Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
97 - 2323
فی الدرالمختار ثیاب الفسقۃ واھل الذمۃ طاھرۃ ۲؎ وفی الحدیقۃ سراویل الکفرۃ من الیھود والنصاری والمجوس یغلب علی الظن نجاستہ لانہم لایستنجون من غیر ان یأخذ القلب بذلک فتصح الصلاۃ فیہ لان الاصل الیقین بالطھارۃ ۳؎ اھ ملخصا۔
درمختار میں ہے فاسق اور ذمّی لوگوں کے کپڑے پاک ہیں اھ اور حدیقہ میں ہے یہودیوں، عیسائیوں، مجوسیوں وغیرہ کفار کی شلوار غالب گمان کے مطابق ناپاک ہے کیونکہ وہ استنجاء نہیں کرتے لیکن جب یہ بات دل میں نہ بیٹھے تو اس کے ساتھ نماز صحیح ہے کیونکہ اصل چیز طہارت کا یقین ہے اھ تلخیص (ت)
 (۲؎ درمختار        فصل الاستنجاء            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۵۷)

(۳؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ     مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۷۱۱)
بلکہ عہد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالٰی اجمعین سے آج تک مسلمین میں متوارث کہ لباس غنیمت میں نماز پڑھتے ہیں اور ظنون وساوس کو دخل نہیں دیتے۔
فی الحلیۃ التوارث جارفیما بین المسلمین فی الصلوۃ بالثیاب المغنومۃ من الکفرۃ قبل الغسل ۱؎ اھ
حلیہ میں ہے کہ کفار سے مال غنیمت میں حاصل ہونے والے کپڑوں کو دھونے سے پہلے ان میں نماز پڑھنا مسلمانوں میں نسل درنسل سے چلاآرہا ہے اھ (ت)
( ۱؎ حلیۃ المحلی)
یہ سات۷ نظیریں ہیں اور اگر استقصا ہو تو کتاب ضخیم لکھنا ہو تو وجہ کیا ہے وہی جو ہم اوپر ذکر کرآئے کہ طہارت وعلت اصل ومتتیقن اور ازلہ یقین کو یقین ہی متعین۔

ولہٰذا عادت علمائے دین یوں ہے کہ حکم بطہارت کے لئے ادنٰی احتمال کافی سمجھتے ہیں اور اس کا عکس ہرگز معہود نہیں کہ محض خیالات پر حکمِ نجاست لگادیں۔ دیکھو گائے بکری اور ان کی امثال اگر کنویں میں گر کر زندہ نکل آئیں قطعاً حکمِ طہارت ہے حالانکہ کون کہہ سکتا ہے کہ اُن کی رانیں پیشاب کی چھینٹوں سے پاک ہوتی ہیں مگر علما فرماتے ہیں محتمل کہ اس سے پہلے کسی آبِ کثیر میں اُتری ہوں اور اُن کا جسم دُھل کر صاف ہوگیا ہو۔
فی حاشیۃ ابن عابدین افندی رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال فی البحر وقیدنا بالعلم لانھم قالوا فی البقر ونحوہ یخرج حیا لایجب نزح شیئ وان کان الظاھر اشتمال بولھا علی افخاذھا لکن یحتمل طہارتھا بان سقطت عقب دخولھا ماء کثیرا مع ان الاصل الطھارۃ اھ ومثلہ فی الفتح ۲؎ اھ ۔
 حاشیہ ابن عابدین آفندی میں ہے: ''البحرالرائق میں فرمایا ہم نے اسے علم (یقین) کے ساتھ مقید کیا ہے کیونکہ انہوں نے گائے اور اس کی مثل جو (کنویں سے) زندہ نکلیں، کے بارے میں کہا ہے کہ کسی چیز کا نکالنا واجب نہیں اگرچہ ظاہر یہ ہے کہ اُن کی رانوں پر پیشاب لگا ہوتا ہے لیکن اس بات کا احتمال ہے کہ اس کے زیادہ پانی میں داخل ہونے کے بعد نجاست دُھل گئی ہو اور وہ پاک ہوگئی ہو علاوہ ازیں طہارت اصل ہے اھ اور اسی طرح فتح القدیر میں ہے اھ۔
 (۲؎ ردالمحتار    فصل فی البئر        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۴۲)
یقول العبد الضعیف غفراللّٰہ تعالٰی لہ علقت ھھنا علی ھامش ردالمحتار مانصہ۔
بندہ ضعیف، اللہ تعالٰی اس کی بخشش فرمائے، کہتا ہے کہ میں نے اس مقام پر ردالمحتار کے حاشیے پر کچھ تحریر کیا ہے جس کی عبارت یہ ہے (ت)
اقول: لولاھیبۃ العلامۃ المحقق علی الاطلاق مقارب الاجتہاد صاحب الفتح رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لقلت ان ھذا الاحتمال انما یتمشی فی السوائم اوفی بعضھا اما العلوفۃ فلاتخفی احوالھا علی مقتنیھا غالباً والحکم عام فلا بد من توجیہ اٰخر ویظھر لی عـــہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ان ھذا الاشتمال انما ھو ظاھر یغلب علی الظن من غیران یبلغ درجۃ الیقین لان البول لاینزل علی الافخاذ والقرب غیر قاض بالتلوث دائما وھی ربما تتفاج وتنخفض حین الاھراق فلم یحصل العلم بالنجاسۃ والٰی ھذا یشیر اٰخر کلام المحقق حیث یقول وقیل ینزح من الشاۃ کلہ والقواعد تنبو عنہ ما لم یعلم یقینا تنجسھا ۱؎ اھ ۔
اقول: اگر محقق علی الاطلاق اور منصب اجتہاد کا قُرب رکھنے والے صاحبِ فتح القدیر کی ہیبت کا خیال نہ ہوتا تو میں کہتا کہ یہ احتمال سال بھر چرنے والے تمام یا بعض جانوروں کے بارے میں ہے جہاں تک گر میں چارہ کھانے والے جانوروں کا تعلق ہے تو عام طور پر مالک سے ان کا حال پوشیدہ نہیں ہوتا اور حکم عام ہے لہذا کسی دوسری توجیہ کی ضرورت ہے مجھ پر یہ بات ظاہر ہوئی.اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ پیشاب کا رانوں سے لگاہونا ظاہراً غلبہ ظن ہے درجہ یقین کو نہیں پہنچتا کیوں کہ پیشاب رانوں پر نہیں اترتا اور قرب ہمیشہ ملوث ہونے کا فیصلہ نہیں کرتا اور بعض جانور ٹانگیں پھیلا کر اور جھک کر پیشاب کرتے ہیں اور اس طرح وہ اسے بہا دیتے ہیں لہذا نجاست کا یقین حاصل نہ ہوا۔ کلامِ محقق کا آخری حصّہ بھی اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے جب انہوں نے فرمایا کہا گیا ہے کہ بکری (کے گرنے) سے پُورا پانی نکالا جائے حالانکہ قواعد اس کی نفی کرتے ہیں جب تک اس کے ناپاک ہونے کا یقین نہ ہو اھ۔
عـــہ: ثم ان المولی سبحٰنہ وتعالٰی فتح وجھا اٰخر شافیا کافیا ابلح ازھر کماقدمناہ فی فصل البیر والحمدللّٰہ اللطیف الخبیر فراجعہ فانہ مھم کبیر ۱۲ منہ غفرلہ (م)

 پھر مولٰی سبحٰنہ نے ایک دوسری وجہ ظاہر فرمائی جو شافی، کافی، واضح اور روشن ہے جیسا کہ ہم نے اسے فصل فی البئر میں پہلے ذکر کیا ہے، اور سب خُوبیاں اللہ لطیف وخبیر کے لئے ہیں پس اس کی طرف رجوع کرو کہ یہ ایک بڑا معاملہ ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر        فصل فی البئر        مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر    ۱/۹۲)
نعم الظھور المفضی الٰی غلبۃ الظن یقضی باستحباب التنزہ وھذا لاشک فیہ قد استحبوا فی ھذہ المسئلۃ نزح عشرین  دلوا ۲؎کما نص علیہ فی الخانیۃ فافھم،
ہاں ایسا ظہور جو غلبہ ظن تک پہنچائے پاک کرنا مستحب قرار دیتا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں فقہاء کرام نے اس مسئلے میں بیس۲۰ ڈول نکالنا مستحب کہا ہے جیسا کہ خانیہ میں اسے بیان کیا۔ پس سمجھ لو،
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل مایقع فی البئر    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)
واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ ماعلقتہ علی الھامشلکن لایعکربہ علی مااردنا اثباتہ ھھنا من ان المعھود من العلماء ابداء الاحتمال للحکم بالطھارۃ دون العکس فان ھذا حاصل بعد کمالیس بخاف علی ذی فھم۔
اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے اھ یہ وہ ہے جو میں نے حاشیے پر تعلیق کی ہے لیکن اس کے ساتھ اس بات پر اعتراض نہیں کرنا چاہے جو ہم یہاں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کہ علماء سے معروف ہے کہ احتمال، حکمِ طہارت کو ظاہر کرنے کیلئے لایا جاتا ہے کہ نہ کہ اس کا عکس۔ اور یہ (طہارت) ابھی تک حاصل ہے جیسا کہ کسی بھی ذی فہم پر مخفی نہیں۔ (ت)
مقدمہ سابعہ:

شدّت بے احتیاطی جس کے باعث اکثر احوال میں نجاست وآلودگی کا غلبہ وقوع وکثرت شیوع ہو بیشک باعثِ غلبہ ظن اور ظن غالب شرعاً معتبر اور فقہ میں مبنائے احکام، مگر اس کی دو۲ صورتیں ہیں:

ایک تو یہ کہ جانب راجح پر قلب کو اس درجہ وثوق واعتماد ہوکہ دوسری طرف کو بالکل نظر سے ساقط کردے اور محض ناقابل التفات سمجھے گویا اُس کا عدم وجود یکساں ہو ایسا ظن غالب فقہ میں ملحق بیقین کہ ہر جگہ کار یقین دے گا اور اپنے خلاف یقین سابق کا پُورا مزاحم ورافع ہوگا اور غالباً اصطلاحِ علما میں غالب ظن واکبر رای اسی پر اطلاق کرتے ہیں۔
فی غمزالعیون والبصائر شرح الاشباہ والنظائر الشک لغۃ مطلق التردد وفی اصطلاح الاصول استواء طرفی الشیئ وھو الوقوف بین الشیئین بحیث لایمیل القلب الی احدھما فان ترجح احدھما ولم یطرح الاٰخر فھو ظن فان طرحہ فھو غالب الظن وھو بمنزلۃ الیقین وان لم یترجح فھو وھم۔
الاشباہ والنظائر کی شرح غمزالعیون والبصائر میں ہے ''شک، لغت میں مطلق تردّد کو کہتے ہیں اور اصولِ فقہ کی اصطلاح میں کسی چیز کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا اور دو چیزوں کے درمیان یوں ٹھہر جانا کہ دل، ان میں سے ایک کی طرف بھی مائل نہ ہو اگر ان میں سے ایک کو ترجیح حاصل ہوجائے اور دوسری کو چھوڑا نہ جائے تو وہ ظن ہے اگر دوسری کو چھوڑ دیا جائے تو یہ ظنِ غالب ہے جو یقین کے درجہ میں ہے اور اگر کسی جانب ترجیح نہ ملے تو وہم ہے (ت)
ولبعض متأخری اصولیين عبارۃ اخری اوجز مماذکرناہ مع زیادۃ علی ذلک وھی ان الیقین جزم القلب مع الاستناد الی الدلیل القطعی والاعتقاد جزم القلب من غیر استناد الی الدلیل القطعی کاعتقاد العامی والظن تجویز امرین احدھما اقوی من الاٰخر والوھم تجویز امرین احدھما اضعف من الاٰخر والشک تجویز امرین لامزیۃ لاحدھما علی الاٰخر انتھی ۱؎ اھ ملخصا۔
بعض متاخرین اصولیوں کے نزدیک ایک دوسری عبارت ہے جو ہماری مذکورہ عبارت سے زیادہ مختصر ہے لیکن اس میں کچھ اضافہ بھی ہے وہ یہ ہے کہ یقین، دل کی پختگی کو کہتے ہیں جبکہ اس میں دلیل قطعی کی سند بھی ہو اعتقاد، دل کی پختگی ہے لیکن کسی دلیلِ قطعی کی طرف اضافت نہیں ہوتی جیسے عام آدمی کا اعتقاد۔ ظن، دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہو۔ وہم، دو۲ باتوں کا (اس طرح) جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک، دوسری کی نسبت ضعیف ہو۔ اور شک، دو۲ باتوں کا یوں جائز قرار دینا کہ ان میں سے ایک کو دوسری پر کوئی فوقیت حاصل نہ ہو اھ ملخصا۔
 (۱؎ غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر ، الفن الاول من القاعدۃ الثانیہ 	مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱/۸۴)
اقول: وباللّٰہ التوفیق انما یتعلق غرضنا من ھذہ العبارۃ بماذکر السید الفاضل رحمہ اللّٰہ تعالٰی من التفرقۃ بین الظن وغالب الظن واما بقیۃ کلام فماشٍ علی المعھود من العلماءِ الکرام من عدم التعمق فی الالفاظ عند اتضاح المرام ولابأس ان اذکرہ اشباعاً للفائدۃ وان کان اجنبیا عن المقام ۔
میں اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں جو کچھ سید فاضل رحمہ اللہ تعالٰی نے ذکر کیا ہے ان کی عبارت سے ہماری غرض ظن اور ظنِ غالب کے درمیان تفریق ہے جہاں تک باقی کلام کا تعلق ہے تو وہ اسی پر جاری ہے جو علماءِ کرام کے درمیان معروف ہے کہ مقصد واضح ہونے کے بعد الفاظ میں غوروفکر نہیں کیا جاتا اور اگر میں فائدے میں سَیری حاصل کرنے کے لئے ذکر کروں تو کوئی حرج نہیں اگرچہ یہ بحث اس مقام میں اجنبی ہے۔
 (قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی استواء طرفی الشیئ اقول تفسیر بالاعم فانہ یشمل المعقول والمحسوس کاستواء طرفی حوض مربع مثلا ولوزید عندالعقل لما نفع ایضا لان المربع کمایستوی طرفاہ فی الخارج فکذا فی الذھن بل لوقیل استوائطرفی المعقول لم یتم ایضا لصدقہ علی الحوض المذکورفی مرتبۃ المعلوم سواء قلنا بحصول الاشیاء بانفسھا کما لحج بہ کثیر من اتباع الفلاسفۃ اوباشباحھا کما ھو الحق ولبقاء الطرفین علی العموم وانما المقصود الایجاب والسلب ولبقاء الاستواء علی الاطلاق وانما المراد فی میل القلب من جھۃ الحکم لامن جھۃ اخری کملاء مۃ غرض وغیرہ۔
ان کے قول ''کسی چیز کی دونوں طرفوں کے برابر ہونے'' کے بارے میں مَیں کہتا ہوں کہ یہ اعم کے ساتھ تفسیر ہے کیونکہ یہ معقول اور محسوس کو شامل ہے جیسے مربع حوض کی دونوں طرفوں کا برابر ہونا، اگر وہ ''عندالعقل'' کی قید کا اضافہ کرتے تو بھی نفع نہ دیتا کیونکہ مربع کی دونوں اطراف جس طرح خارج میں برابر ہوتی ہیں ذہن میں بھی اسی طرح ہوتی ہیں، اور اگر ''استواء طرفی المعقول'' (معقول کی دونوں طرفوں کا برابر) کی قید لگائی جائے تو بھی تعریف کامل نہ ہوگی کیونکہ مرتبہ معلوم میں یہ حوض مذکور پر صادق آتی ہے چاہے ہم ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ اکثر متبعینِ فلاسفہ نے اسے اختیار کیا یا مشابہ ذات کے ساتھ اشیاء کے حصول کا قول کریں جیسا کہ یہی حق ہے یہ تعریف اس لئے بھی تام نہیں ہوتی کہ دونوں اطراف عموم پر باقی رہتی ہیں حالانکہ مقصود تو ایجاب اور سلب ہے نیز ان کا برابر ہونا مطلق ہے اس سے بھی تعریف کامل نہیں حالانکہ میلانِ قلب میں حکم کا اعتبار مراد ہے کوئی دوسری وجہ مثلاً کسی غرض کا پایا جانا وغیرہ مراد نہیں ہے۔
 (قولہ وھو الوقوف الخ) اقول ھذا کذلک فیعم مثلا وقوف السالک بین طریقین الی بلد لایمیل قلبہ الی احدھما وغیرذلک۔
ان کا قول ''وھو الوقوف'' (اور وہ ٹھہرنا ہے)، میں کہتا ہوں یہ بھی عام ہے مثلاً اس کو بھی شامل ہوسکتا ہے جو کسی شہر کی طرف جانے والے دو۲ راستوں کے درمیان کھڑا ہو اور اس کا دل کسی ایک کی طرف بھی مائل نہ ہو، اس کے علاوہ بھی (مراد ہوسکتا ہے)
 (قولہ فان ترجح احدھما الخ) اقول یشمل المستحب مثلا ففعلہ مترجح علی ترکہ مع ان الترک غیر مطروح ویجری فی الامور العادیۃ والطبعیۃ وغیرذلک فربما یعرض للانسان شیأان فی الطعام واللباس والدواء والنکاح وغیرھا وھوامیل وارغب الی احدھما منہ الی الاٰخر من دون ان یطرح الاٰخر۔
ان کے قول ''فان ترجح احدھما'' (اگر ان میں سے ایک راجح ہوجائے) کے بارے میں مَیں کہتا ہوں مثال کے طور پر یہ مستحب کو بھی شامل ہے کیونکہ اس کا کرنا، چھوڑنے پر ترجیح رکھتا ہے باوجودیکہ ترک بھی کیا جاتا ہے اور یہ طبعی وعادی امور اور اس کے علاوہ میں بھی جاری ہونا ہے۔ بعض اوقات انسان کے سامنے دو۲ چیزیں ہوتی ہیں اشیاءِ خوردنی ولباس ودوا ونکاح وغیرہ میں وہ ان میں سے ایک کی طرف دوسرے کی نسبت زیادہ میلان رکھتا ہے لیکن دُوسری کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتا۔
Flag Counter