Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
96 - 2323
فی الطریقۃ والحدیقۃ عن التاترخانیۃ سئل الامام الخجندی عن رکیۃ وھی البئر وجدفیھاخف ای نعل تلبس ویمشی بھا صاحبھا فی الطرقات لایدری متی وقع فیھا ولیس علیہ اثر النجاسۃ ھل یحکم بنجاسۃ الماء قال لا ۱؎ اھ ملخصا۔
طریقہ محمدیہ اور حدیقہ ندیہ میں تتارخانیہ سے منقول ہے امام خجندی سے رکیہ کے بارے میں پُوچھا گیا اور یہ ایک کنواں ہے کہ اس میں موزہ یعنی جُوتا پایا گیا جس کو پہننے والا پہن کر راستوں پر چلتا ہے اسے معلوم نہیں کہ اس میں کب گرا  اور اس پر نجاست کا نشان بھی نہیں تو کیا پانی کے ناپاک ہونے کا حکم دیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا:نہیں اھ تلخیص۔
اقول: بل قدصح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ الصلاۃ فی النعال التی کانوا یمشون بھا فی الطرقات ۲؎ ۔ کمافی حدیث خلع النعال عند احمد وابی داود جمع المحدثین عن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ واخرج الائمۃ احمد والشیخان والترمذی والنسائی عن سعید بن یزید سألت انساً اکان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یصلی فی نعلیہ ۳؎ قال نعم۔
اقول: بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے ان جوتوں میں جن کے ساتھ وہ راستوں میں چلتے تھے، نماز پڑھنا صحیح طور پر ثابت ہے جیسا کہ جُوتا اتارنے والی حدیث میں ہے جسے امام احمد، ابوداؤد اور محدثین کی ایک جماعت نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔ اور امام احمد، بخاری ومسلم، ترمذی اور نسائی نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی وہ فرماتے ہیں میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پُوچھا کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نعلین مبارک میں نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    عن ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ     مطبوعہ دار الفکر بیروت            ۳/۹۲)

(۳؎ صحیح البخاری    باب الصلٰوۃ فی النعال        مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۵۶)
واخرج وابوداود والحاکم وابن حبان والبھیقی باسناد صحیح والطبرانی فی الکبیر علی نزاع فی صحتہ عن شداد بن اوس والبزار بسند ضعیف عن انس مرفوعاً وھذا حدیث الاول خالفوا الیھود (وفی روایۃ والنصاری) فانھم لایصلون فی نعالھم ولاخفافھم ۴؎ وقد کثرت الاحادیث القولیۃ والفعلیۃ فی ھذا المعنی مرفوعات وموقوفات۔
اور ابوداؤد، حاکم، ابن حبان اور بہےیقی نے صحیح سند کے ساتھ اور طبرانی نے کبیر میں ایسی سند کے ساتھ جس کی صحت میں نزاع ہے شداد بن اوس سے اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا اور یہ پہلی حدیث ہے کہ یہودیوں کی مخالفت کرو (ایک روایت میں ہے اور نصارٰی کی بھی) کیونکہ وہ اپنے جُوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے اس مفہوم میں قولی، فعل، مرفوع اور موقوف احادیث بکثرت پائی جاتی ہیں۔ (ت)
 (۴؎ سنن ابی داؤد        باب الصلٰوۃ فی النعال        مطبوعہ  آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۹۵)
قلت وقد افرزت فی ھذہ المسئلۃ وتحقیق الحکم فیھا کراہۃ لطیفۃ تحتوی بعون الملک القوی علی فرائد نظیفۃ وفوائد شریفۃ سمیتھا جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال حاصل ماحققت فیھا ان الصلاۃ فی الحذاء الجدید والنظیف المصون عن مواضع الدفق ومواقع الریبۃ تجوز بلاکراھۃ ولابأس وکذا النعل الھندیۃ اذا لم تکن صلبۃ ضیقۃ تمنع افتراش اصابع القدم والاعتماد علیھا بل قد یقال باستحبابہ واما غیر ذلک فیمنع منہ ومن المشی بھا فی المساجد وان کانت رخصۃ فی الصدر الاول فکم من حکم یختلف باختلاف الزمان واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
میں کہتا ہوں میں نے اس مسئلہ اور اس کے حکم کی تحقیق میں ایک عمدہ کتابچہ لکھا ہے جو طاقت والے بادشاہ کی مدد سے عمدہ موتیوں اور عظیم فوائد پر مشتمل ہے میں نے اس کا نام جمال الاجمال لتوقیف حکم الصلاۃ فی النعال (جُوتوں سمیت نماز پڑھنے کے حکم کی واقفیت کا عمدہ اجمالی بیان۔ ت) رکھا ہے۔ میں نے اس میں جو تحقیق کی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ نئے اور پاک جوتے میں جو نجاست کی جگہوں اور شک وشبہ کے مقامات سے محفوظ ہو، بلاکراہت نماز پڑھنا جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہندوستانی جُوتے کابھی یہی حکم ہے جب کہ وہ ایسا سخت اور تنگ نہ ہو جو انگلیاں بچھانے اور ان پر ٹیک لگانے میں رکاوٹ ہو، بلکہ اس کے مستحب ہونے کا قول بھی کیا جاتا ہے۔ لیکن اس کے علاوہ جُوتے میں نماز پڑھنے اور اس کے ساتھ مساجد میں چلنے سے بھی منع کیا جائے گا اگرچہ پہلے دور میں اس کی اجازت تھی کچھ احکام اختلافِ زمانہ سے بدل جاتے ہیں واللہ تعالٰی اعلم (ت)

(۳) غور کرو کیا کچھ گمان ہیں بچّوں کے جسم وجامہ میں کہ وہ احتیاط کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی پھر فقہا حکم دیتے ہیں جس پانی میں بچّہ ہاتھ یا پاؤں ڈال دے پاک ہے جب تک نجاست تحقیق نہ ہو۔
فی المتن والشرح المذکورین کذلک حکم الماء الذی ادخل الصبی یدہ فیہ لان الصبیان لایتوقون النجاسۃ لکن لایحکم بھابالشک والظن حتی لوظھرت عین النجاسۃ اواثرھا حکم بالنجاسۃ ۱؎ اھ ملخصا۔
مذکور متن وشرح (طریقہ وحدیقہ) میں ہے ''اسی طرح اس پانی کا حکم ہے جس میں بچّے نے ہاتھ داخل کیا کیونکہ بچّے نجاست سے اجتناب نہیں کرتے لیکن شک اور گمان کی بنیاد پر اس کا حکم نہیں دیا جائے گا البتہ عینِ نجاست یا اس کا اثر ظاہر ہوجائے تو نجاست کا حکم دیا جائے گا اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ    النور الرابع فی بیان اختلاف الفقہاء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد        ۲/۷۱۱)
 (۴) لحاظ کرو کس درجہ مجال وسیع ہے روغن کتان میں جس سے صابون بنتا ہے اس کی کلیاں کھلی رکھی رہتی ہیں اور چوہا اُس کی بُو پر دوڑتا اور جیسے بن پڑے پیتا اور اکثر اُس میں گِر بھی جاتا ہے پھر ائمہ ارشاد کرتے ہیں ہم اس بنا پر روغن کو ناپاک نہیں کہہ سکتے کہ یہ فقط ظن ہیں کیا معلوم کہ خواہی نخواہی ایسا ہُوا ہی۔
فیھما عن التاتارخانیۃ عن المحیط البرھانی قدوقع عند بعض الناس ان الصابون نجس لانہ یؤخذ من دھن الکتان ودھن الکتان نجس لانہ اوعیتہ تکون مفتوحۃ الرأس عادۃ والفأرۃ تقصد شربھا وتقع فیھا غالبا ولکنا محشر الحنفیۃ لانفتی بنجاسۃ الصابون لانالانفتی بنجاسۃ الدھن لان وقوع الفأرۃ مظنون ولانجاسۃ بالظن ۱؎ اھ ملخصا۔
ان دونوں (طریقہ وحدیقہ) میں بحوالہ تتارخانیہ، محیط برہانی سے منقول ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک صابن ناپاک ہے کیونکہ وہ کتان کے تیل سے بنایا جاتا ہے اور کتان کا تیل ناپاک ہے کیونکہ اس کے برتن عام طور پر کھُلے منہ ہوتے ہیں اور چُوہے اس کو پینا چاہتے ہیں اور اکثر اس میں گر پڑتے ہیں لیکن ہم گروہِ احناف صابن کے ناپاک ہونے کا فتوٰی نہیں دیتے کیونکہ تیل کی نجاست پر ہمارا فتوی نہیں ہے اس لئے کہ چُوہے کا گرنا محض گمان ہے اور گمان سے نجاست ثابت نہیں ہوتی اھ تلخیص (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ الصنف الثانی من الصنفین فیماورد عن ائمتنا الحنفیۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۶۷۵ )
 (۵) نظر کرو کتنی ردی حالت ہے اُن کھانوں اور مٹھائیوں کی جو کفار وہنود بناتے ہیں کیا ہمیں اُن کی سخت بے احتیاطوں پر یقین نہیں کیا ہم نہیں کہہ سکتے کہ اُن کی کوئی چیز گوبر وغیرہ نجاسات سے خالی نہیں کیا ہمیں نہیں معلوم کہ اُن کے نزدیک گائے بھینس کا گوبر اور بچھیا کا پیشاب نظیف طاہر بلکہ طھورو مطہر بلکہ نہایت مبارک ومقدس ہے کہ جب طہارت ونظافت میں اہتمام تمام منظور رکھتے ہیں تو ان سے زائد یہ فضیلت کسی شے سے حاصل نہیں جانتے پھر علما اُن چیزوں کا کھانا جائز رکھتے ہیں۔
فی ردالمختار عن التترخانیۃ طاھر ما یتخذہ اھل الشرک او الجھلۃ من المسلمین کالسمن والخبز والاطعمۃ والثیاب ۲؎ اھ ملخصا۔
ردالمحتار میں تتارخانیہ سے منقول ہے کہ جو چیز مشرکین اور جاہل مسلمان بناتے ہیں مثلاً گھی، روٹی، کھانے اور کپڑے وغیرہ وہ پاک ہیں اھ ملخصا (ت)
 (۲؎ ردالمحتار        کتاب الطہارۃ      مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۱۱)
بلکہ خود حضور سید المرسلین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بکمال رافت ورحمت وتواضع ولینت وتالیف واستمالت کفار کی دعوت قبول فرمائی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم۔
الامام احمد عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان یھودیا دعا النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم الی خبز شعیرو اھالۃ سخنۃ فاجابہ ۱؎۔
امام احمد نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جَو کی روٹی اور پرانے تیل کی دعوت دی آپ نے قبول فرمائی۔ (ت)
 (۱؎ مسند احمد بن حنبل    عن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ    مطبوعہ دار المعرفۃ المکتب الاسلامی بیروت    ۳/۲۷۰)
 (۶) نگاہ کرو مشرکوں کے برتن کون نہیں جانتا جیسے ہوتے ہیں وہ انہی ظروف میں شرابیں پَیں سَور چکھیں جھٹکے کے ناپاک گوشت کھائیں، پھر شرع فرماتی ہے جب تک علم نجاست نہ ہو حکم طہارت ہے۔
فی الحدیقۃ اوعیۃ الیھود والنصاری والمجوس لا تخلوعن نجاسۃ لکن لایحکم بھا بالاحتمال والشک ۲؎ اھ ملخصا۔
حدیقہ میں ہے یہودیوں، عیسائیوں اور مجوسیوں کے برتن اکثر پاک نہیں ہوتے لیکن محض احتمال اور شک کی بنا پر اس کا حکم نہیں دیا جائیگا اھ تلخیص (ت)
 (۲؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۷۱۱)
یہاں تک کہ خود صحابہ کرام حضور سیدالعٰلمین صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے غنیمت کے برتن بے تکلف استعمال کرتے اور حضور منع نہ فرماتے۔
احمد فی المسند و ابوداود فی السنن عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کنا نغزو مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فنصیب من آنیۃ المشرکین واسقیتھم ونستمتع بھافلا یعیب ذلک علینا ۳؎ ،
امام احمد نے مسند میں اور امام ابوداؤد نے سُنن میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جہاد میں جاتے تو ہمیں مشرکین کے برتن اور مشکیزے ملتے اور ان سے ہم فائدہ حاصل کرتے اور حضور علیہ السلام اس بات کو ہمارے لئے معیوب نہ جانتے۔
 (۳؎ سنن ابی داؤد    باب فی استعمال آنیۃ اھل الکتاب        مطبوعہ آفتاب عالم پریس، لاہور    ۲/۱۸۰)
قال المحقق النابلسی ای ننتفع بالاٰنیۃ والاسقیۃ من غیر غسلھا فلایعیب علینا فضلا عن نھیہ وھودلیل الطھارۃ وجواز الاستعمال ۴؎ اھ ملخصا۔
محقق نابلسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ہم ان برتنوں اور مشکیزوں کو بغیر دھوئے استعمال کرتے تو آپ ہمارے لئے معیوب نہ سمجھتے، روکنا تو الگ بات ہے۔ یہ طہارت اور جوازِ استعمال کی دلیل ہے اھ تلخیص۔ (ت)
 (۴؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۷۱۲)
اقول: بل قدصح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم التوضؤ من مزادۃ مشرکۃ وعن امیر المؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ من جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتوقون الانجاس بل لانجس عندھم الادم الحیض کما فی مدخل الامام ابن الحاج، الشیخان فی حدیث طویل عن عمران بن حصین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وعن جمیع الصحابۃ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم واصحابہ توضؤا من مزادۃ امرأۃ مشرکۃ ۱؎،
میں کہتا ہوں، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کرنا صحیح طور پر ثابت ہے اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ کو معلوم تھا کہ عیسائی نجاست سے اجتناب نہیں کرتے بلکہ ان کے نزدیک خونِ حیض کے علاوہ کوئی چیز ناپاک نہیں، جیسا کہ امام ابن الحاج کی مدخل میں ہے۔ امام بخاری ومسلم نے ایک طویل روایت میں حضرت عمر ابن حصین اور تمام صحابہ کرام سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام نے ایک مشرکہ عورت کے توشہ دان سے وضو کیا۔
 (۱؎ الطریقۃ المحمدیۃ     الباب الثالث        مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور    ۲/۳۰۹)
الشافعی وعبدالرزاق وغیرھما عن سفےٰن بن عیےنۃ عن زید بن اسلم عن ابیہ ان عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ توضأ من ماء فی جرۃ النصرانیۃ ۲؎۔
امام شافعی اور عبدالرزاق وغیرہ نے سفیان بن عُینہ سے انہوں نے زید بن اسلم سے انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک نصرانی عورت کے گھڑے کے پانی سے وضو فرمایا۔ (ت)
 (۲؎ الطریقۃ المحمدیۃ     الباب الثالث        مطبوعہ مطبع اسلام اسٹیم پریس لاہور     ۲/۳۳۴)
قلت وقدعلقہ  عـــہ  خ فقال توضأ عمر بالحمیم ومن بیت نصرانیۃ ۳؎ اھ
میں کہتا ہوں، امام بخاری رحمہ اللہ نے تعلیقاً روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گرم پانی سے اور ایک عیسائی عورت کے گھر سے وضو فرمایا اھ
عــــہ: اقول واذ قد علمت ان البخاری انما اوردہ معضلا فاطلاق العزو الیہ کما وقع عن الشاہ ولی اللّٰہ الدھلوی فی ازالۃ الخفاء فیہ خفاء کمالایخفی ۱۲ منہ (م)

اقول: جب یہ معلوم ہوگیا کہ امام بخاری نے اسے معضلاً ذکر کیا تو مطلقاً تعلیق کی طرف منسوب کرنے (جیسا کہ شاہ ولی اللہ دہلوی سے ازالۃ الخفاء میں واقع ہوا ہے) میں خفاء (غلطی) ہے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
 (۳؎ صحیح البخاری    باب وضوء الرجل مع امرائتہ وفضل وضوء المرأۃ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۲)
فی الطریقۃ وشرحھا وقال الامام الغزالی فی الاحیاء سیرۃ الاولین استغراق جمیع لاھم فی تطھیر القلوب والتساھل ای عدم عـــہ۱ المبالاۃ فی تطہیر الظاھر وعدم  الاکتراث  عـــہ ۲بتنظیف البدن والثیاب والاماکن من النجاسات حتی ان عمر مع علو منصبہ توضأ  بماء فی جرۃ نصرانیۃ مع علمہ بان النصاری لایتحامون النجاسۃ وعادتھم انھم یضعون الخمر فی الجرار؎۱ اھ ملخصا۔
طریقہ محمدیہ اور اس کی شرح میں ہے ''امام محمد غزالی رحمہ اللہ نے احیاء العلوم میں فرمایا: پہلے لوگوں کی سیرت یہ ہے کہ ان کے تمام فکر وغم کا محور دلوں کی تطہیر ہوتی تھی جبکہ ظاہر کو پاک کرنے میں سُستی کرتے اور بدن، کپڑوں اور جگہوں کی پاکیزگی حاصل کرنے کی زیادہ پروا نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ آپ نے باوجود بلند منصب پر فائزہونے کے ایک عیسائی عورت کے گھڑے سے وضو کیا حالانکہ آپ جانتے تھے کہ عیسائی نجاست سے پرہیز نہیں کرتے اور ان کی عادت ہے کہ وہ گھڑوں میں شراب رکھتے ہیں اھ تلخیص (ت)۔
عـــہ ۱ : اقول الاولی لفظاً ومعنےیً تبدیل العدم بالقلۃ ۱۲ منہ (م) میں کہتا ہوں لفظی اور معنوی اعتبار سے بہتری ''عدم'' کو ''قلت'' سے تبدیل کردینے میں ہے ۱۲ منہ (ت)

عـــہ ۲ : ای قلتہ ای ترک التعمق فیہ ۱۲ منہ (م) یعنی کم پرواہ کرتے یعنی پاکیزگی میں کوشش کو ترک کرتے تھے۔ (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    الدقۃ امر الطہارۃ والنجاسۃ    مطبوعہ نوریہ فیصل آباد        ۲/۶۵۸ )
 (۷) تامل کرو کس قدر معدن بے احتیاطی بلکہ مخزن ہرگونہ گندگی ہیں کفار خصوصاً ان کے شراب نوش کے کپڑے علی الخصوص پاجامے کہ وہ ہرگز استنجاء کا لحاظ رکھیں نہ شراب پیشاب وغیرہما نجاسات سے احتراز کریں پھر علماء حکم دیتے ہیں کہ وہ پاک ہیں اور مسلمان بے دھوئے پہن کر نماز پڑھ لے تو صحیح وجائز جب تک تلوث واضح نہ ہو۔
Flag Counter