اقول لولا ان الفاضل المدقق خالف المحقق لکان لکلامہ معنی صحیح، فان الثبوت اعم من الثبوت عینا اوباندراج تحت اصل عام ولواصالۃ الاباحۃ فان المباح یصیر بالنیۃ مستحبا ونحن لاننکران قبول الضعاف مشروط بذٰلک کیف ولولاہ لکان فیہ ترجیح الضعیف علی الصحیح وھوباطل وفاقا، فلواراد الفاضل ھذا المعنی لاصاب ولسلم من التکرار فی قولہ اوالاذکار الماثورۃ لکنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی بصدد مخالفۃ المحقق المرحوم وقدکان المحقق انما عول علی ھذا المعنی الصحیح حیث قال المباحات تصیر بالنیۃ عبادۃ فکیف مافیہ شبھۃ الاستحباب لاجل الحدیث الضعیف والحاصل ان الجواز معلوم من خارج والاستحباب ایضا معلوم من القواعد الشرعیۃ الدالۃ علی استحباب الاحتیاط فی امرالدین فلم یثبت شیئ من الاحکام بالحدیث الضعیف بل اوقع الحدیث شبھۃ الاستحباب فصار الاحتیاط ان یعمل بہ فاستحباب الاحتیاط معلوم من قواعد الشرع ۱؎ اھ ملخصا فالظاھر من عدم ارتضائہ انہ یرید الثبوت عینا بخصوصہ ویؤیدہ تشبثہ بالفرق بین الاعمال وفضائلھا فان ارادہ فھذہ جنود براھین لاقبل لاحدبھا وقداتاک بعضھا۔
(۱؎ انموذج العلوم للدوانی)
اقول کاش فاضل مدقق محقق دوانی کی مخالفت نہ کرتے تو ان کے کلام کا معنی درست ہوتا کیونکہ ثبوت بعض اوقات عینی ہوتا ہے اور بعض اوقات کسی عمومی اصل کے تحت ہوتا ہے اگرچہ اباحت کی اصل پر ہو کیونکہ مباح نیت سے مستحب ہوجاتا ہے اور ہم قبول ضعاف کو اس کے ساتھ مشروط ہونے کا انکار نہیں کرتے یہ کیسے ممکن ہے؟ اگر یہ بات نہ ہوتو اس میں ضعیف کو صحیح پر ترجیح لازم آتی اور وہ بالاتفاق باطل ہے، اگر فاضل مدقق بھی یہی مراد لیتے تو درست تھا اور اپنے قول ''اوالاذکار الماثورۃ'' کے تکرار سے محفوظ ہوجاتے، لیکن فاضل رحمۃ اللہ علیہ محقق کی مخالفت کے درپے تھے اور محقق نے اسی معنی صحیح پر اعتماد کیا تھا چنانچہ کہا کہ مباحات نیت سے عبادت قرار پاتے ہیں تو اس کا کیا حال ہوگا جس کے استحباب میں حدیث ضعیف کی وجہ سے شُبہہ ہو؟ حاصل یہ ہے کہ جواز خارج سے معلوم ہوتا ہے اور استحباب بھی ایسے قواعد شرعیہ سے معلوم ہوتا ہے جو امر دین میں احتیاطاً استحباب پر دال ہیں، پس احکام میں سے کوئی بھی حکم حدیث ضعیف سے ثابت نہ ہوگا بلکہ حدیث استحباب کا شبہہ پیدا کردے گی لہذا احتیاطاً اسی پر عمل کرنا ہوگااور احتیاطاً استحباب پر عمل قواعد شرع سے معلوم ہوا ہے اھ ملخصا ان کی عدم پسندیدگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے ثبوت سے مراد صرف عینی لیا ہے اور اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ انہوں نے اس پر استدلال اعمال اور فضائل اعمال کے فرق سے کیا ہے اگر انہوں نے یہی مراد لیا ہے تو یہ دلائل کا انبار ہے جس کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا اور بعض کا ذکر آپ تک پہنچ گیا۔ (ت)
عہ: ویکدرہ ایضا علی ماقیل مغایرۃ العلماء بین فضائل الاعمال والترغیب علی ماھو الظاھر من کلامھم فلفظ ابن الصلاح فضائل الاعمال وسائر فنون الترغیب والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالاحکام والعقائد ھذا توضیح ماقیل، اقول بل المراد بفضائل الاعمال الاعمال التی ھی فضائل تشھد بذلک کلمات العلماء المارۃ فی الافادۃ السابعۃ عشر کقول الغنیۃ والقاری والسیوطی وغیرھم کمالاینھی علی من لہ اولٰی مسکۃ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
اسے یہ بات بھی رد کرتی ہے کہ علماء کی عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ فضائلِ اعمال اور ترغیب ایک شَے نہیں، ابن صلاح کے الفاظ یہ ہیں کہ فضائل اعمال اور ترغیب وترہیب کے معاملات اور وہ چیزیں جن کا تعلق احکام وعقائد سے نہیں ہے یہ ماقیل کی وضاحت ہے اقول (میں کہتا ہوں) بلکہ اس سے مراد وہ فضائلِ اعمال میں جن کی شہادت علماء کا کلام دیتا ہے جو کہ سترھویں۱۷ افادہ میں گزرا مثلاً غنیہ، قاری اور سیوطی وغیرہ کے اقوال اور یہ بات ہر اس شخص پر مخفی نہیں جس میں ادنٰی سا شعور ہو ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)
علی انی اقول اذن یرجع معنی العمل بعد الاستقصاء التام الی ترجی اجر مخصوص علی عمل منصوص ای یجوز العمل بشیئ مستحب معلوم الاستحباب مترجیا فیہ بعض خصوص الثواب لورود حدیث ضعیف فی الباب، فالآن نسألکم عن ھذا الرجاء اھو کمثلہ بحدیث صحیح ان وردام دونہ، الاول باطل فان صحۃ الحدیث بفعل لایجبر ضعف ماوردفی الثواب المخصوص علیہ وعلی الثانی ھذا القدر من الرجاء یکفی فیہ الحدیث الضعیف فای حاجۃ الٰی ورود صحیح بخصوص الفعل نعم لابد ان یکون ممایجیز الشرع رجاء الثواب علیہ وھذا حاصل بالاندراج تحت اصل مطلوب اومباح مع قصد مندوب فقد استبان ان الوجہ مع المحقق الدوانی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
علاوہ ازیں میں کہتا ہوںانتہائے گفتگو کے بعد اب عمل کا معنی عمل منصوص پر اجر مخصوص کی امید دلانا ہے یعنی شیئ مستحب جس کا استحباب واضح ہے پر عمل کرنا اور اس میں خصوص ثواب کی امید کرنا جائز ہوگا اس لئے کہ اس بارے میں حدیث ضعیف موجود ہے اب ہم اس امید کے بارے میں تم سے پُوچھتے ہیں کیا یہ اسی رجاء کی مثل ہے جو حدیث صحیح کی وجہ سے ہوتی ہے اگر وہ وارد ہو یا اس سے کم درجہ کی ہے پہلی صورت باطل ہے کیونکہ صحتِ حدیث کسی ایسی روایت پر جابر نہیں ہوسکتی جو کسی مخصوص ثواب کے بیان کے لئے وارد ہو اور دوسری صورت میں اس قدر رجاء کے لئے حدیث ضعیف ہی کافی ہے تو اب کسی مخصوص فعل کے لئے حدیث صحیح کے وارد ہونے کی ضرورت نہ رہی، ہاں یہ بات ضروری ہے کہ وہ فعل ایسے اعمال میں سے ہوکہ شریعت نے اس پر ثواب کی امید دلائی ہو اور یہ حاصل ہے اصل مطلوب کے تحت اندراج کا یا مباح بقصد مندوب کا تو اب واضح ہوگیا کہ دلیل محقق دوانی کے ساتھ ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
ثانیھما بعض من تقدم الدوانی زعم ان مراد النووی ای بمامر من کلامہ فی الاربعین والاذکار انہ اذاثبت حدیث صحیح اوحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال تجوز روایۃ الحدیث الضعیف فی ھذا الباب قال المحقق بعد نقلہ فی الانموذج لایخفی ان ھذا لایرتبط بکلام النووی فضلا عن انیکون مرادہ ذلک، فکم بین جواز العمل واستحبابہ وبین مجرد نقل الحدیث فرق، علی انہ لولم یثبت الحدیث الصحیح و الحسن فی فضیلۃ عمل من الاعمال یجوز نقل الحدیث الضعیف فیھا، لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ ومثل ذلک فی کتب الحدیث وغیرہ شائع یشھدبہ من تتبع ادنی تتبع ۱؎ اھ
ان میں سے دوسرے دوانی سے پہلے کے کچھ لوگ ہیں جنہوں نے یہ گمان کیا کہ امام نووی نے اربعین اور اذکار میں جو گفتگو کی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت کے بارے میں حدیث صحیح یا حسن ثابت ہوتو اس کے بارے میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے، محقق دوانی نے انموذج العلوم میں اسے نقل کرنے کے بعد لکھا مخفی نہ رہے کہ اس زعم کا امام نووی کے کلام کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں چہ جائیکہ یہ انکی مراد ہو کیونکہ اکثر طور پر جواز عمل واستحباب عمل اور محض نقل حدیث کے درمیان بڑا فرق ہوتا ہے، علاوہ ازیں اگر کسی عمل کی فضیلت میں حدیث صحیح یا حسن ثابت نہ بھی ہو تب بھی اس میں حدیث ضعیف کا روایت کرنا جائز ہے، خصوصاً اس تنبیہ کے ساتھ نقل کرنا کہ یہ ضعیف ہے اور اس کی مثالیں کتب حدیث اور دیگر کتب میں کثیر ہیں اور اس بات پر ہر وہ شخص گواہ ہے جس نے اس کا تھوڑا سا مطالعہ بھی کیا ہے اھ (ت)
(۱؎ انموذج العلوم للدوانی)
اقول لااری احدا ممن ینتمی الی العلم ینتھی فی الغباوۃ الی حدیحیل روایۃ الضعاف مطلقا حتی مع بیان الضعف فان فیہ خرقا لاجماع المسلمین وتاثیما بین لجمیع المحدثین وانما المراد الروایۃ مع السکوت عن بیان الوھن فقول المحقق لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ، لیس فی محلہ والآن نعود الی تزییف مقالتہ فنقول اوّلا ھذا الذی ابدیج ان سلم وسلم لم یتمش الافی لفظ القبول کمااشرنا الیہ سابقا فمجرد روایۃ حدیث لوکان عملا بہ لزم ان یکون من روی حدیثا فی الصلاۃ فقد صلی اوفی الصوم فقدصام وھکذا مع ان الواقع فی کلام الامام فی کلاالکتابین انما ھو لفظ العمل وھذا مااشار الیہ الدوانی بقولہ ان ھذا لایرتبط الخ
اقول میں ایسے کسی اہلِ علم کو نہیں جانتا جو غباوت کے اس درجہ پر پہنچ چکا ہوکہ حدیث ضعیف کا ضعف بیان کررنے کے باوجود اس کی روایت کو مطلقاً محال تصور کرتا ہو کیونکہ اس میں اجماع مسلمین کی مخالفت ہے اور واضح طور پر تمام محدثین کو گناہ کا مرتکب قرار دینا ہے، لہذا مراد یہ ہے کہ ضعف بیان کےے بغیر روایت حدیث ہوتو درست ہے لہذا محقق دوانی کا قول ''لاسیما مع التنبیہ علی ضعفہ'' بجا نہیں۔ اب ہم اس کے قول کی کمزوری کے بیان کی طرف لوٹتے ہیں: اولاً اگر یہ بیان کردہ قول اگر صحیح ہو اور اسے درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر قبول حدیث ہی اس سے مراد ہوگا جیسا کہ ہم پیچھے اشارہ کر آئے ہیں کیونکہ اگر محض روایت کا نام ہی عمل ہوتو لازم آئے گا کہ وہ شخص جس نے نماز کے بارے میں حدیث روایت کی اس نے نماز بھی ادا کی، یا اس طرح روزے کے بارے میں روایت کرنیوالے روزہ بھی رکھاہو، باوجود اس کے امام نووی کی دونوں کتب میں لفظ عمل ہے اور اسی کی طرف محقق دوانی نے اشارہ کرتے ہوئے کہا اٰن ھذا لایرتبط الخ ۔
وثانیا اقول قدبینا ان القبول انما مرجعہ الٰی جواز العمل وحینئذ یکفی فی ابطالہ دلیلنا المذکور خامسا مع ماتقدم۔
ثانیا میں کہتا ہوں کہ ہم پیچھے بیان کر آئے ہیں کہ قبول کا مرجع جوازِ عمل ہے تو اب اس کے اطبال کے لئے ''خامساً'' سے ہماری مذکورہ دلیل مع مذکور گفتگو کے کافی ہے۔
وثالثا اذن یکون حاصل التفرقۃ ان الاحکام لایجوز فیھا روایۃ الضعاف اصلا ولووجد فی خصوص الباب حدیث صحیح اللھم الامقرونۃ ببیان الضعف اماما دونھا کالفضائل فتجوز اذاصح حدیث فیہ بخصوصہ والا لا الا ببیان وح ماذا یصنع بالوف مؤلفۃ من احادیث مضعفۃ رویت فی السیر والقصص والمواعظ والترغیب والفضائل والترھیب وسائر مالاتعلق لہ بالعقد والحکم مع فقدان الصحیح فی خصوص الباب وعدم الاقتران ببیان الوھن وھذا مااشار الیہ الدوانی بالعلاوۃ۔
ثالثا اب حاصل فرق یہ ہوگا کہ احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کی روایت جائز نہیں اگرچہ اس خصوصی مسئلہ کے بارے میں حدیث صحیح موجود ہو مگر صرف اس صورت میں جائز ہے جب اس کا ضعف بیان کردیا جائے مگر احکام کے علاوہ فضائل میں اگر اس خصوصی مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح پائی جائے تو ضعیف کی روایت جائز ہے اگر حدیث صحیح نہ ہوتو جائز نہیں مگر بیان ضعف کے ساتھ جائز ہے اب ان ہزارہا کتب کا کیا بنے گاجن میں ایسی احادیث ضعیفہ مروی ہیں جو سِیر، واقعات، وعظ، ترغیب وترہیب، فضائل اور باقی حدیثیں جن کا تعلق عقیدہ اور احکام سے نہیں اس کے ساتھ ساتھ خاص اس مسئلہ میں کوئی حدیث صحیح بھی موجود نہ ہو اور ضعیف حدیث کا ضعف بھی بیان نہ کیاگیا ہو یہ وہ ہے جس کی طرف دوانی نے ''علاوۃ'' کے سااتھ اشارہ کیا ہے۔
اقول دع عنک توسع المسانید التی تسند کل ماجاء عن صحابی، والمعاجیم التی توعی کل ماوعی عن شیخ بل والجوامع التی تجمع امثل مافی الباب وردہ ان لم یکن صحیح السند ھذا الجبل الشامخ البخاری یقول فی صحیحہ حدثنا علی بن عبداللّٰہ بن جعفر ثنا معن بن عیسٰی ثنا اُبی بن عباس بن سھل عن ابیہ عن جدہ قال کان للنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی حائطنا فرس یقال لہ اللحیف ۱؎ اھ
اقول ان مسانید کی وسعت کو چھوڑئےے جو صحابی سے روایات بیان کرتی ہیں اور معاجیم جو شیخ سے محفوظ شدہ احادیث کی حفاظت کرتی ہیں بلکہ جوامع جو اس باب میں وارد شدہ احادیث میں اعلٰی قسم کی روایات جمع کرتی ہیں اگرچہ سند صحیح نہ ہو مثلاً حدیث کے عظیم پہاڑ امام بخار اپنی صحیح میں کہتے ہیں ہمیں علی بن عبداللہ بن جعفر نے حدیث بیان کی، ہمیں معن بن عیسٰی نے حدیچ بیان کی، ہمیں ابن عباس بن سہل نے اپنے باپ سے اپنے دادا سے حدیث بیان کی، فرمایا نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ہمارے ہمارے باغ میں ایک گھوڑا تھا جس کا نام لحیف تھا اھ۔
(۱؎ صحیح البخاری باب اسم الفرس والحمار مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۴۰۰)
فی تذھیب التھذیب للذھبی "خ ،ت،ق " ابی بن عباس ۲؎ بن سھل بن سعد الساعدی المدنی عن ابیہ وابی بکر بن حزم وعنہ معن القزاز وابن ابی فدیک وزید بن الحباب وجماعۃ ۳؎۔
امام ذہبی نے تذہیب التہذیب میں لکھا کہ اُبی بن عباس بن سہلی بن سعد الساعدی مدنی نے اپنے والد گرامی اور ابربکر بن حزم سے روایت کیا اور ان سے معن القزار، ابن ابی فدیک، زید بن الحباب اور ایک جماعت نے روایت کیا،
(۲؎ ''خ'' سے بخاری، ''ت'' سے ترمذی اور ''ق'' سے قزوینی مراد ہے۔)
(۳؎ خلاصہ تذہیب التہذیب ترجمہ نمبر ۳۲۷ من اسمہ ابی مطبوعہ مکتبہ اثریہ سانگلہ ہل ۱/ ۶۲)
قال الدولا بی لیس بالقوی قلت وضعفہ ابن معین وقال احمد منکر الحدیث ۴؎ اھ وکقول الدولابی قال النسائی کمافی المیزان ولم ینقل فی الکتابین توثیقہ عن احدوبہ ضعف الدارقطنی ھذا الحدیث لاجرم ان قال الحافظ فیہ ضعف عہ قال مالہ فی البخاری غیر حدیث واحد ۵؎ اھ قلت فانما الظن بابی عبداللّٰہ انہ انما تساھل لان الحدیث لیس من باب الاحکام واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
دولابی کہتے ہیں کہ یہ قوی نہیں۔ میں کہتا ہوں اسے ابنِ معین نے ضعیف کہا اور امام احمد کے نزدیک یہ منکر الحدیث ہے اور میزان میں ہے نسائی کا قول دولابی کی طرح ہی ہے اور دونوں کتب میں اس کے بارے میں کسی کی توثیق منقول نہیں، دارقطنی نے اسی وجہ سے اس حدیث کو ضعیف قرار دیا۔ لاجرم حافظ نے کہا ہے کہ اس میں ضعف ہے اور کہا کہ بخاری میں اس ایک حدیث کے علاوہ اس کی کوئی حدیث نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ ابوعبداللہ کے بارے میں گمان ہے کہ انہوں نے تساہل سے کام لیا، کیونکہ اس حدیث کا تعلق احکام سے نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
عہ قلت واما اخوہ المھیمن فاضعف واضعف ضعفہ النسائی والدارقطنی وقال البخاری منکر الحدیث ای فلاتحل الروایۃ عنہ کمامر لاجرم ان قال الذھبی فی اخیہ ابی انہ واہ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ (م)
میں کہتا ہوں اس کا بھائی عبدالمہیمن ہے اور وہ اضعف الضعاف ہے اسے نسائی اور دارقطنی نے ضعیف کہا، بخاری نے اسے منکر الحدیث کہا یعنی اس سے روایت کرنا جائز نہیں جیسا کہ گزرا لاجرم ذہبی نے اسے اس کے بھائی ابی کے بارے میں کہا کہ وہ نہایت ہی کمزور ہے ۱۲ منہ (ت)
(۴؎ میزان الاعتدال فی نقدالرجال ترجمہ نمبر ۲۷۳ من اسمہ ابی مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت ۱/ ۷۸)
نوٹ: تذہیب التہذیب نہ ملنے کی وجہ سے اس کے خلاصے اور میزان الاعتدال دو۲ کتابوں سے یہ نقل گیا ہے۔
(۵؎ تقریب التہذیب ذکر من اسمہ ابی مطبوعہ مطبع فاروقی دہلی ص ۱۷)
ورابعاً اقول قدشاع وذاع ایراد الضعاف فی المتابعات والشواھد فالقول بمنعہ فی الاحکام مطلقا وان وجد الصحیح باطل صریح وح یرتفع الفرق وینھدم اساس المسئلۃ المجمع علیھا بین علماء المغرب والشرق، لااقول عن ھذا وذاک بل عن ھذین الجبلین الشامخین صحیحی الشیخین فقد تنزلا کثیرا عن شرطھما فی غیرالاصول قال الامام النووی فی مقدمۃ شرحہ لصحیح مسلم عاب عائبون مسلما رحمہ اللّٰہ تعالٰی بروایتہ فی صحیحہ عن جماعۃ من الضعفاء والمتوسطین الواقعین فی الطبقۃ الثانیۃ الذین لیسوا من شرط الصحیح ولاعیب علیہ فی ذلک بل جوابہ من اوجہ ذکرھا الشیخ الامام ابوعمر وبن الصلاح (الٰی ان قال) الثانی انیکون ذلک واقعا فی المتابعات والشواھد لافی الاصول وذلک بان یذکر الحدیث اولا باسناد نظیف رجالہ ثقات ویجعلہ اصلا ثم اتبعہ باسناد اٰخرا واسانید فیھا بعض الضعفاء علی وجہ التاکید بالمتابعۃ اولزیادۃ فیہ تنبہ علی فائدۃ فیما قدمہ وقداعتذر الحاکم ابوعبداللّٰہ بالمتابعۃ والاستشھاد فی اخراجہ من جماعۃ لیسومن شرط الصحیح منھم مطر الوراق وبقیۃ بن الولید ومحمد بن اسحاق بن یساور وعبداللّٰہ بن عمر العمری والنعمان بن راشد اخرج مسلم عنھم فی الشواھد فی اشباہ لھم کثیرین انتھی ۱؎۔
رابعاً میں کہتا ہوں کہ متابع اور شواہد میں احادیث ضعیفہ کا ایراد شائع اور مشہور ہے لہذا حدیث صحیح کی موجودگی میں احکام کے بارے میں حدیث ضعیف کے مطلقاً روایت کرنے کو منع کرنا صریحاً باطل ہے، او راس صورت میں فرق مرتفع ہوجاتا ہے اور اس مسئلہ کی اساس جس پر علماءِ مشرق ومغرب کا اتفاق ہے گر کر ختم ہوجاتی ہے یہ میں اس یا اُس (یعنی عام آدمی) کی بات نہیں کرتا بلکہ علم حدیث کے دوبلند اور مضبوط پہاڑ بخاری ومسلم کی صحیحین کہ وہ اصول کے علاوہ میں اپنے شرائط سے بہت زیادہ تنزل میں آگئیں، امام نووی نے مقدمہ شرح صحیح مسلم میں فرمایا کہ عیب لگانے والوں نے مسلم رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ پر یہ طعن کیا کہ انہوں نے اپنی کتاب میں بہت سے ضعیف اور متوسط راویوں سے روایت لی ہے جو دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور صحیح کی شرط پر نہیں، حالانکہ اس معاملہ میں ان پر کوئی طعن نہیں ہوسکتا بلکہ اس کا کئی طریقوں سے جواب دیا گیا ہے جنہیں امام ابوعمرو بن صلاح نے ذکر کیا (یہاں تک کہ کہا) دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ بات ان روایات میں ہے جنہیں بطور متابع اور شاہد ذکر کیا گیا ہے اصول میں ایسا نہیں کیا ہے اس کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے ایک ایسی حدیث ذکر کی جس کی سند درست ہو اور تمام راوی ثقہ ہوں اور اس حدیث کو اصل قرار دے کر اسکے بعد بطور تابع ایک اور سند یا متعدد اسناد ایسی ذکر کی جائیں جن میں بعض راوی ضعیف ہوں تاکہ متابعت کے ساتھ تاکید ہو یا کسی اور مذکور فائدے پر تنبیہ کا اضافہ مقصود ہو، امام حاکم ابوعبداللہ نے عذر پیش کرتے ہوئے یہی کہا ہے کہ جن میں صحیح کی شرط نہیں ان کو بطور تابع اور شاہد روایت کیاگیا ہے، اور ان روایت کرنے والوں میں یہ محدثین ہیں مطرالوراق، بقیۃ بن الولید، محمد بن اسحٰق بن یسار، عبداللہ بن عمر العمری اور نعمان بن راشد، امام مسلم نے ان سے شواہد کے طور پر متعدد روایات تخریج کی ہیں انتہٰی۔
(۱؎ المقدمۃ للامام النووی من شرح صحیح مسلم فصل عاب عائبون مسلماً رحمہ اللہ تعالٰی مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۶)
وقال الامام البدر محمود العینی فی مقدمۃ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری یدخل فی المتابعۃ والاستشھاد روایۃ بعض العضعاء وفی الصحیح جماعۃ منھم ذکروا فی المتابعات والشواھد ۲؎ اھ
امام بدرالدین عینی نے مقدمہ عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں تحریر کیا ہے کہ توابع اور شواہد میں بعض ضعفاء کی روایات بھی آئی ہیں اور صحیح میں ایک جماعت محدثین نے توابع اور شواہد کے طور پر ایسی روایات ذکر کی ہیں اھ (ت)
(۲؎ المقدمۃ للعینی صحیح بخاری الثامنہ فی الفرق بین الاعتبار والمتابعۃ الخ مطبوعہ بیروت ۱ /۸)