Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۵(کتاب الصلٰوۃ)
112 - 157
امام ابوزکریا نووی اربعین پھر امام ابن حجر مکی شرح مشکوٰۃ پھر مولانا علی قاری مرقاۃ (عـہ۱) وحرز (عـہ۲)ثمین شرح حصن حصین میں فرماتے ہیں:
قداتفق الحفاظ ولفظ الاربعین قداتفق العلماء علی جواز العمل بالحدیث الضعیف فی فضائل الاعمال ۲؎ ولفظ الحرز لجواز العمل بہ فی فضائل الاعمال بالاتفاق ۳؎۔
یعنی بیشک حفاظِ حدیث وعلمائے دین کا اتفاق ہے کہ فضائلِ اعمال میں ضعیف حدیث پر عمل جائز ہے۔ (ملخصاً)
 (عـہ۱) تحت حدیث من حفظ علی امتی اربعین حدیثا قال النووی طرقہ کلھا ضعیفہ ۱۲ منہ (م)

(عـہ۲) فی شرح الخطبۃ تحت قول المصنّف رحمہ اللّٰہ تعالٰی اتی ارجوان یکون جمیع مافیہ صحیحاً ۱۲ منہ (م)
 (۲؎ شرح اربعین للنووی        خطبۃ الکتاب       مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ص ۴)

(۳؎ حرز ثمین شرح مع حصن حصین    شرح خطبہ کتاب    نولکشور لکھنؤ        ص۲۳)
فتح المبین بشرح (عـہ۳) الاربعین میں ہے: لانہ ان کان صحیحا فی نفس الامرفقد اعطی حقہ من العمل بہ، والالم یترتب علی العمل بہ مفسدۃ تحلیل ولاتحریم ولاضیاع حق للغیر وفی حدیث ضعیف من بلغہ عنی ثواب عمل فعملہ حصل لہ اجرہ وان لم اکن قلتہ اوکماقال واشار المصنّف رحمہ اللّٰہ تعالٰی بحکایۃ الاجماع علٰی ماذکرہ الی الرد علی من نازع فیہ ۱؎ الخ
یعنی حدیث ضعیف پر فضائل اعمال میں اس لئے ٹھیک ہے کہ اگر واقع میں صحیح ہُوئی جب تو جو اس کا حق تھا کہ اس پر عمل کیا جائے حق ادا ہوگیا اور اگر صحیح نہ بھی ہوتو اس پر عمل کرنے میں کسی تحلیل یا تحریم یا کسی کی حق تلفی کا مفسدہ تو نہیں اور ایک حدیث ضعیف میں آیا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جسے مجھ سے کسی عمل پر ثواب کی خبر پہنچی وہ اس پر عمل کرلے اُس کا اجر اُسے حاصل ہو اگرچہ وہ بات واقع میں مَیں نے نہ فرمائی ہو۔ لفظ حدیث کے یونہی ہیں یاجس طرح حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم نے فرمائے، امام نووی رحمہ اللہ تعالٰی نے اس پر نقل اجماع علماسے اشارہ فرمایا جو اس میں نزاع کرے اُس کا قول مردود ہے۔ الخ
عـہ۳:فی شرح الخطبۃ ۱۲منہ ر ضی اللہ تعالی عنہ (م)
 (۱؎ فتح المبین شرح الاربعین)
مقاصد حسنہ (عـہ۱) میں ہے: قدقال ابن عبدالبر البرانھم یتساھلون فی الحدیث اذاکان من فضائل الاعمال ۲؎۔
بے شک ابو عمر ابن عبدالبر نے کہا کہ علماء حدیث میں تساہل فرماتے ہیں جب فضائل اعمال کے بارہ میں ہو۔
عـہ۱: ذکرہ فی مسألۃ تقدیم الاورع ۱۲ منہ (م)     صاحبِ ورع وتقوٰی کی تقدیم میں اس کا بیان ہے ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ المقاصد الحسنۃ     زیر حدیث من بلغہ عن اللّٰہ الخ     مطبوعہ درالکتب العلمیۃ بیروت    ص ۴۰۵)
امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : الضعیف غیر الموضوع یعمل بہ فی فضائل الاعمال ۳؎۔
یعنی فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل کیا جائے گا بس اتنا چاہئے کہ موضوع نہ ہو۔
 (۳؎ فتح القدیر    باب الامامۃ    نوریہ رضویہ سکھّر        ۱/۳۰۳)
مقدمہ امام ابوعمرو ابن الصلاح ومقدمہ جرجانیہ وشرح الالفیۃ للمصنّف وتقریب النواوی اور اس کی شرح تدریب الراوی میں ہے :
واللفظ لھما یجوز عنداھل الحدیث وغیرھم التساھل فی الاسانید الضعیفۃوروایۃ ماسوی الموضوع من الضعیف والعمل بہ من غیربیان ضعفہ فی فضائل الاعمال غیرھما ممالاتعلق لہ بالعقائد والاحکام وممن نقل عنہ ذلک ابن حنبل وابن مھدی وابن المبارک قالوا اذاروینافی الحلال والحرام شددنا واذاروینا فی الفضائل ونحوھا تساھلنا ۱؎ اھ ملخصا۔
محدثین وغیرہم علما کے نزدیک ضعیف سندوں میں تساہل اور بے اظہار ضعف موضوع کے سوا ہر قسم حدیث کی روایت اور اُس پر عمل فضائلِ اعمال وغیرہا امور میں جائز ہے جنہیں عقائد واحکام سے تعلق نہیں، امام احمد بن حنبل وامام عبدالرحمن بن مہدی وامام عبداللہ بن مبارک وغیرہم ائمہ سے اس کی تصریح منقول ہے وہ فرماتے جب ہم حلال وحرام میں حدیث روایت کریں سختی کرتے ہیں اور جب فضائل میں روایت کریں تو نرمی اھ ملخصا۔
 (۱؎ تدریب الراوی    قبیل نوع الثالث والعشرون    مطبوعہ دارالکتب الاسلامیہ لاہور    ۱/۲۹۸)
امام زین الدین عراقی نے الفیۃ الحدیث میں جہاں اس مسئلہ کی نسبت فرمایا عن ابن مھدی وغیر واحد (یعنی امام ابن مہدی وغیرہ ائمہ سے ایسا ہی منقول ہے) وہاں شارح نے فتح المغیث میں امام احمد وامام ابن معین وامام ابن المبارک وامام سفین ثوری وامام ابن عیینہ وامام ابوزکریاعنبری وحاکم وابن عبدالبر کے اسماء واقوال نقل کیے اور فرمایاکہ ابن عدی نے کامل اور خطیب نے کفایہ میں اس کے لئے ایک مستقل باب وضع کیا۔ غرض مسئلہ مشہورہے اور نصوص نامحصور اور بعض دیگر عبارات جلیلہ وافادات آئندہ میں مسطور ان شاء اللہ العزیز الغفور۔
تذییل: کبرائے وہابیہ بھی اس مسئلہ میں اہلِ حق سے موافق ہیں، مولوی خرم علی رسالہ (عـہ۱) دعائیہ میں لکھتے ہیں:
ضعاف درفضائلِ اعمال وفیما نحن فیہ باتفاق علما معمول بہااست ۲؎ الخ
فضائل اعمال میں اور جس میں ہم گفتگو کررہے ہیں اس میں باتفاق علماء ضعیف حدیثوں پر عمل درست ہے الخ (ت)
عـہ۱:  نقل ھذہ العبارات الثلثۃ محقق اعصارنا وزینۃ امصارنا تاج الفحول محب الرسول مولانا المولوی عبدالقادر البدایونی ادام اللّٰہ تعالی فیوضہ فی کتابہ سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام ۱۲ منہ (م)

یہ تینوں عبارات ہمارے دور کے عظیم محقق اور ہمارے ملک کی زینت تاج الفحول محب الرسول مولانا مولوی عبدالقادر بدیوانی ادام اللہ فیوضہ نے اپنی کتاب ''سیف الاسلام المسلول علی المناع بعمل المولد والقیام'' میں ذکر کی ہیں ۱۲ منہ (ت)
 (۲؎ رسالہ دعائیہ مولوی خرم علی)
مظاہر حق میں راوی حدیث صلاۃ اوّابین کا منکر الحدیث ہونا امام بخاری سے نقل کرکے لکھا: ''اس حدیث کو اگرچہ ترمذی وغیرہ نے ضعیف کہا ہے لیکن فضائل میں عمل کرنا حدیث ضعیف پر جائزہے ۳؎'' الخ
 (۳؎ مظاہر حق    باب السنن وفضائلھا    مطبوعہ دارالاشاعت کراچی        ۱/۷۶۶)
اُسی میں حدیث فضیلتِ شبِ برات کی تضعیف امام بخاری سے نقل کرکے کہا: ''یہ حدیث اگرچہ ضعیف ہے لیکن عمل کرنا حدیثِ ضعیف پر فضائلِ اعمال میں باتفاق جائز ہے ۴؎ الخ''
 (۴؎ مظاہر حق اردو ترجمہ مشکوٰۃ شریف    باب قیام شہر رمضان    مطبوعہ دارالاشاعت کراچی    ۱/۸۴۳)
افادہ ہفدہم ۱۷:فضائل اعمال میں حدیث ضعیف پر عمل نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے حدیث ضعیف ثبوت استحباب کے لئے بس ہے۔ امام شیخ الاسلام ابوزکریا نفعنا اللہ تعالٰی ببرکاتہ کتاب (عـہ۲) الاذکار المنتخب من کلام سید الابرارصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
قال العلماء من المحدثین والفقھاء وغیرھم یجوز ویستحب العمل فی الفضائل والترغیب والترھیب بالحدیث الضعیف مالم یکن موضوعا ۱؎۔
محدثین وفقہا وغیرہم علما نے فرمایا کہ فضائل اور نیک بات کی ترغیب اور بُری بات سے خوف دلانے میں حدیث ضعیف پر عمل جائز ومستحب ہے جبکہ موضوع نہ ہو۔
عـہ۲: اول الکتاب ثالث فصول المقدمۃ ۲۱ منہ (م)  یہ کتاب کے شروع میں مقدمہ کی تیسری فصل میں ہے ۱۲ منہ (ت)
 ( ۱؎ کتاب الاذکار المنتخب من کلام سید الابرار صلی اللہ تعالٰی علیہ سلم     فصل قال العلماء من المحدثین     مطبوعہ دارالکتاب العربیہ بیروت    ص ۷)
Flag Counter