Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
114 - 157
ان احادیث سے صاف ظاہر ہوا کہ جسے اس قسم کی خبر پہنچی کہ جو ایسا کرے گا یہ فائدہ پائے گا اُسے چاہتے نیک نیتی سے اس پر عمل کرلے اور تحقیق صحتِ حدیث ونظافتِ سند کے پیچھے نہ پڑے وہ ان شاء اللہ اپنے حسن نیت سے اس نفع کو پہنچ ہی جائیگا اقول یعنی جب تک اُس حدیث کا بطلان ظاہر نہ ہوکہ بعد ثبوت بطلان رجاء وامید کے کوئی معنے نہیں۔
فقول الحدیث وان لم یکن مابلغہ حقا ونحوہ انما یعنی بہ فی نفس الامر لابعد العلم بہ وھذا واضح جدا فتثبت ولاتزل۔
تو حدیث کے یہ الفاظ ''اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی وہ حق نہ ہو'' یا اس کی مثل دوسرے الفاظ ''اس سے مراد نفس الامر ہے نہ کہ بعد ازحصول علم''۔ اور یہ بہت ہی واضح ہے اسے یاد رکھو۔ (ت)

اور وجہ اس عطائے فضل کی نہایت ظاہر کہ حضرت حق عزوجل اپنے بندہ کے ساتھ اُس کے گمان پر معاملہ فرماتا ہے، حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے رب عزوجل وعلا سے روایت فرماتے ہیں کہ مولٰی سبحانہ، وتعالٰی فرماتا ہے کہ
اناعند ظن عبدی ۴؎ بی
(میں اپنے بندہ کے ساتھ وہ کرتا ہوں جو بندہ مجھ سے گمان رکھتا ہے) (رواہ البخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجۃ عن ابی ھریرۃ والحاکم بمعناہ عن انس بن مالک (اسے بخاری، مسلم، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے، اور حاکم نے حضرت انس بن مالک سے معناً اسے روایت کیا۔ ت)
 (۴؎ الصحیح لمسلم  کتاب التوبہ  مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/ ۳۵۴)
دوسری حدیث میں یہ ارشاد زائد ہے:
''فلیظن بی ماشاء ۱؎''
 (اب جیسا چاہے مجھ پر گمان کرے) اخرجہ الطبرانی فی الکبیر والحاکم عن واثلۃ بن الاسقع رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند صحیح (اسے طبرانی نے معجم کبیر میں اور حاکم نے حضرت واثلہ بن اسقع سے بسندِ صحیح روایت کیا ہے۔ ت)
 (۱؎ المستدرک علی الصحیحین للحاکم    کتاب التوبۃ والانابۃ    مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان    ۴ /۲۴۰)
تیسری حدیث میں یوں زیادت ہے:
''ان ظن خیر افلہ وان ظن شرافلہ ۲؎''
 (اگر بھلا گمان کرے گا تو اس کے لئے بھلائی ہے اور بُرا گمان کرے گا تو اس کے لئے بُرائی)
رواہ الامام احمد عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بسند حسن علی الصحیح ونحوہ الطبرانی فی الاوسط وانونعیم فی الحلیۃ عن واثلۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ
 (اسے امام احمد نے سند حسن سے صحیح قول پر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور اس کی مثل طبرانی نے اوسط اور ابونعیم نے حلیہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے۔ ت)
 (۲؎ مسند الامام احمد بن حنبل    مسند ابی ہریرۃ   مطبوعہ بیروت            ۲/ ۳۹۱)
جب اُس نے اپنی صدق نیت سے اس پر عمل کیا اور رب عزجلالہ سے اُس نفع کی امید رکھی تو مولٰی تبارک وتعالٰی اکرم الاکرمین ہے اُس کی اُمید ضائع نہ کرے گا اگرچہ حدیث واقع میں کیسی ہی ہو۔ وللّٰہ الحمد فی الاولی والاٰخرۃ۔
افادہ نوزدہم ۱۹ :(عقل بھی گواہ ہے کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف مقبول ہے) وباللہ التوفیق، عقل اگر سلیم ہوتو ان نصوص ونقول کے علاوہ وہ خود بھی گواہ کافی ہے کہ ایسی جگہ ضعیفف حدیث معتبر اور اس کا ضعف مغتفر کہ سند میں کتنے ہی نقصان ہوں آخر بطلان پر یقین تو نہیں فان الکذوب قدیصدق (بڑا جھُوٹا بھی کبھی سچ بولتا ہے) تو کیا معلوم کہ اس نے یہ حدیث ٹھیک ہی روایت کی ہو۔ مقدمہ امام ابوعمر تقی الدین شہرزوری میں ہے:
اذاقالوا فی حدیث انہ غیر صحیح فلیس ذلک قطعا بانہ کذب فی نفس الامراذ قد یکون صدقا فی نفس الامر وانما المراد بہ  انہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور ۳؎۔
محدثین جب کسی حدیث کو غیر صحیح بتاتے ہیں تو یہ اس کے فی الواقع کذب پر یقین نہیں ہوتا اس لئے کہ حدیث غیر صحیح کبھی واقع میں سچی ہوتی ہے اس سے تو اتنی مراد ہوتی ہے کہ اُس کی سند اس شرط پر نہیں جو محدثین نے صحت کے لئے مقرر کی۔
 (۳؎ مقدمہ ابن الصلاح  النوع الاول فی معرفۃ اتصحیح  مطبوعہ فاروقی کتب خانہ ملتان        ص ۸)
تقریب وتدریب میں ہے : اذاقیل حدیث ضعیف، فمعناہ لم یصح اسنادہ علی الشرط المذکور لاانہ کذب فی نفس الامر لجواز صدق الکاذب ۱؎ اھ ملخصا۔
کسی حدیث کو ضعیف کہاجائے تو معنی یہ ہیں کہ اس کی اسناد شرط مذکور پر نہیں نہ یہ کہ واقع میں جھُوٹ ہے ممکن ہے کہ جھُوٹے نے سچ بولا ہو اھ ملخصاً
 (۱؎ تدریب الرادی شرح تقریب النوادی    النوع الاول الصحیح    مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/ ۷۵ تا ۷۶)
 (تصحیح وتضعیف صرف بنظرِ ظاہر ہیں واقع میں ممکن کہ ضعیف صحیح ہو وبالعکس) محقق حیث اطلق (عہ۱)فتح میں فرماتے ہیں :
ان وصف الحسن والصحیح والضعیف انما ھو باعتبار السند ظنا امافی الواقع فیجوز غلط الصحیح وصحۃ الضعیف ۲؎۔
حدیث کو حسن یا صحیح یا ضعیف کہنا صرف سند کے لحاظ سے ظنی طور پر ہے واقع میں جائز ہے کہ صحیح غلط اور ضعیف صحیح ہو۔
   عہ۱ : مسألۃ التنفل قبل المغرب ۱۲ منہ (م)
 (۲؎ فتح القدیر   باب النوافل   مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۳۸۹)
اُسی (عہ۲)میں ہے : لیس معنی الضعیف الباطل فی نفس الامر بل لالم یثبت بالشروط المعتبرۃ عند اھل الحدیث مع تجویز کونہ صحیحاً فی نفس الامر فیجوز ان یقترن قرینۃ تحقق ذلک، وان الراوی الضعیف اجاد فی ھذا المتن المعین فیحکم بہ ۳؎۔
ضعیف کے یہ معنی نہیں کہ وہ واقع میں باطل ہے بلکہ یہ کہ جو شرطیں اہلِ حدیث نے اعتبار کیں اُن پر نہ آئی اس کے ساتھ جائز ہے کہ واقع میں صحیح ہو، تو ممکن کہ کوئی ایسا قرینہ ملے جو ثابت کردے کہ وہ صحیح ہے اور راوی ضعیف نے یہ حدیث خاص اچھے طور پر ادا کی ہے اُس وقت باوصف ضعف راوی اس کی صحت کا حکم کردیا جائے گا۔    عہ۲ :مسألۃ السجود علٰی کور العمامۃ ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
(۳؎فتح القدیر   باب صفۃ الصلاۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۶۶)
موضوعاتِ کبیر میں ہے : المحققون علٰی ان الصحۃ والحسن والضعف انما ھی من حیث الظاھر فقط مع احتمال کون الصحیح موضوعا وعکسہ کذا افادہ الشیخ ابن حجر ۱؎ المکی۔
محققین فرماتے ہیں صحت وحسن وضعف سب بنظر ظاہر ہیں واقع میں ممکن ہے کہ صحیح موضوع ہو اور

اور موضوع صحیح، جیسا کہ شیخ ابن حجر مکّی نے افادہ فرمایا ہے۔
 (۱؎ موضوعات کبیر لملّا علی قاری    زیر حدیث من بلغہ عن اللّٰہ شیئ الخ     مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص ۶۸)
اقول (احادیث اولیائے کرام کے متعلق نفیس فائدہ) یہی وجہ ہے کہ بہت احادیث جنہیں محدثین کرام اپنے طور پر ضعیف ونامعتبر ٹھہرا چکے علمائے قلب، عرفائے رب، ائمہ عارفین، سادات مکاشفین قدسنا اللہ تعالٰی باسرارہم الجلیلہ ونور قلوبنا بانوارہم الجمیلہ انہیں مقبول ومعتمد بناتے اور بصیغ جزم وقطع حضور پرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف نسبت فرماتے اور ان کے علاوہ بہت وہ احادیث تازہ لاتے جنہیں علما اپنے زبر ودفاتر میں کہیں نہ پاتے، اُن کے یہ علوم الٰہیہ بہت ظاہر بینوں کو نفع دینا درکنار اُلٹے باعث طعن ووقعیت وجرح واہانت ہوجاتے،
حالانکہ العظمۃللہ وعباداللہ ان طاعنین سے بدرجہا اتقی اللہ واعلم باللہ واشد توقیافی القول عن رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
 (حالانکہ وہ ان طعن کرنے والوں سے زیادہ اللہ تعالٰی سے خوف رکھنے والے، اللہ تعالٰی کے بارے میں زیادہ علم رکھنے والے، سرورِ دوعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف کسی قول کی نسبت کرنے میں بہت احتیاط کرنے والے تھے۔ ت) تھے۔
ولکن کل حزب بمالدیھم فرحون ۲؎، وربک اعلم بالمھتدین ۳؎۔
اور ہر ایک گروہ اپنے موجود پر خوش ہے اور تیرا رب ہدایت یافتہ کے بارے میں بہتر جانتا ہے۔ (ت)
 (۲؎ القرآن        ۲۳/ ۵۳ و ۳۰/ ۳۲)	(۳؎ القرآن        ۲۸ /۷ و ۱۶/ ۱۲۵ و ۶ /۱۱۷)
میزان (عہ) مبارک میں حدیث : اصحابی کالنجوم بایھم اقتدیتم اھتدیتم ۴؎۔
میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں ان میں سے جس کی اقتدا کروگے ہدایت پاؤگے۔ (ت)
عہ: فی فصل فان ادعی احد من العلماء فوق ھذہ المیزان ۱۲ منہ (م)
 (۴؎ المیزان الکبرٰی    فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۳۰)
کی نسبت فرماتے ہیں :ھذا الحدیث وان کان فیہ مقال عندالمحدثین فھو صحیح عند اھل الکشف ۱؎۔
اس حدیث میں اگرچہ محدثین کو گفتگو ہےمگر وہ اہل کشف کے نزدیک صحیح ہے۔
 (۱؎ المیزان الکبرٰی    فصل فان ادعٰی احد من العلماء الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۳۰)
کشف (عہ۱)  الغمہ عن جمیع الاُمہ میں ارشاد فرمایا:
کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یقول من صلی علی طھر قلبہ من النفاق، کمایطھر الثوب بالمائ، وکان صلی اللّٰہ تعالٰی یقول من قال صلی اللّٰہ علی محمد فقد فتح علی نفسہ سبعین بابا من الرحمۃ، والقی اللّٰہ مجلتہ فی قلوب الناس فلایبغضہ الامن فی قلبہ نفاق، قال شیخنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ھذا الحدیث والذی قبلہ رویناھما عن بعض العارفین عن الخضر علیہ الصلاۃ والسلام عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وھما عندنا صحیحان فی اعلٰی درجات الصحۃ وان لم یثبتھما المحدثون علی مقتضی اصطلاحھم ۲؎۔
حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے جو مجھ پر درود بھیجے اس کا دل نفاق سے ایسا پاک ہوجائے جیسے کپڑا پانی سے، حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے جو کہے ''صلی اللّٰہ علٰی محمد'' اس نے سترہ۱۷ دروازے رحمت کے اپنے اوپر کھول لیے، اللہ عزوجل اُس کی محبّت لوگوں کے دلوں میں ڈالے گا کہ اُس نے بغض نہ رکھے گا مگر وہ جس کے دل میں نفاق ہوگا۔ ہمارے شیخ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: یہ حدیث اور اس سے پہلی ہم نے بعض اولیاء سے روایت کی ہیں انہوں نے سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام، اُنہوں نے حضور پُرنور سید الانام علیہ افضل الصّلاۃ واکمل السلام سے یہ دونوں حدیثیں ہمارے نزدیک اعلٰی درجہ کی صحیح ہیں اگرچہ محدثین اپنی اصطلاح کی بنا پر اُنہیں ثابت نہ کہیں۔
عہ۱ : آخر الجلد الاول باب جامع فضائل الذکر اٰخر فصل الامر بالصلاۃ علی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۔
(۲؎ کشف الغمۃ عن جمیع الاُمۃ    فصل فی الامر بالصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم    مطبوعہ درالفکر بیروت    ۱/ ۳۴۵)
نیز میزان (عہ۲) شریف میں اپنے شیخ سیدی علی خواص قدس سرہ العزیز سے نقل فرماتے ہیں : کمایقال عن جمیع مارواہ المحدثون بالسند الصحیح المتصل ینتھی سندہ الی حضرت الحق جل وعلا فکذٰلک یقال فیما نقلہ اھل الکشف الصحیح من علم الحقیقۃ ۱؎۔
جس طرح یہ کہا جاتا ہے کہ جو کچھ محدثین نے سند صحیح متصل سے روایت کیا اس کی سند حضرت الٰہی عزوجل تک پہنچتی ہے یونہی جو کچھ علم حقیقت سے صحیح کشف والوں نے نقل فرمایا اُس کے حق میں یہی کہا جائےگا۔           عہ۲: فصل فی بیان استحالۃ خروج شیئ من اقوال المجتھدین عن الشریعۃ ۱۲ منہ
 (۱؎ المیزان الکبرٰی    فصل فی استحالہ خروج شیئ من اقوال المجتہدین الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/ ۴۵)
Flag Counter