Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
90 - 2323
وفی حاشیتہ للعلامۃ ط قولہ ان شد فمہ لوقال وکلب ان لم یسل منہ ما یمنع الصلاۃ لکان اولی لانہ لوعلم عدم السیلان اوسال منہ دون المانع لایبطل الصلاۃ وان لم یشد فمہ حلبی وفیہ تأمل ۴؎ اھ
اور اس کے حاشیہ میں علامہ (طحطاوی) نے فرمایا '' یہ کہنے کی بجائے کہ اگر اس کا منہ باندھا ہوا ہو، وہ فرماتے، اور کتّے کے منہ سے اگر وہ چیز نہ نکلے جو نماز کو روکتی ہے'' تو یہ بات زیادہ بہتر ہوتی کیونکہ جاری نہ ہونا معلوم ہو یا اس سے اتنا جاری ہو جو مانع نہیں ہے تو نماز باطل نہ ہوگی اگرچہ منہ باندھا ہوا نہ ہو۔ (حلبی) اور کہا اس میں غور کرو اھ۔
 (۴؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار    باب شروط الصلٰوۃ   مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت        ۱/۱۹۰)
ونقل العلامۃ الشامی ما افادہ الحلبی فاقرہ وایدہ وفی الحلیۃ فی محیط رضی الدین رجل صلی ومعہ جروکلب ومالا یجوز ان یتوضأ بسؤرہ قیل لم یجز والاصح یسیل فی کمہ فیصیر مبتلا بلعابہ فیتنجس کمہ فیمنع جواز الصلاۃ ان کان اکثر من قدر الدرھم فان فمہ مشدودا بحیث لایصل لعابہ الی ثوبہ جازلان ظاھر کل حیوان طاھر ولایتنجس الا بالموت ونجاسۃ باطنہ فی معدنھا فلا یظھر حکمھا کنجاسۃ باطن المصلی انتھی ۱؎ ۔
علامہ شامی نے وہ بات نقل کی جس کا فائدہ حلبی سے حاصل ہُوا پھر اسے برقرار رکھا اور اس کی تائید کی۔ اور حلیہ میں رضی الدین کی محیط سے منقول ہے کہ ایک شخص نے نماز پڑھی اور اس کے ساتھ کتّے کا بچہ یا وہ چیز تھی جس کے جھوٹے سے وضو کرنا جائز نہیں، کہاگیا ہے کہ نماز جائز نہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا مُنہ کُھلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہتا رہے گا اور وہ لعاب سے ترہوکر ناپاک ہوجائے گی لہذا ایک درہم سے زیادہ ہونے کی صورت میں نماز کے جواز کو روکے گی اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہوا ہو کہ اس کا لعاب کپڑے تک نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاک ہے اور وہ موت کے بغیر ناپاک نہیں ہوتا جبکہ اندر کی نجاست اپنے مرکز میں ہے۔ پس نمازی کے اندر کی نجاست کی مثل اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا انتہی۔
 (۱؎ التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ، مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸)
والاشبہ ان ھذا التفصیل فی کلب من شانہ غلبۃ سیلان لعابہ بحیث یبلغ مایسیل منہ قبل فراغ حاملہ ما یمنع صحۃ الصلاۃ وانشد فوہ یمنع ذلک منہ وما لیس کذلک فالاشبہ فیہ اطلاق الجواز کماھوظاھر مافی البدائع عن مشایخنا ۲؎ اھ۔
زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ یہ تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جس کا لعاب اکثر جاری رہتا ہے کیونکہ اس کا لعاب جب اس صورت میں ہو کہ جو کچھ جاری ہوا وہ اُٹھانے والے کے فارغ ہونے سے پہلے اس حد تک پہنچ جائے جو نماز کے صحیح ہونے سے مانع ہے اگرچہ اس کا منہ بند کیا جائے تو یہ نماز سے مانع ہوگا اور جو ایسا نہ ہو اس میں مطلقاً جواز (کا قول) زیادہ مناسب ہے جیسا کہ ہمارے مشایخ کے اُس قول سے ظاہر ہے جو بدائع میں ہے۔ (ت)
 (۲؎ التعلیق المجلی مع منیۃ المصلی، مسائل ازالۃ النجاسۃ الحقیقۃ،مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور ص۱۵۸)
مسلک دوم: جن کی نظر اس طرف گئی کہ لعاب سطح دہن میں پیدا نہیں ہوتا بلکہ باطن گوشت سے متولد ہوکر دہن میں آتا ہے تو منہ سے باہر نکلنے نہ نکلنے کو کچھ دخل نہ رہا کہ اپنے اصل موضع سے منتقل ہوچکا تو اگرچہ بیرونِ دہن آئے حکمِ نجاست پالیا جیسے خُون کہ اندر سے نکل کر دہن وزبان کی سطوح پر آجائے پس صورت مذکور میں دہنِ کلب وغیرہ سباع بہائم کے اندر ہی لعاب کا ہونا حمل نجاست کا موجب ہے، انہوں نے مطلقاً فساد نماز کا حکم دیا خانیہ وخلاصہ وبزازیہ وہندیہ وذخیرہ منتقی ومنیہ وغنیہ میں اسےیپر جزم فرمایا۔
ففی الاربع الاول اللفظ متقارب والمعنی واحد والسیاق للوجیز صلی ومعہ حیوان حی یجوز التوضئ بسؤرہ کالفارۃ یجوز واساء وان کان سؤرہ نجسا کجروکلب لایجوز وفی النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز ۱؎ اھ ۔
پہلی چار (کتب) میں الفاظ تقریباً ایک جیسے ہیں اور معنے بھی، اور وجیز (بزازیہ) کے الفاظ یوں ہی کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس ایسا زندہ حیوان تھا جس کے جھُوٹے سے وضو جائز ہے مثلاً چُوہا، تو نماز جائز ہوگی لیکن گناہ گار ہوگا اور اگر اس کا جھوٹا ناپاک ہو جیسے کتے کا بچہ، تو نماز ناجائز نہیں ہوگی۔ اور نصاب میں ہے اگر کتّے کے بچّے کا منہ بندھا ہوا ہو تو جائز ہوگی انتہی۔
 (۱؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوی الہندیۃ    السابع فی النجس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۲۱)
وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن المنتقی عن محمد صلی ومعہ حیۃ اوسنورا وفارۃ اجزأہ وقد اساء وان کان ثعلب اوجر وکلب لم تجز صلاتہ وذکر فی جنس ھذہ المسائل اصلا فقال کل مایجوز التوضئ بسؤرہ تجوز الصلاۃ معہ ومالایجوز الوضوء بسؤرہ لا تجوز الصلاۃ معہ ۲؎ انتھی ۔
حلیہ میں بحوالہ ذخیرہ، منتقٰی سے امام محمد رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ کسی شخص نے نماز پڑھی اور اس کے پاس سانپ یا بلّی یا چوہا تھا تو نماز جائز ہے۔ لیکن اس نے گناہ کیا۔ اور اگر لومڑی یا کتّے کا بچّہ ہو تو نماز جائز نہ ہوگی اور اس قسم کے مسائل کے بارے میں قاعدہ ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ''جب اس کے جھُوٹے سے وضو جائز ہو تو اس کے ساتھ نماز بھی جائز ہوگی اور جس کے جھُوٹے سے وضو جائز نہ ہو اس کے ساتھ نماز جائز نہ ہوگی انتہی۔
 (۲؎ حلیۃ المحلی )
قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ولکن لایعری عن تأمل وسنوضحہ الخ والموعود بہ ھو ما قدمنا عنھا من ان الاشبہ التفصیل بالشد والفتح فی کلب شانہ کذا واطلاق الجواز فی غیرہ قال بعد تحقیقہ وحینئذ فیظھر ان فی کلیۃ الاصل المذکور نظرا فتنبہ لہ ۳؎ اھ۔
اسے نقل کرنے کے بعد حلیہ میں فرمایا لیکن یہ غور وفکر سے خالی نہیں اور ہم عنقریب اس کی وضاحت کرینگے الخ، جس بات کا وعدہ کیا گیا ہے یہ وہی ہے جو ہم نے اس سے پہلے ان سے نقل کی ہے یعنی منہ باندھنے اور کھُلا چھوڑنے کی تفصیل اس کتے کے بارے میں ہے جو اس شان کا ہو اور مطلق جواز اس کے غیر میں ہے انہوں نے تحقیق کے بعد فرمایا اس وقت ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ قاعدے میں نظر ہے پس اس سے آگاہی حاصل کرو (انتہٰی)
 (۳؎ حلیۃ المحلی)
وفی المنیۃ ان صلی ومعہ سنورا وحیۃ یجوز بخلاف جروالکلب ۱؎ اھ۔
منیہ میں ہے کہ اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلّی یا سانپ ہو تو جائز ہوگی بخلاف کتّے کے بچّے کے  انتہی ۔
 ( ۱؎ منیۃ المصلی ، فصل الاسآر    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامع نظامیہ لاہور    ص۱۵۸)
وفی الغنیۃ لایقال النجاسۃ التی فی محلھا غیر معتبرۃ ولایعطی لھا حکم النجاسۃ لانا نقول سلمنا ولکن اللعاب قد انتقل عن محلہ الذی تولہ فیہ واتصل بالفم الذی لہ حکم الظاھر بالنظر الی ما یخرج من الباطل فاعتبر نجاسۃ وقد تنجس بھالسانہ وسائر فمہ فکان مانعا اھ ۲؎ ملخصا۔
 (۲؎ غنیۃ المستملی     فصل الاسآر       مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۹۱)
غنیہ میں ہے یہ نہ کہا جائے کہ جو نجاست اپنے محل میں ہے غیر معتبر ہے اور اس کو نجاست کا حکم نہیں دیا جائے گا کیونکہ ہم کہتے ہیں ہم نے مان لیا لیکن لعاب اپنے اس مقام سے جہاں وہ پیدا ہوا منتقل ہو کر منہ سے مل جاتا ہے جسے باطن سے باہر آنے والی چیز کی طرف نظر کرتے ہوئے ظاہر کا حکم دیا جاتا ہے لہذا اس کی نجاست کا اعتبار ہوگا اور اس سے اس کی زبان اور تمام منہ ناپاک ہوگیا پس وہ مانع ہوگا انتہٰی تلخیص۔ (ت)
اس مسلک پر یہ فرع صرف طہارت عین پر مبنی نہیں بلکہ اس کے ساتھ صحت صلاۃ کے لئے طہارت لعاب بھی درکار اور وہ کلب وغیرہ سباع بہائم میں مفقود، لہذا صحتِ نماز بھی مفقود اگرچہ طاہر العین ہی ہو ایسی جگہ المبنی علی صحیح صحیح نہیں یہ تو اختلافِ علماء تھا ترجیح دیکھیے تو وہ مسلک اول ہی کی طرف ہے محیط رضوی وبحرالرائق ودُرمختار وغیرہا میں صراحۃً اس کی تصحیح بلفظ اصح اور حلیہ میں بلفظ اشبہ مذکور۔
کمامروقدصرح العلامۃ الفقیہ خیر الدین الرملی فی فتاواہ الخیریۃ لنفع البریۃ من کتاب الطلاق بما نصہ وانت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ ۳؎ اھ
جیسا کہ گزرا علامہ فقیہ خیر الدین رملی نے اپنے فتاوٰی الخیریہ لنفع البریہ کی کتاب الطلاق میں اسے صراحۃً بیان کیا اور تم جانتے ہو کہ اس کے اصح ہونے پر تنصیص کے بعد غیر کی طرف عدول نہیں کیا جاتا انتہی
 (۳؎ فتاوٰی خیریۃ کتاب الطلاق    مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت   ۱/۳۹)
وفیھا من کتاب الصلح حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ ۱؎۔
اور اس کی کتاب الصلح میں ہے کہ جب اصح ثابت ہوجائے تو اس سے عدول نہیں کیا جاتا۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی خیریۃ    کتاب الصلح        مطبوعہ دارالمعرفۃ بیروت    ۲/۱۰۴)
معہذا اکثر وہ کتابیں جن میں مسلک اول اختیار فرمایا شروح ہیں اور مسلک دوم پر اکثر مشی کرنے والے فتاوی اور شروح فتاوے پر مرجح ہیں۔
کمانصوا علیہ فی مواضع لاتحصی کثرۃ
 (جیسا کہ انہوں نے بیشمار مقامات پر اس بات کی تصریح فرمائی ہے۔ ت) تو ثابت ہوا کہ مذہب ارجح پر اس فرع کو بھی مثل فروع سابقہ صرف طہارت عین ہی پر ابتنا ہے او ر ایسی جگہ بلاشبہہ المبنی علی صحیح صحیح صحیح (جو چیز صحیح پر مبنی ہوتی ہے وہ صحیح ہوتی ہے۔ ت)
اما تدقیق الغنیۃ فاقول وباللّٰہ التوفیق سلمنا ان الریق لایتولد فی الفم لکن لاشک ان معدنہ ھو الفم حتی انہ لایسمی ریقا مالم یطلع فی الفم وبہ فارق الدم ولایجب لکون شےیئ معدن شےیئ تولدہ فیہ الا تری ان العروق معادن الدم لاشک مع انہ لایتولد فیھا بل فی الکبد ثم یسری الیھا ویجری فیھا وقدرأیناکم فی مسئلۃ ان السخلۃ اذا وقعت من امھا رطبۃ فی الماء لا تفسدہ عللتموھا بقولکم وھذا لان الرطوبۃ التی علیھا لیست بنجسۃ لکونھا فی محلھا ۲؎ اھ
میں غنیہ کی تدقیق کے بارے میں، اللہ تعالٰی کی توفیق سے کہتا ہوں، ہم نے مان لیا کہ لعاب منہ میں پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کا معدن منہ ہی حتی کہ جب تک وہ منہ میں ظاہر نہ ہو اس کو لعاب نہیں کہا جاتا اور اس سے خون (کا حکم) الگ ہوگیا، اور کسی چیز کے کسی کیلئے معدن ہونے سے لازم نہیں آتا کہ وہ اس میں پیدا بھی ہوکیا تم نہیں دیکھتے کہ خون کا معدن رگیں ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن اس کے باوجود وہاں پیدا نہیں ہوتا بلکہ وہ جگر میں پیدا ہوتا ہے پھر ان کی طرف چلتا اور رگوں میں جاری ہوتا ہے۔ ہم نے تمہیں دکھایا کہ بکری کا تَربچّہ جو اپنی ماں سے پیدا ہوکر پانی میں گرا پانی خراب نہیں ہوا تم نے اس کی علّت یوں بیان کی کہ اس پر جو رطوبت ہے وہ ناپاک نہیں کیونکہ وہ اپنے محل میں ہے اھ ۔
 (۲؎ غنیۃ المستملی    فصل فی الانجاس    مطبوعہ  سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۵۰)
Flag Counter