| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ) |
افادہ بست ۲۳ وسوم (ایسے مواقع میں ہر حدیث ضعیف غیر موضوع کام دے سکتی ہے)اقول اوّلاً جمہور علماء کے عامہ کلمات مطالعہ کیجئے تو وہ مواقع مذکورہ میں قابلیت عمل کیلئے کسی قسم ضعف کی تخصیص نہیں کرتے، صرف اتنا فرماتے ہیں کہ موضوع نہ ہو فتح(۱) القدیر والفیہ(۲) عراقی وشرح(۳) الفیۃ للمصنف میں تھا غیر الموضوع ۱؎ (موضوع کے علاوہ ہو۔ ت) مقدمہ(۴) ابن الصلاح وتقریب(۵) میں ماسوی الموضوع ۲؎ (موضوع کے سوا ہو۔ ت) مقدمہ(۶) سید شریف میں دون الموضوع ۳؎ (موضوع نہ ہو۔ ت) حلیہ(۷) میں الذی لیس بموضوع ۴؎ (ایسی روایت جو موضوع نہ ہو۔ ت) اذکار (۸) میں ان الفاظ سے اجماع ائمہ نقل فرمایا کہ مالم یکن موضوعا ۵؎ (وہ جو کہ موضوع نہ ہو۔ ت) یونہی(۹) امام ابن عبدالبر نے اجماعِ محدثین ذکر کیا کہ یرونھا عن کل ۶؎ (محدثین ان کو تمام سے روایت کرتے ہیں۔ ت) یہ سب عبارات باللفظ یا بالمعنی افادات سابقہ میں گزریں،
(۱؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/ ۳۰۳) (۲؎ مقدمہ ابن الصلاح النوع الثانی والعشرون معرفۃ المقلوب مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان ص ۴۹) (۳؎ مقدمہ سیہ شریف) (۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی) (۵؎ الاذکار المنتخبہ من کلام سید الابرار فصل قال العلماء الخ مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت ص ۷) (۶؎ کتاب العلم لابن عبدالبر)
زرقانی(۱۰) شرح عہ۱ مواہب میں ہے عادۃ المحدثین التساھل فی غیر الاحکام والعقائد مالم یکن موضوعا ۷؎
(محدثین کی عادت ہے کہ غیر احکام وعقائد میں تساہل کرتے ہیں اس میں جو موضوع نہ ہو)
عہ۱ : ذکر رضاعہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم تحت حدیث مناغاۃ القمرلہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م)
نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ذکر رضاعت میں اس حدیث کے تحت جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انگلی کے اشارے سے چاند کے ساتھ کھیلنے (جھک جانے) کا بیان ہے وہاں اس کا ذکر ہے دیکھو۔ (ت)
(۷؎ شرح الزرقانی المواہب اللدنیۃ المقصد الاول ذکر رضاعہ صلی اللہ علیہ وسلم مطبعۃ عامرہ مصر ۱/ ۱۷۲)
یونہی(۱۱) علّامہ حلبی سیرۃ عہ۲ الانسان العیون میں فرماتے ہیں:
لایخفی ان السیر تجمع الصحیح والسقیم والضعیف والبلاغ والمرسل والمنقطع والمعضل دون الموضوع وقدقال الامام احمد وغیرہ من الائمۃ اذاروینا فی الحلال والحرام شددنا واذا روینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا ۱؎۔
واضح رہے کہ اصحاب سیر ہر قسم کی روایات جمع کرتے ہیں صحیح، غیر صحیح، ضعیف، بلاغات، مرسل، منقطع اور معضل وغیرہ، لیکن موضوع روایت ذکر نہیں کرتے۔ امام احمد اور دیگر محدثین کا قول ہے کہ جب ہم حلال وحرام کے بارے میں احادیث روایت کرتے ہیں تو شدت کرتے ہیں اور جب ہم فضائل وغیرہ کے بارے میں روایات لاتے ہیں تو ان میں نرمی برتتے ہیں۔ (ت)
عہ۲ : نقل ھذا وماسیاتی عن عیون الاثر بعض الاثرین ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م) عیون الاثر کی یہ عبارت اور وہ جو عنقریب ذکر کی جائیگی ان کو بعض معاصرین نے نقل کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ انسان العیون خطبۃ الکتاب مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱ /۳)
شیخ محقق(۱۲) مولانا عبدالحق محدّث دہلوی قدس سرہ القوی شرح صراط المستقیم میں فرماتے ہیں:
گفتہ اندکہ اگر ضعف حدیث بجہت سوئے حفظ بعض رواۃ یا اختلاط یا تدلیس بود باوجود صدق ودیانت منجبر میگرود بتعدد طرق واگر ازجہت اتہام کذب راوی باشدیا شزوذ بمخالفت احفظ واضبط یابقوت ضعف مثل فحش خطا اگرچہ تعدد طرق داشتہ باشد منجبر نگرود وحدیث محکوم بضعف باشد ودرفضائل اعمال معمول ۲؎ الخ
محدثین نے بیان فرمایا ہے کہ اگر کسی حدیث میں ضعف بعض راویوں کے سُوئے حفظ یا تدلیس کی وجہ سے ہو جبکہ صدق ودیانت موجود ہوتو یہ کمی تعدد طرق سے پُوری ہوجاتی ہے اور اگر ضعف راوی پر اتہامِ کذب کی وجہ سے ہو یا احفظ واضبط راوی کی مخالفت کسی جگہ ہو یا ضعف نہایت قوی ہو مثلاً فحش غلطی ہو تو اب تعدد طرق سے بھی کمی کا ازالہ نہیں ہوگا اور حدیث ضعیف پر ضعیف کا ہی حکم ہوگا اور فضائل اعمال میں ہے الخ (ت)
(۲؎ شرح صراط مستقیم دیباچہ شرح سفر السعادت مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۱۳)
ثانیا کلبی کا نہایت شدید الضعف ہونا کسے نہیں معلوم اُس کے بعد صریح کذاب وضّاع ہی کا درجہ ہے ائمہ شان نے اُسے متروک بلکہ منسوب الی الکذب تک کیا کذبہ ابن حبان والجوزجانی وقال البخاری ترکہ یحیٰی وابن مھدی وقال الدارقطنی وجماعۃ متروک (ابن حبان اور جوزجانی نے اسے جھُوٹا قرار دیا ہے، بخاری کہتے ہیں کہ اسے یحیٰی اور ابن مہدی نے ترک کردیا، دارقطنی اور ایک جماعت نے کہا کہ یہ متروک ہے۔ ت) لاجرم حافظ نے تقریب میں فرمایا
متھم بالکذب ورمی بالرفض ۳؎
(اس پر کذب کا اتہام ہے اور اسے روافض کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ت)
(۳؎ تقریب التہذیب ترجمہ محمد بن السائب بن بشر الکلبی مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ گوجرانوالہ ص ۲۹۸)
بااینہمہ عامہ کتب سیر وتفاسیر اس کی اور اس کی امثال کی روایات سے مالامال ہیں علمائے دین ان امور میں اُنہیں بلانکیر نقل کرتے رہے ہیں، میزان میں ہے :
قال ابن عدی وقدحدث عن الکلبی سفٰین وشعبۃ وجماعۃ ورضوہ فی التفسیر واما فی الحدیث فعندہ مناکیر ۱؎۔
ابن عدی نے کہا کہ کلبی سے سفیان، شعبہ اور ایک جماعت نے حدیث بیان کی ہے اور ان روایات کو پسند کیا ہے جس کا تعلق تفسیر کے ساتھ ہے اور حدیث سے متعلقہ روایات انکے نزدیک مناکیر ہیں۔ (ت)
(۱؎ میزان الاعتدال نمبر ۷۵۷۴ ترجمہ محمد بن السائب الکلبی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۳/ ۵۵۸)