Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
93 - 2323
رسالہ

الاحلی من السکر لطلبۃ سکرروسر(۱۳۰۳ھ)

(یہ رسالہ شکرروسر کے طالب (حکم شرعی) کیلئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
استفتاء از نوابِ گنج بارہ بنکی مرسلہ شیخ الجلیل پنجابی    ماہ ذیقعدہ ۱۳۰۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روسر کی شکر کہ ہڈیوں سے صاف کی جاتی ہے اور صاف کرنے والوں کو کچھ احتیاط اس کی نہیں کہ وہ ہڈیاں پاک ہوں یا ناپاک، حلال جانور کی ہوں یا مردار کی، اور سُنا گیا کہ اُس میں شراب بھی پڑتی ہے اسی طرح کل کی برف اور کل کی وہ چیزیں جن میں شراب کا لگاؤ سُنا جاتا ہے شرعاً کیا حکم ررکھتی ہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب

فتوٰی

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
سمع المولی وشکر÷ لمن حمد العلی الاکبر÷شکرک ربنا الذ واحلی÷ من کل ما یلذ ویستحلی÷ والصلاۃ والسلام÷ علی سیدالانام÷ اعظم یعسوب لنحل الاسلام÷ عذاب الریق حلو الکلام÷ منبع شھد یزیل السقام÷ واٰلہ وصحبہ العظام الفخام÷ ماا شتفی بالعسل مریض سقیم÷ واحب الحلو مسلم سلیم÷ اٰمین÷
جس نے بلندوبالا ذات کی تعریف کی، مولا تعالٰی نے اسیسنا اور جزا عطا فرمائی۔ اے ہمارے رب! ہر اس چیز پر تیرا شکر نہایت لذیذ وشیریں ہے جس سے لذت اور مٹھاس حاصل کی جاتی ہے اور درودوسلام مخلوق کے سردار پر جو اسلام کے درخت خرما کیلئے شہد کی مکھّی سے بہتر حیثیت رکھتے ہیں جن کا لعاب میٹھا اور کلام شیریں ہے شہد کا منبع ہیں، جو بیماریوں کو دُور کردیتا ہے، اور آپ کے باعظمت اور عظیم المرتبت آل واصحاب پر جب تک شہد سے بیمار کو شفاء اور بے عیب مسلمان میٹھی چیز کو پسند کرے، آمین۔ (ت)
امابعد اس مسئلہ سے سوال متکرر آیا اور آرائے عصر کو مضطرب پایا اور حاجت ناس اس طرف ماس اور دفع ہوا جس نہایت ضرور اور کشف وساوس اہم امور لہذا مناسب کہ بحول الواہب اس تازہ فرع کی تحقیق وتنقیح اور حکم شرع کی توضیح وتصریح اس نہج نجیع وطرز رجیح کے ساتھ عمل میں آئے کہ نہ صرف اسی مسئلہ تازہ بلکہ اس قسم کی تمام جزئیات بے اندازہ کا حکم واضح وآشکار ہوجائے افقر الفقرا عبدالمصطفٰی احمد رضا محمدی سنّی حنفی قادری برکاتی بریلوی عاملہ المولی القوی بلطفہ الحفی الحنفی الوفی وغفرلہ وللمومنین واحسن الیہ والیہم اجمعین (نہایت طاقت والا مولا اسے اپنی کامل اور غیبی مہربانی سے نوازے، اسے اور تمام مومنوں کو بخشش دے اس سے اور تمام مسلمانوں سے اچھا سلوک کرے۔ ت) اس بارہ میں یہ مختصر فتوی لکھتا اور الاحلی  عـــہ  من السکر لطلبۃ سکرروسر (شکرروسر کے طالب کیلئے یہ رسالہ شکر سے زیادہ میٹھا ہے۔ ت) اس کا تاریخی نام رکھتا ہے وباللّٰہ التوفیق والوصول الی ذری التحقیق (اللہ تعالٰی ہی کی طرف سے توفیق کا حصول اور تحقیق کی بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ ت) پیش ازجواب چند مقدمے موضع صواب واسأل جالرشاد من الملک الجواد (فیاض بادشاہ سے رہنمائی کا سوال کرتا ہوں۔ ت)
عـــہ:  من لطائف ھذا الاسم مطابقتہ للسمی من جھۃ ان الرسالۃ کماحکمت علی ھذا السکر بحکمین الحل فی صورۃ والحرمۃ فی اخری کذلک لھذا الاسم وجھان الی کلا الحکمین فالمعنی علی الحل انھا احلی لھم من السکر لتسویغھا لھم ما تشتھیہ انفسھم مع ازالۃ الوساوس ودفع الطعن وعلی الحرمۃ انھا وان نھتھم عن سکر فلم تحرمھم الحلاوۃ فان تحقیق حکم الشرع لذۃ القلب وتناول المشتھیات لذۃ النفس والاولی اھم واعلی فھذہ الرسالۃ احلی لھم من السکر الذی حرم علیھم ۱۲ منہ۔ (م)

اس رسالے کے نام میں یہ خوبی ہے کہ یہ اسم بامسمّٰی ہے کیونکہ جس طرح رسالہ نے اس شکر کے بارے ایک لحاظ سے حلال اور ایک لحاظ سے حرام دو حکم بیان کئے ہیں اسی طرح نام میں بھی دونوں کا لحاظ ہے۔ حلت کے لحاظ سے عوام کیلئے یہ شکر سے زیادہ میٹھا ہے کیونکہ اس نے شبہات اور اعتراضات کو ختم کرکے عوام کیلئے شکر کو مرغوب بنادیا ہے، اور حرمت کے لحاظ سے اس نے عوام کو اگرچہ شکر سے منع کردیا ہے تاہم ان کو لذتِ ایمانی سے محروم نہیں کیا کیونکہ ان کو شرعی مسئلہ کی تحقیق دے کر قلبی لذّت دی ہے جبکہ مرغوب غذا سے صرف لذّتِ نفس حاصل ہوتی ہے۔ پہلی چیز یعنی قلبی لذت اہم اور اعلٰی ہے اس لئے شکر کو حرام کرنے والا یہ رسالہ عوام کے لئے شکر سے زیادہ میٹھا ہے ۱۲ منہ (ت)
مقدمہ اولٰی:

ہڈیاں ہر جانور یہاں تک کہ غیر ماکول و نا مذبوح کی بھی مطلقاً پاک ہیں جب تک ان پر ناپاک دسومت (چکنائی ۱۲) نہ ہو سوا خنزیر کے کہ نجس العین ہے اور اس کا ہر جزو بدن ایسا ناپاک کہ اصلاً صلاحیتِ طہارت نہیں رکھتا، اور دسومت میں قید ناپاکی اس غرض سے ہے کہ مثلاً جو جانور خون سائل نہیں رکھتے اُن کی ہڈیاں بہرحال پاک ہیں اگرچہ دسومت آمیز ہوں کہ ان کی دسومت بوجہ عدم اختلاط دم خود پاک ہے تو اس کی آمیزش سے استخواں کیونکر ناپاک ہوسکتے ہیں۔
فی تنویر الابصار والدرالمختار وردالمختار شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا وعصبھا وحافرھا وقرنھا الخالیۃ عن الدسومۃ ۱؎ (قید للجمیع کمافی القھستانی فخرج الشعر المنتوف ومابعدہ اذاکان فیہ دسومۃ ۲؎) ودم سمک طاھر ۳؎ انتھت ملخصۃ۔
تنویر الابصار، درمختار اور ردالمحتار میں ہے ''خنزیر کے علاوہ ہر مردار کے بال، ہڈّی، پٹھّے، کُھر اور سینگ جو چربی سے خالی ہوں (یہ قید سب کے ساتھ ہے جیسا کہ قہستانی میں ہے۔ پس اکھاڑے ہُوئے بال اور جو کچھ اس کے بعد ہے اگر اس میں چربی ہو تو وہ اس حکم سے خارج ہیں) اور مچھلی کا خُون پاک ہے، انتہت تلخیص (ت)
 (۱؎ درمختار    باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۸)

(۲؎ ردالمحتار     باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۳۸)

(۳؎ درمختار     باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی       ۱/۳۸)
مگر حلال وجائز الاکل صرف جانور ماکول اللحم مذکی یعنی مذبوح بذبح شرعی کی ہڈیاں ہیں حرام جانور اور ایسے ہی جو بے ذکاۃ شرعی عـــہ مرجائے یا کاٹا جائے بجمیع اجزائیہ حرام ہے اگرچہ طاہر ہوکہ طہارتِ مستلزم وحلت نہیں جیسے سنکھےیا بقدر مضرت اور انسان کا دودھ بعد عمر رضاعت اور مچھلی کے سوا جانورانِ دریائی کا گوشت وغیرذلک کہ سب پاک ہیں اور باوجود پاکی حرام۔
عـــہ:  یعنی بشرطیکہ محتاج ذکاۃ ہونہ سمک وجراد کہ ان کا استشنا معلوم ومعروف ۱۲ منہ (م)
فی الحاشیۃ الشامیۃ اذاکان جلد حیوان میت ماکول اللحم لایجوز اکلہ وھو الصحیح لقولہ تعالٰی حرمت علیکم المیتۃ وھذا جزء منھا وقال عـــہ ۱  علیہ الصلاۃ والسلام انما یحرم من المیتۃ اکلہا امااذاکان جلد مالایوکل فانہ لایجوز اکلہ اجماعا بحرعن السراج ۱؎ اھ ملخصا ۔
حاشیہ شامیہ میں ہے جب ایسے مردار حیوان کا چمڑا ہو جس کا گوشت کھایا جاتا ہے تو اس کا کھانا جائز نہیں اور یہی صحیح ہے کیونکہ اللہ تعالٰی کا ارشاد ہے تم پر مردار حرام کیا گیا ہے اور یہ اس کا جز ہے۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''مردار سے صرف اس کا کھانا حرام ہوتا ہے''۔ اور اگر ایسے جانور کا چمڑا ہو جس کا گوشت نہیں کھایا جاتا تو بالاجماع اس کا کھانا جائز نہیں۔ البحرالرائق نے سراج سے نقل کیا (انتہی) تلخیص۔
عــــہ۱ : اقول اخرجہ احمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی والترمذی بالفاظ متقاربۃ کلھم عن ابن عباس وابن ماجۃ عن ام المومنین میمونۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۱۲ منہ (م)

اقول: اس کو احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی، ترمذی سب نے متقارب الفاظ سے ابن عباس سے اور ابن ماجہ نے ام المومنین میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کیا ۱۲ منہ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار   مطلب فی احکام الدباغۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۳۶)
Flag Counter