وذٰلک مقدار مایغلب علی ظنہ انھا طھرت لوکانت متحققۃ النجاسۃ دفعا للوسواس اعتبارا للظاھر من حال تلک الاوانی کماکرہ التوضی بسؤر الدجاجۃ المخلاۃ لانھا لاتتوقی عن النجاسۃ فی الغالب والظاھر المتبادر للافھام لعدم تمیےیزھا وعدم تحاشیھا عن استعمال ذلک وکماکرہ التوضی بماء قلیل ادخل الصبی یدہ فیہ لانہ لایتوقی من النجاسۃ فی الظاھر المتبادر والغالب الکثیر المعتاد وکماکرہ الصلاۃ فی سراویل المشرکین اعتبارا للظاھر فانھم لایستنجون اذابالوا و تغوطوا وکان الظاھر من سراویلھم النجاسۃ ومع ھذا ای کون الغالب الظاھر من حال اوانیھم النجاسۃ لواکل اوشرب فیھا قبل الغسل جاز ولایکون اٰکلا ولاشاربا حراما لان الطھارۃ اصل لان اللّٰہ تعالٰی لم یخلق شیئا نجسا من اصل خلقتہ وانما النجاسۃ عارضۃ فاصل البول ماء طاھر وکذلک الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ فیجری علی الاصل المحقق حتی یعلم بحدوث العارض وما یقول الانسان بان الظاھر الغالب فی الاشیاء المذکورۃ النجاسۃ قلنا نعم لکن الطہارۃ ثابتۃ بیقین والیقین لایزول الابیقین مثلہ انتھی ثم قال فی الذخیرۃ ولاباس بطعام الیھود والنصارٰی کلہ من غیر استشناء طعام دون طعام اذاکان مباحا من الذبائح وغیرھا لقولہ تعالٰی وطعام الذین اوتوا الکتٰب حل لکم من غیر تفصیل فی الاٰیۃ بین الذبیحۃ وغیرھا وبین اھل الحرب وغیر اھل الحرب وبین بنی اسرائیل کنصاری العرب ولابأس بطعام المجوس کلہ الا الذبیحۃ وقال فی الذخیرۃ فی موضع اٰخر روی عن ابن سیرین رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کانوا یظھرون ویغلبون علی المشرکین ویأکلون ویشربون فی اوانیھم ولم ینقل انھم کانوا یغسلونھا وروی عن اصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لماھجموا علی باب کسری وجدوا فی مطبخہ قدورا فیھا الوان الاطعمۃ فسألوا عنھا فقیل لھم انھا مرقۃ فاکلوا وبعثوا بشیئ من ذلک الی عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فتناول عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من ذلک الطعام وتناول اصحابہ ای بقیۃ الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم منہ ایضا فالصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم اکلوا من الطعام الذی طبخوا المجوس لان الاصل حل الاکل ولاتثبت الحرمۃ بالظن وطبخوا ای الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فی قدورھم قبل الغسل والدلیل لہ ان الطھارۃ اصل والنجاسۃ عارضۃ وقدوقع الشک فی العارض ولاترتفع الطھارۃ الثابتۃ بقضیۃ الاصل ومایقول القائل ان الظاھر ھو النجاسۃ قلنا نعم ولکن الطھارۃ کانت ثابتۃ بیقین والیقین لایزول بالشک والظن الابیقین الایری انہ اذا اصاب عضوانسان اوثوبہ مقدار فاحش من سؤر الدجاجۃ المخلاۃ اوالماء القلیل الذی ادخل الصبی یدہ اورجلہ فیہ وصلی مع ذلک جازت صلاتہ واذاصلی فی سراویل المشرکین جازت ایضا لاناقد تیقنا الطھارۃ وشککنا فی النجاسۃ فلم تثبت بالشک کذا ھنا فی طعام المجوس وقدورھم لاتثبت النجاسۃ بالشک وان کان الاحتیاط عدم ذلک فی نظیرہ ولانقول بھذا فی واقعۃ الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم لاحتمال معارضۃ ھذا الاحتیاط امر اٰخر کالحاجۃ الی الطعام فی ذلک الوقت اوبیان الجواز للقاصر لانھم من اھل القدوۃ کماقال علیہ الصلاۃ والسلام علیکم بسنّتی وسنّۃ الخلفاء الراشدین من بعدی انتھی مانقلہ عن الذخیرۃ ۱؎ اھ مانقلتہ عنھما بتلخیص والتقاط وھو کماتری کلام نفیس یفید النفائس ویبید الوساوس واللّٰہ الحافظ من شرالدسائس۔
اور یہ مقدار وہ ہے کہ اگر ان برتنوں پر نجاست لگی ہوئی ہو تو اس سے اس کے پاک ہونے کا غالب گمان حاصل ہوجائے اس طرح ان برتنوں کے ظاہری حالت سے پیدا ہونے والا وسوسہ دُور ہوجائے گا جیسا کہ گلیوں میں پھرنے والی مُرغی کے جھُوٹے سے وضو مکروہ ہے کیونکہ عام طور پر وہ نجاست سے نہیں بچتی۔ اور ذہنوں میں ظاہر ومتبادر بات یہ ہے کہ وہ اس (نجاست) کے استعمال میں نہ تمیز کرتی ہے اور نہ ہی اس سے بچتی ہے۔ اور جیسا کہ اس قلیل پانی سے وضو کرنا مکروہ ہے جس میں بچّے نے اپنے ہاتھ ڈالا کیونکہ ظاہر اور متبادر اور غالب نیز عام عادت یہ ہے کہ وہ نجاست سے نہیں بچتا۔ اور جیسے ظاہر کا اعتبار کرتے ہوئے مشرکین کی شلواروں میں نماز پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ وہ پیشاب اور قضائے حاجت کے بعد استنجاء نہیں کرتے اور ان کی شلواروں کا ظاہری حال ناپاکی ہے اور اس کے باوجود یعنی ان کے برتنوں کے بارے میں ظاہر وغالب یہی ہے کہ وہ ناپاک ہیں، اگر دھونے سے پہلے ان میں کھایا ےیاپیا تو جائز ہے اور کھانا پینا حرام نہ ہوگا کیونکہ طہارت اصل ہے اس لئے کہ اللہ تعالٰی نے حقیقت میں کسی چیز کو ناپاک پیدا نہیں کیا نجاست (بعد میں) لاحق ہوتی ہے پس پیشاب کی اصل پاک پانی ہے اسی طرح خون، منی اور شراب پاک رس ہے پھر ان کو نجاست لاحق ہوئی پس حکم اصل پر جاری ہوگئی جو ثابت ہے یہاں تک کہ عارض کے پیدا ہونے کا علم ہوجائے۔اور اگر کوئی شخص کہتا ہے کہ ظاہراً مذکورہ اشیا میں گمان نجاست ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت یقین سے ثابت ہے اور یقین یقین کاملِ کے ساتھ زائل ہوتا ہے اھ پھر ذخیرہ میں فرمایا: ''یہود ونصارٰی کے تمام کھانوں میں بغیر استشناء کوئی حرج نہیں کہ یہ کھانا ہو وہ نہ ہو جبکہ وہ مباح ہو ذبیحہ ہو یا اس کے سوا، کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ''اور اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے'' آیت کریمہ میں ذبیحہ اور غیر ذبیحہ، اہلِ حرب، غیر اہلِ حرب اور بنی اسرائیل جیسا کہ عرب کے عیسائی کے درمیان کوئی تفصیل نہیں ہے اور مجوسیوں کے ذبیحہ کے علاوہ تمام کھانوں میں کوئی حرج نہیں ذخیرہ میں ایک دوسرے مقام پر ابن سرین رحم اللہ سے نقل کیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حملہ کرکے مشرکین پر غالب آتے تو ان کے برتنوں میں کھاتے پیتے تھے اور یہ بات منقول نہیں کہ وہ ان کو دھوکر استعمال کرتے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ کسرٰی کے دروازے پر جمع ہوئے تو ان کے باورچی خانہ میں ہانڈیاں پائیں جن میں طرح طرح کے کھانے تھے انہوں نے ان کے بارے میں پُوچھا تو بتایا گیا کہ یہ شوربہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے اسے کھایا اور کچھ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھیج دیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور باقی صحابہ کرام نے بھی اسے تناول فرمایا۔ پس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس کھانے سے کھایا جس کو مجوسیوں نے پکایا تھا کیونکہ اصل میں اُسکا کھانا حلال ہے اور گمان سے حُرمت ثابت نہیں ہوتی نیز صحابہ کرام نے ان کی ہانڈیوں کو دھونے سے پہلے ان میں پکایا، اس بات کی دلیل یہ ہے کہ طہارت اصل ہے اور نجاست لاحق ہونے والی اور اور لاحق ہونے والی میں شک واقع ہُوا جس سے وہ طہارت جو اصل سے ثابت ہے، ختم نہیں ہوگی۔ اور وہ جو کچھ کہنے والا کہنا ہے کہ ظاہر، نجاست ہی ہے ہم کہتے ہیں ہاں لیکن طہارت یقین کے ساتھ ثابت ہوئی تھی اور یقین شک اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا وہ صرف یقین سے دُور ہوتا ہے کیا نہیں دیکھا گیا کہ جب کسی انسان کے عضو یا کپڑے کو گلیوں میں پھرنے والی مُرغی کا جھُوٹا زیادہ مقدار میں پہنچ جائے یا قلیل پانی جس میں بچّے نے اپنا ہاتھ یا پاؤں ڈالا اور وہ اس کے ساتھ نماز پڑھے تو نماز جائز ہوگی اور جب مشرکین کی شلوار میں نماز اداکرے تو یہ بھی جائز ہے کیونکہ ہمیں طہارت کا یقین اور نجاست میں شک ہے پس وہ شک کے ساتھ ثابت نہ ہوگی جس طرح یہاں مجوسی کے کھانے اور ہانڈیوں میں شک سے نجاست ثابت نہ ہوتی اگرچہ اس کی مثل میں احتیاط عدمِ طہارت ہی ہے اور صحابہ کرام کے واقعہ میں ہم یہ بات نہیں کہتے کیونکہ اس احتیاط کے مقابل ایک دوسرا معاملہ ہے جیسے اس وقت کھانے کی حاجت یا مجبور انسان کے لئے بیان جواز، کیونکہ وہ لوگ ان لوگوں میں سے تھے جن کی اقتداء کی جاتی ہے جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر میری اور میرے بعد خلفاء راشدین کی سنّت کی پیروی لازم ہے'' اھ جو کچھ ذخیرہ سے نقل کیا ہے وہ مکمّل ہوگیا۔ جو کچھ میں نے ان دونوں سے تلخیص اور انتخاب کے طریقے پر نقل کیا ہے وہ جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو نفیس کلام ہے جو عمدہ باتوں کا فائدہ دیتا اور وسوسوں کو دُور کرتا ہے اور اللہ تعالٰی ہی سازشوں کے شر سے حفاظت فرمانے والا ہے۔ (ت)
(۱؎ الحدیقۃ الندیہ والنوع الرابع فی اختلاف الفقہاء مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۷۱۱)
اقول: ومما ینبغی التنبہ لہ ان قولہ فیمامر انہ لم ینقل عن الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم انھم کانوا یغسلون اوانی الغنائم وقصاعھا کانہ اراد بہ الادامۃ والالتزام والا فقد صح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الامر بغسلھا احمد والشیخان وابوداؤد والترمذی وغیرھم عن ابی ثعلبۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قلت یارسول اللّٰہ انا بارض قوم اھل کتاب افناکل فی اٰنیتھم قال ان وجدتم غیرھا فلا تأکلوا فیھا وان لم تجدوا فاغسلوھا وکلوا فیھا ۱؎ وفی لفظ ابی داؤد انھم یأکلون لحم الخنزیر ویشربون الخمر فکیف نصنع باٰنیتھم وقدورھم ۲؎ الحدیث
اقول: (میں کہتا ہوں) یہاں اس بات پر آگاہی مناسب ہے کہ ان کے گزشتہ قول یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے منقول نہیں کہ وہ غنیمتوں کے برتن اور پیالے دھوتے تھے، ان سے مراد یہ ہے کہ وہ ہمیشہ نہیں دھوتے تھے اور نہ اس کا التزام کرتے تھے ورنہ صحیح حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے دھونے کا حکم ثابت ہے۔ اس حدیث کو امام احمد، امام بخاری ومسلم، ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ نے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھاسکتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر تم ان کے علاوہ برتن پاؤ تو ان میں نہ کھاؤ اور اگر نہ پاؤ تو ان کو دھوکر ان میں کھالو۔ ابوداؤد کے الفاظ میں ہے کہ وہ خنزیر کا گوشت کھاتے اور شراب پیتے ہیں تو ہم ان کے برتنوں اور ہانڈیوں کے ساتھ کیا کریں (الحدیث)
(۱؎ بخاری شریف کتاب الذبائح باب صید القوس مطبوعہ قدیمی کتب خانہ مقابل آرام باغ کراچی ۲/۸۲۳)
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی ثعلبہ رضی اللہ عنہ مطبوعہ دارالفکر بیروت ۴/۱۹۴)
وفی احدی روایتی ابی عیسٰی سئل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن قدور المجوسفقال انقوھا غسلا واطبخوا فیھا۱؎۔
ابوعیسٰی کی دو۲ روایتوں میں سے ایک میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجوسیوں کی ہانڈیوں کے بارے میں پُوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ان کو دھوکر پاک کرلو اور ان میں پکاؤ ۔
(۱؎ ترمذی شریف باب جاء فی الاکل فی اٰنیۃ الکفار آفتاب عالم پریس مطبع مجتبائی لاہور ۲/۲)
وعند احمد عن ابن عمر ان اباثعلبۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم سأل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم افتنا فی اٰنیۃ المجوس اذا اضطررنا الیھا قال اذا اضطررتم الیھا فاغسلوھا بالماء واطبخوا فیھا۲؎۔
امام احمد نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا: ہمیں مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں حکم بتائیے جب ہم ان کے استعمال پر مجبور ہوں۔ آپ نے فرمایا: جب تم ان کے استعمال پر مجبور ہو تو ان کو پانی سے دھوکر اِن میں پکاؤ۔
(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۱۸۴)
فاذاثبت الامر فقدثبت الغسل وان لم ینقل بخصوصہ اذ ما کانوا لیخالفوا امر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ولا یأتمروا بہ ابدا ھذا ومن نظر فی الدلائل التی اسلفنا ایقن ان الامر فی ھذا الحدیث للندب والنھی للتنزیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
جب حکم ثابت ہوا تو عملاً دھونا بھی ثابت ہوگیا اگرچہ وہ خاص طور پر منقول نہیں کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نہ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت کرتے تھے اور نہ ہمیشہ ہمیشہ بجالاتے اسے اختیار کیجئے۔ اور جو شخص ہمارے گزشتہ دلائل پر غور کرے گا اسے اس بات کا یقین ہوجائیگا کہ امر، استحباب کے لئے ہے اور نہی تنزیہ کے لئے، اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
وفی نصاب الاحتساب بعد نقل ما فی الذخیرۃ بالاختصار قال العبد اصلحہ اللّٰہ تعالٰی وماابتلینا من شراء السمن والخل واللبن والجبن وسائر المائعات من الھنود علی ھذا الاحتمال تلویث اوانیھم وان نساء ھم لایتوقین عن السرقین وکذا یأکلون لحم ماقتلوہ وذلک میتۃ فالاباحۃ فتوٰی والتحرز تقوٰی ؎۱ اھ ملخصا اقول واراد بالاباحۃ ما لا اثم فیہ وبالتقوی الرعۃ فافھم۔
نصاب الاحتساب میں ذخیرہ کی بحث بالاختصار نقل کرنے کے بعد فرمایا بندہ عرض کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کی اصلاح کرے اور جو ہم گھی، سرہ، دُودھ، پنیر اور دیگر مائع چیزیں ہندؤں سے خریدنے کے سلسلے میں مبتلا ہیں حالانکہ ان کے برتنوں کے (نجاست سے) ملوث ہونے کا احتمال ہے ان کی عورتیں گوبر سے اجتناب نہیں کرتیں اور اسی طرح وہ اپنے مقتول کا گوشتکھاتے ہیں اور یہ مردار ہوتا ہے پس فتوٰی کے اعتبار سے وہ مباح ہے لیکن تقوٰی یہ ہے کہ اجتناب کرے اھ ملخصا اقول اباحت سے مراد وہ ہے جس میں گناہ نہ ہو اور تقوٰی سے مراد شبہات سے بچنا ہے پس سمجھ لو۔ (ت)
(۱؎ نصاب الاحتساب)
فائدۃ جلیلۃ: یقول العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف اعلم ان ھذا الذی جزمنا بہ وعولنا علیہ فیما مرمن ان المکروہ تنزیھا لیس من الاثم فی شی لاکبیرۃ ولاصغیرۃ ولایستحق العبد بہ معاقبۃ مالا کثیرۃ ولایسیرۃ ھو الحق الناصع الذی لامحید منہ وبہ صرح غیر واحد من العلماء ففی حظر ردالمحتار تحت قولہ اما المکروہ کراھۃ تنزیہ فالی الحل اقرب اتفاقا بمعنی انہ لایعاقب فاعلہ اصلا لکن یثاب تارکہ ادنی ثواب تلویح ۲؎ اھ۔
عظیم فائدہ: بندہ ضعیف، اس پر لُطف وکرم کا مالک رحم فرمائے، کہتا ہے جان لو جو کچھ پہلے گزرچکا ہے اور اس پر ہم نے جزم اور بھروسا کیا وہ یہ ہے کہ مکروہ تنزیہی پر صغیرہ، کبیرہ کوئی گناہ نہیں اور اس سے بندہ کسی قسم کی سزا کا مستحق نہیں ہوتا نہ زیادہ کا اور نہ ہی کم کا، یہی واضح حق ہے جس سے علیحدگی اختیار نہیں کی جاسکتی اور معتمدد علماء نے اس کی تصریح کی ہے ردالمحتار کے باب الحظرمیں اما المکروہ کراھۃ تنزیہ کے تحت ہے کہ بالاتفاق حلّت کے زیادہ قریب ہے یعنی اس کے مرتکب کو بالکل عذاب نہیں ہوگا۔ لیکن تارک کو کچھ نہ کچھ ثواب ملے گا، تلویح اھ۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الحظرو بالاحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۱۴)
اقول :والی الحل اقرب یعنی الاباحۃ والافالحل المقابل للحرمۃ ثابت لاشک وفیہ اٰخر الاشربۃ عن العلامۃ ابی السعود المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ ۳؎ اھ
اقول :حلت کے زیادہ قریب ہونے سے مراد اباحت ہے ورنہ وہ حُلّت جو حُرمت کے مقابلے میں ہے ثابت ہے اس میں کوئی شک نہیں، اور اس میں اشربہ کے آخر میں علامہ ابوالسعود سے نقل کیا ہے کہ مکروہ تنزیہی اباحت کے ساتھ جمع ہوتی ہے اھ (ت)
(۳؎ ردالمحتار آخر باب الاشربۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۳۲۷)
اقول : یعنی الاساغۃ وعدم الحظر ونفی الحرج وسلب الحجر والا فاستواء الطرفین یباین ترجح احد الجانبین ولو دون عزم وفیہ من الصلاۃ الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینا فی کراھۃ التنزیہ ۱؎ اھ ،
اقول: اس سے جائز، غیر ممنوع، حرج کی نفی اور رکاوٹ کا سلب مراد ہے ورنہ دونوں طرفوں کا برابر ہونا ایک جانب کی ترجیح کے خلاف ہے اگرچہ قصداً نہ ہو۔ اور اسی میں نماز کی بحث میں ہے ''ظاہر یہ ہے کہ مباح سے مراد وہ ہے جو منع نہ ہو پس وہ کراہتِ تنزیہی کے منافی نہ ہوگا'' اھ۔
(۱؎ ردالمحتار آخر باب الاشربۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۵/۳۲۷)
وفی شرح الطوالع من بحث العصمۃ ترک الاولی لیس بذنب فالاولی ومایقابلہ یشترکان فی اباحۃ الفعل ۲؎ اھ ،
شرح الطوالع کی بحث عصمۃ میں ہے کہ اولٰی کا چھوڑنا گناہ نہیں پس اولٰی اور اس کا مقابل فعل کے مباح ہونے میں برابر ہیں اھ،
(۲؎ شرح الطوالع )
اقول: والمعنی ماذکرنا اعنی الرخصہ وعدم التشدید المعبر عنہ بنفی البأس وانت تعلم ان لوکان اثما لماجامع الاباحۃ اذلاشیئ من الاثم بمباح ولکان مما یمنع فان کل اثم ولوصغیرۃ محظور ولما جاز التعبیر عنہ بلا بأس بہ اذ ما من اثم اِلَّا وفیہ بأس ولماساغ الجزم بنفی العقاب علیہ فقد ثبت فی العقائد تجویز العقاب علی الصغائر نعم قد افصح العلماء ان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۳؎ ۔کمافی صلاۃ ردالمحتار عن البحر صاحب البحر فی بعض رسائلہ وھو المستفاد من کلمات غیرہ فی ھذا المقام۔
اقول: جو کچھ ہم نے ذکر کیا ہے اس کا مطلب رخصت اور عدمِ تشدید ہے جس کو ''لاباس بہ'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور تُو جانتا ہے کہ اگر وہ گناہ ہوتا تو مباح کے ساتھ جمع نہ ہوتا کیونکہ کوئی گناہ مباح نہیں، اور وہ ان میں سے ہوتا جو ممنوع ہیں کیونکہ ہر گناہ چاہے وہ چھوٹا ہی ہو ممنوع ہے اور ''لاباس بہ'' کے ساتھ اس کی تعبیر نہ ہوتی کیونکہ ہر گناہ میں حرج ہے اور وہ عذاب کی نفی کا جزم نہ کرتے کیونکہ عقائد میں صغیرہ گناہوں پر عذاب کا جائز ہونا ثابت ہے۔ ہاں علماء نے واضح کیا ہے کہ ہر مکروہِ تحریمہ صغائر سے ہے جیسا کہ ردالمحتار میں نماز کے ذکر میں بحرالرائق سے نقل کیا صاحب البحرالرائق نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے اس مقام پر دوسروں کے کلمات سے بھی اسی بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔
وقدزلت قدم بعض عــہ۱ المشاھیر من ابناء العصر فزعم ان المکروہ تنزیھا صغیرۃ فاذا اصر یکون کبیرۃ کما نص علیہ فی رسالۃ لہ وقد استوفینا الکلام علی ھذا المرام فی رسالۃ عـــہ۲ اخری واللّٰہ الموفق۔
بعض علماءِ عصر میں سے بعض مشہور حضرات (مثلاًمولانا عبدالحی لکھنوی رحمہ اللہ) سے لغزش ہوئی۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ مکروہ تنزیہی صغیرہ گناہ ہے جو بار بار کرنے سے گناہ کبیرہ بن جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے رسالے (شرب الدخان) میں لکھا ہے ہم نے ایک دوسرے رسالے میں اس مقصد پر پُورا کلام کیا ہے۔ اور اللہ تعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے۔ (ت)
عـــہ ۱ :یعنی المولوی عبدالحی اللکنوی فی رسالۃ فی شرب الدخان ۱۲ منہ (م) یعنی مولوی عبدالحی لکھنوی سے اپنے رسالہ فی شرب الدخان میں لغزش ہوئی۔ (ت)
عـــہ ۲: ثم الفنا فیہ بتوفیق اللّٰہ تعالٰی رسالۃ مستقلۃ سمیناھا جمل مجلّیہ ان المکروہ ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیہ ۱۲ منہ (م)
اللہ تعالٰی کی توفیق سے پھر ہم نے اس مسئلہ کے بارے ایک مستقل رسالہ لکھا جس کا نام جمل مجلیہ ان المکروہ تنزیہا لیس بمعصیہ رکھا ہے ۱۲ منہ (ت)