Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
94 - 2323
وفیھا تحت قولہ والمسک طاھر حلال زاد قولہ حلال لانہ لایلزم من الطھارۃ الحل کما فی التراب منح ۲؎ اھ۔
اور اسی میں ہے ''مشک (کستوری) پاک حلال ہے'' کے تحت ہے حلال کا لفظ زیادہ کیا کیونکہ طہارت سے حلال ہونا لازم نہیں آتا ہے جیسا کہ مٹّی میں ہے (منح) اھ۔
 (۲؎ ردالمحتار  مطلب فی احکام الدباغۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۳۹)
وفی الغنیۃ شرح المنیۃ عن القنیۃ حیوان البحرطاھر وان لم یؤکل حتی خنزالبحر ولوکان میتتۃ ۳؎ اھ۔
اور غنیہ شرح منیہ میں قنیہ سے نقل کیا ہے کہ دریائی جانور پاک ہیں اگرچہ انہیں کھایا نہ جاتا ہو۔ یہاں تک کہ دریائی خنزیر بھی، اگرچہ مردار ہو۔ اھ (ت)
 (۳؎ غنیۃ المستملی    قبیل ستر العورۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۲۰۸)
مقدمہ ثانیہ: 

شریعتِ مطہرہ میں طہارت وحلّت عــــہ ۲ اصل ہیں اور ان کا ثبوت خود حاصل کہ اپنے اثبات میں کسی دلیل کا محتاج نہیں اور حرمت ونجاست عارضی کہ ان کے ثبوت کو دلیل خاص درکار اور محض شکوک وظنون سے اُن کا اثبات ناممکن کہ

طہارت وحلت پر بوجہ اصالت جو یقین تھا اُس کا زوال بھی اس کے مثل یقین ہی سے متصور نراظن لاحق یقین سابق کے حکم کو رفع نہیں کرتا یہ شرع شریف کا ضابطہ عظیمہ ہے جس پر ہزارہا احکام متفرع، یہاں تک کہ کہتے ہیں تین چوتھائی فقہ سے زائد اس پر مبتنی اور فی الواقع جس نے اس قاعدہ کو سمجھ لیا وہ صدہا وساوس ہائلہ وفتنہ پردازی اوہام باطلہ ودست اندازی ظنون عاطلہ سے امان میں رہا۔
عــــہ ۲:  یعنی سوا بعض اشیاء کے جن میں حرمت اصل ہے جیسے دماء وفروج ومضار ۱۲ منہ (ت)
حدیث صحیح میں حضور اقدس سیدعالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ایاکم والظن فان الظن اکذب الحدیث ۱؎ رواہ الائمۃ مالک والبخاری ومسلم وابوداؤد والترمذی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
بدگمانی سے بچو کیونکہ بدگمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ اسے ائمہ حدیث امام مالک، بخاری، مسلم، ابوداؤد اور ترمذی نے حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
 (۱؎ بخاری شریف    باب ماینہی عن القاسد والتدابر    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۸۹۶)
اور یہ نفیس ضابطہ نہ صرف اسی قسم کے مسائل میں بلکہ ہزارہا جگہ کام دیتا ہے جب کسی کو کسی شے پر منع وانکار کرتے اور اُسے حرام یا مکروہ یا ناجائز کہتے سنو جان لو کہ بار ثبوت اُس کے ذمّہ ہے جب تک دلیل واضح شرعی سے ثابت نہ کرے اُس کا دعوٰی اُسی پر مردود اور جائز ومباح کہنے والا بالکل سبکدوش کہ اس کے لئے تمسک باصل موجود، علماء فرماتے ہیں یہ قاعدہ نصوص علیہ احادیث نبویہ علی صاحبھا افضل الصلاۃ والتحیۃ وتصریحات جلیہ حنفیہ وشافعیہ وغیرہم عامہ علما وائمہ سے ثابت یہاں تک کہ کسی عالم کو اس میں خلاف نظر نہیں آتا۔
فی الطریقۃ المحمدیۃ وشرحھا الحدیقۃ الندیۃ للعلامۃ عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی الاصل فی الاشیاء الطھارۃ لقولہ سبحٰنہ وتعالٰی ھو الذی خلق لکم مافی الارض جمیعا والیقین لایزول الشک والظن بل یزول بیقین مثلہ وھذا اصل مقرر فی الشرع منصوص علیہ فی الاحادیث مصرح بہ فی کتب الفقھاء من الحنفیۃ والشافعیۃ وغیرھم ولم ارفیہ مخالفا من احد من العلماء اصلا فاذا شک اوظن فی طھارۃ ماء اوطعام اوغیرذلک ممالیس بنجس العین فذلک الشےیئ طاھر فی حق الوضوء وحل الاکل وسائر التصرفات وکذا اذاغلب الظن علی نجاستہ الخ اھ ملتقطا ۱؎۔
علّامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی کی حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں لکھا ہے اشیا کی اصل طہارت ہے، کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے: ''اللہ نے زمین میں جو کچھ ہے تمہارے لئے پیدا فرمایا، اور یقین، شک اور گمان کے ساتھ زائل نہیں ہوتا بلکہ اپنے جیسے یقین کے ساتھ یقین زائل ہوتا ہے۔ یہ قاعدہ شریعت میں مقرر ہے احادیث میں اس کی تصریح ہے اور حنفی، شافعی اور دیگر فقہا کی کتب میں واضح طور پر مذکور ہے میں نے اس میں علما کا اختلاف بالکل نہیں پایا لہذا جب پانی، کھانے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طہارت میں جو نجس عین نہیں ہے شک پیدا ہو تو یہ چیز وضو کے حق میں پاک ہے اور اس کا کھانا بھی جائز، نیز دیگر تصرفات میں استعمال جائز، اسی طرح جب اس کی نجاست کا غالب گمان ہو (یقین نہ ہو تو بھی پاک ہے الخ اھ ملتقطا۔ (ت)
 (۱؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃمطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۱۱۔۷۱۰)
وفی الاشباہ والنظائر شک فی وجود النجس فالاصل بقاء الطھارۃ ۲؎ الخ
اور الاشباہ والنظائر میں ہے وجود نجاست میں شک ہو تو اصل طہارت باقی رہتی ہے الخ
 (۲؎ الاشباہ والنظائر    القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول    مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی    ۱/۸۷)
وفی الحدیقۃ لاحرمۃ الامع العلم لامع الشک والظن لان الاصل فی الاشیاء الحل ۳؎ الخ
اور حدیقہ میں ہے حرمت، علم (یقین) کے ساتھ ہے شک اور گمان کے ساتھ نہیں کیونکہ اشیاء کی اصل حلّت ہے الخ
 (۳؎ الحدیقۃ الندیۃ    بیان اختلاف الفقہاء فی امر الطہارۃ والنجاسۃ    مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲/۱۱۔۷۱۰)
وفی غمزالعیون للعلامۃ السید الحموی تحت قاعدۃ الیقین لا یزول بالشک قیل ھذہ القاعدۃ تدخل فی جمیع ابواب الفقہ والمسائل المخرجۃ علیھا تبلغ ثلثۃ ارباع الفقہ ۴؎ واکثر۔
علّامہ سید حموی کی غمزالعیون میں ایک قاعدے ''یقین، شک سے زائل نہیں ہوتا'' کے تحت ہے کہا گیا ہے کہ یہ قاعدہ فقہ کے تمام ابواب میں داخل ہے اور اس کے تحت نکالے جانے والے مسائل، فقہ کی تین چوتھائی بلکہ اس سے زیادہ تک پہنچتے ہیں۔ (ت)
 (۴؎ غمزالعیون مع الاشباہ والنظائر    القاعدۃ الثالثہ من الفن الاول مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی۱/۸۵)
مقدمہ ثالثہ:

 احتیاط اس میں نہیں کہ بے تحقیق بالغ وثبوت کامل کسی شے کو حرام ومکروہ کہہ کر شریعتِ مطہرہ پر افترا کیجئے بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے کہ وہی اصل متیقن اور بے حاجت مُبین سیدی عبدالغنی بن سیدی اسمٰعیل قدس سرہما الجلیل فرماتے ہیں:
لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللّٰہ تعالٰی باثبات الحرمۃ اوالکراھۃ اللذین لابدلھما من دلیل بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل وقد توقف النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مع انہ ھوالمشرع فی تحریم الخمر امّ الخبائث حتی نزل علیہ النص القطعی ۱؎ وآثرہ ابن عابدین فی الاشربۃ مقررا۔
 (۱؎ ردالمحتار   کتاب الاشربۃ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۵/۳۲۶)
احتیاط اس بات میں نہیں کہ حرمت یا کراہت جن کے لئیدلیل کی ضرورت ہے، کو ثابت کرنے کے ذریعے اللہ تعالٰی پر افترا باندھا جائے بلکہ اباحت کے قول میں احتیاط ہے کیونکہ اباحت اصل ہے نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے شارع ہونے کے باوجود، تمام خباثتوں کی جڑ شراب کو حرام قرار دینے میں اس وقت تک توقف کیا جب تک آپ پر نص قطعی نازل نہیں ہوئی اھ ابن عابدین نے مشروبات کے باب میں اسے ثابت رکھتے ہوئے ترجیح دی ہے۔ (ت)
مقدمہ رابعہ:

بازاری افواہ قابل اعتبار اور احکامِ شرع کی مناط ومدار نہیں ہوسکتی بہت خبریں بے سروپا ایسی مشتہر ہوجاتی ہیں جن کی کچھ اصل نہیں یا ہے تو بہزار۱۰۰۰ تفاوتِ اکثر دیکھا ہے ایک خبر نے شہر میں شہرت پائی اور قائلوں سے تحقیق کیا تو یہی جواب ملاکر سُنا ہے نہ کوئی اپنا دیکھا بیان کرے نہ اُس کی سند کا پتا چلے کہ اصل قائل کون تھا ج س سے سُن کر شدہ شدہ اس اشتہار کی نوبت آئی یا ثابت ہُوا تو یہ کہ فلاں کا فرمایا فاسق منتہائے اسناد تھا پھر معلوم ومشاہد کہ جس قدر سلسلہ بڑھتا جاتا ہے خبر میں نئے نئے شگُوفے نکلتے آتے ہیں زید سے ایک واقعہ سُنیے کہ مجھ سے عمرو نے کہا تھا عمرو سے پُوچھیے تو وہ کچھ اور بیان کرے گا۔بکر سے دریافت ہوا تو اور تفاوت نکلا ۔علی ھذا القیاس۔ الخ
وماھذا الالما اخبر الصادق المصدوق صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من فشوِ الکذب بعد قرون الخیر لاسیما ھذا الزمان الابعد الاخر وقد قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لایأتی علیکم زمان الّا الذی بعدہ شرمنہ حتی تلقوا ربکم ۲؎ اخرجہ احمد ومحمد بن اسمعیل والترمذی والنسائی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
اور یہ بات حضور علیہ السلام کی اس خبر کی بنیاد پر ہے جو آپ نے بھلائی کے زمانوں کے بعد جھوٹ کے عام ہونے سے متعلق دی ہے بالخصوص اس نہایت ہی بعید اور پچھلے زمانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ''تم پر جو آئندہ زمانہ آئے گا بد سے بدتر ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے ملاقات کرو''۔ اسے امام احمد،محمد بن اسمٰعیل (بخاری) ، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے۔
 (۲؎ بخاری شریف    باب لایأتی زمانٌ الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۱۰۴۷)
واخرج الطبرانی بسند صحیح عن ابن مسعود عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم : امس خیر من الیوم خیر من غدوکذلک حتی تقوم الساعۃ ۱؎۔
اور طبرانی نے بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے انہوں نے سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی، آپ نے فرمایا: ''کل گُزرا ہوا آج سے بہتر تھا اور آج کا دن آنے والے کل سے بہتر ہے، تاقیامت اسی طرح ہوگا''۔ (ت)
(۱؎ مجمع الزوائد        باب فیما مضی من الزمان الخ    مطبوعہ دارالکتاب بیروت    ۷/۲۸۶)
حدیث موقوف میں ہے شیطان آدمی کی شکل بن کر لوگوں میں جھُوٹی بات مشہور کردیتا ہے سُننے والا اوروں سے بیان کرتا اور کہتا ہے مجھ سے ایک شخص نے ذکر کیا جس کی صورت پہچانتا ہوں نام نہیں جانتا۔
مسلم فی مقدمۃ الصحیح عن عامر بن عبدۃ قال قال عبداللّٰہ ان الشيٰطین لیتمثَّل فی صورۃ الرجل فیأتی القوم فیحدثھم بالحدیث من الکذب فیتفرقون فیقول الرجل منھم سمعت رجلا اعرف وجھہ ولاادری مااسمہ یحدث ۲؎۔
امام مسلم نے اپنی صحیح کے مقدمہ میں جناب عامر بن عبدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: شیطان آدمی کی شکل میں ایک قوم کے پاس آتا ہے اور ان سے جھُوٹی بات بیان کرتا ہے پھر وہ منتشر ہوجاتے ہیں تو ان میں سے ایک آدمی کہتا ہے میں نے ایک آدمی کو بیان کرتے ہوئے سُنا میں اس کو چہرے سے پہچانتا ہوں لیکن اس کا نام نہیں جانتا۔ (ت)
 (۲؎ مقدمۃ الصحیح لمسلم            مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۰)
علماء فرماتے ہیں افواہی خبر اگرچہ تمام شہر بیان کرے سننے کے قابل نہیں نہ کہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے۔
الفاضل المصطفی الرحمتی فی صوم حاشیۃ الدر المختار لامجرد الشیوع من غیر علم بمن اشاعہ کماقد تشیع اخبار یتحدث بھاسائر اھل البلدۃ ولایعلم من اشاعَھا کماورد عـــہ  ان فی اٰخر الزمان یجلس الشیطٰن بین الجماعۃ فیتکلم بالکلمۃ فیتحدثون بھا ویقولون لاندری من قالھا فمثل ھذا لاینبغی ان یسمع فضلا من ان یثبت بہ حکم ۱؎ اھ ملخصا۔
دُرمختار کے حاشیہ (ردالمحتار) میں (استفاضہ کے معنی کے بارے میں) فاضل مصطفی رحمتی کا قول منقول ہے کہ محض خبر پھیلنا کہ شائع کرنے والے کا علم نہ ہو (استفاضہ نہیں ہے) جیسے بعض بے بیناد خبریں لوگوں کی زبان پر عام ہوجاتی ہیں لیکن شائع کرنے والے کا علم نہیں ہوتا جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہے کہ آخری زمانے میں شیطان ایک جماعت کے درمیان بیٹھ کر کچھ باتیں کرے گا تو وہ اسے بیان کرینگے اور کہیں گے ہم اس کے قائل کو نہیں جانتے پس اس قسم کی بات کو سُننا بھی مناسب نہیں چہ جائیکہ اس سے کوئی حکم ثابت کیا جائے اھ ملخصا (ت)
عـــہ: قدمنا تخریجہ آنفا ۱۲ منہ (م) (ہماری طرف سے ابھی اس کی تخریج گزرچکی ہے۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الصوم     مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۲/۱۰۲)
Flag Counter