| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ) |
ثانیا: لایعھد منھم ایراد الاحادیث من ای باب کانت الامسندۃ فھذا البیان لم تنفک عنہ احادیث الفضائل ایضاً فبماذا تساھلوا فی ھذا دون ذلک۔
ثانیا: ان کے ہاں ہر باب میں یہ معروف ہے کہ اس میں مسند احادیث لائی جائیں گی تو اس بیان سے احادیث فضائل بھی الگ نہیں، پھر ان میں تساہل کیوں اور دُوسری روایات میں نہ ہو۔
ثالثاً:لوکان الاسناد وھو البیان المراد لاستحال روایۃ شیئ من الاحادیث منفکا عن البیان فان الروایۃ لاتکون الا بالاسناد، قال فی التدریب حقیقۃ الروایۃ نقل السنۃ ونحوھا واسناد ذلک الی من عزی الیہ بتحدیث واخبار وغیر ذلک ۱؎ اھ وقال عہ۱ الزرقانی تحت قول المواھب روی عبدالرزاق بسندہ الخ بسندہ ایضاح والافھو مدلول روی ۲؎ اھ وقال ایضا عہ۲ تحت قولہ روی الخطیب بسندہ ایضاح فھو عندھم مدلول روی ۳؎ اھ واذا انتھی الکلام بنا الی ھنا واستقرعرش التحقیق بتوفیق اللّٰہ تعالٰی علی ماھو مرادنا فلنعد الی ماکنا فیہ حامدین للّٰہ تعالٰی علی مننہ الجزیلۃ الی کل نبیہ ومصلین علی نبیہ الکریم واٰلہ وصحبہ وسائر مجیہ۔
ثالثاً: اگر سند بیان مراد ہی ہو تو بیان کے بغیر کوئی حدیث مروی ہی نہ ہوگی کیونکہ روایت میں سند تو ضروری ہے، تدریب میں ہے کہ حقیقت روایت سنّت وغیرہ کا نقل کرنا اور اس بات کی سند کا ذکر کرنا ہے کہ یہ فلاں نے بیان کی یا فلاں نے اس کی اطلاع دی ہے وغیرہ ذلک اھ زرقانی نے مواہب کی عبارت ''روی عبدالرزاق بسندہ الخ'' کے تحت کہا کہ بسند کا لفظ صرف وضاحت کے لئے ہے ورنہ وہ ''روی'' کا مدلول ہے اھ اور مواہب کی عبارت ''روی الخطیب بسندہ'' کے تحت یہی بات زرقانی نے کہی کہ ''بسندہ'' وضاحت ہے تو ان کے ہاں لفظ ''روی'' کا مدلول بھی یہی ہے اھ جب ہماری یہ گفتگو مکمل ہوچکی تو اللہ تعالٰی کی توفیق سے تحقیق کا اعلٰی درجہ پختہ ہوگیا اس طور پر جو ہماری مراد تھی، اب ہم واپس اس مسئلہ کی طرف لوٹتے ہیں جو ہمارا موضوع تھا اللہ تعالٰی کی بے بہا نعمتوں پر حمد کرتے ہوئے جو اس نے اپنے ہر نبی کو عطا کی ہیں اور صلاۃ وسلام پڑھتے ہوئے نبی کریم اور آپ کی آل واصحاب اور باقی محبین پر۔ (ت)
عہ۱ : اوائل الکتاب عند ذکر خلق نورہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ (م) عہ۲ :فی ذکر ولادتہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ
(م) (۱؎ تدریب الراوی شرح التقریب خطبۃ المؤلف/ وفیہا فوائد/ حد علم حدیث مطبوعہ نشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱ /۴۰) (۲؎ شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول فی تشریف اللہ تعالٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱/ ۵۵) (۳؎شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیہ المقصد الاول ذکر تزوج عبداللہ آمنہ مطبوعہ مطبعۃ العامرہ مصر ۱/۱۳۳)
افادہ بست ودوم۲۲: (ایسے اعمال کے جواز یا استحباب پر ضعیف سے سند لانا دربارہ احکام اسے حجت بنانا نہیں) جس نے افادات سابقہ کو نظرِ غائر وقلب حاضر سے دیکھا سمجھا اُس پر بے حاجت بیان ظاہر وعیاں ہے کہ حدیث ضعیف سے فضائلِ اعمال میں استحباب یا محلِ احتیاط میں کراہت تنزیہ یا امر مباح کی تائید اباحت پر استناد کرنا اُسے احکام میں حجت بنانا اور حلال وحرام کا مثبت ٹھہرانا نہیں کہ اباحت تو خود بحکم اصالت ثابت اور استحباب تنزہ قواعد قطعیہ شرعیہ وارشاد اقدس ''کیف وقدقیل'' وغیرہ احادیث صحیحہ سے ثابت جس کی تقریر سابقاً زیور گوش سامعان ہُوئی حدیث ضعیف اس نظر سے کہ ضعف سند مستلزم غلطی نہیں ممکن کہ واقع میں صحیح ہو صرف امید واحتیاط پر باعث ہُوئی، آگے حکمِ استحباب وکراہت اُن قواعد وصحاح نے افادہ فرمایا اگر شرع مطہر نے جلب مصالح وسلب مفاسد میں احتیاط کو مستحب نہ مانا ہوتا ہرگز ان مواقع میں احکام مذکورہ کا پتا نہ ہوتا تو ہم نے اباحت، کراہت، مندوبیت جو کچھ ثابت کی دلائل صحیحہ شرعیہ ہی سے ثابت کی نہ حدیث ضعیف سے اقول تاہم از انجاکہ درود ضعیف وہ بھی نہ لذاتہ بلکہ بملاحظہ امکان صحت ترجی واحتیاط کا ذریعہ ہُوا ہے اگر اُس کی طرف تجوزاً نسبت اثبات کردیں بجا ہے اور ثبوت بالضعیف میں بائے استعانت تو ادنٰی مداخلت سے صادق، ہاں اگر دلائل شرعیہ سے ایک امر کلی کی حرمت ثابت ہو اور کوئی حدیث ضعیف اُس کے کسی فرد کی طرف بُلائے مثلاً کسی حدیث مجروح میں خاص طلوع وغروب یا استوا کے وقت بعض نماز نفل کی ترغیب آئی تو ہرگز قبول نہ کی جائے گی کہ اب اگر ہم اُس کا استحباب یا جواز ثابت کریں تو اسی حدیث ضعیف سے ثابت کریں گے اور وہ صالح اثبات نہیں یونہی اگر دلائل شرعیہ مثبت ندب یا اباحت ہوں اور ضعاف میں نہی آئی اسی وجہ سے مفید حرمت نہ ہوگی مثلاً مقرر اوقات کے سوا کسی وقت میں ادائے سنن یا معین رشتوں کے علاوہ کسی رشتہ کی عورت سے نکاح کو کوئی حدیث ضعیف منع کرے حرمت نہ مانی جائے گی ورنہ ضعاف کی صحاح پر ترجیح لازم آئے بحمداللہ یہ معنی ہیں کلام علماء کے کہ حدیث ضعیف دربارہ احکام حلال وحرام معمول بہ نہیں۔ ثم اقول اصل یہ ہے کہ مثبت وہ جو خلاف اصل کسی شَے کو ثابت کرے کہ جو بات مطابق اصل ہے خود اسی اصل سے ثابت، ثابت کیا محتاجِ اثبات ہوگا ولہذا شرع مطہر میں گواہ اس کے مانے جاتے ہیں جو خلاف اصل کا مدعی ہو اور ماورائے دماء وفروج ومضار وخبائث تمام اشیاء میں اصل اباحت ہے تو ان میں کسی فعل کے جواز پر حدیث ضعیف سے استناد کرنا حلت غیر ثابتہ کا اثبات نہیں بلکہ ثابتہ کی تائید ہے،
ھذا تحقیق مااسلفنا فی الافادۃ السابقۃ عن المحقق الدوانی، وھذا ھو معنی مانص علیہ الامام ابن دقیق العید وسلطٰن العلماء عزالدین بن عبدالسلام وتبعھما شیخ الاسلام الحافظ ونقلہ تلمیذہ السخاوی فی فتح المغیث وفی قول البدیع والسیوطی فی التدریب والشمس محمد الرملی فی شرح المنھاج النووی، ستھم من الشافعیۃ، ثم اثرہ عن الرملی العلامۃ الشرنبلالی فی غنیۃ ذوی الاحکام والمحقق المدقق العلائی فی الدرالمختار واقراہ ھما ومحشو الدر الحلبی والطحطاوی والشامی فیھا وفی منحۃ الخالق خمستھم من الحنفیۃ، من اشتراط العمل بالضعیف باندراجہ تحت اصل عام، وھو اذا حققت لیس بتقیید زائد بل تصریح بمضمون مانصوا علیہ ان العمل بہ فیما وراء العقائد والاحکام، کمااوضحناہ لک وبہ ازداد انزھاقا بعد انزھاق ماظن الظانان من ان الکلام فی الاعمال الثابتۃ بالصحاح، کیف ولوکان کذل لما احیتج الی ھذا الاشتراط کمالایخفی واللّٰہ الھادی الی سوی الصراط۔
یہ وہ تحقیق ہے جو ہم نے افادہ سابقہ میں محقق ووافی کے حوالے سے بیان کی اور یہ وہ حقیقت ومعنی ہے جس کی تصریح امام ابن دقیق العید اور سلطان العلماء عزالدین بن عبدالسلام نے کی اور شیخ الاسلام حافظ نے ان دونوں کی اتباع کی اور ان کے شاگرد سخاوی نےفتح المغیث اور القول البدیع میں، سیوطی نے تدریب میں، شمس الدین محمد رملی نے شرح المنہاج النووی میں اسے نقل کیا ہے یہ چھ۶ شوافع میں سے ہیں، پھر رملی سے علاّمہ شرنبلالی نے غنیہ ذوی الاحکام میں اور محقق ومدقق العلائی نے درمختار میں اسے نقل کیا اور اسے ان دونوں نے اور درمختار کے محشین حلبی، طحطاوی اور شامی نے اپنے اپنے حواشی اور منحہ الخالق میں ثابت رکھا یہ پانچ حنفی ہیں (اور وہ یہ ہے) کہ حدیث ضعیف پر عمل کے لئے شرط یہ ہے کہ کسی عمومی ضابطہ کے تحت داخل ہو اور جب تو اس کی تحقیق کرے تو یہ کوئی زائد قید نہیں بلکہ اسی مضمون کی وضاحت ہے جس کی انہوں نے تصریح کی ہے کہ اس پر عمل عقائد واحکام کے علاوہ میں کیا جائیگا، جیسا کہ ہم نے پہلے اسے واضح کردیا ہے اور اس سے ان دو علماء کا خوب رَد ہوگیا جو یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ ان اعمال کے بارے میں کلام ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہوں اور یہ مطلب اس لئے نہیں ہوسکتا کہ اگر معاملہ یہ ہوتا تو یہ شرط لگانے کی محتاجی نہ تھی جیسا کہ واضح ہے، اور اللہ تعالٰی سیدھے راہ کی ہدایت دینے والا ہے۔ (ت)
بحمداللہ اس تقریر سے واضح ہوگیا کہ بعض متکلمین طائفہ جدیدہ کا زعم باطل کہ ان احادیث سے جوازِ تقلیل ابہامین پر دلیل لانا احکامِ حلال وحرام میں انہیں حجت بنانا ہے اور وہ بتصریح علماء ناجائز، محض مغالطہ وفریب وہی عوام ہے ذی ہوش نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہی علماء جو حدیث ضعیف کو حلال وحرام میں حجت نہیں مانتے صدہا جگہ احادیث ضعیفہ سے افعال کے جواز واستحباب پر دلیل لاتے ہیں جس کی چند مثالیں افادہ سابقہ میں گزریں کیا معاذاللہ علمائے کرام اپنا لکھا خود نہیں سمجھتے یا اپنے مقررہ قاعدہ کا آپ خلاف کرتے ہیں کیا افادہ ہفدہم میں امام ابن امیرالحاج کا ارشاد نہ سنا کہ جمہور علماء کے نزدیک فضائل اعمال میں حدیث ضعیف قابلِ عمل ہے تو کسی فعل کی اباحت قائم رکھنا بدرجہ اولٰی ولکن الوھابیۃ لایسمعون واذا سمعوا لایعقلون رب انی اسألک العفو والعافیۃ اٰمین (وہابی تو سُنتے ہی نہیں، سُنتے ہیں تو سمجھتے نہیں، اے میرے رب! میں تجھ سے عفو ومعافی کا سوال کرتا ہُوں، آمین۔ ت)