بالجملہ اولیا کے لئے سوا اس سند ظاہری کے دوسرا طریقہ ارفع وعلٰی ہے ولہذا حضرت سیدی ابویزید بسطامی رضی اللہ تعالٰی عنہ وقدس سرہ السامی اپنے زمانہ کے منکرین سے فرماتے :
قداخذتم علمکم میتا عن میت واخذنا علمنا عن الحی الذی لایموت ۲؎۔ نقلہ سیدی الامام الشعرانی فی کتابہ المبارک الفاخر الیواقیت والجواھر اٰخر المبحث السابع والاربعین۔
(۲؎ الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲/ ۹۱)
تم نے اپنا علم سلسلہ اموات سے حاصل کیا ہے اور ہم نے اپنا علم حی لایموت سے لیا ہے۔ اسے سیدی امام شعرانی نے اپنی مبارک اور عظیم کتاب الیواقیت والجواہر کی سینتالیس بحث کے آخر میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
حضرت سیدی امام المکاشفین محی الملۃ والدین شیخ اکبر ابن عربی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کچھ احادیث کی تصحیح فرمائی کہ طور علم پر ضعیف مانی گئی تھیں،
کماذکرہ فی باب الثالث والسبعین من الفتوحات المکیۃ الشریفۃ الالھٰیۃ الملکیۃ ونقلہ فی الیواقیت ھنا ۳؎۔
جیسا کہ انہوں نے فتوحات المکیۃ الشریفۃ الالہٰیۃ الملکیۃ کے تیرھویں باب میں ذکر کیا اور الیواقیت میں اس مقام پر اسے نقل کیا ہے۔ (ت)
(۳؎الیواقیت والجواہر باب الثالث والسابع والاربعین مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲ /۸۸)
اسی طرح خاتمِ حفاظ الحدیث امام جلیل جلال الملّۃ والدّین سیوطی قدس سرہ العزیز پچھتر۷۵ بار بیداری میں جمالِ جہاں آرائے حضور پُرنور سید الانبیا صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے بہرہ ورہُوئے بالمشافہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے تحقیقاتِ حدیث کی دولت پائی بہت احادیث کی کہ طریقہ محدثین پر ضعیف ٹھہر چکی تھیں تصحیح فرمائی جس کا بیان ۴؎ عارف ربانی امام العلامہ عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ النورانی کی میزان(عہ)الشریعۃ الکبرٰی میں ہے
من شاء فلیتشرف بمطالعۃ
(جو اس کی تفصیل چاہتا ہے میزان کا مطالعہ کرے۔ ت)
عہ: فی الفصل المذکور قبل مامر بنحوہ صفحۃ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
(۴؎ المیزان الکبرٰی فصل فی استحالۃ خروج شیئ الخ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/ ۴۴)
یہ نفیس وجلیل فائدہ کہ بمناسبت مقام بحمداللہ تعالٰی نفع رسانی برادرانِ دین کے لئے حوالہ قلم ہوا لوحِ دل پر نقش کرلینا چاہے کہ اس کے جاننے والے کم ہیں اور اس لغزش گاہ میں پھسلنے والے بہت قدم ؎
خلیلی قطاع الفیانی الی الحمی
کثیر و ارباب الوصول قلائل
(اے میرے دوست! چراگاہوں میں ڈاکہ ڈالنے والے کثیر اور منزل کو پانے والے کم ہیں۔ ت)
بات دُور پہنچی، کہنا یہ تھا کہ سند پر کیسے ہی طعن وجرح ہوں اُن کے سبب بطلانِ حدیث پر جزم نہیں ہوسکتا ممکن کہ واقع میں حق ہو اور جب صدق کا احتمال باقی تو عاقل جہان نفع بے ضرر کی اُمید پاتا ہے اُس فعل کو بجالاتا ہے دین ودنیا کے کام اُمید پر چلتے ہیں پھر سند میں نقصان دیکھ کر ایکدست اس سے دست کش ہونا کس عقل کا مقتضی ہے کیا معلوم اگر وہ بات سچی تھی تو خود فضیلت سے محروم رہے اور جھُوٹی ہوتو فعل میں اپنا کیا نقصان
فافھم وتثبت ولاتکن من المتعصبین
(اسے اچھی طرح سمجھ لے اس پر قائم راہ اور تعصب کرنے والوں سے نہ ہو۔ ت) انصاف کیجئے مثلاً کسی کو نقصان حرارت عزیزی وضعف ارواح کی شکایت شدید ہو زید اس سے بیان کرے کہ فلاں حکیم حاذق نے اس مرض کے لئے سونے کے ورق سونے کے کھرل میں سونے کی موصلی سے عرق بید مشک یا ہتھیلی پر انگلی سے شہد میں سحق بلیغ کرکے پینا تجویز فرمایا ہے تو عقلی سلیم کا اقتضا نہیں کہ جب تک اُس حکیم تک سند صحیح متصل کی خوب تحقیقات نہ کرلے اس کا استعمال طباً حرام جانے، بس اتنا دیکھنا کافی ہے کہ اصولِ طبیہ میں میرے لئے اس میں کچھ مضرت تو نہیں ورنہ وہ مریض کہ نسخہ ہائے قرابادین کی سندیں ڈُھوڈتا اور حالِ رواۃ تحقیق کرتا پھرے گا قریب ہے کہ بے عقلی کے سبب اُن ادویہ کے فوائد ومنافع سے محروم رہے گا نہ عراق تنقیح سے تریاق تصحیح ہاتھ آئے گا نہ یہ مارگزیدہ دوا پائیگا، بعینہ یہی حال ان فضائل اعمال کا ہے جب ہمارے کان تک یہ بات پہنچی کہ اُن میں ایسا نفع ذکر کیا گیا اور شرع مطہر نے ان افعال سے منع نہ کیا، تو اب ہمیں تحقیق محدثانہ کیا ضرور ہے اگر حدیث فی نفسہٖ صحیح ہے فبہا ورنہ ہم نے اپنی نیک نیت کا اچھا پھل پایا،
ھل تربصون بنا الااحدی الحسنیین ۱؎
(تم ہم پر کس چیز کا انتظار کرتے ہو مگر دو۲ خوبیوں میں سے ایک کا۔ ت)
(۱؎ القرآن ۹/ ۵۲)
افادہ بستم۲۰ :(حدیث ضعیف احکام میں بھی مقبول ہے جبکہ محلِ احتیاط ہو) مقاصد شرع کا عارف اور کلماتِ علما کا واقف جب قبول ضعیف فی الفضائل کے دلائل مزکورہ عبارات سابقہ فتح المبین امام ابن حجر مکی وانموذج العلوم محقق دوانی وقوت القلوب امام مکی رحمہم اللہ تعالٰی ونیز تقریر فقیر مذکور افادہ سابقہ پر نظر صحیح کرے گا
ان انوار متجلیہ کے پر توسے بطور حدس بے تکلّف اُس کے آئینہ دل میں مرتسم ہوگا کہ کچھ فضائل اعمال ہی میں انحصار نہیں بلکہ عموماً جہاں اُس پر عمل میں رنگ احتیاط ونفع بے ضرر کی ضرورت نظر آئے گی بلاشبہہ قبول کی جائے گی جانب فعل میں اگر اس کا ورود استحباب کی راہ بتائے گا جانب ترک میں تنزع وتورع کی طرف بلائے گا کہ آخر مصطفی صلّی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا:
کیف وقدقیل ۱؎۔
(کیونکہ نہ مانے گا حالانکہ کہا تو گیا) رواہ البخاری عن عقبۃ بن الحارث النوفلی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (اسے امام بخاری نے عقبہ بن حارث نوفلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ ت)
(۱؎ صحیح البخاری کتاب العلم باب الرحلۃ فی المسألۃ النازلۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۹)
اقول وقال صلی اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم دع مایربک الی مایریبک ۲؎۔
اقول رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس میں شبہہ پڑتا ہو وہ کام چھوڑدے اور ایسے کی طرف آ جس میں کوئی دغدغہ نہیں''۔
رواہ الامام احمد وابوداود الطیالسی والدارمی والترمذی وقال ''حسن صحیح'' والنسائی وابن حبان والحاکم ''وصححاہ'' وابن قانع فی معجمہ عن الامام ابن الامام سیدنا الحسن بن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما بسند قوی وابو نعیم فی الحلیۃ والخطیب فی التاریخ بطریق مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔
اسے امام احمد، ابوداود طیالسی، دارمی، ترمذی، نے روایت کیا اور اسے حسن صحیح کہا۔ نسائی، ابن حبان اور حاکم ان دونوں نے اسے صحیح کہا۔ ابن قانع نے اپنی معجم میں امام ابن امام سیدنا حسن بن علی رضی اللہ تعالٰی عنہما نے سند قوی کے ساتھ روایت کیا۔ ابونعیم نے حلیہ اور خطیب نے تاریخ میں بطریق مالک عن نافع عن ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما روایت کیا۔ (ت)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل مسند اہلبیت رضوان اللہ علیہم اجمعین مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۲۰۰)
ظاہر ہے کہ حدیث ضعیف اگر مورثِ ظن نہ ہو مورث شبہہ سے تو کم نہیں تو محلِ احتیاط میں اس کا قبول عین مراد شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مطابق ہے، احادیث اس باب میں بکثرت ہیں، از انجملہ حدیث اجل واعظم کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:
من اتقی الشبھات فقد استبرأ لدینہ وعرضہ ومن وقع فی الشھبات وقع فی الحرام کالراعی حول الحمی یوشک ان ترتع فیہ الاوان لکل ملک حمی الاوان حمی اللّٰہ محاورمہ ۱؎۔
جو شبہات سے بچے اُس نے اپنے دین وآبرو کی حفاظت کرلی اور جو شبہات میں پڑے حرام میں پڑ جائے گا جیسے
رمنے کے گرد چرانے والا نزدیک ہے کہ رمنے کے اندر چرائے، سُن لو ہر پادشاہ کا ایک رمنا ہوتا ہے، سُن لو اللہ عزوجل کا رمنا وہ چیزیں ہیں جو اس نے حرام فرمائیں۔
رواہ الشیخان عن النعمان بن بشر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔
اسے بخاری ومسلم دونوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
(۱؎ صحیح البخاری باب فصل من استبرأ لدینہ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۳
مسلم شریف باب اخذ الحلال وترک الشبہات مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۲۸)
امام ابنِ حجر مکّی نے فتح المبین میں ان دونوں حدیثوں کی نسبت فرمایا :
رجوعھما الٰی شیئ واحد وھو النھی التنزیھی عن الوقوع فی الشھبات ۲؎۔
یعنی حاصل مطلب ان دونوں حدیثوں کا یہ ہےکہ شبہہ کی بات میں پڑنا خلافِ اولٰی ہےجس کا مرجع کراہت تنزیہ۔
(۲؎ فتح المبین شرح اربعین )
اللہ عزوجل فرماتا ہے :ان یک کاذبا فعلیہ کذبہ وان یک صادقا یصبکم بعد الذی یعدکم ۳؎۔
اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کے جھُوٹ کا وبال اس پر ہے اور اگر سچّا ہوا تو تمہیں پہنچ جائے گی کچھ نہ کچھ وہ مصیبت جس کا وہ تمہیں وعدہک دیتا ہے۔
(۳؎ القرآن ۴۰ /۲۸)
بحمداللہ تعالٰی یہ معنی ہیں ارشاد امام ابوطالب مکی قدس سرہ، کے قوت القلوب عہ شریف میں فرمایا:
ان الاخبار الضعاف غیر مخالفۃ الکتاب والسنۃ لایلزمنا ردھا بل فیھا مایدل علیھا ۴؎۔
ضعیف حدیثیں جو مخالفِ کتاب وسنّت نہ ہوں اُن کا رَد کرنا ہمیں لازم نہیں بلکہ قرآن وحدیث اُن کے قبول پر دلالت فرماتے ہیں ۔
عہ:فی فصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)
اکتیسویں فصل میں اس کا بیان ہے۔ (ت)
لاجرم علمائے کرام نے تصریحیں فرمائیں کہ دربارہ احکام بھی ضعیف حدیث مقبول ہوگی جبکہ جانب احتیاط
میں ہو، امام نووی نے اذکار میں بعد عبادت مذکور پھر شمس سخاوی نے فتح المغیث پھر شہاب خفاجی نے نسیم الریاض (عہ۱) میں فرمایا:
اما الاحکام کالحلال والحرام والبیع والنکاح والاطلاق وغیر ذلک فلایعمل فیھا الا بالحدیث الصحیح اوالحسن الاان یکون فی احتیاط فی شیئ من ذلک کما اذا ورد حدیث ضعیف بکراھۃ بعض البیوع او الا نکحۃ فان المستحب ان یتنزہ عنہ ولکن لایجب ۱؎۔
یعنی محدثین وفقہا وغیرہم علما فرماتے ہیں کہ حلال وحرام بیع نکاح طلاق وغیرہ احکام کے بارہ میں صرف حدیث صحیح یا حسن ہی پر عمل کیا جائیگا مگر یہ کہ ان مواقع میں کسی احتیاطی بات میں ہو جیسے کسی بیع یا نکاح کی کراہت میں حدیث ضعیف آئے تو مستحب ہے کہ اس سے بچیں ہاں واجب نہیں۔
عہ ۱ : فی شرح اخطبۃ حیث اسند الامام المصنّف حدیث من سئل عن علم فکتمہ الحدیث ۱۲ منہ
(۱؎ نسیم الریاض شرح الشفاء تتمہ وفائدۃ مہمہ فی شرح الخطبۃ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۱/ ۴۲)
حدیث ضعیف پر احکام میں بھی عمل کیا جائیگا جبکہ اُس میں احتیاط ہو۔
(۲؎ تدریب الراوی شرح تقریب النواوی النوع الثانی والعشرون المقلوب مطبوعہ دارنشر الکتب الاسلامیہ بیروت ۱/ ۲۹۹)
علامہ حلبی غنیہ(عہ۲) میں فرماتے ہیں:
الاصل ان الوصل بین الاذان والاقامۃ یکرہ فی کل الصلٰوۃ لماروی الترمذی عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لبلال اذا انت فترسل واذا اقمت فاحد رواجعل بین اذانک واقامتک قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر عہ۳ المغرب والشارب من شربہ والمعتصر اذادخل لقضاء حاجتہ وھو وان کان ضعیفا لکن یجوز العمل بہ فی مثل ھذا الحکم ۱؎۔
یعنی اصل یہ ہے کہ اذان کہتے ہی فوراً اقامت کہہ دینا مطلقا سب نمازوں میں مکروہ ہے اس لئے کہ ترمذی نے جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا اذان ٹھہر ٹھہر کر کہا کر اور تکبیر جلد جلد اور دونوں میں اتنا فاصلہ رکھ کر کھانیوالا کھانے سے (مغرب کے علاوہ میں) اور پینے والا پینے اور ضرورت والا قضائے حاجت سے فارغ ہوجائے، یہ حدیث اگرچہ ضعیف عہ۱ ہے مگر ایسے حکم میں اس پر عمل روا ہے۔
عہ ۲ : فی فصل سنن الصلاۃ ۱۲ منہ
عہ ۳ : قولہ فی غیر المغرب ھکذا ھو فی نسختی الغنیۃ ولیس عند الترمذی بل ھو مدرج فیہ نعم ھو تاویل من العلماء کماقال فی الغنیۃ بعد مانقلنا قالوا قولہ قدر مایفرغ الاکل من اکلہ فی غیر المغرب ومن شربہ فی المغرب ۱۲ منہ
عہ۱ : امام ترمذی نے فرمایا: ھو اسناد مجھول (یہ سند مجہول ہے) ۱۲ منہ (م)
جو بُدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگائے پھر اُس کے بدن پر سپید داغ ہوجائے تو اپنے ہی آپ کو ملامت کرے۔
(۲؎ الکامل لابن عدی من ابتدئ اسمہ عین عبداللہ ابن زیاد مطبوعہ المکتبۃ الاثریہ شیخوپورہ ۴/ ۱۴۴۶)
امام سیوطی لآلی عہ۲ وتعقبات عہ۳ میں مسند الفردوس دیلمی سے نقل فرماتے ہیں:
سمعت ابی یقول سمعت ابا عمرو محمد بن جعفر بن مطر النیسابوری قال قلت یوما ان ھذا الحدیث لیس بصحیح فافتصدت یوم الاربعاء فاصابنی البرص فرأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی النوم فشکوت الیہ حالی فقال ایاک والاستھانۃ بحدیثی فقلت تبت یارسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانتھبت وقدعا فانی اللّٰہ تعالٰی وذھب ذلک عنی ۱؎ ۔
ایک صاحب محمد بن جعفر بن مطر نیشاپوری کو فصد کی ضرورت تھی بُدھ کا دن تھا خیال کیا کہ حدیث مذکور تو صحیح نہیں فصد لے لی فوراً برص ہوگئی، خواب میں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے حضور سے فریاد کی، حضور پرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
ایاک والاستھانۃ بحدیثی ۳؎
(خبردار میری حدیث کو ہلکانہ سمجھنا) انہوں نے توبہ کی، آنکھ کھُلی تو اچھے تھے۔
عہ ۲ : اواخر کتاب المرض والطب ۱۲ منہ (م) کتاب المرض والطب کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
عہ ۳ : باب الجنائز ۱۲ منہ (م) باب الجنائز میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۱؎ اللآلی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ کتاب المرض والطب مطبوعہ ادبیہ مصر ۳/ ۲۱۹)