Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
98 - 2323
 (قولہ فان طرحۃ الخ)اقول یصدق علی الواجب وکذا الکلام فی الامور بالغیر الشرعیۃ علی ان الظن اعم من غالب الظن ولاشک فی صحۃ اطلاق الاول علی الاٰخر والمراد بالمقابلۃ بینھما کماذکر ان ھذا القسم یختص بھذا الاسم ۔
ان کے قول ''فان طرحہ'' (اگر وہ اسے چھوڑ دے)کے بارے میں مَیں کہتا ہوں کہ یہ واجب پر بھی صادق آتا ہے اسی طرح غیر شرعی امور میں بھی کلام ہوسکتا ہے علاوہ ازیں ظن، ظنِ غالب سے عام ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ پہلے کا دوسرے پر اطلاق صحیح ہے اور ان دونوں میں مقابلہ سے مراد جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے اس قسم کا اس نام کے ساتھ خاص ہونا ہے۔
 (قولہ وان لم یترجح فھو وھم) اقول عدم الترجح یشمل الاستواء ثم الاحسن ترتیب الظن والوھم معاً علٰی شیئ واحد وھو ترجح احد الجانبین اذ لاینفک کل منھما عن صاحبہ وجودا فھما متلازمان تحققا وان تباینا صدقا فکان الاسلم ان یقول فان ترجح احدھما علی الاٰخر فالراجح مظنون ویخص بالغالب ان طرح الاٰخر والمرجوح مرھوم۔
ان کے قول ''وان لم یترجح فھو وھم'' (اگر ایک جانب راجح نہ ہو تو وہم ہے) کے بارے میں کہتا ہوں کہ راجح نہ ہونا برابری کو شامل ہے پھر احسن بات یہ ہے کہ ظن اور وہم اکٹھے ایک چیز پر مرتّب ہوتے ہیں اور وہ دو۲ جانیوں میں سے ایک کا راجح ہونا ہے کیونکہ وجودی طور پر ان میں سے ہر ایک اپنے ساتھی سے جُدا نہیں ہوتا پس تحقیق کے اعتبار سے وہ ایک دوسرے کو لازم ہیں اگرچہ صدق کے اعتبار سے جُدا جدا ہوں، لہذا زیادہ محفوظ بات یہ تھی کہ فرماتے ''اگر ان میں سے ایک، دوسرے پر راجح ہو تو وہ ظن ہوگا پھر اگر دوسری جانب کو چھوڑ دیا گیا تو غالب کے ساتھ مختص ہوگا (ظن غالب ہوگا) اور جسے ترجیح حاصل نہیں ہوئی وہ موہوم ہوگا۔
 (قولہ مع زیادۃ علی ذٰلک) اقول ظاھرہ انہ اتی بجمیع ما مر و زاد مع انہ زاد شیأ ونقص اٰخر اعنی التفرقۃ بین الظن وغالبہ۔
ان کے قول ''مع زیادۃ علی ذلک'' (اس پر کچھ اضافے کے ساتھ) کے بارے میں مَیں کہتا ہوں اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ، گزشتہ تمام عبارت کچھ اضافے کے ساتھ لائے ہیں حالانکہ انہوں نے کچھ اضافہ کیا اور کچھ یعنی ظن اور غالب ظن کے درمیان فرق کا بیان کم کردیا۔
 (قولہ والاعتقاد جزم القلب) اقول المعروف شمول الاعتقاد للظن عن ھذا تسمعھم یعرفون الظن بالاعتقاد الراجح کمانص علیہ فی شرح المواقف من المقصد الاول من المرصد الخامس من الموقف الاول اللھم الا ان یصطلح علی تخصیصہ بالجازم قلت وقد یشھد لہ قولھم ان الاٰحادلا تفید الاعتقاد فافھم ۔
ان کے قول ''والاعتقاد جزم القلب'' (دل کی پختگی کو اعتقاد کہا جاتا ہے) کے بارے میں مَیں کہتا ہوں معروف یہ ہے کہ اعتقاد،ظن کو بھی شامل ہے اسی لئے تم ان سے سُنو گے کہ وہ ظن کی تعریف، اعتقاد راجح کے ساتھ کرتے ہیں جیسا کہ شرح مواقف کے موقف اول میں مرصد خامس کے مقصد اول میں اس کی تصریح ہے البتہ یہ کہ وہ جازم کی تخصیص کے ساتھ اپنی اصطلاح بنالیں۔ میں کہتا ہوں اس پر ان (مصطلحین) کا قول کہ خبر واحد اعتقاد کا فائدہ نہیں دیتی، شہادت ہے، سمجھ لو۔
 (قولہ من غیر استناد الخ) اقول اللّٰہ اعلم بما افاد من قصر الاعتقاد علی التقلید اما نحن قدرأینا ان علم الاصول یقال لہ علم العقائد وربما نسمع الائمۃ یقولون نعتقد کذا الدلیل کذا واعتقدنا کذالبرھان کذا وھذا الامام الاعظم رحمہ اللّٰہ تعالٰی یقول فی صدرالفقہ الاکبر اصل التوحید ومایصح الاعتقاد علیہ ۱؎ الخ افتری ان المعنی مایصح الجزم بہ من دون استناد الی قاطع
ان کے قول ''من غیر استناد'' (کسی نسبت واضافت کے بغیر) کے متعلق میں کہتا ہوں اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے کہ انہوں نے اعتقاد کو تقلید پر بند کردیا ہم نے تو یہ دیکھا ہے کہ علمِ اصول کو علم العقائد کہا جاتا ہے اور کبھی کبھی ہم ائمہ کرام کو کہتے ہوئے سنتے ہیں کہ ہم فلاں دلیل کی بنیاد پر ےیہ اعتقاد رکھتے ہیں اور فلاں برہان کی بنیاد پر ہمارا یہ عقیدہ ہے۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ فقہ اکبر کے شروع میں فرماتے ہیں اصل توحید اور ہے جس کا اعتقاد رکھنا صحیح ہے (آخر تک) کیا تمہارے خیال میں اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی قطعی دلیل کی طرف نسبت کیے بغیر جس پر جزم صحیح ہو؟
(۱؎ فقہ اکبر    شروع کتاب        مطبوعہ ملک سراج الدین اینڈ سنز لاہور    ص۲)
(قولہ والظن تجویز امرین الخ) اقول یشمل تجویز العزیمۃ والرخصہ والعزیمۃ اقوی۔
ان کے قول''والظن تجویز امرین'' (دو باتوں کو جائز قرار دینا ظن ہے) الخ کے بارے میں میں کہتا ہوں کہ یہ عزیمت اور رخصت کے جواز کو بھی شامل ہے حالانکہ عزیمت زیادہ قوی ہوتی ہے۔
 (قولہ والوھم الخ) اقول اولاً یشمل تجویز الرخصہ والعزیمۃ والرخصہ اضعف وثانیالافرق بین تفسیری الظن والوھم فتجویز امرین احدھما اقوی ھو بعینہ تجویز امرین احدھما اضعف۔
ان کے قول ''والوھم الخ'' (اور وہم الخ) کے متعلق میں کہتا ہوں پہلی بات یہ ہے کہ یہ رخصت وعزیمت کو جائز قرار دینے پر مشتمل ہے حالانکہ رخصتزیادہ ضعیف ہے دوسری بات یہ ہے کہ ظن اور وہم کی تفسیروں میں کوئی فرق نہیں پس (ایسی) دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا جن میں سے ایک زیادہ قوی ہو بعینہٖ ان دو۲ باتوں کو جائز قرار دینا ہے جن میں سے ایک زیادہ ضعیف ہو۔
 (قولہ والشک الخ) اقول یشمل الاباحۃ والتخیير وبالجملۃ فلا یخلو شیئ من التفاسیر الثمانیۃ المذکورۃ للشک والوھم والظن من الشکوک فالاوضح الاخصر فی حدھا ما اقول اذا لم تجزم فی حکم بایجاب ولا سلب فان استوےیا عندک فھو الشک والا فالمرجوح موھوم والراجح مظنون فان بلغ الرجحان بحیث طرح القلب الجانب الاٰخر فھو غالب الظن واکبر الرأی واللّٰہ تعالٰی اعلم ولنرجع الی ماکنافیہ۔
ان کے قول ''والشک'' (اور شک۔ آخر تک) کے بارے میں کہتا ہوں کہ یہ اباحت وتخیير کو شامل ہے حاصل کلام یہ ہے کہ شک وہم اور ظن کے بارے میں مذکورہ آٹھ تفاسیر شکوک سے خالی نہیں لہذا ان کی تعریف میں نہایت واضح اور بہت مختصربات وہ ہے جو میں کہتا ہوں (یعنی) جب ایجاب وسلب کے حکم میں تمہیں کوئی قطعی بات حاصل نہ ہو تو اگر تمہارے نزدیک وہ دونوں برابر ہیں تو یہ شک ہے ورنہ جو مرجوح ہے وہ موہوم اور راجح مظنون ہوگا۔ اور اگر ترجیح اس حد کو پہنچ جائے کہ دل دوسری جانب کو چھوڑ جائے تو وہ غالب گمان اور بڑی رائے ہے۔ اللہ تعالٰی بہتر جانتا ہے اور ہمیں اسی کی طرف لوٹنا چاہے جس میں ہم تھے۔ (ت)
دُوسرے یہ کہ ہنوز جانب راجح پر دل ٹھیک ٹھیک نہ جمے اور جانب مرجوح کو محض مضمحل نہ سمجھے بلکہ اُدھر بھی ذہن جائے اگرچہ بضعف وقلّت یہ صورت نہ یقین کا کام دے نہ یقین خلاف کا معارضہ کرے بلکہ مرتبہ شک وتردّد ہی میں سمجھی جاتی ہے کلماتِ علماء میں کبھی اسے بھی ظنِ غالب کہتے ہیں اگرچہ حقیقۃً یہ مجرد ظن ہے نہ غلبہ ظن۔
فی الحدیقۃ الندیۃ غالب الظن اذا لم یأخذ بہ القلب فھو بمنزلۃ الشک والیقین لایزول بالشک ۱؎ اھ
حدیقہ ندیہ میں ہے کہ جب ظن غالب کو دل قبول نہ کرے تو وہ شک کی طرح ہے۔ اور یقین، شک کے ساتھ زائل نہیں ہوتا اھ
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۷۱۱)
وفی شرح المواقف الظن ھو المعبر عنہ بغلبۃ الظن لان الرجحان ماخوذ فی حقیقتہ فان ماھیتہ ھوالاعتقاد الراجح فکانہ قیل اوغلبۃ الاعتقاد التی ھی الظن وفائدۃ العدول الی ھذہ العبارۃ ھی التنبیہ علی ان الغلبۃ ای الرجحان ماخوذۃ فی ماھیتہ ۱؎ اھ۔
اور شرح مواقف میں ہے ظن ہی کو غلبہ ظن کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی حقیقت میں ترجیح پائی جاتی ہے اس لئے اس کی ماہیت اعتقاد راجح ہی ہے گویا کہا گیا ''یا غلبہ اعتقاد جو ظن ہے'' اور اس عبارت کی طرف رُخ کرنے کا فائدہ اس بات پر تنبیہ کرنا ہے کہ اس کی ماہیت میں غلبہ یعنی ترجیح کے معنے پائے جاتے ہیں اھ (ت)
 (۱؎ شرح المواقف	المرصد الخامس	مقصد الثانی 	قم ایران		۱/ ۴۹۸۔۴۹۹  )
ہاں اس قسم کا اتنا لحاظ کرتے ہیں کہ احتیاط کو بہتر وافضل جانتے ہیں نہ کہ اُس پر عمل واجب ومتحتم ہوجائے دیکھو کافروں کے پاجامے مشرکوں کے برتن اُن کے پکائے کھانے بچّوں کے ہاتھ پاؤں وغیر ذٰلک وہ مقامات جہاں اس قدر غلبہ وکثرت و وفورو شدّت سے نجاست کا جوش کہ اکثر اوقات وغالب احوال تلوث وتنجس جس کے سبب اگر طہارت کی طرف ایک بار ذہن جاتا ہے تو نجاست کی جانب دس۱۰ بیس۲۰ دفعہ مگر از انجاکہ ہنوز ان میں کسی چیز کو بے دیکھے تحقیق طور پر ناپاک نہیں کہہ سکتے اور قلب قبول کرتا ہے کہ شاید پاک ہوں لہذا علما نے تصریح کی کہ اس پانی سے وضو اور اُس کھانے کا تناول اور اُن برتنوں کا استعمال اور ان کپڑوں میں نماز صحیح وجائز اور فاعل زنہار آثم ومستحق عقاب نہیں اور اُس غلبہ ظن کا یہی جواب عطا فرمایا کہ اکثر احوال یوں سہی پر تحقیق وتیقن تو نہیں پھر اصل طہارت کا حکم کیونکر مرتفع ہو  البتّہ باعتبار غلبہ وظہور احتراز افضل وبہتر اور فعل مکروہ تنزیہی یعنی مناسب نہیں کہ بے ضرورت ارتکاب کرے اور کیا تو کچھ حرج بھی نہیں۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا لکن ھنا ای فی غلبۃ الظن من غیران یأخذ بہ القلب لےیستحب الاحتراز عنہ ویکرہ تنزیھا استعمالہ کسراویل الکفرۃ وسؤر الدجاجۃ المخلاۃ والماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ واوانی المشرکین وقال فی الذخیرۃ یکرہ الاکل والشرب فی اوانی المشرکین قبل الغسل لان الغالب الظاھر من جال اوانیہم النجاسۃ فانھم یستحلون شرب الخمر واکل المیتۃ ولحم الخنزیر ویشربون ذلک ویا کلون فی قصاعھم واوانیھم فیکرہ للمسلمین الاکل والشرب فیھا قبل الغسل ثلاث مرات ۔
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے ''لیکن یہاں پر یعنی غلبہ ظن میں کہ اسے دل قبول نہ کرتا ہو اس سے احتراز مستحب ہے اور اس کا استعمال مکروہ تنزیہی ہے جیسے کفار کی شلوار پا جامے، گلیوں میں پھرنے والی مرغی کا جھُوٹا، وہ پانی جس میں بچّے نے اپنا ہاتھ داخل کیا اور مشرکین کے برتن، ذخیرہ میں فرمایا ''مشرکین کے برتن دھونے سے پہلے ان میں کھانا پینا مکروہ ہے کیونکہ ان کے برتن بظاہر غالباً نجس ہیں وہ شراب نوشی، مردار خوری اور خنزیر کے گوشت کو حلال جانتے، اسے کھاتے پیتے اور اپنے پیالوں اور دوسرے برتنوں میں استعمال کرتے ہیں پس ان کو تین بار دھونے سے پہلے مسلمانوں کو ان کااستعمال مکروہ ہے ۔
Flag Counter