امام ابن سید الناس سیرۃ عیون الاثر میں فرماتے ہیں: غالب مایروی عن الکلبی انساب واخبار من احوال الناس وایام العرب وسیرھم ومایجری مجری ذلک مماسمح کثیر من الناس فی حملہ عمن لایحمل عنہ الاحکام وممن حکی عنہ الترخیص فی ذلک الامام احمد ۲؎۔
کلبی سے اکثر طور پر لوگوں کے انساب واحوال، عربوں کے شب وروز اور ان کی سیرت یا اسی طرح کے دیگر معاملات مروی ہیں جو کثرت کے ساتھ ایسے لوگوں سے لے لیے جاتے ہیں جن سے احکام نہیں لیے جاتے اور جن لوگوں سے اس معاملہ میں اجازت منقول ہے وہ امام احمد ہیں۔ (ت)
ثالثاً (امام واقدی ہمارے علماء کے نزدیک ثقہ ہیں) امام واقدی کو جمہور اہلِ اثر نے حپنین وچناں کہا جس کی تفصیل میزان وغیرہ کتبِ فن میں مسطور، لاجرم تقریب میں کہا:
متروک مع سعۃ علمہ ۳؎
(علمی وسعت کے باوجود متروک ہے۔ ت) اگرچہ ہمارے علماء کے نزدیک اُن کی توثیق ہی راجح ہے ۔
(۳؎ تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن عمر بن واقد الاسلمی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالا ص۱۳۔ ۳۱۲)
کماافادہ الامام المحقق فی فتح القدیر عہ ۴؎
(جیسا کہ امام محقق نے فتح القدیر میں اس کو بیان کیا ہے۔ ت)
عہ :حیث قال فی باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء عن الواقدی قال کانت بئر بضاعۃ طریقا للماء الی البساتین وھذا تقوم بہ الحجۃ عندنا اذا وثقنا الواقدی، اما عندالمخالف فلالتضعیفہ ایاہ ۲؎ اھ وقال فی فصل فی الآسار قال فی الامام جمع شیخنا ابوالفتح الحافظ فی اول کتابہ المغازی والسیر من ضعفہ ومن وثقہ ورجح توثیقہ وذکر الاجوبۃ عماقیل فیہ ۳؎ اھ ۱۲ منہ (م)
جہاں انہوں نے ''باب الماء الذی یجوزبہ الوضوئ'' میں واقدی سے نقل کیا کہ بضاعۃ کے کنویں سے باغوں کو پانی دیا جاتا تھا ہمارے نزدیک حجت کے لئے یہی کافی ہے کیونکہ ہم نے واقدی کی توثیق کردی ہے باقی مخالف کے نزدیک حجت نہیں کیونکہ وہ اس کی تضعیف کا قائل ہے اھ اور ''فصل فی الآسار'' میں کہا کہ امام کے بارے میں ہمارے شیخ ابوالفتح حافظ نے اپنی پہلے کتاب المغازی والسیر میں ان روایات کو جمع کیا ہے جن کی توثیق کی گئی یا ان کو ضعیف کہا گیا اور ان کی توثیق کو ترجیح دیتے ہوئے ان پر وارد شدہ اعتراضات کے جوابات بھی ذکر کیے اھ ۱۲ منہ۔ (ت)
(۴؎ فتح القدیر باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء مطبوعہ مکتبہ نُوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۹)
(۲؎فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۶۹ و ص ۹۷)
(۳؎ فتح القدیر مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۶۹ و ص ۹۷)
بااینہمہ یہ جرح شدید ماننے والےبھی انہیں سِیر ومفازی واخبار کا امام مانتے اور سلفاً وخلفاً ان کی روایات سِیر میں ذکر کرتے ہیں کمالایخفی علی من طالع کتب القوم (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جس نے قوم کی کُتب کا مطالعہ کیا ہے۔ ت) میزان میں ہے:
یہ اخبار واحوال، علم سِیر ومفازی، حواد ثاتِ زمانہ اور اس کی تاریخ اور علمِ فقہ وغیرہ کے انتہائی ماہر اور حافظ ہیں۔ (ت)
(۱؎ میزان الاعتدال نمبر ۷۹۹۳ ترجمہ محمد بن عمربن واقد الاسلمی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۳/ ۶۶۳)
رابعاً ہلال بن زید بن یسار بصری عسقلانی کو ابنِ حبان نے کہا روی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اشیاء موضوعۃ (انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حوالے سے موضوع روایات نقل کی ہیں۔ ت) حافظ الشان نے تقریب میں کہا متروک باوصف اس کے جب انہیں ہلال نے انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حدیث فضیلت عسقلان روایت کی جسے حافظ ابوالفرج نے بعلّتِ مذکورہ درج موضوعات کیا اُس پر حافظ الشان ہی نے وہ جواب مذکور افادہ دہم دیا کہ حدیث فضائلِ اعمال کی ہے سو اُسے طعن ہلال کے باعث موضوع کہنا ٹھیک نہیں امام احمد کا طریق معلوم ہے کہ احادیث فضائل میں تساہل فرماتے ہیں، اور یہ بھی افادہ نہم میں حافظ الشان ہی کی تصریح سے گزرچکا کہ متروک ایسا شدید الضعیف ہے جس کے بعد بس متہم بالوضع ووضاع ہی کا درج ہے اب یہ بات خوب محفوظ رہے کہ خود امام الشان ہی نے ہلال کو متروک کہا خود ہی متروک کو اتنا شدید الضعف بتایا خود ہی ایسے شدید الضعف کی روایت کو دربارہ فضائل مستحق تساہل رکھا اس سے زیادہ اور کیا دلیل ہوگی کہ ضعف کیسا ہی شدید ہو جب تک سرحدِ کذب ووضع تک نہ پہنچے حافظ الشان کے نزدیک بھی فضائل میں قابلِ نرمی وگوارائی ہے وللہ الحجۃ السامیہ۔
خامساً اور سُنیے وضو کے بعد اِنّا انزلنا پڑھنے کی حدیثوں کا ضعف نہایت قوّت پر ہے، سخاوی نے مقاصد حسنہ میں اسے بے اصل محض کہا، امام جلیل ابواللیث سمرقندی نے اپنے مقاصد میں ان حدیثوں کو ذکر فرمایا، امام الشان سے اس بارہ میں سوال ہُوا وہی جواب فرمایا کہ فضائلِ اعمال میں ضعاف پر عمل روا ہے۔
امام ابن امیرالحاج حلیہ میں فرماتے ہیں : قد سئل شیخنا حافظ عصرہ قاضی القضاۃ شھاب الدین الشھیر بابن حجر رحمہ اللّٰہ تعالٰی من ھذہ الجملۃ فاجاب بمانصہ الاحادیث التی ذکرھا الشیخ ابواللیث نفع اللّٰہ تعالٰی ببرکتہ ضعیفۃ والعلماء یتساھلون فی ذکر الحدیث الضعیف والعمل بہ فی فضائل الاعمال ولم یثبت منھا شیئ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لامن قولہ ولامن فعلہ ۱؎ اھ
ہمارے شیخ حافظ العصر قاضی القضاۃ شہاب الدین المعروف ابنِ حجر رحمہ اللہ تعالٰی سے ان روایات کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے یہ جواب ارشاد فرمایا کہ وہ احادیث جن کو امام ابواللیث، ''اللہ تعالٰی ان کی برکت سے نفع عطا فرمائے'' نے ذکر کیا ہے وہ ضعیف ہیں، اور علماء حدیث ضعیف کے ذکر کرنے اور فضائل اعمال میں اس پر عمل کرنے میں نرمی برتتے ہیں اگرچہ نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ان کے متعلق کوئی قول وعمل ثابت نہ ہو اھ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
سادساً یہ حدیث کہ چاند گہوارہ میں عرب کے چاند عجم کے سورج صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے باتیں کرتا، حضور کو بہلاتا، انگشت مبارک سے جدھر اشارہ فرماتے اُسی طرف جھُک جاتا کہ بیہقی نے دلائل النبوۃ، امام ابوعثمٰن اسمعیل بن عبدالرحمن صابونی نے کتاب المائتین، خطیب نے تاریخ بغداد، ابنِ عساکر نے تاریخ دمشق میں سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی اُس کا مدار احمد بن ابراہیم حلبی شدید الضعف پر ہے، میزان میں ہے امام ابوحاتم نے کہا:
احادیثہ باطلۃ تدلہ علی کذبہ ۲؎
(اس کی احادیث باطلہ اس کے کذب پر دال ہیں۔ ت)
(۲؎ میزان الاعتدال ترجمہ نمبر ۲۸۷ احمد بن ابراہیم حلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۱/ ۸۱)
باوجود اس کے امام صابونی نے فرمایا:
ھذا حدیث غریب الاسناد والمتن وھو فی المعجزات حسن ۱؎
(اس حدیث کی سند بھی غریب اور متن بھی غریب بااینہمہ معجزات میں حسن ہے) اُن کے اس کلام کو امام جلال الدین سیوطی نے خصائص کبرٰی، امام احمد قسطلانی نے مواہب لدنیہ میں نقل کیا اور مقرر رکھا۔
سابعاً حدیث الدیک الابیض صدیقی وصدیق صدیقی وعد وعدواللّٰہ وکان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یبتیہ معہ فی البیت ۲؎
(مرغ سپید میرا خیر خواہ اور میرے دوست کا خیر خواہ، اللہ تعالٰی کے دشمن کا دشمن ہے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُسے شب کو مکان خوابگاہ اقدس میں اپنے ساتھ رکھتے تھے) کہ ابوبکر برقی نے ابوزید انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی،
(۲؎ کتاب الموضوعات لابن الجوزی باب فی الدیک الابیض مطبوعہ دارالفکر بیروت ۳ /۴)
علامہ مناوی نے تیسیر میں فرمایا: باسناد فیہ کذاب ۳؎ (اس کی سند میں کذاب ہے) باوصف اس کے فرمایا: فیندب لنا فعل ذلک تأسیا بہ ۴؎ جبکہ حدیث میں ایسا وارد ہوا تو ہمیں باقتدائے حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم مرغ سپید کو اپنی خوابگاہ میں ساتھ رکھنا مستحب ہے۔
(۳؎ تیسیر شرح جامع صغیر للمناوی حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲/ ۱۵)
(۴؎ التیسر شرح الجامع الصغیر حدیث مذکور کے تحت مکتبہ الامام الشافعی ریاض سعودیہ ۲ /۱۵)
(یہ آخری انتہاء پر ہے اور جو کچھ ہم نے ذخر کردیا وہ اہل فہم کے لئے کافی ہے۔ ت)
ثامناً احادیث ودلائل مذکورہ افادات سابقہ بھی اسی اطلاق کے شاہد عدل ہیں خصوصاً حدیث
وان کان الذی حدثہ بہ کاذباً
(اگرچہ جس نے اسے بیان کیا کاذب ہو۔ ت) ظاہر ہے کہ احتمالِ صدق ونفع بے ضرر ہر ضعیف میں حاصل تو فرق زائل بالجملہ یہی قضیہ دلیل ہے اور یہی کلام وعمل قوم سے مستفاد مگر حافظ الشان سے منقول ہوا کہ شرط عمل عدم شدت ضعف ہے
نقلہ تلمیذہ السخاوی وقال سمعتہ مرارا یقول ذلک
(اسے ان کے شاگرد امام سخاوی نے نقل کیا اور کہا کہ میں نے ان سے یہ کئی مرتبہ کہتے سُنا ہے۔ ت)
اقول (بحث قبول شدید الضعف) یہاں شدتِ ضعف سے مراد میں حافظ سے نقل مختلف آئی، شامی عہ نے فرمایا طحطاوی نے فرمایا امام ابن حجر نے فرمایا:
شدید الضعف ھو الذی لایخلو طریق من طرقہ عن کذاب اومتھم بالکذب ۱؎۔
شدید الضعف وہ حدیث ہے جس کی اسنادوں سے کوئی اسناد کذاب یا متہم بالکذب سے خالی نہ ہو۔
عہ: فی مستحبات الوضوء ۱۲ منہ (م) (شامی نے مستحبات الوضوء میں فرمایا ۱۲ منہ۔ ت)
(۱؎ ردالمحتار مستحبات الوضوء مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۹۵)
یہاں صرف انہیں دو۲ کو شدّتِ ضعف عہ میں رکھا امام سیوطی نے تدریب میں فرمایا حافظ نے فرمایا:
ان یکون الضعف غیر شدید فیخرج من انفرد من الکذابین والتھمین بالکذب ومن فحش غلطہ ۲؎۔
وہ ضعف شدید نہ ہو پس اس سے وہ نکل گیا جو کذاب اور متہم بالکذب میں منفرد ہو یا جو فحش الغلط ہو۔ (ت)
عہ : وھکذا عزابعض العصریین وھو المولوی عبدالحی اللکنوی فی ظفر الامانی الی التدریب والقول البدیع حیث قال الشرط للعمل بالحدیث الضعیف ثلٰث شروط علی ماذکرہ السیوطی فی شرع تقریب النووی والسخاوی فی القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع وغیرھما الاول عدم شدۃ ضعفہ بحیث لایخلوطریق من طرقہ من کذاب اومتھم بالکذب الخ اقول لکن سنسمعک نص التدریب والقول البدیع فیظھرلک ان وقع ھھنا فی النقل عنھما تقصر شنیع فلیتنبہ ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)
معاصرین میں سے مولوی عبدالحی لکھنوی نے ''ظفرالامانی'' ''التدریب'' اور ''القول البدیع'' کی طرف ایسے ہی منسوب کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ ضعیف حدیث پر عمل کی تین شرطیں ہیں جیسا کہ نووی نے ''شرع تقریب النووی'' اور سخاوی نے ''القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع'' میں اور ان کے علاوہ دوسروں نے بھی ذکر کیا، پہلی شرط یہ ہے کہ اس کا ضعف شدید نہ ہو بایں طور کہ اس کے تمام طرق کذاب اور متہم بالکذب سے خالی نہ ہوں الخ اقول ابھی بعد میں ہم آپ کو ان دونوں کتابوں کی عبارت سنائیں گے جس سے آپ کو معلوم ہوجائیگا کہ اس نقل میں ان دونوں سے انتہائی کوتاہی سرزو ہوئی ہے، غور کرنا چاہئے ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)