| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ) |
وخامسا اقول مالی اخص الکلام بغیر الاصول ھذہ قناطیر مقنطرۃ من السقام مرویۃ فی الاصول والاحکام ان لم تروھا العلماء فمن جاء بھا وکم منھم التزموا بیان ماھنا، اما الرواۃ فلم یعھد منھم الروایۃ المقرونۃ بالبیان اللھم الانادر الداع خاص، وقد اکثروا قدیما وحدیثا من الروایۃ عن الضعفاء والمجاھیل ولم یعد ذلک قدحاً فیھم ولا ارتکاب مأثم وھذا سلیمٰن بن عبدالرحمٰن الدمشقی الحافظ شیخ البخاری ومن رجال صحیحہ قال فیہ الامام ابوحاتم صدوق الا انہ من اروی الناس عن الضعفاء والمجھولین ۱؎ اھ
خامسا ضعیف اور متوسط راوی کی روایت کی بات صرف غیر اصول وشواہد متابعات سے مختص کرنے کی مجھے کیا ضرورت، جبکہ کمزور اغیر صحیح روایات کا یہ ایک ذخیرہ ہے جو اصول واحکام میں مروی ہے اگر علماء ہی ان کو ذکر نہ کریں تو کون ذکر کریگا اور بہت کم ہیں جنہوں نے یہاں اس بات کا التزام کیا۔ رہا معاملہ راویوں کا تو ان کے ہاں روایت کے ساتھ بیان کا طریقہ معروف نہیں، البتہ کسی خاص ضرورت کے تقاضے کے پیش نظر بیان بھی کردیا جاتا ہے اور ان میں سلفاً وخلفاً یہ معمول ہے کہ ضعیف اور مجہول راویوں سے روایت بیان کرتے ہیں اور اس بات کو ان میں طعن وگناہ شمار نہیں کیا جاتا دیکھنے سلیمان بن عبدالرحمن ومشقی جو کہ حافظ ہیں اور امام بخاری کے استاذ ہیں اور صحیح بخاری کے راویوں میں سے ہیں ان کے بارے میں امام ابوحاتم کہتے ہیں کہ یہ صدوق ہے اگرچہ ان لوگوں میں سے ہے جو ضعیف اور مجہول راویوں سے بہت زیادہ روایت کرنے والے ہیں اھ۔
(۱؎ میزان الاعتدال ترجمہ سلیمان بن عبدالرحمان الدمشقی نمبر ۳۴۸۷ مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۲/ ۲۱۳)
ولوسردت اسماء الثقات الرواۃ عن المجروحین لکثر وطال فلیس منھم من التزم ان لایحدث الا عن ثقۃ عندہ الانزر قلیل کشعبۃ ومالک واحمد فی المسند ومن شاء اللّٰہ تعالٰی واحدا بعد واحد ثم ھذا ان کان ففی شیوخھم خاصۃ لامن فوقھم والا لما اتی من طریقھم ضعیف اصلا ولکان مجرد وقوعھم فی السند دلیل الصحۃ عندھم اذاصح السند الیھم ولم یثبت ھذا لاحد، وھذا الامام الھمام یقول لابنہ عبداللّٰہ لواردت ان اقتصرہ علی ماصح عندی لم ار ومن ھذا المسند الا الشیئ بعد الشیئ ولکنک یابنی تعرف طریقتی فی الحدیث انی لااخالف مایضعف الا اذاکان فی الباب شیئ یدفعہ ۲؎ ذکرہ فی فتح المغیث عہ واما المصنفون فاذا عدوت امثال الثلٰثۃ للبخاری ومسلم والترمذی ممن التزم الصحۃ والبیان الفیت عامۃ المسانید والمعاجیم والسنن والجوامع والاجزاء تنطوری فی کل باب علی کل نوع من انواع الحدیث من دون بیان ،
اگر میں ان ثقہ محدثین کے نام شمار کروں جنہوں نے مجروح راویوں سے روایت کی ہے تو یہ داستان طویل ہو اور ان میں کوئی ایسا شخص نہیں ملتا جس نے یہ التزام کیا ہوکہ وہ اسی سے روایت کرے گا جو اس کے نزدیک ثقہ ہو مگر بہت کم محدثین مثلاً شعبہ، امام مالک اور احمد نے مسند میں اور کوئی اِکّا دُکّا جس کو اللہ تعالٰی نے توفیق دی، پھر ان کے ہاں بھی یہ معاملہ ان کے اپنے شیوخ تک ہی ہے اس سے اوپر نہیں ورنہ ان کی سند سے کوئی ضعیف حدیث مروی نہ ہوتی اور محدثین کے ہاں ان میں سے کسی کا سند میں آجانا صحتِ حدیث کے لئے کافی ہوتا ہے جبکہ صحت کے ساتھ سندان تک پہنچی ہو حالانکہ یہ بات کسی ایک کے لئے بھی ثابت نہیں، یہ امام احمد اپنے بیٹے عبداللہ کو فرماتے ہیں: اگر میں اس بات کا ارادہ کرتا کہ میں ان ہی احادیث کی روایت پر اکتفا کروں گا جو میرے ہاں صحیح ہیں تو پھر اس مسند میں بہت کم احادیث روایت کرتا، مگر اے میرے بیٹے! تُو روایت حدیث میں میرے طریقے سے آگاہ ہے کہ میں حدیث ضعیف کی مخالفت نہیں کرتا مگر جب اس باب میں مجھے کوئی ایسی شیئ مل جائے جو اسےرَد کردے یہ فتح المغیث میں مذکور ہے، باقی رہیں محدثین کی تصنیفات تو اگر آپ امثال الکتب بخاری ومسلم اور ترمذی تینوں کتابوں کو سے تجاوز کریں جنہوں نے صحت وبیان کا التزام کرر رکھا ہے تو آپ اکثر مسانید، معاجیم، سنن، جوامع اور اجزا کے ہر باب میں ہر قسم کی احادیث بغیر بیان کے پائیں گے
عہ: اواخر القسم الثانی الحسن ۱۲ منہ (م)
(۲؎ فتح المغیث شرح الفیۃ الحدیث القسم الثانی الحسن دارالامام الطبری بیروت ۱/ ۹۶)
وھذا مما لاینکرہ الاجاھل اومتجاھل فان ادعی مدع انھم لایستحلون ذلک فقد نسبہم الی افتخام مالایبیحون وان زعم زاعم انھم لایفعلون ذلک فھم بصنیعھم علی خلفہ شاھدون وھذا ابوداؤد الذی الین لہ الحدیث کماالین لداود علیہ الصلاۃ والسلام الحدید، قال فی رسالتہ الٰی اھل مکۃ شرفھا اللّٰہ تعالٰی ان ماکان فی کتابی من حدیث فیہ وھن شدید فقدبینتہ ومنہ مالایصح سندہ ومالم اذکر فیہ شیئا فھو صالح وبعضھا اصح من بعض ۱؎ اھ۔
اس بات کا انکار جاہل یا متجاہل ہی کرسکتا ہے اور اگر کوئی دعوٰی کرے کہ محدثین کے ہاں یہ جائز نہیں تو یہ ان کی طرف ایسی بات کی نسبت کرنا ہے جس سے لازم آتا ہے کہ ایسا عمل کرتے ہیں جسے وہ جائز نہ سمجھتے تھے اور اگر کوئی یہ زعم رکھتا ہوکہ وہ ایسا نہیں کرتے تو ان کا عمل اس کے برخلاف خود شاہد ہے، امام ابوداؤد کو ہی لیجئے ان کے لئے حدیث اسی طرح آسان کردی گئی جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے لئے لوہا نرم ہوجاتا تھا، اہل مکہ ''شرفہا اللہ تعالٰی'' کی طرف خط میں لکھا: میری کتاب (سنن ابی داؤد) میں جن بعض احادیث کے اندر نہایت سخت قسم کا ضعف ہے اس کو میں نے بیان کردیا ہے، اور بعض ایسی ہیں کہ ان کی سند صحیح نہیں اور جس کے بارے میں میں کچھ ذکر نہ کروں وہ استدلال کے لئے صالح ہیں اور بعض احادیث دوسری بعض کے اعتبار سے اصح ہیں اھ۔
(۱؎ مقدمہ سنن ابی داؤد، فصل ثانی آفتاب عالم پریس لاہور ص۴)
والصحیح ماافادہ الامام الحافظ ان لفظ صالح فی کلامہ اعم من ان یکون للاحتجاج اوللاعتبار فما ارتقی الی الصحۃ ثم الی الحسن فھو بالمعنی الاول وماعداھما فھو بالمعنی الثانی وماقصر عن ذلک فھو الذی فیہ ومن شدید ۲؎ اھ وھذا الذی یشھدبہ الواقع فعلیک بہ وان قیل وقیل (عہ)۔
اور صحیح وہ ہے جس کا امام حافظ نے افادہ فرمایا ہے کہ ابوداؤد کے کلام میں لفظ صالح استدلال اور اعتبار دونوں کو شامل ہے، پس جو حدیث صحت پھر حسن کے درجہ پر پہنچے وہ معنی اول کے لحاظ سے صالح ہے اور جو ان دونوں کے علاوہ ہے وہ معنی ثانی کے لحاظ سے صالح ہے اور جو اس سے بھی کم درجہ پر ہے وہ ایسی ہوگی جس میں ضعفِ شدید ہے اھ نفس الامر اس پر شاہد ہے اور تجھ پر یہی لازم ہے اگرچہ قبل کے طور پر کیا گیا ہے۔
(۲؎ ارشاد الساری بحوالہ حافظ ابن حضر مقدمہ کتاب دارالکتاب العربی بیروت ۱ /۸)
عہ : ای قیل حسن عندہ واختارہ الامام المنذری وبہ جزم ابن الصلاح فی مقدمتہ وتبعہ الامام النووی فی التقریب ای وقد لایکون حسنا عندغیرہ کمافی ابن الصلاح وقیل صحیح عندہ ومشی علیہ الامام الزیلعی فی نصب الرایۃ عنہ ذکر حدیث القلتین وتبعہ العلامہ حلبی فی الغنیۃ فی فصل فے التوافل وکذلک یقال ھھنا انہ قدلایصح عند غیرہ بل ولایحسن واما الامام ابن الھمام فی الفتح اھل الکتاب وتلمیذہ فی الحلیۃ قبیل صفۃ الصلاۃ فاقتصرا علی الحجیۃ وھی تشملھما فیقرب من قول من قال حسن وھذا الذی ذکرہ الحافظ وتبعہ فیہ العلامۃ القسطلانی فی مقدمۃ الارشاد وختم الحفاظ فی التدریب فی فروع فی الحسن قال لکن ذکر ابن کثیر انہ روی عنہ ماسکت عنہ فھو حسن فان صح ذلک فلااشکال ۱؎ اھ اقول لقائل ان یقول ان للحسن اطلاقات وان القدماء قل ماذکروہ وانما الترمذی ھو الذی شھرہ وامرہ فاید ربنا انہ ان صح عنہ ذلک لم یرد بہ الاھذا لا الذی استقر علیہ الاصطلاح فافھم واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
یعنی بعض نے کہا کہ اس کے نزدیک وہ حسن ہے، اسے امام منذری نے اختیار کیا، اسی پر ابن صلاح نے مقدمہ میں جزم کیا اور امام نووی نے تقریب میں اسی کی اتباع کی یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ حسن نہیں ہوتی جیسے کہ مقدمہ ابن صلاح میں ہے، اور بعض نے کہا کہ اس کے نزدیک وہ صحیح ہے، امام زیلعی نصب الرایہ میں قلتین والی حدیث کے ذکر میں اسی پر چلے ہیں۔ اور علّامہ حلبی نے غنیۃ المستملی کی فصل فی النوافل میں اسی کی اتباع کی ہے اور اسی طرح یہاں کہا جائے گا یعنی کبھی اس کے غیر کے ہاں وہ صحیح نہیں بلکہ حسن بھی نہیں ہوتی۔ امام ابن ہمام نے فتح القدیر ابتدائے کتاب میں اور ان کے شاگرد نے حلیۃ المحلی میں صفۃ الصلٰوۃ سے تھوڑا پہلے اس کے صحیح ہونے پر اقتصار کیا ہے اور یہ بات ان دونوں اقوال کو شامل ہے پس یہ اس کے قول کے قریب ہے جس نے کہا وہ حسن ہے یہ وہ ہے جس کا ذکر حافظ نے کیا ہے اور مقدمہ ارشاد الساری میں علامہ قسطلانی نے اسی کی اتباع کی ہے اور تدریب میں خاتم الحفاظ نے بیان فروع فی الحسن، لیکن ابن کثیر نے کہا کہ ان سے ہے کہ جس پر انہوں نے سکوت کیا، وہ حسن ہے۔ پس اگر یہ صحیح ہوتو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اھ اقول (میں کہتا ہوں) کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ حسن کے تو مختلف اطلاقات ہیں بہت کم قدماء نے اس کا ذکر کیا ہے صرف امام ترمذی نے اس کو شہرت دی اور اس کا اجراء کیا، پس اللہ رب العزت نے ہماری تائید فرمائی کہ اگر ان سے یہ بات صحت کے ساتھ ثابت ہوجائے تو انہوں نے اس سے یہی مراد لی ہے نہ وہ جس پر اصطلاح قائم ہوچکی ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ تدریب الراوی شرح تقریب النووی فروع فی الحسن دارنشر الکتب الاسلامیہ لاہور ۱/ ۱۶۸)
وقدنقل عن اعلام سیرا النبلاء للذھبی ان ماضعف اسنادہ لنقص حفظ اوید فمثل ھذا یسکت عنہ ابوداود غالبا ۱؎ الخ۔
اور امام ذہبی کی اعلام سیر النبلا سے منقول ہے کہ جس حدیث کی سند ضعیف اس کے راوی کا حفظ ناقص ہونے کی وجہ سے ہوتو ایسی حدیث کے بارے میں ابوداؤد سکوت اختیار کرتے ہیں الخ۔
(۱؎ سیر اعلام النبلاء ترجمہ نمبر ۱۱۷ ابوداؤد بن اشعت مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۱۳ /۲۱۴)
ومعلوم ان کتاب ابی داؤد انما موضوعہ الاحکام وقدقال فی رسالتہ انمالم اصنف فی کتاب السنن الا الاحکام ولم اصنف فی الزھد وفضائل الاعمال وغیرھا ۲؎ الخ ۔
اور یہ بات معلوم ہے کہ ابوداؤد شریف کا موضوع احکام ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے رسالہ میں یہ بات کہی ہے میں نے یہ کتاب احکام ہی کے لئے لکھی ہے زہد اور فضائل اعمال وغیرہ کے لئے نہیں الخ۔
(۲؎ رسالہ مع سنن ابی داؤد الفصل الثانی فی الامور التی تعلق بالکتاب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۵)