جلیلہ (ہفتہ کے دن خون لینے کے بارے میں) امام ابن عساکر روایت فرماتے ہیں ابو معین حسین بن حسن طبری نے پچھنے لگانے چاہے، ہفتہ کا دن تھا غلام سے کہا حجام کو بُلالا، جب وہ چلا حدیث یاد آئی پھر کچھ سوچ کر کہا حدیث میں تو ضعف ہے، غرض لگائے، برص ہوگئی، خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے فریاد کی، فرمایا
:ایاک والاستھانۃ بحدیثی
(دیکھ میری حدیث کا معاملہ آسان نہ جاننا)
اُنہوں نے منّت مانی اللہ تعالٰی اس مرض سے نجات دے تو اب کبھی حدیث کے معاملہ میں سہل انگاری نہ کروں گا صحیح ہو یا ضعیف، اللہ عزوجل نے شفا بخشی ۲؎۔
(۱؎ اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبعہ ادبیہ مصر ۲/ ۲۱۹)
لآلی (عہ۱) میں ہے : اخرج ابن عساکر فی تاریخہ من طریق ابی علی مھران بن ھارون الحافظ الھازی قال سمعت ابامعین الحسین بن الحسن الطبری یقول اردت الحجامۃ یوم السبت فقلت للغلام ادع لی الحجام فلما ولی الغلام ذکرت خبر النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من احتجم یوم السبت ویوم الاربعاء فاصابہ وضح فلایلو من الا نفسہ قال فدعوت الغلام ثم تفکرت فقلت ھذا حدیث فی اسنادہ بعض الضعف فقلت للغلام ادع الحجام لی فدعاہ، فاحتجمت فاصا بنی البرص، فرأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاک والاستھانۃ بحدیثی فنذرت للّٰہ نذرا لئن اذھب اللّٰہ مابی من البرص لم اتھاون فی خبر النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم صحیحا کان اوسقیمافأذھب اللّٰہ عنی ذلک البرص ۲؎۔
(نوٹ: اس عربی عبارت کا ترجمہ لفظ 'جلیلہ' سے شروع ہوکر عربی عبارت سے پہلے ختم ہوجاتا ہے)
عہ: تلومامر ۱۲ منہ (م) لآلی میں اس عبارت کے قریب جو پہلے گزرچکی ہے۔ (ت)
(۲؎ اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبعہ ادبیہ مصر ۲/ ۲۱۹)
مفیدہ (بُدھ کے دن ناخن تراشنے کے امر میں) یوں ہی ایک حدیث ضعیف میں بُدھ کے دن ناخن کتروانے کو آیا کہ مورثِ برص ہوتا ہے، بعض علما نے کتروائے، کسی نے بربنائے حدیث منع کیا، فرمایا حدیث صحیح نہیں فوراً مبتلا ہوگئے، خواب میں زیارت جمال بے مثال حضور پُرنور محبوب ذی الجلال صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مشرف ہُوئے، شافی کافی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور اپنے حال کی شکایت عرض کی، حضور والا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا تم نے نہ سُنا تھا کہ ہم نے اس سے نفی فرمائی ہے؟ عرض کی حدیث میرے نزدیک صحت کو نہ پہنچی تھی۔ ارشاد ہوا: تمہیں اتنا کافی تھا کہ حدیث ہمارے نام پاک سے تمہارے کان تک پہنچی۔ یہ فرماکر حضور مبرئ الاکمہ والا برص محی الموتٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا دست اقدس کو پناہِ دوجہان ودستگیر بیکساں ہے، ان کے بدن پر لگادیا، فوراً اچھے ہوگئے اور اُسی وقت توبہ کی کہ اب کبھی حدیث سُن کر مخالفت نہ کرونگا۔ (اھ)
علّامہ شہاب الدین خفاجی مصری حنفی رحمۃ اللہ علیہ نسیم الریاض شرح شفا امام قاضی عیاض میں فرماتے ہیں:
''قص الاظفار وتقلیمھا سنۃ رورد النھی عنہ فی یوم الاربعا ع وانہ یورث البرص، وحکی عن بعض العلماء انہ فعلہ فنھی عنہ فقال لم یثبت ھذا فلحقہ البرص من ساعتہ فرای النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی منامہ فشکی الیہ فقال لہ الم تسمع نھیی عنہ، فقال لم یصح عندی، فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یکفیک انہ سمع، ثم مسح بدنہ بیدہ الشریفۃ، فذھب مابہ فتاب عن مخالفۃ ماسمع ۱؎ اھ''۔
(نوٹ: اس عربی عبارت کا ترجمہ 'مفیدہ' ص ۴۹۹ سے شروع ہوکر عربی عبارت سے ختم ہوجاتا ہے)
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفا فصل واما نظافۃ جسمہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۳۴۴)
یہ بعض علماء امام علّامہ ابن الحاج مکی مالکی قدس اللہ سرہ العزیز تھے علامہ طحطاوی حاشیہ درمختار میں فرماتے ہیں:
وردفی بعض الاٰثار النھی عن قص الاظفار یوم الاربعاء فانہ یورث وعن ابن الحاج صاحب المدخل انہ ھم بقص اظفارہ یوم الاربعاء، فتذکر ذلک، فترک، ثم رای ان قص الاظفار سنۃ حاضرۃ، ولم یصح عندہ النھی فقصھا، فلحقہ ای اصابہ البرص، فرأی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی النوم فقال الم تسمع نھیی عن ذلک، فقال ''یارسول اللّٰہ لم یصح عندی ذلک'' فقال یکفیک ان تسمع، ثم مسح صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم علی بدنہ فزال البرص جمیعا، قال ابن الحاج رحمہ اللّٰہ تعالٰی فجددت مع اللّٰہ توبۃ انی لااخالف ماسمعت عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ابداً ۱؎۔
بعض آثار میں آیا ہے کہ بدھ کے دن ناخن کتروانے والے کو برص کی بیماری عارض ہوجاتی ہے اور صاحبِ مدخل ابن الحاج کے بارے میں ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز ناخن کاٹنے کا ارادہ کیا، انہیں یہ نہیں والی بات یاد دلائی گئی تو انہوں نے اسے ترک کردیا پھر خیال میں آیا کہ ناخن کتروانا سنّتِ ثابتہک ہے اور اس سے نہی کی روایت میرے نزدیک صحیح نہیں۔ لہذا انہوں نے ناخن کاٹ لیے تو انہیں برص عارض ہوگیا تو خواب میں نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت ہُوئی سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تُونے نہیں سُنا کہ میں نے اس سے منع فرمایا ہے؟ عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم! وہ حدیث میرے نزدیک صحیح نہ تھی، تو آپ نے فرمایا کہ تیرا سُن لینا ہی کافی ہے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ان کے جسم پر اپنا دستِ اقدس پھیرا تو تمام برص زائل ہوگیا۔ ابن الحاج کہتے ہیں کہ میں نے اللہ تعالٰی کے حضور اس بات سے توبہ کی کہ آئندہ جو حدیث بھی نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سُنوں گا اس کی مخالفت نہیں کروں گا۔ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البیع مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت لبنان ۴ /۲۰۲)
سُبحان اللہ! جب محلِ احتیاط میں احادیث ضعیفہ خود احکام میں مقبول ومعمول، تو فضائل تو فضائل ہیں، اور ان فوائد نفیسہ جلیلہ مفیدہ سے بحمداللہ تعالٰی عقل سلیم کے نزدیک وہ مطلب بھی روشن ہوگیا کہ ضعیف حدیث اُس کی غلطی واقعی کو مستلزم نہیں۔ دیکھو یہ حدیثیں بلحاظِ سند کیسی ضعاف تھیں اور واقع میں اُن کی وہ شان کہ مخالفت کرتے ہیں فوراً تصدیقیں ظاہر ہُوئیں، کاش منکر اِن فضائل کو بھی اللہ عزوجل تعظیم حدیث مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی توفیق بخشے اور اُسے ہلکا سمجھنے سے نجات دے، آمین!
افادہ بست۲۱ ویکم (حدیث ضعیف پر عمل کے لئے خاص اُس باب میں کسی صحیح حدیث کا آنا ہر گز ضرور نہیں) بذریعہ حدیث ضعیف کسی فعل کے لئے محلِ فضائل میں استحباب یا موضع احتیاط میں حکم تنزہ ثابت کرنے کے لئے زنہار زنہار اصلاً اس کی حاجت نہیں کہ بالخصوص اس فعل معین کے باب میں کوئی حدیث صحیح بھی وارد ہوئی ہو، بلکہ یقینا قطعاً صرف ضعیف ہی کا درود ان احکام استحباب وتنزہ کے لئے ذریعہ کافیہ ہے، افادات سابقہ کو جس نے ذرا بھی بگوش ہوش استماع کیا ہے اُس پر یہ امر شمس وامس کی طرح واضح وروشن۔ مگر ازانجا کہ مقام مقام افادہ ہے ایضاحِ حق کے لئے چند تنبیہات کا ذکر مستحسن۔
اوّلاً کلمات علمائے کرام میں باآنکہ طبقہ فطبقۃ اُس جوش وکثرت سے آئے، اس تقیید بعید کا کہیں نشان نہیں تو خواہی نخواہی مطلق کو ازپیش خویش مقید کرلینا کیونکر قابل قبول۔
ثانیا بلکہ ارشاداتِ علما صراحۃً اس کے خلاف، مثلاً عبارت اذکار وغیرہا خصوصاً عبارت امام ابن الہمام جو نص تصریح ہے کہ ثبوتِ استحباب کو ضعیف حدیث کافی۔
اقول بلکہ خصوصاً اذکار کا وہ فقرہ کہ اگر کسی مبیع یا نکاح کی کراہت میں کوئی حدیث ضعیف آئے تو اس سے بچنا مستحب ہے واجب نہیں ۔ اس استحباب وانکار وجوب کا منشا وہی ہے کہ اُس سے نہی میں حدیث صحیح نہ آئی کہ وجوب ہوتا، تنہا ضعیف نے صرف استحباب ثابت کیا اور سب اعلٰی واجل کلام امام ابوطالب مکی ہے اس میں تو بالقصد اس تقیید جدید کا رد صریح فرمایا ہے کہ ''وان لم یشھد الہ'' (اگرچہ کتاب وسنّت اس خاص امر کے شاہد نہ ہوں)
ثالثا علمائے فقہ وحدیث کا عملدرآمد قدیم وحدیث اس قید کے بطلان پر شاہد عدل، جابجا انہوں نے احادیث ضعیفہ سے ایسے امور میں استدلال فرمایا ہے جن میں حدیث صحیح اصلاً مروی نہیں۔
اقول مثلاً: (۱) نماز نصف شعبان کی نسبت علی قاری۔
(۲) صلاۃ التسبیح کی نسبت برتقدیر تسلیم ضعف وجہالت امام زرکشی وامام سیوطی کے اقوال افادہ دوم میں گزرے۔
(۳) نماز میں امامت اتقی کی نسبت امام محقق علی الاطلاق کا ارشاد افادہ شانزدہم میں گزرا وہاں اس تقیید کے برعکس حدیث ضعیف پر عمل کو فقدانِ صحت سے مشروط فرمایا ہے:
قال روی ا لحاکم عنہ علیہ الصلاۃ والسلام ان سرکم ان تقبل صلاتکم فلیؤمکم خیار کم فان صح والا فالضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۱؎۔
حاکم نے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ذکر کیا ہے کہ اگر تم یہ پسند کرتے کہ تمہاری نمازیں قبول ہوجائیں تو تم اپنے میں سے بہتر شخص کو امام بناؤ۔ اگر یہ روایت صحیح ہے ورنہ یہ ضعیف ہے موضوع نہیں اور فضائلِ اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جاتا ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الامامۃ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۰۳)
(۴) نیز امام ممدوح نے تجہیز وتکفین قریبی کافر کے بارہ میں احادیث ذکر کیں کہ جب ابوطالب مرے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدنا مولٰی علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو حکم فرمایا کہ اُنہیں نہلاکر دفن کرائیں پھر خود غسل کرلیں بعدہ غسل میت سے غسل کی حدیثیں نقل کیں، پھر فرمایا:
لیس فی ھذا ولافی شیئ من طرق علی حدیث صحیح، لکن طرق حدیث علی کثیرۃ والاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع ۲؎۔
ان دونوں باب میں کوئی حدیث صحیح نہیں مگر حدیث علی کے طرق کثیر میں اور استحباب حدیث ضعیف غیر موضوع سے ثابت ہوجاتا ہے۔
(۲؎فتح القدیر فصل فی الصلاۃ علی المیت مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۲ /۹۵)
غسل کے بعد استحباب مندیل کی نسبت علّامہ ابراہیم حلبی۔
(۶) تائید اباحت کی نسبت امام ابن امیرالحاج۔
(۷) استحباب مسح گردن کی نسبت مولانا علی مکّی۔
(۸) استحباب تلقین کی نسبت امام ابن الصلاح وامام نووی وامام سیوطی کے ارشادات افادہ ہفدہم۔
(۹) کراہت وصل بین الاذان والاقامت کی نسبت علامہ حلبی کلام۔
(۱۰) بدھ کو ناخن تراشنے کی نسبت خود نسیم الریاض وطحاوی کے اقوال افادہ بستم میں زیور گوش سا معین ہوئے۔
یہ دس۱۰ تو یہیں موجود ہیں اور خوفِ اطالت نہ ہوتو سو۱۰۰ دوسو۲۰۰ ایک ادنٰی نظر میں جمع ہوسکتے ہیں، مگر ایضاح واضح میں اطناب تاکے۔
رابعاً، اقول نصوص واحادیث مذکورہ افادات ہفدہم وبستم کو دیکھئے کہیں بھی اس قید بے معنی کی مساعدت فرماتے ہیں؟ حاشا بلکہ باعلی ندا اُس کی لغویات بتاتے ہیں
کمالایخفی علی اولی النھی
(جیسا کہ صاحبِ عقل لوگوں پر مخفی نہیں۔ ت)
خامساً، اقول وباللہ التوفیق اس شرط زائد کا اضافہ اسل مسألہ اجماعیہ کو محض لغو ومہمل کردے گا کہ اب حاصل یہ ٹھہرے گا کہ احکام میں تو مقتضائے حدیث ضعیف پر کاربندی اصلاً جائز نہیں اگرچہ وہاں حدیث صحیح موجود ہو اور ان کے غیر میں بحالت موجود صحیح صحیح ورنہ قبیح۔
اوّلا اس تقدیر پر عمل بمقتضی الضعیف من حیث ہو مقتضی الضعیف ہوگا یا من حیث ہو مقتضی الصحیح، ثانی قطعاً احکام میں بھی حاصل اور تفرقہ زائل، کیا احکام میں درود ضعیف صحاح ثابتہ کو بھی رَد کردیتا ہے؟
ھذا لایقول بہ جاھل
(اس کا قول کوئی جاہل بھی نہیں کرسکتا۔ ت) اور اول خود شرط سے رجوع یا قول بالمتنافیین ہوکر مدفوع کہ جب مصحح عمل درود صحیح ہے تو اس سے قطع نظر ہوکر صحت کیونکر!
ثانیا اگر صحیح نہ آتی ضعیف بیکار تھی آتی تو وہی کفایت کرتی بہرحال اس کا وجود عدم یکساں پھر معلوم بہ ہونا کہاں!
ثالثاً بعبارۃ اخری اظھر واجلی
(ایک دوسری عبارت کے ساتھ زیادہ ظاہر وواضح ہے۔ ت) حدیث پر عمل کے یہ معنی کہ یہ حکم اس سے ماخوذ اور اُس کی طرف مضاف ہوکہ اگر نہ اُس سے لیجئے نہ اُس کی طرف اسناد کیجئے تو اس پر عمل کیا ہوا، اور شک نہیں کہ خود صحیح کے ہوتے ضعیف سے اخذ اور اس کی طرف اضافت چہ معنی، مثلاً کوئی کہے چراغ کی روشنی میں کام کی اجازت تو ہے مگر اس شرط پر کہ نورِ آفتاب بھی موجود ہو۔ سبحان اللہ جب مہر نیمروز خود جلوہ افروز تو چراغ کی کیا حاجت اور اس کی طرف کب اضافت! اسے چراغ کی روشنی میں کام کرتا کہیں گے یا نورِ شمس میں! ع
آفتاب اندر جہاں آنگہ کہ میجوید سہا
(جب جہاں میں آفتاب ہوتو سہا (ستارہ) ڈھونڈنے سے کیا فائدہ!)
لاجرم معنی مسئلہ یہی ہیں کہ حدیث ضعیف احکام میں کام نہیں دیتی اور دوبارہ فضائل کافی ووافی۔
(تحقیق المقام وازاحۃ الاوھام) (تحقیق مقام وازالہ اوھام)
ثمّ اقول تحقیق المقام وتنقیح المرام بحیث یکشف الغمام ویصرّف الاوھام، ان المسألۃ تدوربین العلماء بعبارتین العمل والقبول اما العمل بحدیث، فلایعنی بہ الا امتثال مافیہ تعویلا علیہ والجری علی مقتضاہ نظر الیہ ولابد من ھذا القید الاتری ان لوتوافق حدیثان صحیح وموضوع علی فعل ففعل للامر بہ فی الصحیح، لایکون ھذا عملا علی الموضوع، واما القبول فھووان احتمل معنی الروایۃ من دون بیان الضعف، فیکون الحاصل ان الضعیف یجوز روایتہ فی الفضائل مع السکوت عمافیہ دون الاحکام لکن ھذا المعنی علی تقدیر صحۃ انما یرجع الی معنی العمل کیف ولامنشاء لایجاب اظھارالضعف فی الاحکام الا التحذیر عن العمل بہ حیث لایسوغ فلولم یسغ فی غیرھا ایضا لکان ساوٰھا فی الایجاب فدار الامر فی کلتا العبارتین الی تجویز المشی علی مقتضی الضعاف فی مادون الاحکام فاتضح ماستدللنا بہ خامسا وانکشف الظلام ھذا ھو التحقیق بیدان ھھنا رجلین من اھل العلم زلت اقدام اقلامھما فحملا العمل والقبول علی مالیس بمراد ولاحقیقا بقبول۔
ثمّ اقول اب ہم تحقیق مقام اور وضاحتِ مقصد کیلئے ایسی گفتگو کرتے ہیں جس سے پردے ہٹ جائیں اور شکوک وشبہات ختم ہوجائیں گے اور وہ یہ ہے کہ اس مسئلہ میں علماء دو۲ طرح کے الفاظ استعمال کرتے ہیں عمل اور قبول، عمل بالحدیث سے مراد یہ ہے کہ اس حدیث پر اعتماد کرتے ہُوئے اور اس کے مقتضٰی کو پیش نظر رکھتے ہوئے اس میں مذکور حکم کو بجالایا جائے، اس قید کا اضافہ ضروری ہے اس لئے کہ آپ ملاحظہ کرتے ہیں کہ کسی فعل کے متعلق حدیث صحیح اور حدیث موضوع دونوں اگر موافق ہوں اور فعل کو بجالانے والا حدیث صحیح کو پیش نظر رکھتے ہوئے عمل کرے تو اب موضوع ہر عمل نہ ہوگا قبول بالحدیث پر ہے کہ اگرچہ ضعف بیان کئے بغیر روایت کے معنی کا احتمال ہوتو اس کا حاصل یہ ہوگا کمہ ضعیف میں جو کمزوری ہے اس پر سکوت کرتے ہوئے فضائل میں اس کی روایت کرنا جائز ہے لیکن احکام میں نہیں، اگر قبول بالحدیث کا یہی معنی صحیح ہوتو یہ معنی عمل بالحدیث ہی کی طرف لوٹ جاتا ہے، کیسے؟ وہ ایسے کہ احکام کے بارے میں مروی روایات کے ضعف کو بیان کرنا اس لئے واجب وضروری ہے کہ اس پر عمل سے روکا جائے کہ احکام میں ہر چیز جائز نہیں پھر اگر غیر احکام میں بھی یہ چیز جائز نہ ہوتو ایجاب میں فضائل واحکام دونوں برابر ہوجائیں گے۔ خلاصہ یہ کہ دونوں عبارتوں میں اس امر پر دلیل کے غیر احکام میں ضعیف حدیثوں پر عمل کرنا جائز ہے
اب ہمارا پانچواں استدلال واضح ہوگیا اور تاریکی کھُل گئی اور تحقیق یہی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں دو۲ اہلِ علم ایسے ہیں جن کے قلم کے قدم پھسل گئے، انہوں نے عمل بالحدیث اور قبول بالحدیث کو ایسے معنی پر محمول کیا ہے جو مراد اور قابل قبول نہیں۔ (ت)
احدھما العلامۃ الفاضل الخفاجی رحمہ اللّٰہ تعالٰی حیث حاول الرد علی المحقق الدوانی واوھم بظاھر کلامہ ان محلہ مااذاروی حدیث ضعیف فی ثواب بعض الامور الثابت استجابھا والترغیب فیہ اوفی فضائل بعض الصحابۃ اوالاذکار الماثورۃ قال ولاحاجۃ الی لتخصیص الاحکام والاعمال کماتوھم للفرق الظاھر بین الاعمال وفضائل الاعمال ۱؎ اھ
ان میں سے ایک علّامہ خفاجی رحمہ اللہ تعالٰی ہیں انہوں نے محقق دوانی کے رَدکا ارادہ کیا اور انہیں ان کے کلام کے ظاہر سے وہم ہوگیا کہ اس کا محل وہ ہے جب حدیث ضعیف ان امور کے ثواب کے بارے میں وارد ہو جن کا استحباب ثابت ہو اور اس میں ثواب کی رغبت ہویا بعض صحابہ کے فضائل یا اذکار منقولہ کے بارے میں ہوکہا: حکام واعمال کی تخصیص کی ضرورت ہی نہیں جیسا کہ وہم کیاگیا کیونکہ اعمال اور فضائل اعمال میں فرق ظاہر ہے اھ