سیدی محمد امین الدین شامی رحمہ اللہ تعالٰی اسے نقل کرکے فرماتے ہیں: قلت وھوکلام حسن ویشیر الیہ قول الذخیرۃ اذا استفاض وتحقق فان التحقق لایوجد بمجرد الشیوع ۲؎ اھ۔
میں کہتا ہوں یہ اچھّا کلام ہے اور ذخیرہ کا قول کہ ''جب اس سے یقین کا فائدہ حاصل ہو اور وہ ثابت ہوجائے کیونکہ مجرد شائع ہونے سے اس کا تحقق نہیں ہوتا'' اسی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الصوم مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۲/۱۰۲)
مقدمہ خامسہ:
حلت حرمت طہارت نجاست احکامِ دینیہ ہیں ان میں کافر کی خبر محض عــــہ نامعتبر۔
عــــہ: یعنی جب ضمن معاملات میں نہ ہو مثلاً کافر گوشت لایا اور کہا مسلمان سے خریدار ہے بات اُس کی مقبول اورگوشت حلال اور جو کہا مجوسی کا ذبیحہ ہے قول اُس کا ماخوذ اور لحم حرام وکم من شیئ یثبت ضمنا ولایثبت قصدا ۱۲ منہ (بہت سی چیزیں ضمناً ثابت ہوتی ہیں اور قصداً ثابت نہیں ہوتیں۔ ت)
قال اللّٰہ تعالٰی لن یجعل اللّٰہ للکٰفرین علی المومنین سبیلا ۳؎۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اللہ تعالٰی ہرگز مسلمانوں پر کافروں کو راہ نہ دے گا۔ (ت )
(۳؎ القرآن ۴/۱۴۱)
بلکہ مسلمان فاسق بلکہ مستور الحال کی خبر بھی واجب القبول نہیں چہ جائے کافر۔ قال اللّٰہ يایھا الذین اٰمنوا ان جاء کم فاسق بنبأ فتبینوا ۴؎ الاٰیۃ۔
اللہ تعالٰی نے فرمایا: اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لائے تو اس کی تحقیق کرو الآیۃ (ت)
(۴؎القرآن ۴۹/۶)
دُرمختار میں ہے: شرط العدالۃ فی الدیانات کالخبر عن نجاسۃ الماء فتیمم ولایتوضأ ان اخبربھا مسلم عدل منزجرعما یعتقد حرمتہ ویتحری فی خبر الفاسق والمستور اھ ملخصا ۱؎۔
دیانات (عبادات سے متعلق خبر) میں عدالت شرط ہے جیسے پانی کے ناپاک ہونے کے بارے میں اگر کوئی مسلمان عادل جو حرام امور سے باز رہنے والا ہو، خبر دے تو تمیم کرے، وضو نہ کرے۔ اور فاسق ومستور الحال کی خبر کے بارے میں غوروفکر کرے انتہی تلخیص۔
(۱؎ درمختار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/۲۳۷)
وفی العالمگیریۃ عن الکافی لا یقبل قول المستور فی الدیانات فی ظاھر الروایات وھو الصحیح ۲؎ اھ۔
اور عالمگیریہ میں کافی ہے نقل کیا کہ ظاہر روایات کے مطابق دیانات میں مستور الحال کا قول قبول نہ کیا جائے یہی صحیح ہے اھ۔
وفی ردالمحتار عن الھدایۃ الفاسق متھم والکافر لایلتزم الحکم فلیس لہ ان یلزم المسلم ۳؎ اھ۔
اور ردالمحتار میں ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ فاسق تہمت زدہ ہے اور کافر حکم کا خود التزام نہیں کرتا پس اسے مسلمان پر لازم کرنے کا حق نہیں۔ اھ (ت)
( ۳؎ ردالمحتار کتاب الحظر والاباحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۴۳)
ہاں فاسق ومستور میں اتنا ہے کہ اُن کی خبر سُن کر تحری واجب اگر دل پر اُن کا صدق جمے تو لحاظ کرے جب تک دلیل اقوی معارض نہ ہو اور کافر میں اس کی بھی حاجت نہیں مثلاً پانی رکھا ہو کافر کہے ناپاک ہے تو مسلمان کو رواکہ اُس سے وضو کرلے یا گوشت خریدا ہو کافر کہے اس میں لحم خنزیر ملا ہے مسلمان کو اُس کا کھانا حلال اگرچہ اس کا صدق ہی غالب ہو اگرچہ اُس کی یہ بات دل پر کچھ عـــہ جمتی ہوئی ہوکہ جو خُدا کو جھٹلاتا ہے اُس سے بڑھ کر جھُوٹا کون پھر ایسے کی بات محض واہیات البتہ احتیاط کرے تو بہتر وہ بھی وہاں جب کچھ حرج نہ ہو۔
عـــہ: کچھ اس لئے کہ مجرد خبر کافر کا بے ملاخطہ امور دیگر جو اس کے مؤیدات وقرائن ہوں قلب مومن پر ٹھیک ٹھیک جمنا کالمحال ہے ۱۲ منہ (م)
فی فتاوٰی الامام قاضی خان ان کان المخبر بنجاسۃ الماء رجلا من اھل الذمۃ لایقبل قولہ فان وقع فی قلبہ انہ صادق فی ھذا الوجہ قال فی الکتاب احب الی ان یریق الماء ثم یتیمم ولوتوضأ وصلی جازت صلاتہ ۱؎ اھ
فتاوائے امام قاضی خان میں ہے اگر پانی کے ناپاک ہونے کی خبر دینے والا ذمّی (کافر) ہو تو اس کی بات قبول نہ کی جائے اگر اس کے دل میں واقع ہوکہ وہ اس بات میں سچّا ہے تو کتاب میں فرمایا: مجھے زیادہ پسند ہے کہ پانی بہادے اور تمیم کرے اور اگر اس کے ساتھ وضو کرکے نماز پڑھی تو بھی جائز ہے (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فیما یقبل قول الواحد مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۴/۷۸۷)
وفی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ رجل اشتری لحما فلما قبضہ فاخبرہ مسلم ثقۃ انہ قدخالطہ لحم الخنزیر لم یسعہ ان یاکلہ ۲؎ اھ۔
اور فتاوٰی ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کیا ہے کہ ایک آدمی نے گوشت خریدا جب اس پر قبضہ کرلیا تو اسے کسی صالح مسلمان نے خبر دی کہ اس میں خنزیر کا گوشت ملا ہوا ہے تو اس کے لئے کھانے کی گنجائش نہیں اھ (ت)
میں کہتا ہوں کتب میں مفہوم مخالف کا اعتبار کیا گیا ہے جیسا کہ ائمہ وعلما نے اس کی تصریح کی، ردالمحتار میں ذخیرہ سے منقول ہے کہ فاسق کے سلسلے میں سوچ وبچار ضروری ہے اور ذمی کے بارے میں مستحب ہے اھ (ت)
(۳؎ ردالمحتار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۵/۲۴۴)
وفی شرح التنویر عن شرح النقایۃ والخلاصۃ والخانیۃ اما الکافر اذاغلب صدقہ علی کذبہ فاراقتہ احب ۴؎ اھ
اور شرح تنویر میں شرح نقایہ، خلاصہ اور خانیہ سے منقول ہے کہ کافر کا سچ جب اس کے جھُوٹ پر غالب ہو تب بھی اس (پانی) کا بہادینا زیادہ پسندیدہ ہے اھ (ت)
(۴؎ درمختار کتاب الخطروالا باحۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۲/۲۳۷)
مقدمہ سادسہ:
کسی شے کا محل احتیاط سے دور یا کسی قوم کا بے احتیاط وشعور اور پروائے نجاست وحرمت سے مہجور ہونا اسے مستلزم نہیں کہ وہ شے یا اُس قوم کی استعمالی خواہ بنائی ہوئی چیزیں مطلقاً ناپاک یا حرام وممنوع قرار پائیں کہ اس سے اگر یقین ہُوا تو اُن کی بے احتیاطی پر اور بے احتیاطی مقتضی وقوع دائم نہیں پھر نفس شے میں سو اظنون وخیالات کے کیا باقی رہا جنہیں امثال مقام میں شرع مطہر لحاظ سے ساقط فرماچکی
کماذکرنا فی المقدمۃ الثانیۃ
(جیسا کہ ہم نے دوسرے مقدمہ میں ذکر کیا ہے۔ ت) اور توضیحا للمرام مسائل مسائل شرح سے اس کے چند نظائر بھی معرض بیان میں آنا مناسب کہ اس میں ایک تو ایضاح قاعدہ دوسرے اکثار فائدہ تیسرے علاج وساوس واللہ تعالٰی الموفق۔
(۱) دیکھو کیا کم ہے ان کنوؤں کی بے احتیاطی جن سے کفار فجار جہاں گنوار نادان بچّے بے تمیز عورتیں سب طرح کے لوگ پانی بھرتے ہیں پھر شرع مطہر اُن کی طہارت کا حکم دیتی اور شرب ووضو روا فرماتی ہے جب تک نجاست معلوم نہ ہو۔
تتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے جس کو اپنے برتن، کپڑے یا بدن میں شک ہو کہ اسے نجاست پہنچی ہے یا نہیں، تو جب تک (نجاست لگنے کا) یقین نہ ہو وہ پاک ہے اسی طرح کنویں، حوض اور راستوں میں رکھے ہوئے مٹکے جن میں سےچھوٹے اور بڑے، مسلمان اور کفار (سب) پیتے ہیں (پاک ہیں) اھ
(۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۱۱)
اقول: یہ بات پہلے دَور سے ہمارے زمانے تک جاری ہے کوئی عیب لگانے والا اسے عیب نہیں لگاتا اور نہ کوئی منکر اس کا انکار کرتا ہے پس اجماع ہوا۔ (ت)
(۲) خیال کرو اس سے زیادہ ظنوں وخیالات ہیں اُن جوتوں کے بارہ میں جنہیں گلی کوچوں ہر قسم کی جگہوں میں پہنے پھرے پھر علما فرماتے ہیں جُوتا کنویں سے نکلے اور اس پر کوئی نجاست ظاہر نہ ہو کنواں طاہر اگرچہ تطیباً للقلب (دل کی تسلّی کے لئے) دس بیس۲۰ عـــہ ڈول تجویز کیے گئے۔
عـــہ: الاول مصرح بہ بعض الکتب والثانی لضابطۃ وضعھا محمد نظرا الی ان العشرین اقل ماورد کمافی الخانیۃ وھذا ھو الاولی بالاخذ واللّٰہ اعلم ۱۲ منہ (م)
پہلے کی تصریح بعض کتب میں موجود ہے اور دوسرا اس ضابطہ کی بناء پر جسے امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی نے وضع کیا ہے اس کی رعایت کرتے ہوئے کہ احادیث میں وارد شدہ اقوال میں تعداد کے اعتبار سے سب سے کم بیس۲۰ کا قول ہے جیسا کہ خانیہ میں ہے یہ وہ ہے جس پر عمل کرنا اولٰی ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (ت)