Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
9 - 2323
واماثانیا:فلانہ ھو المصرح بہ فی غیرماکتاب جلیل فقد قدمنا نصوص النھایۃ والخانیۃ وخزانۃ المفتین والاختیار شرح المختار سالفا÷ وذکرنانصوص المبتغی والمنیۃ والبحر المحیط والخزانۃ اٰنفا÷ وخلافہ لم یعرف الافی شرح الوقایۃ۔
ثانیا: اس لئے کہ متعدد جلیلہ میں اسی کی تصریح موجود ہے۔ ہم نہایہ، خانیہ، خزانۃ المفتین اور اختیار شرح مختار کی عبارتیں پہلے پیش کرچکے اور مبتغی، منیہ، بحر محیط اور خزانہ کی عبارتیں ابھی بیان کیں۔ اور اس کے خلاف سے کہیں آشنائی نہ ہُوئی مگر شرح وقایہ میں۔
بلٰی نسب الحاق الشک بظن العطاء فی الجوھرۃ الی الصاحبین علی خلاف قول الامام رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فقال وجوب الطلب قولھماوعند ابی حنیفۃ لایجب لان سؤال ملک الغیرذل عند المنع وتحمل منۃ عند الدفع وعندھما ان غلب علی ظنہ انہ لایعطیہ لایجب علیہ الطلب ایضا وان شک وجب وتفریع قول ابی حنیفۃ اذالم یجب الطلب وتیمم قبلہ اجزأہ ۱؎
ہاں جوہرہ میں شک کو ظن عطا سے لاحق کرنے کی نسبت صاحبین کی طرف کی ہے برخلافِ قول امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ اس میں لکھا ہے: ''مانگناواجب ہے یہ صاحبین کا قول ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک واجب نہیں اس لئے کہ غیرکی ملک مانگنے میں ذلّت ہے اگر وہ انکار کردے اور احسان سے زیربار ہونا ہے اگر وہ دے دے۔ اور صاحبین کے نزدیک بھی اگر اس کا غالب گمان ہو کہ نہیں دے گا تو مانگنا واجب نہیں۔ اور شک کی صورت ہو تو واجب ہے امام ابوحنیفہ کے قول پر تفریع یہ ہے کہ جب طلب واجب نہ ہو اور قبلِ طلب تیمم کرلے تو ہوگیا۔
 (۱؎ الجوہرۃ النیرۃ     شرح قدوری    باب التیمم    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۲۹)
وتفریع قولھمافی وجوب الطلب اذاشک وصلی ثم سألہ واعطاہ وجب علیہ الاعادۃ باتفاقھما وان منعہ فعند ابی یوسف صلاتہ جائزۃ وعند محمد یعید وان غلب علی ظنہ انہ یمنعہ فصلی ثم اعطاہ توضأ واعاد وان غلب علی ظنہ الدفع الیہ فصلی ثم سألہ فمنعہ اعاد عند محمد وعند ابی یوسف لا ۱؎ اھ۔
اور وجوب طلب میں قولِ صاحبین پر تفریع یہ ہے کہ جب شک کی صورت ہو اور نماز پڑھ لے پھر مانگے اور وہ دے دے تو باتفاق صاحبین اس پر اعادہ واجب ہے اور اگر نہ دے تو امام ابویوسف کے نزدیک اس کی نماز صحیح ہے۔ اور امام محمد کے نزدیک اسے اعادہ کرنا ہے۔ اور اگر اس کا غالب گمان ہوکہ نہیں دے گا تو اس نے نماز پڑھ لی پھر اس نے دے دیا تو وضو کرے اور نماز لوٹائے۔ اور اگر دینے کا غالب گمان رہا ہو اس وقت اس نے نماز ( تیمم سے) پڑھ لی پھر مانگا اس نے نہ دیا تو امام محمد کے نزدیک اسے اعادہ کرنا ہے اور امام ابویوسف کے نزدیک اعادہ نہیں'' اھ (ت)
 (۱؎ الجوہرۃ النیرۃ     شرح قدوری    باب التیمم    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۲۹)
اقول:  قولہ فی ظن المنع ثم اعطاہ اعاد ای باتفاقھما وان لم یعط لابالاجماع وحاصل قول محمد علی ماحکاہ انہ ان ظن العطاء اوشک اعاد مطلقا اعطی بعد الصلاۃ اومنع وان ظن المنع فان اعطی اعاد والالا ومحصولہ انہ یشترط لجواز التیمم ظن منع لایظھر خلافہ وحاصل قول ابی یوسف انہ ان اعطی اعاد وان منع لاسواء ظن عطاء اومنع اوشک۔
اقول:ظنِ منع میں ان کی عبارت ''پھر اس نے دے دیاتواعادہ کرے'' کا معنٰی یہ ہے کہ باتفاقِ صاحبین اس کا حکم اعادہ ہے اور اگر نہ دیا تو بالاجماع اعادہ نہیں۔ اور حکایت جوہرہ کے مطابق قول امام محمد کا حاصل یہ ہے کہ اگر اسے عطا کا گمان یا شک ہو تو مطلقاً اعادہ کرنا ہے بعد نماز دے یا نہ دے اور اگر منع کا ظن رہا ہو تو اگر بعد نماز دے دے اعادہ کرے ورنہ نہیں۔ اور اس کا محصول یہ ہے کہ وہ جواز تیمم کیلئے ایسے ظن منع کی شرط لگاتے ہیں جس کے خلاف بعد میں ظاہر نہ ہو۔ اور امام ابویوسف کے قول کا حاصل یہ ہے کہ بعد نماز اگر دے دے تو اعادہ کرے اور اگر نہ دے تو نہیں پہلے خواہ دینے کا ظن رہا ہو یا نہ دینے کا، یا شک رہا ہو۔ (ت)
وفیہ اولا(۱) قد کان حکم وجوب الطلب ان لایجزئ التیمم قبلہ کماقال فی تفریع قول الامام انہ لمالم یجب اجزأہ وقدمنا فی الافادۃ الخامسۃ من شرح الحد الرضوی عن سراجہ وجوھرتہ انہ حیث وجب الطلب ولم یطلب لم یجزوان لم یجدبعدفعلی ھذا انما یظھر وجوب الطلب فی الشک علی ماحکی عن محمد لاعلی قول ابی یوسف۔
جوہرہ کے بیان پر چند کلام ہے:اول:طلب واجب ہونے کا حکم یہ تھا کہ اس سے پہلے تیمم کفایت نہ کرے جیسا کہ قولِ امام کی تفریع میں لکھا کہ ''جب طلب واجب نہ ہو تیمم ہوجائے گا''۔ ہم تعریف رضوی کی شرح کے افادہ پنجم میں ان کی سراج اور جوہرہ سے نقل کر آئے ہیں کہ جہاں طلب واجب ہو اور طلب نہ کرے تو تیمم جائز نہیں اگرچہ بعد میں پانی نہ ملے۔ تو اس کے پیشِ نظر صورتِ شک میں وجوب طلب صرف اس قول پر ظاہر ہے جو انہوں نے امام محمد سے حکایت کیا امام ابویوسف کے قول پر ظاہر نہیں۔
الاان یبنی علی التحقیق الذی نبدیہ بتوفیق اللّٰہ ان الوجوب ھھنا علی غیرحد الوجوب ثمہ وتکون الثمرۃ البطلان اذاظن العطاء اوشک ولم یسأل قبل ولابعد واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
مگر یہ کہ اس تحقیق پر بنیاد رکھیں جس کا ہم بتوفیق خدائے برتر اظہار کریں گے کہ یہاں پر وجوب کا وہ معنی نہیں جو وہاں پر ہے۔ اور اس کا ثمرہ یہ ہوگا کہ تیمم باطل ہوگا جب دینے کا گمان یا شک رہا ہو اور پانی نہ پہلے طلب کیا ہو نہ بعد میں۔ اور خدائے برتر ہی خُوب جاننے والا ہے۔
وثانیا: لازم(۲)ھذاالمحکی عن محمد بل صریحہ کماعلمت ان لورأی فی الصلاۃ وظن العطاء اوشک بطلت صلاتہ من دون توقف علی منح اومنع بعدلان مامنع(۳)وجودہ التیمم نقضہ حدوثہ کمافی البدائع والبحر والدر وغیرھاوھذہ کماعلمت روایۃ نادرۃ عن محمد وقداسلفنا البحث علیھا وانھامؤولۃ اومھجورۃ۔
دوم: امام محمد سے اس حکایت کا لازم بلکہ صریح جیسا کہ معلوم ہوا، یہ ہے کہ اگر نماز کے اندر دیکھا اور دینے کا گمان یا شک ہوا تو بعد میں دینے، نہ دینے پر کچھ موقوف رہے بغیرابھی اس کی نماز باطل ہوگئی۔ اس لئے کہ جس چیز کی موجودگی تیمم سے مانع ہو اس کا حدوث تیمم کا ناقض ہوگا۔ جیسا کہ بدائع، بحر، درمختار وغیرہا میں ہے۔ اور یہ جیسا کہ معلوم ہوا، امام محمد سے ایک نادر روایت ہے اور ہم پہلے اس پر بحث کرچکے ہیں۔ اس روایت میں یاتو تاویل کی جائے یا یہ روایت مہجور ومتروک ہے۔ (ت)
اقول:(۱) والتاویل لایتمشی ھنا لتصریحہ بعدم الالتفات لمایظھر بعد فلم یبق الاالھجر۔
اقول: اور یہاں تاویل نہیں چل سکتی اس لئے کہ وہ صراحت کررہے ہیں کہ اس کی طرف کچھ التفات نہیں جو بعد میں ظاہر ہوتو یہی رہ گیا کہ یہاں یہ روایت مہجور ومتروک ہو۔
وثالثا: (۲) بل تلک النادرۃ ایضابمفھومھاان ھذااذاظن العطاء لا اذاشک تخالف ھذہ الحکایۃ المسویۃ بین ظن الاعطاء والشک۔
سوم: بلکہ وہ نادر روایت بھی اپنے مفہوم سے ظنِ عطا اور شک میں برابری بتانے والی اس حکایت کی مخالفت کررہی ہے کہ یہ اس وقت ہے جب عطا کا گمان ہو اس وقت نہیں جب شک ہو۔
ورابعا:(۳)ینافیہ مامر عن الاختیار من قیاس قول محمد المعتبر فیہ ظن الاعطاء فقط ویناقضہ صریحا مامر عن النھایۃ ان المذھب الغیرالمنقول فیہ خلاف بین اصحابنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم الا فی الایضاح ھو قصر الوجوب علی ظن الاعطاء والخلاف الذی فی الایضاح وغیرہ ھو عدم الوجوب عند الامام مطلقا فلیس عند احد من الفریقین تسویۃ ظن العطاء والشک عند محمد ولاعند ابی یوسف فتبصروللّٰہ الحمد۔
چہارم: اس کے منافی وہ بھی ہے جو اختیار کے حوالہ سے قول امام محمد کا قیاس بیان ہوا کہ اس میں صرف ظنِّ عطا کا اعتبار ہے۔ اور صراحۃً اس کے مناقض وہ ہے جو نہایہ کے حوالہ سے بیان ہوا کہ مذہب جس میں سوائے ایضاح کے کسی سے بھی ہمارے تینوں اصحاب رضی اللہ تعالٰی عنہم کے درمیان کوئی اختلاف منقول نہیں،یہ ہے کہ وجوب طلب صرف ظنِ عطا میں محدود ہے۔اور ایضاح وغیرہ میں جو خلاف منقول ہے وہ یہ ہے کہ امام صاحب کے نزدیک مطلقاً وجوب نہیں۔ تو فریقین میں سے کسی کے نزدیک بھی ظنِّ عطا اور شک کو نہ امام محمد کے نزدیک برابر بتایا گیا نہ امام ابویوسف کے نزدیک۔ تو اسے نگاہِ بصیرت سے دیکھنا چاہئے۔اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔ (ت)
وامّا ثالثا: فاقول وباللّٰہ التوفیق وھو الحل علی وجہ التحقیق اذا(۴) کان شیئ ظاھرا وخلافہ محتملا لاعن دلیل لم یعارضہ فلایقع الشک فی ذلک الظاھر لعدم استواء الطرفین فقد نصوا فی علم الکلام ان الاحتمال لاعن دلیل لاینافی الیقین بالمعنی الاعم فکیف ینافی الظّن والشک فی العطاء لایکون الا اذالم یترجح جانبہ بدلیل فیبقی محتملا لاعن دلیل فلایورث الشک فی العجز المعلوم الظاھر بخلاف ظن العطاء فانہ عن دلیل ولابد فیعارض الظاھر الظاھر ویبقی العجز مشکوکا فلایتحقق شرط التیمم وذلک کمن شک فی قرب الماء فان شکہ ھذا لایجعل العجز مشکوکا حتی ساغ لہ التیمم بلاطلب ولم یسغ لمن ظن القرب کماتقدم فظھر(۱) بہ الجواب الساطع عن قول صدر الشریعۃ ان القدرۃ والعجز مشکوک فیھما ۱؎ وتبین ان مثل الشک لایعارض ظھورالعجز فوجب طرحہ والحاقہ بظن المنع وللّٰہ الحمد ثم بعد بضع لیالی رأیت تصدیق تعلیلی ھذا فی کلام الامام ملک العلماء کمایاتی اواخر المسألۃ الثامنۃ وللّٰہ الحمد۔
ثالثا: فاقول:  وباللہ التوفیق،(میں کہتا ہوں، اور خدا ہی سے توفیق ہے) اور بطور تحقیق یہی حل بھی ہے۔ جب کوئی چیز ظاہر ہو اور اس کے خلاف کا احتمال بلادلیل ہو تو یہ اس ظاہر کے معارض نہ ہوگا تو اس ظاہر میں شک نہ واقع ہوگا اس لئے کہ طرفین برابر نہیں۔ علما نے علم کلام میں تصریح فرمائی ہے کہ ''احتمال بلادلیل یقین بمعنی اعم کے منافی نہیں'' تو ظن کے منافی کیسے ہوگا۔ اور عطا میں شک نہ ہوگا مگر اسی وقت جب کہ جانب عطا کو کسی دلیل سے ترجیح حاصل نہ ہوسکے تو جانب عطا محتمل بلادلیل رہ جائے گی تو اس سے اُس عجز میں شک نہ پیدا ہوگا جس کا ظاہر معلوم ہے بخلاف اس صورت کے جب عطا کا ظن ہو اس لئے کہ یہ ایک دلیل سے ہے اور یہ لازمی امر ہے تو ظاہر، ظاہر کے معارض ہوجائے گا اور عجز مشکوک رہے گا تو تیمم کی شرط متحقق نہ ہوسکے گی۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کو پانی کے قریب ہونے کا شک ہو کہ اس کا یہشک اس کے عجز کو مشکوک نہیں بنادیتا یہاں تک کہ پانی تلاش کئے بغیراس کیلئے تیمم روا ہے اور اس کیلئے روا نہیں جسے پانی کے قریب ہونے کا گمان ہو جیسا کہ پہلے بیان ہوا۔ اس تحقیق سے صدر الشریعۃ کے اس کلام کا روشن جواب عیاں ہوگیا کہ ''قدرت وعجز دونوں میں شک ہے'۔' اور واضح ہوگیا کہ ایسا شک ظہورِ عجز کے معارض نہیں۔ تو اس شک کو نظر انداز کرنا اور ظنِ منع سے لاحق کرنا لازم ہے۔ اور خدا ہی کیلئے حمد ہے پھر میں نے چند راتوں کے بعد اپنی اس تعلیل کی تصدیق امام ملک العلماء کے کلام میں دیکھی جیسا کہ مسئلہ ہشتم کے اواخر میں آرہا ہے اور خدا ہی کیلئے حمد ہے۔(ت)
 (۱؎ شرح الوقایہ   باب التیمم    مکتبۃ الرشیدیہ دہلی    ۱/۱۰۲)
Flag Counter