Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
119 - 157
وقال الشمس محمدن السخاوی فی فتح المغیث اما حمل ابن سید الناس فی شرحہ الترمذی قول السلفی علی مالم یقع التصریح فیہ من مخرجھا وغیرہ بالضعف، فیقتضی کما قال الشارح فی الکبیر ان ماکان فی الکتب الخمسۃ مسکونا عنہ ولم یصرح بضعفہ ان یکون صحیحا، ولیس ھذا الاطلاق صحیحا بل فی کتب السنن احادیث لم یتکلم فیھا الترمذی او ابوداود ولم ینجد لغیرھم فیھا کلاما ومع ذلک فھی ضعیفۃ ۳؎ اھ۔
اور شمس محمد سخاوی نے فتح المغیث میں بیان کیا ہے کہ ابن سید الناس نے اپنی شرح ترمذی نے قول سلفی کو ایسی حدیث پر محمول کیا ہے جس کے بارے میں اس کے مخرج وغیرہ کی ضعف کے ساتھ تصریح واقع نہیں ہوئی۔ پس اس کا تقاضا ہے جیسا کہ شارح نے کبیر میں کہا کہ کتب خمسہ میں جس حدیث پر سکوت اختیار کیا گیا ہو اور اس کے ضعف کی تصریح نہ کی گئی ہو وہ صحیح ہوگی حالانکہ یہ اطلاق صحیح نہیں کیونکہ کُتبِ سنن میں ایسی احادیث موجود ہیں جن پر ترمذی یا ابوداؤد نے کلام نہیں کیا اور نہ ہی کسی غیر نے ہمارے علم کے مطابق ان میں گفتگو کی ہے اسکے باوجود وہ احادیث ضعیف ہیں اھ ۔
 (۳؎ فتح المغیث شرح الفیۃ     الحدیث للسخاوی    القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت        ۱/ ۱۰۰ و ۱۰۱)
وقال فی المرقاۃ  الحق ان فیہ ''ای فی مسند الامام لمحمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ'' احادیث کثیرۃ ضعیفۃ وبعضھا اشد فی الضعف من بعض ۴؎ الخ ۔
اور مرقات میں فرمایا: حق یہ ہے کہ اس یعنی مسند احمد رضی اللہ تعالٰی عنہ میں بہت سی احادیث ایسی ہیں جو ضعیف ہیں اور بعض دوسری بعض کے اعتبار سے زیادہ ضعیف ہیں الخ ۔
 (۴؎ مرقات شرح مشکوٰۃ المصابیح    شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ    مطبوہع مکتبہ امداد ملتان    ۱/ ۲۳)
ونقل بعیدہ عن شیخ الاسلام الحافط انہ قال لیست الاحادیث الزائدۃ فیہ علی مافی الصحیحین باکثر ضعفا من الاحادیث الزائدۃ فی سنن ابی داؤد والترمذی علیھا وبالجملۃ فالسبیل واحد فمن اراد الاحتجاج بحدیث من السنن لاسیما سنن ابن ماجۃ ومصنف ابن ابی شیبۃ وعبدالرزاق مما الامر فیہ اشد او بحدیث من المسانید لان ھذہ کلھا لم یشترط جامعوھا الصحۃ والحسن وتلک السبیل ان المحتج انکان اھلا للنقل والتصحیح فلیس لہ ان یحتج بشیئ من القسمین حتی یحیط بہ وان لم یکن اھلا لذلک فان وجد اھلا لتصحیح اوتحسین قلدہ والا فلایقدم علی الاحتجاج فیکون کحاطب لیل فلعہ یحتج بالباطل وھو لایشعر ۱؎ اھ۔
اور تھوڑا سا اس کے بعد شیخ الاسلام حافظ سے نقل کیا کہا کہ اس میں (یعنی مسند احمد بن حنبل میں صحیحین پر جو زائد احادیث ہیں وہ سنن ابی داؤد اور ترمذی میں صحیحین پر زائد احادیث سے زیادہ ضعیف نہیں ہیں۔ الغرض راستہ ایک ہی ہے اس شخص کے لئے جو احادیث سنن سے استدلال کرنا چاہتا ہے خصوصا سنن ابن ماجہ، مصنف ابن ابی شیبہ اور مصنف عبدالرزاق۔ کیونکہ ان میں بعض کا معاملہ سخت ہے یا استدلال ان احادیث سے جو مسانید میں ہیں کیونکہ ان کے جامعین نے صحت وحسن کی کوئی شرط نہیں رکھی اور وہ راستہ یہ ہے کہ استدلال کرنے والا اگر نقل وتصحیح کا اہل ہے تو اس کے لئے ان سے استدلال کرنا اس وقت درست ہوگا جب ہر لحاظ سے دیکھ پرکھ لے اور اگر وہ اس بات کا اہل نہیں تو اگر ایسا شخص پائے جو تصحیح وتحسین کا اہل ہے تو اس کی تقلید کرے اور اگر ایسا شخص نہ پائے تو وہ استدلال کے لئے قدم نہ اٹھائے ورنہ وہ رات کو لکڑیاں اکٹھی کرنے والے کی طرح ہوگا، ہوسکتا ہے وہ باطل کے ساتھ استدلال کرلے اور اسے اس کا شعور نہ ہو  اھ۔
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ المصابیح    شرط البخاری ومسلم الذی التزماہ الخ    مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان        ۱/ ۲۳)
وقال الامام عثمٰن الشھرزوری فی علوم الحدیث حکی ابوعبداللّٰہ بن مندۃ الحافظ انہ سمع محمد بن سعد الباوردی بمصر یقول کان من مذہب ابی عبدالرحمٰن النسائی ان یخرج عن کل من لم یجمع علی ترکہ، وقال ابن مندۃ وکذلک ابوداؤد السجستانی یاخذ ماخذہ ویخرج الاسناد الضعیف اذالم یجد فی الباب وغیرہ لانہ اقوی عندہ من رای الرجال ۲؎ اھ وفیھا بعیدہ ثم فی التقریب والتدریب وھذا لفظھا ملخصا۔
اور امام عثمان شہرزوری نے علوم الحدیث میں فرمایا: ابوعبداللہ بن مندہ حافظ نے بیان کیا کہ انہوں نے مصر میں محمد بن سعد باروردی سے یہ کہتے ہُوئے سُنا ''ابوعبدالرحمن نسائی کا مذہب یہ ہے کہ ہر اس شخص سے حدیث کی تخریج کرتے ہیں جس کے ترک پر اجماع نہ ہو، اور ابن مندہ نے کہا، اسی طرح ابوداؤد سجستانی اس کے ماخذ کو لیتے اور سند ضعیف کی تخریج کرتے ہیں جبکہ اس باب میں اس کے علاوہ کوئی دوسری حدیث موجود نہ ہو کیونکہ ان کے نزدیک وہ لوگوں کی رائے وقیاس سے قوی ہے اھ اور اس میں تھوڑا سا بعد میں ہے پھر تدریب وتقریب میں ہے اور یہ الفاظ ملخصاً ان دونوں کے ہیں،
 (۲؎ مقدمۃ ابن الصلاح        النوع الثانی فی معرفۃ الحسن        مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان    ص۱۸)
اما مسند الامام احمد بن حنبل وابی داؤد الطیالسی وغیرھما من المسانید کمسند عبیداللّٰہ بن موسٰی واسحٰق بن راھویہ والدارمی وعبدبن حمید وابویعلی الموصلی والحسن بن سفین وابی بکر ن البزار فھؤلاء عادتھم ان یخرجوا فی مسند کل صحابی ماورد من حدیثہ غیر مقیدین بان یکون محتجا بہ اولا ۱؎ الخ وفیہ اعنی التدریب قیل ومسند البزار یبین فیہ الصحیح من غیرہ قال العراقی ولم یفعل ذلک الا قلیلا ۲؎ وفی البنایۃ عہ۱  شرح الھدایۃ للعلامۃ الامام البدر العینی الدارقطنی کتابہ مملومن الاحادیث الضعیفۃ والشاذۃ والمعللۃ وکم فیہ من حدیث لایوجد فی غیرہ ۳؎ اھ وذکر اشد منہ للخطیب ونحوہ للبیہقی۔
مسند امام احمد بن حنبل، ابوداؤد طیالسی اور ان کے علاوہ دیگر مسانید مثلاً مسند عبیداللہ بن موسٰی، مسند اسحٰق بن راہویہ، مسند دارمی، مسند عبد بن حمید، مسند ابویعلی موصلی، مسند حسن بن سفیان، مسند ابوبکر بزار ان تمام کا طریقہ یہی ہے کہ مسند میں ہر صحابی سے مروی حدیث بیان کردیتے ہیں اس قید سے بالاتر ہوکر کہ یہ قابلِ استدلال ہے یا نہیں الخ اور اس یعنی تدریب میں ہے کہ بیان کیا گیا ہے کہ مسند بزاار وہ ہے جس میں احادیث صحیحہ کو غیر صحیحہ سے جُدا بیان کیا جاتا ہے۔ عراقی کہتے ہیں کہ ایسا انہوں نے بہت کم کیا ہے۔ امام بدرالدین عینی نے بنایہ شرح ہدایہ میں تصریح کی ہے کہ دارقطنی کتاب احادیث ضعیفہ، شاذہ اور معللہ سے پُر ہے اور بہت سی احادیث اس میں ایسی ہیں جو اس کے غیر میں نہیں پائی جاتیں اھ اور خطیب کے لئے اس سے بڑھ کر شدت کا ذکر ہے اور اسی کی مثل بہیقی کے لئے ہے ۔
عہ۱ :فی مسئلۃ الجھر فی البسملۃ ۱۲ منہ (م)           بسم اللہ کو جہراً پڑھنے کے مسئلہ میں اس کو ذکر کیا ہے (ت)
 (۱؎ تدریب الراوی شرح التقریب النواوی   مرتبۃ المسانید من الصحۃ    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور  ۱ /۱۷۱) 

(۲؎تدریب الراوی شرح التقریب النواوی   اول من صنف مسندا    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۱۷۴)

(۳؎ البنایۃ شرح الہدایۃ        باب صفۃ الصلٰوۃ    مطبوعہ ملک سنز کارخانہ بازار فیصل آباد    ۱ /۶۲۸)
وفی فتح المغیث عہ۲ یقع ایضا فی صحیح ابی عوانۃ الذی عملہ مستخرجا علی مسلم احادیث کثیرۃ زائدۃ علی اصلہ وفیھا الصحیح والحسن بل والضعیف ایضا فینبغی التحرز فی الحکم علیھا ایضا ۱؎ اھ نصوص العلماء فی ھذا الباب کثیرۃ جدا وما اوردنا کاف فی ابانۃ ماقصدنا، وبالجملۃ فروایتھم الضعاف من دون بیان فی کل باب وان لم یوجد الصحیح معلوم مقرر لایرد ولاینکر، وانما اطنبنا ھھنا لماشممنا خلافہ من کلمات بعض الجلۃ،
اور فتح المغیث میں ہے کہ صحیح ابو عوانہ جو مسلم پر احادیث کا استخراج کرتے ہُوئے اصل پر بہت کچھ زائدہ احادیث نقل کی ہیں ان میں صحیح، حسن بلکہ ضعیف بھی ہیں لہذا ان پر حکم لگانے سے خوب احتراز واحتیاط چاہے اھ علماء کی تصریحات اس معاملہ میں بہت زیادہ ہیں اور جو ہم نے نقل کردی ہیں ہمارے مقصود کو واضح کرنے کے لئے کافی ہیں، الغرض محدثین نے ضعیف احادیث بغیر نشاندہی کے ہر مسئلہ میں ذکر کی ہیں اگرچہ اس مسئلہ میں کوئی صحیح حدیث نہ پائی گئی ہو اور یہ بات معلوم ومسلّم ہے، نہ اسے رَد کیا جاسکتا ہے اور نہ اس کا انکار ممکن ہے۔ ہم نے یہ طویل گفتگو اس لئے کردی ہے کہ بعض بزرگوں کے کلام سے ہم نے اس کے خلاف محسوس کیا تھا۔
عہ۲ :فی الصحیح الزائد علی الصحیحین۔ (م)       صحیحین پر زائد صحیح کے بیان میں اسے ذکر کیا ہے (ت)
 (۱؎ فتح المغیث    الصحیح الزائد علی الصحیحین دارالامام الطبری بیروت    ۱/ ۴۳)
والحمد للّٰہ علی کشف الغمۃ وتبثیت القدم فی الزلۃ فاستبان ان لوکان المراد مازعم ھذا الذی نقلنا قولہ لکانت التفرقۃ بین الاحکام والضعاف قدانعدمت، والمسألۃ الاجماعیۃ من اساسھا قدانھدمت ھذا وجہ ولک ان تسلک مسلک ارخاء العنان وتقول علی وجہ التشقق ان الحکم الذی رویت فیہ الضعاف مطلقۃ ھل یوجد فیہ صحیح ام لافان وجد فقد رووا الضعیف ساکتین فی الاحکام ایضا عند وجود الصحیح فاین الفرق وان لم یوجد فالامرا شد فان التجأ ملتج الی انھم یعدون سوق الاسانید من البیان ای فلم یوجد منھم روایۃ الضعاف فے الاحکام الامقرونۃ:
اللہ تعالٰی کے لئے ہی حمد ہے جس نے تاریکی دُور کردی اور پھسلنے کے مقام پر ثابت قدم رکھا پس اب یہ بات واضح ہوگئی کہ اگر ان کی مراد وہی ہے جو ہم نے ان کا قول نقل کیا تو پھر احکام اور ضعاف کے درمیان تفریق ختم ہوگی اور اجماعی مسئلہ کی بنیاد منہدم ہوگئی ایک تو یہ توجیہ ہے اور ایک دوسری آسان راہ اختیار کرتے ہوئے علی وجہ التشقق یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ حکم جس کے بارے میں مطلقاً ضعیف حدیثیں مروی ہوں دیکھا جائیگا اس میں کوئی صحیح حدیث پائی جاتی ہے انہیں اگر حدیث صحیح پائی جائے تو لازم آیا کہ انہوں نے حدیث ضعیف احکام میں بھی صحیح کے ہوتے ہوئے سکوتاً روایت کی ہے تو اب فرق کہاں ہے؟ اور اگر موجود نہ ہوتو معاملہ اس سے بھی زیادہ شدید ہے اگر معترض یہ کہہ دے کہ محدثین سوقِ سند کو ہی بیان قرار دیتے ہیں، پس اس صورت میں احکام میں ضعیف حدیثوں کی روایت سکوتاً نہ ہوگی بلکہ بیان کے ساتھ ہوگی تو اس کے جواب میںـ:
قلت اوّلاً : ھذا شیئ قد یبدیہ بعض العلمآء عذرا ممن روی الموضوعات ساکتا علیھا ثم ھم لایقبلون قال الذھبی عہ۱ فی المیزان کلام ابن مندۃ فی ابی نعیم فظیع لا احب حکایتہ ولا اقبل قول کل منھما فی الآخر بل ھما عندی مقبولان لااعلم لھما ذنبا اکبر من روایتھما الموضوعات ساکتین عنھا  ۱؎ اھ۔
میں کہتا ہوں اولاً: یہ وہ چیز ہے جس کو بعض علماء نے ان لوگوں کی طرف سے عذر کے طور پر پیش کیا جو موضوعات کو سکوتاً روایت کرتے ہیں پھر انہیں قبول نہیں کرتے۔ ذہبی نے میزان میں کہا کہ ابونعیم کے بارے میں ابن مندہ کا کلام نہایت ہی رکیک ہے میں اسے بیان کرنا بھی پسند نہیں کرتا اور میں ان دونوں کا کوئی قول ایک دوسرے کے بارے میں نہیں سنتا بلکہ یہ دونوں میرے نزدیک مقبول ہیں اور میں ان کا سب سے بڑا گناہ یہی جانتا ہوں کہ انہوں نے روایاتِ موضوعہ کو سکوتاً روایت کیا ہے اور انکی نشان دہی نہیں کی اھ ۔
عہ۱ :فی احمد بن عبداللّٰہ ۱۲ منہ (م)

احمد بن عبداللہ کے ترجمہ میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ میزان الاعتدال للذہبی    ترجمہ نمبر ۴۳۸    احمد بن عبداللہ ابونعیم الخ    مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۱/ ۱۱۱)
وقدقال العراقی عہ۲  فی شرح الفیتہ ان من ابرز اسنادہ منھم فھو ابسط لعذرہ اذ أحال ناظرہ علی الکشف عن سندہ وان کان لایجوزلہ السکوت علیہ ۲؎ اھ۔
عراقی نے شرح الفیہ میں کہا ہے کہ ان میں سے جس نے اپنی سند کو واضح کیا تو اس نے اپنا عذر طویل کیا کیونکہ اس طرح اس نے ناظر کو سند کے حال سے آگاہ کیا ہے اگرچہ اس کے لئے اس پر سکوت جائز نہ تھا اھ۔
عہ ۲ : نقلہ فی التدریب نوع الموضوع قبیل التنبیھات ۱۲ منہ رضی اللّٰہ عنہ (م)

اس کو نقل کیا ہے تدریب میں نوع موضوع کے تحت تنبیہات سے کچھ پہلے۔ (ت)
 (۲؎ تدریب الراوی شرح التقریب     المعروفون بوضع الحدیث    مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۲۸۹)
Flag Counter