Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
91 - 2323
امافاذاکانت رطوبۃ رحم امھا علی جلدھا فی محلھا فماظنکم بالریق فی الفم بل التحقیق عندی ان نفی الکون فی المحل عن ھذا واثباتہ لرطوبۃ السخلۃ کلاھما سھواما الاول فلما سمعت واما الاٰخر فلان المحل الذی لایحکم فیہ بنجاسۃ النجاسۃ انماھو معدنھا لا ما اصابتہ ومعدن تلک الرطوبات ھی الرحم دون جلد السخلۃ کمالایخفی والفرع ماش علی قول الامام بطھارۃ رطوبۃ الرحم فقدحققنا فیما علقنا علی ردالمحتار ان الفرج فی قولھم رطوبۃ الفرج طاھرۃ عندہ لاعندھما بالمعنی الشامل للفرج الخارج والفرج الداخل والرحم جمیعا وما یری من التعارض فی الفروع فللتفریع علی القولین۔
پس جب بچّے کی جلد پر اس کی ماں کے رحم کی رطوبت اپنے محل میں ہے تو منہ میں پائے جانےوالے لعاب کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ بلکہ میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ اس کا اپنے محل میں نہ ہونا اور بکری کے بچّے کی رطوبت کا اپنے محل میں ثابت ہونا دونوں باتیں سہو ہیں۔ پہلی بات اس بنیاد پر جو تم نے سُن لیا۔ اور دوسری بات اس لئے کہ وہ محل اس کا معدن ہے جس میں (پائی جانے والی) نجاست پر نجاست کا حکم نہیں لگے گا، نہ وہ جو اس کو پہنچے۔ اور ان رطوبات کا معدن رحم ہے، نہ بچّے کی جلد۔ جیسا کہ مخفی نہیں اور فرع، امام اعظم رحمہ اللہ کے قول کہ رحم کی رطوبت پاک ہے، پر جاری ہوتی ہے ہم نے ردالمحتار کی تعلیق میں اس مسئلہ کی تحقیق کی ہے کہ فرج انکے قول ''فرج کی رطوبت، امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک پاک ہے صاحبین کے نزدیک نہیں'' میں عام معنی کے اعتبار سے فرج خارج، فرج داخل اور رحم سب کو شامل ہے۔ اوروہ جو فروع میں تعارض دکھائی دیتا ہے تو یہ دو قولوں پر تفریع کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
پس ثابت ہوا کہ ان دونوں مسئلہ اصل وفرع میں کلام زید عین اصابت سے ناشی اور قول صحیح ورجیح وصح وارجح پر ماشی ہے
ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق
 (تحقیق اسی طرح چاہے اور اللہ تعالٰی ہی توفیق دینے والا ہے۔ ت)
تنبیہ نبیہ: ہر عاقل ذی علم جانتا ہے کہ جواز بمعنی صحت وبمعنی اباحت خصوصاً
اباحت بالمعنی الاخص الغیر الشامل لکراہۃ التنزیہ اعنی تساوی الطرفین
 (خصوصاً اباحت اخص معنٰی کے اعتبار سے جو کراہۃ تنزیہی کو شامل نہیں یعنی دونوں طرفوں کے برابر ہونے میں۔ ت) میں زمین آسمان کا فرق ہے اول ہرگز مستلزم ثانی نہیں بہت افعال کہ مکروہِ تنزیہی بلکہ تحریمی بلکہ حرام ہیں منافی صحت نماز نہیں ہوتے تو نماز اُن افعال کے ساتھ جائز ہوگی یعنی صحیح ومسقط فرض مکروہ فعل جائز ومباح بالمعنے المذکور نہ ہوگا بلکہ حرام یا گناہ یا ناپسند علمائے کرام اہل مسلک اول کہ حمل کلب وغیرہ سباع سوائے خنزیر کے ساتھ نماز جائز بتاتے ہیں جواز بمعنی صحت میں کلام فرمارہے ہیں یعنی ان جانوروں کا پاس ہونا نہ طہارت وغیرہ کسی شرط نماز کا ناکافی نہ کسی رُکن وفرض نماز کا منافی تو نماز فاسد نہ ہوگی فرض اُترجائے گا معاذاللہ یہ نہیں فرماتے کہ بے ضرورت شرعیہ ایسا فعل مکروہ وناپسند نہیں حاشا کلب تو کلب 

اُن جانوروں کی نسبت جن کا نہ صرف بدن بلکہ لعاب بھی پاک ہے صاف تصریح فرماتے ہیں کہ نماز میں انہیں اُٹھائے ہونا بُرا ہے جو ایسا کرے گا بُرا کرے گا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ ومنتقٰی کی عبارتیں محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد سُن چکے کہ
یجوز واساء اجزأہ وقد اساء
 (جائز ہے لیکن برا کیا، اسے کفایت کرتا ہے لیکن وہ گنہگار ہوا۔ ت) نماز تو ہوگئی مگر اُس نے بُرا کیا تو جب پاک بدن پاک دہن جانوروں کی نسبت یہ ارشاد ہے ناپاک دہن جانوروں کو لینا کس قدر سخت ناپسند رکھیں گے بلکہ جانور کا کیا ذکر بے ضرورت لڑکوں بچّوں کا اٹھانا بھی مکروہ بتاتے ہیں۔ درمختار میں ہے:
یکرہ حمل الطفل ۱؎
 (بچّے کو اٹھانا مکروہ ہے۔ ت)
 (۱؎ درمختار    باب مایفسد الصلٰوۃ ومایکرہ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۹۳)
یہاں تک کہ بے ضرورت تلوار باندھنا بھی مکروہ رکھتے ہیں جبکہ اس کی حرکت سے دل بٹے۔
نورالایضاح ومراقی الفلاح میں ہے: لایکرہ تقلد المصلی بسیف ونحوہ اذالم یشتغل بحرکۃ وان شغلہ کرہ فی غیر حالۃ قتال ۲؎۔
نمازی کا تلوار وغیرہ باندھنا مکروہ نہیں جب اس کی حرکت سے مشغول نہ ہو اگر وہ مشغول رکھے تو حالتِ جنگ کے سوا مکروہ ہے۔ (ت)
 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی    فصل فیما یکر للمصلی    مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کراچی   ص۲۰۲)
تو ان کی نسبت یہ گمان کرنا کہ وہ اس فعل کو پسند رکھتے یا ناپسند نہیں جانتے ہیں محض بدگمانی وبدزبانی ہے۔ بحمداللہ تعالٰی اس تقریر سے روشن ہوگیا کہ غیر مقلد صاحبوں کا اس مسئلہ کو مطاعن ائمہ عظام حنفیہ کرام خصہم اللہ تعالٰی باللطف العام وعمہم بالجود والانعام واللہ تعالٰی انہیں عمومی لطف وکرم کے ساتھ خاص فرمائے اور انہیں عام جود وانعام عطا فرمائے۔ ت) میں شمار کرنا محض سفاہت وبے عقلی ہے حضرات صاحبین اور اُن کے موافقین رحمہ اللہ تعالٰی علیہم اجمعین کے نزدیک تو کتّا نجس العین ہے اور طاہر ماننے والوں سے بھی ایک جماعت عظمیہ اہل مسلک ثانی مطلقاً اس صورت میں نماز فاسد بتاتے ہیں، رہے قائلینِ طہارت سے اہلِ مسلک اول وہ بھی اسأت وکراہت کی تصریح فرماتے ہیں اُن کا مطلب صرف اس قدر کہ اگر کسی شخص نے کسی ضرورت وحاجت خواہ اپنی نادانی وجہالت سے ایسا کیا تو نماز باطل نہ ہوگی اس میں معاذ اللہ کیا جائے طعن ہے ہاں اگر فرماتے کہ ایسا کرنا چاہے یا کرے تو کچھ ناپسندیدہ نہیں تو ایک بات تھی مگر حاشاوہ اس تہمت سے پاک ومنزہ ہیں وللہ الحمد، الحمدللہ کہ یہ جواب  ۲۴ رجب مرجب  عہ ۱۳۱۲ ہجریہ قدسیہ روزجان سے افروز دوشنبہ کو تمام اور بلحاظ تاریخ سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب۱۳ (کتے کی طہارت عین کے قائلین سے عیب دور کرنے کا بیان۔ ت) تام ہوا۔
عہ: بسبب مکابرہ بعض اہل بدعت وتحریر بعض دیگر فتاوائے ضروریہ بارہ روز تک یہ جواب نہ لکھا گیا ۱۲ (م)
 (واٰخر دعوٰنا ان الحمدللّٰہ رب العٰلمین وافضل الصلاۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا ومولٰنا محمد واٰلہ وصحبہ اجمعین۔
اور ہماری آخر پکار یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور صلاۃ وسلام تمام رسولوں کے سردار، ہمارے سردار اور مولٰی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور آپ کے تمام آل واصحاب پر ہو۔ (ت)
واللہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
مسئلہ ۱۷۸:از کلکتہ دھرم تلانمبر ۶ مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب۲۲ شعبان ۱۳۱۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میری بغل میں دادیا پھنسی کسی قسم کی ہوگئی ہے اُس میں چُل ہوتی ہے جس وقت کھجلاتا ہُوں تو کچ لہو سا نکل آتا ہے اُس جگہ کا پاک کرنا سیلان آب تو بغیر سارے بدن زیرین کے ہونہیں سکتا لہذا اس موضع کو تین مرتبہ کپڑا پانی میں تَر کرکے اپنے فہم کے موافق پاک کرلیتا ہوں اور کپڑا ہر مرتبہ میں دوسرا لیتا ہوں کہ اوّل کو پاک کرنا ذرا دشوار ہوتا ہے اور یہی صورت جناب مولوی سعادت حسین صاحب مدرس مدرسہ عالیہ نے بتائی اگر آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں گے تو اِن شاء اللہ تعالٰی اطمینان کُل ہوجائے گا، بینوّا توجّروا۔
الجواب: یہ مسئلہ اگرچہ ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم میں مختلف فیہ اور مشایخ فتوی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم میں معرکۃ الآرا رہا ہے مگر فقیر غفراللہ تعالٰی اسی پر فتوٰی دیتا ہے کہ بدن سے نجاست دُور کرنے میں دھونا یعنی پانی وغیرہ بہانا شرط نہیں بلکہ اگر پاک کپڑا پانی میں بھگوکر اس قدر پونچھیں کہ نجاست مرئیہ ہے تو اس کا اثر نہ رہے مگر اُتنا جس کا ازالہ شاق ہو اور غیر مرئیہ ہے تو ظن غالب ہوجائے کہ اب باقی نہ رہی اور ہر بار کپڑا تازہ لیں یا اُسی کو پاک کرلیا کریں تو بدن پاک ہوجائیگا اگرچہ ایک قطرہ پانی کا نہ بہے یہ مذہب ہمارے امام مذہب سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ہے اور یہاں امام محمد بھی اُن کے موافق ہیں اور بہت اکابر ائمہ فتوٰی نے اسے اختیار فرمایا اور عامہ کتب معتبرہ مذہب میں بہت فروع اسی پر مبتنی ہیں تو اس پر بے دغدغہ عمل کیا جاسکتا ہے مثلاً(۱) انگلی پر کچھ نجاست لگ گئی تھی اسے خبر نہ تھی کسی وجہ سے انگلی تین بار چاٹ لی یہاں تک کہ اُس کا اثر

جاتا رہا انگلی پاک ہوگئی۔ عورت(۲) کے سرِپستان پر ناپاکی تھی بچّے نے دُودھ پیا یہاں تک کہ اثرِ نجاست زائل ہوا پستان پاک ہوگئی،
فی الدرالمختار والبحر وغیرھما تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا ۱؎۔
درمختار اور بحرالرائق وغیرہ میں ہے ناپاک انگلی اور پستان تین مرتبہ چاٹنے سے پاک ہوجاتی ہے (ت)
 (۱؎ درمختار        باب الانجاس    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۳)
شراب پی(۳)، اس کے بعد لب تین بار چاٹ لئے اور لعاب دہن میں پیدا ہوکر بار بار نگل لیا یہاں تک کہ اثرِ خمر نہ رہا منہ پاک ہوگیا۔

یونہی(۴) بلّی نے چوہا کھاکر زبان سے اپنا منہ صاف کرلیا اور دیرگزری کہ دہن بوجہ لعاب صاف ہوگیا اُس کے بعد پانی پیا، پانی ناپاک نہ ہوگا۔
فی التنویر سؤر شارب خمر فَورشربھا وھرۃ فَوراکل فارۃ نجس ۲؎ فی ردالمحتار عن الحلیۃ بخلاف ما اذا مکث ساعۃ ابتلع ریقہ ثلث مرات بعد لحس شفیتہ بلسانہ وریقہ ثم شرب فانہ لاینجس لا بد ان یکون المراد اذا لم یکن فی بزاقہ اثر الخمر من طعم اوریح ۳؎ اھ۔
تنویر میں ہے شرابی کے شراب پینے کے فوراً بعد کا جھُوٹا اور بلّی کے چُوہا کھانے کے فوراً بعد کا جھُوٹا ناپاک ہے۔ ردّالمحتار میں حِلیہ سے منقول ہے کہ بخلاف اس کے جب ایک ساعت ٹھہر جائے اور زبان اور لعاب کے ساتھ ہونٹوں کو چاٹنے کے بعد اپنا لعاب تین بارنگل لے پھر (پانی وغیرہ) پئے تو وہ ناپاک نہیں ہوگا۔ اس سے یہ بات مراد لینا ضروری ہے کہ جب اس کے لعاب میں شراب کے ذائقے یا بُو کا اثر نہ ہو اھ۔
 (۲؎ درمختار        فصل فی البئر     مطبوعہ مجتبائی دہلی       ۱/۴۰)

(۳؎ ردالمحتار        فصل فی البئر  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۳)
وفیہ عنھا فی مسألۃ الھرۃ فان مکث ساعۃ ولحست فمھا فمکروہ منیۃ ولاینجس عندھما وقال محمد ینجس لان النجاسۃ لا تزول عندہ الابالماء ۴؎ الخ۔
اور اسی (ردالمحتار) میں اِس (حلیہ) سے بلّی کے مسئلے میں ہے کہ اگر وہ ایک ساعت ٹھہرے اور اپنا منہ چاٹ لے تو مکروہ ہے (منیہ) شیخین کے نزدیک ناپاک نہیں ہوگا اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ناپاک ہوجائے کیونکہ ان کے نزدیک پانی کے بغیر نجاست زائل نہیں ہوتی۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار        فصل فی البئر  مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۴)
قے(۵) ہوئی اور اتنی دیر کے بعد کہ آمدورفت لعاب نے اس کا اثر کھودیا یا نماز پڑھی نماز ہوگئی۔
فی المنیۃ والحلیۃ م وکذا باللحس اذا اصاب الخمر یدہ فلحسہ بریقہ ثلاث مراۃ یطھر کما یطھر فمہ بریقہ ۱؎ ش فی الفتاوی الخانیۃ اذا قاء ملأ الفم ینبغی ان یغسل فاہ فان توضأ ولم یغسل فاہ حتی صلی جازت صلاتہ لانہ یطھر بالبزاق فی قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما وکذا اذا شرب الخمر ثم صلی بعد زمان وکذا اذااصاب بعض اعضائہ نجاسۃ فطھرھا بلسانہ حتی ذھب اثرھا وکذا السکین اذا تنجس فلحسہ بلسانہ اومسحہ بریقہ وکذا الصبی اذا قاء علی ثدی الامام ثم مص الثدی مرارا یطھر انتھی وکذا فی غیرھا والذی تقتضیہ القواعد المذھبیۃ من تحریر الکلام فی ھذا المقام انہ اذا اصاب بعض اعضائہ نجاسۃ حقیقیۃ فان کانت مرئیۃ ولحسھا ھو اوغیرہ حتی ذھب عینھا واثرھا ان کان لایشق زوالہ یطھر وان کانت غیر مرئیۃ فتطھر باللحس ثلاث مرات کماذکرہ المصنف فی ھذہ المسألۃ اوحتی یغلب علی الظن زوالھا وسیصرح المصنف ان الفتوی علیہ ۲؎۔
منیہ اور حلیہ میں ہے ماتن نے فرمایا ''اور اسی طرح چاٹنے کے ساتھ (پاک ہوجاتا ہے) جب کسی آدمی کے ہاتھ کو شراب لگ گئی پس اس نے اپنے لعاب کے ساتھ تین بار چاٹا تو پاک ہوجائیگا جیسے اس کا منہ تھوک کے ساتھ پاک ہوجاتا ہے اس پر شارح نے فرمایا فتاوٰی خانیہ میں ہے جب کسی نے منہ بھر کر قے کی تو چاہے کہ اپنا مُنہ دھولے اگر اس نے وضو کیا لیکن کُلی نہیں کی یہاں تک کہ نماز پڑھ لی تو اس کی نماز جائز ہوجائیگی کیونکہ وہ امام اعظم اور امام ابویوسف رضی اللہ عنہما کے نزدیک تھوک سے پاک ہوجاتا ہے۔ اس طرح جب شراب پی پھر کچھ دیر بعد نماز پڑھی یوں ہی جب اس کے بعض اعضا پر نجاست لگی اور اس نے اس کو اپنی زبان سے پاک کردیا یہاں تک کہ اس کا اثر چلاگیا اسی طرح جب چھُری ناپاک ہوگئی پھر اس نے اسے زبان سے چاٹا یا تھوک سے صاف کیا یوں ہی جب بچّے نے ماں کے پستان پر قے کی پھر کئی بار پستان کو چُوسا تو وہ پاک ہوجائے گا انتہی۔ دوسری کتب میں بھی اسی طرح ہے۔ قواعدِ مذہبیہ اس مقام پر جس کلام کے تحریر کے متقاضی ہیں وہ یہ ہیں کہ جب کسی عضو پر نجاستِ حقیقی لگ جائے تو اگر وہ دکھائی دینے والی ہے اور اس نے یا کسی دوسرے نے اس کو چاٹ لیا یہاں تک کہ اصل نجاست اور اس کا اثر زائل ہوگیا۔ اگر اس کو دُور کرنے میں مشقّت نہ ہو تو پاک ہوجائے گا، اور اگر وہ نجاست دکھائی نہیں دیتی تو تین بار چاٹنے سے پاک ہوجاتی ہے جیسا کہ مصنّف نے اس مسئلہ میں ذکر کیا ہے یا کہ اس وقت جبکہ اس کے زوال کا غالب گمان ہوجائے۔ عنقریب مصنّف اس کی تصریح کریں گے کہ فتوٰی اسی پر ہے۔ (ت)
 (۱؎ منیۃ المصلی        فصل فی الاسآر    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۱۴۷)

(۲؎ حلیہ)
پچھنے لگائے اور موضع خون کو بھیگے ہوئے پاکیزہ کپڑے کے تین ٹکڑوں سے پونچھ دیا پاک ہوگیا یہ صورت مسئولہ کا خاص جزئیہ ہے کہ محیط رضوی وفتاوٰی ذخیرہ وتتمۃ الفتاوٰی ظہیریہ وحلیہ وغیرہا میں اُس کی تصریح ہے۔
فی الحلیۃ بعدما تقدم اٰنفا اعلم بانھم صرحوا کما فی الخلاصۃ وکما یشیر الیہ مانقلنا اٰنفا من الخانیۃ بان الحکم بالطھارۃ فی ھذہ الفروع تفریع علی ان الطھارۃ للبدن من النجاسۃ الحقیقیۃ یکون بغیر الماء من المائعات الطاھرات وقدعرفت انہ قول ابی حنیفۃ وابی یوسف علی اختلاف عن ابی یوسف فی ذلک غیران فی محیط الشیخ رضی الدین ولومسح موضع المحجمۃ بثلاث خرقات رطبات لطائف اجزأہ من الغسل لانہ عمل عمل الغسل وقال ابویوسف لایجزئہ حتی یغسلہ انتھی وعن الاول فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری الی ان الحاکم قال انہ روی عن ابی حفص عن محمد بن الحسن رحمہ اللّٰہ تعالٰی ومشی علی الثانی قاضی خان بعد ان حکاہ عن الفقیہ ابی جعفر حیث قال اذاکان علی بدنہ نجاسۃ فمسحھا بخرقۃ مبلولۃ ثلاث مرات حکی عن الفقیہ ابی جعفر انہ قال یطہر اذاکان الماء متقاطرا علی بدنہ ثم قال بعد ذلک ولومسح موضع الجمامۃ بثلاثۃ خرق مبلولۃ قدمر قبل ھذاانہ یجوز اذاکان متقاطرا والولوالجی حیث قال ولواصاب بعض اعضائہ نجاسۃ قبل یدہ ثلثا ومسحھا علی ذلک الموضع ان کانت البلۃ من یدہ متقاطرۃ جاز والا فلا لانہ یکون غسلا انتھی فقیاس ھذا انہ لایجوز عند ابی یوسف ازالۃ النجاسۃ المذکورۃ فی الفروع الماضیۃ بالبزاق حتی یکون متقاطرا بحیث تسمی الازالۃ غسلا واللّٰہ تعالٰی سبحٰنہ اعلم ۱؎ اھ
حلیہ میں اس کے بعد جو ابھی گزرا ہے ''جان لو کہ فقہائے کرام نے تصریح کی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے اور جیسا کہ اس کی طرف وہ بات اشارہ کرتی ہے جسے ہم نے ابھی خانیہ سے نقل کیا ہے کہ ان فروع میں طہارت کا حکم، اس بات پر تفریع ہے کہ نجاست حقیقیہ سے بدن کی طہارت پانی کے علاوہ دیگر پاک بہنے والی چیزوں سے ہوجاتی ہے اور تم معلوم کرچکے ہوکہ یہ امام ابوحنیفہ اور امام ابویوسف رحمہ اللہ کا قول ہے لیکن امام ابویوسف رحمہ اللہ کا کچھ اختلاف بھی ہے۔ شیخ رضی الدین کی محیط میں ہے اگر حجامت کی جگہ کو کپڑے کے تین باریک تر ٹکڑوں سے صاف کیا تو دھونے کے قائم مقام ہے کیونکہ اس نے غسل کا عمل کیا امام ابویوسف فرماتے ہیں دھونے کے بغیر کفایت نہ ہوگی (انتہی) اور پہلے کے بارے میں ذخیرہ اور فتاوٰی صغرٰی کے تتمہ میں ہے، یہاں تک کہ حاکم نے کہا یہ ابوحفص سے اور وہ محمد بن حسن سے روایت کرتے ہیں اور دوسرے کو قاضی خان نے فقیہ ابوجعفر سے حکایت کرنے کے بعد اختیار کیا جب کہا ''اگر اس کے بدن پر نجاست ہو پس وہ اسے کپڑے کے تر ٹکڑے کے ساتھ تین بار صاف کرے تو فقیہ ابوجعفر سے منقول ہے کہ پاک ہوجائیگا بشرطیکہ اس کے بدن پر پانی کے قطرے گریں اس کے بعد فرمایا اگر تین تر ٹکڑوں کو حجامت کی جگہ پھیرا تو پہلے گزرچکا کہ یہ جائز ہے جبکہ قطرے گریں اور ولوالجی سے نقل کیا انہوں نے فرمایا اگر کسی عضو پر نجاست لگ جائے پھر وہ اپنے ہاتھ کو تین بار تر کرکے اس جگہ پر ملے تو اگر اس کے ہاتھ کی رطوبت متقاطر ہے تو جائز ہے ورنہ نہیں کیونکہ یہ دھونا ہوجائے گا (انتہی) اس کا قیاس یہ ہے کہ گزشتہ فروع میں جس نجاست کا ذکر کیا گیا ہے امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کو لعاب سے دور کرنا اس وقت جائز ہے جب لعاب قطروں کی طرح گرے کیونکہ اس ازالے کو دھونا قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے (انتہی)
 (۱؎ حلیہ۱؎ )
ماافاد واجاد علیہ رحمۃ الملک الجواد وفی ردالمحتار بقی ممایطھر بالمسح موضع الحجامۃ ففی الظھیریۃ اذامسحھا بثلاث خرق رطبات لطاف اجزأہ عن الغسل واقرہ فی الفتح وقاس علیہ ماحول محل الفصد اذاتلطخ ویخاف من الاسالۃ السریان الی الثقب قال فی البحر وھو یقتضی تقیےد مسئلۃ المحاجم بمااذا خاف من الاسالۃ ضررا والمنقول مطلق اھ اقول وقدنقل فی القنیۃ عن نجم الائمۃ الاکتفاء فیھا بالمسح مرۃ واحدۃ اذازال بھا الدم لکن فی اخانیۃ لومسح موضع الحجامۃ بثلاث خرق مبلولۃ یجوز ان کان الماء متقاطرا اھ والظاھر ان ھذا مبنی علی قول ابی یوسف فی المسئلۃ بلزوم الغسل کمانقلہ عنہ فی الحلیۃ عن المحیط ۱؎ الخ۔
ان پر سخی بادشاہ کی رحمت ہو۔ انہوں نے کیا ہی اچھا فائدہ پہنچایا۔ ردالمحتار میں ہے کہ جو چیزیں پونچھنے سے صاف ہوجاتی ہیں ان میں سے حجامت کی جگہ باقی رہ گئی۔ ظہیریہ میں ہے جب تین تر اور نرم ٹکڑوں سے پُونچھا تو دھونے کے قائم مقام ہوگا۔ فتح القدیر میں بھی اس کو برقرار رکھا ہے پچھنہ کی جگہ کے ارد گرد کو بھی اس پر قیاس کیا ہے جب وہ وہ آلودہ ہوجائے اور پانی بہانے سے سوراخ میں جانے کا ڈر ہو۔ بحر میں فرمایا اس کا تقاضا یہ ہے کہ حجامت کی جگہوں کے مسئلے کو اس بات سے مقید کیا جائے کہ جب پانی بہانے سے ضرر کا خوف ہے، اور جو کچھ منقول ہے وہ مطلق ہے (انتہٰی) قنیہ میں نجم الائمہ سے منقول ہے کہ ایک مرتبہ پونچھنے پر اکتفا اس وقت ہوگا جب اس سے خون نکلنا بند ہوجائے۔ لیکن خانیہ میں ہے کہ حجامت کی جگہ کو تین تر ٹکڑوں کے ساتھ پونچھا تو جائز ہیشرطیکہ پانی کے قطرے گریں (انتہٰی) اور ظاہر یہ ہے کہ یہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے اس قول پر مبنی ہے کہ دھونا ضروری ہے جیسا کہ آپ سے حلیہ میں محیط کے حوالے سے نقل کیا۔ (ت)
 (ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۲۷)
ان عبارات سے واضح ہوا کہ تطہیر نجاست حقیقیہ میں شیخین مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک پانی شرط نہیں مگر امام محمد مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی مائے مطلق ضرور جانتے ہیں ولہذا لعابِ دہن کے پانچوں مسائل گزشتہ میں خلاف فرماتے ہیں اور طرفین رضی اللہ تعالٰی عنہما کے نزدیک تطہیر بدن میں تقاطر بھی شرط نہیں صرف زوالِ نجاست درکار ہے جس طرح ہو۔
وعلیہ تبتنی المسائل المذکورۃ وعلیہ مشی الذخیرۃ والتتمۃ والظھیریۃ والمحیط الرضوی وغیرھا۔
اور مسائل مذکورہ اسی پر مبنی ہیں اور ذخیرۃ، تتمہ، ظہیریۃ اور محیط رضوی وغیرہ میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)

مگر امام ابویوسف مثل نجاست حکمیہ یہاں بھی اسالہ لازم مانتے ہیں۔
وھو الذی مشی علیہ فی الخانیۃ والولوالجیۃ واختارہ الفقیہ ابوجعفر والیہ یمیل کلام الفتح ویرد علیہ وفاقہ الامام فی مسائل البزاق الا ان یحمل علی کون البزاق کثیرا یسمی مرورہ سیلانا کما تقدم عن الحلیۃ۔
خانیہ اور ولوالجیۃ نے یہی راستہ اختیار کیا۔ فقیہ ابوجعفر نے اسے پسند کیا۔ فتح القدیر کا کلام بھی اسی طرف مائل ہے لیکن تھوک کے مسائل میں ان کا امام اعظم رحمہ اللہ سے موافق ہونے پر اعتراض وارد ہوتا ہے مگر یہ کہ اسے تھوک کے زیادہ ہونے پر محمول کیا جائے جس کے گزرنے کو جاری ہونا کہا جاسکے جیسا کہ حلیہ سے گزرا۔ (ت)
Flag Counter