| فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ) |
اقول وقد لا یساعدہ التعبیر باللحس والاطلاقات او یقال ان امرار الریق باللسان بمنزلۃ الصب کما ابداہ عذرا عنہ فی الغنیۃ۔
اقول چاٹنے یا مطلق تھوک کی صورت میں یہ تعبیر اس کی موافقت نہیں کرتی یا کہا جائے کہ لعاب کو زبان کے ساتھ گزارنا بہانے کی طرح ہے جیسا کہ غنیہ میں ان سے عذر پیش کرتے ہوئے ظاہر کیا ہے۔ (ت)
اقول: وفیہ نظرظاھر فالظاھر ان وفاقہ ھھنا لاجل الضرورۃ کمامشی علیہ فی الغنیۃ اولاً واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اقول: یہ بھی واضح طور پر قابلِ اعتراض ہے ظاہر یہ ہے کہ ان کا یہاں (امام صاحب کی) موافقت کرنا ضرورت کے تحت ہے جیسا کہ غنیہ کے شروع میں انہوں نے یہ راہ اختیار کی ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت) تو حاصلِ امامِ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ قرار پایا کہ بدن سے ازالہ نجاستِ حقیقیہ پانی لعاب دہن خواہ کسی مائع طاہر سے ہو دھوکر خواہ پُونچھ کر کہ اکثر نہ رہے مطلقاً کافی وموجبِ طہارت ہے پھر اگر یہ ازالہ بذریعہ آب ہو جیسے صورت سوال میں کہ پانی سے بھیگے کپڑے سے بدن پُونچھا گیا تو امام محمد بھی طہارت مانیں گے اور اگر پانی کی تری کپڑے میں اس قدر تھی کہ ہر بار قطرے بدن پر سے ٹپکے تو جمیع ائمہ مذہب حصولِ تطہیر پر اتفاق فرمائیں گے۔
ھذا ھو التحریر البالغ بتوفیق اللّٰہ تعالٰی وبہ تبین ان تقیيد الفتح مسألۃ الفصد بخوف الضرر میل منہ الی مذھب الثانی اوارشاد الی الاحوط والا فعلی مذھب صاحب المذھب لاحاجۃ الیہ ولذا قال فی البحر ان المنقول مطلق وبہ تبین تخصیص العلامۃ الشامی تطہیر المسح بموضع الحجامۃ جمود علی تصویر وقع فی مسألۃ والا فھو لایوافق شیأ من المذاھب لاسیما مذھب صاحب المذھب کما علمت وقداسمعناک من النصوص مافیہ غنیۃ وللّٰہ الحمد واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
اللہ تعالٰی کی توفیق سے یہی تحریر (مقصد تک) پہنچنے والی ہے اس سے ظاہر ہوا کہ پچھنے لگوانے کے مسئلے میں فتح القدیر کا خوفِ ضرر کی قید لگانا ان کا دوسرے مذہب کی طرف میلان ہے یا زیادہ محتاط کی طرف رہنمائی کرنا ہے ورنہ صاحبِ مذہب کے مذہب پر اس کی حمایت نہیں اسی لئے بحرالرائق میں فرمایا کہ منقول مطلق ہے اور اسی سے واضح ہُوا کہ علامہ شامی کا مسح کے ساتھ پاک کرنے کو حجامت کی جگہ سے خاص کرنا صرف اسی صورت سے متعلق ہے جو اس مسئلے میں واقع ہوئی ورنہ وہ کسی مذہب بالخصوص صاحبِ مذہب کے مذہب کے موافق نہیں جیسا کہ تم نے جان لیا اور ہم نے تمہیں بے پروا کردینے والی نصوص سنادیں، وللہ الحمد واللہ تعالٰی اعلم (ت)
مسئلہ ۱۷۹: غرہ شعبان ۱۳۱۲ھ: حضورِ اقدس! پرسوں کوّے کی بِیٹ پانی میں پڑی تھی کمترین نے اُسی پانی سے استنجا کیا اور جسم جس جگہ سے ناپاک تھا وہ بھی پاک کیا بعد کو وضو کیلئے جو پانی لینے کو جانا ہوا تو مٹکے میں بِیٹ پڑی دیکھی پیٹ اور پسلیوں پر بھی پانی بہایا تھا اور تولیہ سے پُونچھا تھا مگر بالکل جسم خشک نہ ہوا تھا کسی قدر نمی پسلیوں اور پیٹ پر لگی تھی اُسی حالت میں صدری رُوئی کی پہن لی اور بٹن بھی لگالیے اب یہ نہیں معلوم کہ پوروں سے صدری بھیگی یا نہیں بعد چند منٹ کے دیکھا تو صدری پر کہیں پانی لگا ہوا نظر نہ آیا اس صورت میں کیا حکم ہے؟
الجواب: صدری پاک ہے صرف ایسی نم جو کپڑے کو تر نہ کرسکے ناپاک نہیں کرتی فقط سیل آجانے کا کچھ اعتبار نہیں بلکہ سرے سے وہ پانی ہی جس سے استنجا کیا بدن دھویا پاک تھا کہ اس کے بعد بیٹ پڑی دیکھی ممکن ہے کہ پانی لینے کے بعد پڑی ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۰:از گلگٹ مرسلہ سردار امیر خان ملازم کپتان اسٹوٹ ۲۱ ذی الحجہ ۱۳۱۲ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہڈّی مردار جانور کی پاک ہے یا ناپاک ہے کیونکہ سینگ تو ہر جانور کا پاک ہے اگر مسواک میں ہڈّی ہاتھی دانت کی ہو تو کیسی ہے بینوا توجروا۔
الجواب: ہڈی ہر جانور کی پاک ہے حلال ہو یا حرام، مذبوح ہو یا مردار جبکہ اس پر بدن میتہ کی کوئی رطوبت نہ ہو سوا سوئر کے کہ اس کی ہر چیز ناپاک ہے مسواک میں ہاتھی دانت کی ہڈی ہو تو کچھ حرج نہیں، ہاں اس کا ترک بہتر ہے۔
لمحل خلاف محمد فانہ قائل بنجاسۃ عینہ ۱؎ کالخنزیر کمافی الفتح القدیر وردالمحتار وغیرھما ورعایۃ الخلاف مستحبۃ بالاجماع۔
کیونکہ اس جگہ امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ آپ خنزیر کی طرح اس کے بھی نجس عین ہونے کے قائل ہیں جیسے فتح القدیر اور ردالمحتار وغیرہ میں ہے اور اختلاف کی رعایت کرنا بالاجماع مستحب ہے۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار مطلب فی احکام الدباغۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۱۳۷)
دُرمختار میں ہے: شعر المیتۃ غیر الخنزیر وعظمھا طاھر ۲؎ اھ ملخصا۔
واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ خنزیر کے علاوہ مردار کے بال اور ہڈیاں پاک ہیں انتہی تلخیص۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
(۲؎ درمختار کتاب الطہارۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۸۹)
مسئلہ ۱۸۱:۹ ربیع الاول ۱۳۱۴ھ: جناب مولانا صاحب دام برکاتہ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،۔ آدابِ غلامانہ بجا لاکر ملتمس ہوں چھت پر گوبری کی گئی اور پہلی مرتبہ کی بارش میں وہ چھت ٹپکی اس ٹپکے ہوئے پانی پر ناپاکی کا حکم ہے یا نہیں بینوا توجروا۔ زیادہ حدادب، کمترین احمد حسین عرف منجھلا عفی عنہ۔
الجواب : گرامی برادر! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،۔ اگر گوبر بالکل دُھل گیا اس کے بعد کا پانی ٹپکا تو کچھ مضائقہ نہیں مگر غالباً اول ہی بارش میں اس کی امید کم ہے۔ اور اگر گوبر باقی تھا اور ٹپکتے ہوئے پانی میں اس کا رنگ یا بُو تھی تو بے شک ناپاک ہے اور اگر رنگ وبُو کچھ نہ تھا تو اگر یہ پانی اُس حالت میں ٹپکا کہ بارش ہنوز ہو رہی ہے اور مینہ کا پانی رواں تھا تو ناپاک نہیں اور مینہ برس چکا تھا اُس کے بعد ٹپکا تو ناپاک ہے والسلام والمسئلۃ فی الھندیۃ وغیرھا واللہ تعالٰی اعلم (یہ مسئلہ فتاوٰی ہندیہ وغیرہ میں ہے۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ ت)