Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
113 - 157
بعینہا یہی الفاظ امام ابن الہائم نے العقد النضید فی تحقیق کلمۃ التوحید پھر عارف باللہ سیدی عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ(عـہ۱) شرح طریقہ محمدیہ میں نقل فرمائے، امام فقیہ النفس محقق علی الاطلاق فتح القدیر (عـہ۲) میں فرماتے ہیں :
الاستحباب یثبت بالضعیف غیر الموضوع ۲؎
 (حدیث ضعیف سے کہ موضوع نہ ہو فعل کا مستحب ہونا ثابت ہوجاتا ہے)
(۲؎ فتح القدیر  فصل فی الصلاۃ علی المیت  مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۲/ ۹۵)
عـہ۱:  اواخر الفصل الثانی من باب الاول ۱۲ منہ (م)   باب اول کی فصل ثانی کے آخر میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)

عـہ۲:  قبیل فصل فی حمل الجنازۃ ۱۲ منہ (م)  فصل فی حمل الجنازہ سے تھوڑا پہلے اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
علامہ(۳۵) ابراہیم حلبی غنیۃالمستملی  (عہ۳)  فی شرح منیۃ المصلی میں فرماتے ہیں :
 (یستحب ان یمسح بدنہ بمندیل بعدالغسل) لماروت عائشۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھا قالت کان للنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خرقۃ یتنشف بھا بعدالوضوء رواہ الترمذی وھو ضعیف ولکن یجوز العمل بالضعیف فی الفضائل ۳؎۔
 (نہاکر رومال سے بدن پُونچھنا مستحب ہے جیسا کہ ترمذی نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی کہ حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم وضو کے بعد رومال سے اعضاءِ مبارک صاف فرماتے۔ ترمذی نے روایت کیا یہ حدیث ضعیف ہے مگر فضائل میں ضعیف پر عمل روا۔
عہ ۳ : فی سنن الغسل ۱۲ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ (م)     سنن غسل میں اس کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی سنن الغسل    سہیل اکیدمی لاہور    ص۵۲)
مولانا(۳۶) علی قاری موضوعاتِ کبیر میں حدیث مسح گردن کا ضعف بیان کرکے فرماتے ہیں:
الضعیف یعمل بہ فی الفضائل الاعمال اتفاقاولذا قال ائمتنا ان مسح الرقبۃ مستحب اوسنۃ ۱؎۔
فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر بالاتفاق عمل کیا جاتا ہے اسی لئے ہمارے ائمہ کرام نے فرمایا کہ وضو میں گردن کا مسح مستحب یا سنّت ہے۔
 (۱؎ موضوعات کبیر    حدیث مسح الرقبۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص ۶۳)
امام جلیل(۳۷) سیوطی طلوع(عہ۱)  الثریا باظہار ماکان خفیا میں فرماتے ہیں:
استحبہ ابن الصلاح وتبعہ النووی نظر الی ان الحدیث الضعیف یتسامح بہ فی فضائل الاعمال ۲؎۔
تلقین کو امام ابن الصلاح پھر امام نووی نے اس نظر سے مستحب مانا کہ فضائل اعمال میں حدیث ضعیف کے ساتھ نرمی کی جاتی ہے۔         عہ۱ : نقلہ بعض العصریین وھو فیما نری ثقۃ فی النقل ۱۲ منہ (م)
 (۲؎ الحاوی للفتاوٰی خفیا      دارالفکر بیروت    ۲/ ۱۹۱)
علامہ(۳۸) محقق جلال دوانی رحمہ اللہ تعالٰی انموذج العلوم (عہ۲) میں فرماتے ہیں: الذی یصلح للتعویل علیہ ان یقال اذاوجد حدیث فی فضیلۃ عمل من الاعمال لایحتمل الحرمۃ والکراھیۃ یجوز العمل بہ ویستحب لانہ مامون الخطر ومرجو النفع ۳؎۔
 (۳؎ نسیم الریاض شرح شفا    دیباجہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان    ۱/ ۴۳)
اعتماد کے قابل یہ بات ہے کہ جب کسی عمل کی فضیلت میں کوئی حدیث پائی جائے اور وہ حرمت وکراہت کے قابل نہ ہوتو اُس حدیث پر عمل جائز ومستحب ہے کہ اندیشہ سے امان ہے اور نفع کی اُمید۔

اندیشہ سے امان یوں کہ حُرمت وکراہت کا محل نہیں اور نفع کی اُمید یوں کہ فضیلت میں حدیث مروی ہے اگرچہ ضعیف ہی سہی۔
حلیہ(۳۹) شرح(عہ۱) منیہ میں فرماتے ہیں :  الجمھور علی العمل بالحدیث الضعیف الذی لیس بموضوع فی فضائل الاعمال فھو فی ابقاء الاباحۃ التی لم یتم دلیل علی انتقائھا کمافیما نحن فیہ اجدر  ۱؎۔
جمہور علماء کا مسلک فضائل اعمال میں حدیث ضعیف غیر موضوع پر عمل کرنا ہے تو ایسی حدیث اُس اباحت فعل کے باقی رکھنے کی تو زیادہ سزا وار ہے جس کی نفی پر دلیل تمام نہ ہوئی جیسا کہ ہمارے اس مسئلہ میں ہے۔
عہ ۱: سنن الغسل مسئلۃ المندیل ۱۲ نہ (م)     سنن غسل میں رومال کے مسئلہ میں اسی کو ذکر کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
امام(۴۰) ابوطالب مکی قوت القلوب عہ۲ میں فرماتے ہیں : الحدیث اذالم ینافہ کتاب اوسنۃ وان لم یشھد الہ ان لم یخرج تاویلہ عن اجماع الامۃ، فانہ یوجب القبول والعمل لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کیف وقد قیل ۲؎۔
حدیث جبکہ قرآن عظیم یا کسی حدیث ثابت کے منافی نہ ہو اگرچہ کتاب وسنت میں اس کی کوئی شہادت بھی نہ نکلے، تو بشرطیکہ اُس کے معنی مخالفِ اجماع نہ پڑتے ہوں اپنے قبول اور اپنے اوپر عمل کو واجب کرتی ہے کہ حضور سرور عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا کیونکر نہ مانے گا حالانکہ کہا توگیا۔
عہ۲ : فی الفصل الحادی والثلثین ۱۲ منہ (م)          اکتیسویں فصل میں اس کو بیان کیا ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ قوت القلوب    الفصل الحادی والثلاثون     باب تفصیل الاخبار    مطبوعہ المطبعۃ المبنیۃ مصر    ۱/ ۱۷۷)
یعنی جب ایک راوی جس کا کذب یقینی نہیں حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ایک بات کی خبر دیتا ہے اور اُس امر میں کتاب وسنّت واجماعِ اُمت کی کچھ مخالف نہیں تو نہ ماننے کی وجہ کیا ہے،
اقول اماقولہ قدس سرہ ''یوجب'' فکانہ یرید التاکد کماتقول لبعض اصحابک حقک واجب علی فقال فی الدرالمختار عہ۱ لان المسلمین توارثوہ فوجب اتباعھم ۱؎ اوان ملمحہ الٰی ماعلیہ السادات المجاھدون من الائمۃ والصوفیۃ قدسنا اللّٰہ تعالٰی باسرارھم الصفیۃ من شدۃ تعاھدھم للمستحبات کانھا من الواجبات وتوقیھم عن المکروھات بل وکثیر من المباحات کانھن من المحرمات اوان ھذا ھو الذھب عندہ فانہ قدس سرہما فیما نری من المجتھدین وحق لہ ان یکون منھم کماھو شان جمیع الواصلین الٰی عین الشریعۃ الکبری وان انتسوا ظاھرا الٰی احد من ائمۃ الفتوی ۲؎ کمابینہ عہ۲ العارف باللّٰہ سیدی عبدالوھاب شعرانی فی المیزان واللّٰہ تعالٰی اعلم بمراد اھل العرفان۔
اقول امام ابوطالب مکی قدس سرہ، کے قول ''یوجب القبول'' سے تاکید مراد ہے جیسا کہ تُو اپنے قرض خواہ سے کہے کہ تیرا حق مجھ پر واجب ہے۔ درمختار میں ہے کہ یہ مسلمانوں کا تعامل ہے پس ان کی اتباع واجب ہے (وجوب بمعنی ثبوت ہے) یا اس میں اس مسلک کی طرف اشارہ ہے جو مجاہدہ کرنے والے سادات ائمہ وصوفیہ (اللہ تعالٰی ان کے پاکیزہ اسرار کو ہمارے لےے مبارک کرے) کا ہے کہ وہ مستحبات کی بھی اس طرح پابندی کرتے ہیں جیسا کہ واجبات کی اور مکروہات سے بلکہ بہت سے مباحات سے اس طرح بچتے ہیں کہ گویا وہ محرمات ہیں یا یہ ان (ابوطالب مکی) کا مذہب ہے کیونکہ ہم آپ قدس سرہ، کو مجتہدین میں شمار کرتے ہیں ان میں ہونا آپ کا حق ہے جیسا کہ ان تمام بزرگوں کا مقام اور شان ہے جو شریعت عظیمہ کی حقیقت کو پانے والے ہیں اگرچہ وہ ظاہراً اپنا انتساب کسی امام فتوی کی طرف کرتے ہیں۔ اس مسئلہ میں عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی نے میزان میں تفصیلی گفتگو کی ہے اور اللہ تعالٰی اہلِ معرفت کی مراد کو زیادہ بہتر بہتر جانتا ہے۔ (ت)
عہ۱ : آخر باب العیدین ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)           باب العیدین کے آخر میں اس کا ذکر ہے (ت)

عہ۲ : فی فصل فان قال قائل فھل یجب عندکم علی المقلد الخ وفی فصل ان قال قائل کیف الوصول الی الاطلاع علی عین الشریعۃ المطھرۃ الخ وفی غیرھما ۱۲ منہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (م)
 (۱؎ درمختار        باب العیدین            مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱ /۱۱۷)

(۲؎ المیزان الکبرٰی    فصل ان قال قائل کیف الوصول الخ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱ /۲۲)
افادہ ہیجدہم۱۸ :(خود احادیث حکم فرماتی ہیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے) جان برادر اگر چشم بینا اور گوش شنوا ہے تو تصریحاتِ علما درکنار خود حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے احادیث کثیرہ ارشاد فرماتی آئیں کہ ایسی جگہ حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے اور تحقیق صحت وجودت سند میں تعمق وتدقق راہ نہ پائے ولکن الوھابیۃ قوم یعتدون۔ بگوشِ ہوش سُنیے اور الفاظِ احادیث پر غور کرتے جائیے، حسن بن عرفہ اپنے جزوحدیثی اور ابو الشیخ مکارم الاخلاقی میں سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہما اور دارقطنی اور موہبی کتاب فضل العلم میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما اور کامل جحدری اپنے نسخہ میں اور عبداللہ بن محمد بغوی اُن کے طریق سے اور ابن حبان اور ابوعمر بن عبدالبرکات کتاب العلم اور ابواحمد ابن عدی کامل میں سیدنا انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں حضور سیدالمرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین فرماتے ہیں:
من بلغہ عن اللّٰہ عزوجل شیئ فیہ فضیلۃ فاخذ بہ ایمانابہ ورجاء ثوابہ اعطاہ اللّٰہ تعالٰی ذلک وان لم یکن کذلک ۱؎۔
جسے اللہ تبارک وتعالٰی سے کسی بات میں کچھ فضیلت کی خبر پہنچے وہ اپنے یقین اور اُس کے ثواب کی اُمید سے اُس بات پر عمل کرے اللہ تعالٰی اُسے وہ فضیلت عطا فرمائے اگرچہ خبر ٹھیک نہ ہو۔
 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ حسن بن عرفہ فی جزء حدیثی حدیث ۴۳۱۳۲    مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۵ /۷۹۱)
یہ لفظ حسن کے ہیں، اور دارقطنی کی حدیث میں یوں ہے :
اعطاہ اللّٰہ ذلک الثواب وان لم یکن مابلغہ حقا ۲؎۔
اللہ تعالٰی اسے وہ ثواب عطا کرے گا اگرچہ جو حدیث اسے پہنچی حق نہ ہو۔
 (۲؎ کتاب الموضوعات    باب من بلغہ ثواب عمل فعمل بہ    مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۳/ ۱۵۳)
ابنِ حبان کی حدیث میں یہ لفظ ہیں :
کان منی اولم یکن ۳؎
 (چاہے وہ حدیث مجھ سے ہو یا نہ ہو)

ابنِ عبداللہ کے لفظ یوں ہیں :
وان کان الذی حدثہ کاذبا ۴؎
 (اگرچہ اس حدیث کا راوی جھُوٹا ہو)
 (۳؎ مکارم الاخلاق لابی الشیخ)
امام احمد وابنِ ماجہ وعقیلی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ماجاء کم عنی من خیر قلتہ اولم اقلہ فانی اقولہ وماجاء کم عنی من شرفانی لا اقول الشر  ۱؎۔
تمہیں جس بھلائی کی مجھ سے خبر پہنچے خواہ وہ میں نے فرمائی ہو یا نہ فرمائی ہو میں اسے فرماتا ہُوں اور جس بُری بات کی خبر پہنچے تو میں بُری بات نہیں فرماتا۔
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل    مرویاتِ ابی ہریرہ   مطبوعہ دارالفکر بیروت    ۲ /۳۶۷)
ابنِ ماجہ کے لفظ یہ ہیں :
ماقیل من قول حسن فانا قلتہ ۲؎۔
جو نیک بات میری طرف سے پہنچائی جائے وہ میں نے فرمائی ہے۔
 (۲؎ سنن ابن ماجہ  باب تعظیم حدیثِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الخ مطبوعہ مجتبائی لاہورص۴)
عقیلی کی روایت یوں ہے : خذوابہ حدثت بہ اولم احدث بہ ۳؎۔ وفی الباب عن ثوبان مولٰی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وعن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم۔
اُس پر عمل کرو چاہے وہ میں نے فرمائی ہو یا نہیں۔ (اس بارے میں حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت ثوبان اور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم  سے بھی روایت ہے۔ ت)
 (۳؎ کنزالعمال     بحوالہ عق الاکمال من روایۃ الحدیث، حدیث ۲۹۲۱۰ مطبوعہ موسسۃ الرسالہ بیروت    ۱۰/ ۲۲۹)
خلعی اپنے فوائد میں حمزہ بن عبدالمجید رحمہ اللہ تعالٰی سے راوی: رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی النوم فی البحر فقلت بابی انت وامّی یارسول اللّٰہ انہ قدبلغنا عنک انک قلت من سمع حدیثا فیہ ثواب فعمل بذلک الحدیث رجاء ذٰلک الثواب اعطاہ اللّٰہ ذلک الثواب وان کان الحدیث باطلا فقال ای ورب ھذہ البلدۃ انہ لمنی و اناقلتہ ۱؎۔
میں نے حضور رحمتِ عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو خواب میں حطیم کعبہ معظمہ میں دیکھا عرض کی یارسول اللہ میرے ماں باپ حضور پر قربان ہمیں حضور سے حدیث پہنچی ہے کہ حضور نے ارشاد فرمایا ہے جو شخص کوئی حدیث ایسی سُنے جس میں کسی ثواب کا ذکر ہو وہ اُس حدیث پر باُمید ثواب عمل کرے اللہ عزوجل اسے وہ ثواب عطا فرمائے گا اگرچہ حدیث باطل ہو۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا ہاں قسم اس شہر کے سب کی بے شک یہ حدیث مجھ سے ہے اور میں نے فرمائی ہے، صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
 (۱؎ فوائد للخلعی)
ابویعلی اور طبرانی معجم اوسط میں سیدنا ابی حمزہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :
من بلغہ عن اللّٰہ تعالٰی فضیلۃ فلم یصدق بھالم یتلھا ۲؎۔
جسے اللہ تعالٰی سے کسی فضیلت کی خبر پہنچے وہ اسے نہ مانے اُس فضل سے محروم رہے۔
 (۲؎ مسند ابویعلی  انس بن مالک  حدیث ۳۴۳۰    مطبوعہ دارالقبلہ للثقافۃ الاسلامیہ جدہ سعودی عرب   ۳/۳۸۷)
ابوعمر ابن عبدالبر نے حدیث مذکور روایت کرکے فرمایا:
اھل الحدیث بجماعتھم یتساھلون فی الفضائل فیردونھا عن کل وانما یتشددون فی احادیث الاحکام ۳؎۔
تمام علمائے محدثین احادیث فضائل میں نرمی فرماتے ہیں اُنہیں ہر شخص سے روایت کرلیتے ہیں، ہاں احادیث احکام میں سختی کرتے ہیں۔
(۳؎ کتاب العلم     لابن عبدالبر    )
Flag Counter