہ کلماتِ ناقدین اُن سے عقائد واحکام میں احتجاج نہیں پہنچتا، قولِ شاہ عبدالعزیز صاحب ایں احادیث قابلِ اعتماد نیستند کہ دراثبات عقیدہ یا عملے بآنہا تمسک کردہ شود ۱؎ (یہ احادیث قابلِ اعتماد نہیں ہیں کہ ان سے عقیدہ وعمل میں استدلال کیا جاسکے۔ ت) کے یہی معنی ہیں، نہ یہ کہ ان کتابوں میں جتنی حدیثیں ہیں سب واہی ساقط ہیں یا موضوع وباطل اور اصلاً دربارہ فضائل بھی ایراد واستناد کے ناقابل کوئی ادنٰی ذی فہم وتمیز بھی ایسا ادعا نہ کرے گا نہ کہ شاہ صاحب سا فاضل، ہاں متکلمانِ طائفہ وہابیہ اپنی جہالتیں جس کے سر چاہیں دھریں۔
 (۱؎ عجالہ نافعہ       فصل اول بحث طبقہ رابعہ            مطبع نور محمد کارخانہ تجارت کراچی    ص ۵)
Flag Counter