پس عندالتحقیق اُس کے بال(۱) بھی پاک، کھال(۲) بھی پاک، ذبح(۳) ودباغت(۴) باعث تطہیر جلد علی القول المتفق علیہ عندنا واللحم ایضا علی اضعف التصحیحین (اس قول کے مطابق جو ہمارے نزدیک متفق علیہ ہے اور دو تصحیحوں سے کمزور تر تصحیح کے مطابق گوشت بھی پاک ہے۔ ت) زندہ ومردہ(۵)، مذبوح وغیر مذبوح ہر حالت میں دانت پاک، ناخن(۶) پاک، اگر (۷) کنویں میں گرا اور زندہ نکل آیا اور بدن پر کوئی نجاست معلوم نہ تھی نہ لعاب پانی کو پہنچا تو پانی پاک، تطیيباً للقلب صرف بیس۲۰ ڈول نکالے جائیں۔ کیچڑ(۸) وغیرہ پر چلا ہے اور وہیں آدمی برہنہ پاچلے تو پاؤں نجس نہ ہوں گے۔ پانی(۹) میں بھیگا ہُوا چٹائی پر لیٹے یا(۱۰) بدن جھاڑے اور اس کی چھینٹوں سے کپڑا وغیرہ تر ہوجائے ناپاک نہ ہوگا جب تک بدن پر نجاست نہ ہو۔ ان تمام فروع میں تو اصلاً کلام نہیں،
درمختار میں ہے کہ نجس عین نہیں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے پس اسے بیچا جاسکتا ہے، اجرت پر دیا جاسکتا ہے اور (ہلاکت کی صورت میں) اس کا تاوان لازم ہوگا اور اس کے کاٹنے سے کپڑا ناپاک نہیں ہوگا جب تک لعاب دکھائی نہ دے اسے اٹھاکر نماز پڑھنے والے کی نماز نہیں ٹوٹے گی اگرچہ بڑا ہو۔ حلوانی کے نزدیک اس کا منہ بندھا ہونا شرط ہے اھ تلخیص (ت)
(۳؎ درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی بھارت ۱/۳۸)
اقول: اما البیع فقد تقدم الکلام علیہ وھو الکلام فی الاجارۃ فانھا ایضا انما تعتمد حل الانتفاع واماعدم فساد الثوب مالم یبتل بلعابہ فقد اقرہ علی ھذا التفریع محشیہ العلامۃ الشامی والعبد الضعیف لا یحصلہ فانہ ماش علی قول التجنیس ایضا قطعا لان الرجس لایعدی النجاسۃ الاببلل ونجاسۃ ریقہ لاخلف فیھا فی المذھب فعدم النجاسۃ بسن یابس والتنجس بشفۃ رطبۃ کلاھما متفق علیہ لاجرم ان قال البحر فی البحر لایخفی ان ھذہ المسألۃ علی القولین ۱؎ الخ ثم رأیت العلامۃ الطحطاوی نبہ علیہ معترفا ایضا من البحر واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اقول: جہاں تک خریدوفروخت کا تعلق ہے تو اس پر کلام گزرچکا ہے اور اجارہ کے بارے میں بھی وہی حکم ہے کیونکہ اس کی بنیاد بھی تو انتفاع کا حلال ہونا ہے، لیکن کپڑے کا خراب نہ ہونا جب تک لعاب سے تر نہ ہو، اس پر اس کے محشی علامہ شامی نے اس تفریع کو برقرار رکھا ہے۔ یہ بندہ ضعیف اسے نہیں مانتا کیونکہ وہ اس کے قطعی نجس ہونے کا بھی قائل ہے اور نجاست، رطوبت کے بغیر آگے متجاوز نہیں ہوتی اور تھُوک کے نجس ہونے میں مذہب میں کوئی اختلاف نہیں پس خشک دانت کے ساتھ ناپاک نہ ہونا اور تر ہونٹ کے ساتھ ناپاک ہوجانا دونوں باتوں پر اتفاق ہے صاحبِ بحر نے بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ مسئلہ دو۲ قولوں کی بنیاد پر ہے الخ پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے بحر سے اس کا اعتراف کرتے ہوئے اس پر تنبیہ کی ہے واللہ سبحٰنہ وتعالٰی (ت)
باقی رہی وہ فرع کہ اس کے حامل کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اگر کتّا خود آکر مصلّی پر بیٹھ جائے جب تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں صحت نماز خاص اسی مذہب صحیح یعنی طہارت عین ہی پر مبتنی ہے قول نجاست پر نماز نہ ہوگی کہ اگرچہ کتّا خود آکر بیٹھا مگر وہ عین نجاست ہے تو مصلّٰی حاملِ نجاست ہوا اور قول طہارت پر ہوجائے گی کہ اب نجس ہے تو لعاب اور لعاب محمول کلب ہے نہ محمول مصلی اور حمل بالواسطہ یہاں معتبر نہیں جیسے ہوشیار بچّہ جس کے جسم وثوب یقینا ناپاک ہوں خود آکر مصلّی پر بیٹھ جائے نماز جائز ہے اگرچہ ختم نماز تک بیٹھا رہے کہ اس صورت میں مصلی خود حاملِ نجاست نہیں اور جبکہ مذہب مفتی بہ طہارت عین ہے تو اس صورت میں جوازِ نماز بھی قطعاً مفتی بہ۔
فان مالایبتنی الا علی الصحیح لایکونالاصحیحا وھذا کما تری من اجلی البدیھات۔
جس چیز کی بنیاد صحیح ہو وہ بھی صحیح ہوتی ہے اور یہجیسا کہ تم دیکھتے ہو نہایت واضح باتوں میں سے ہے۔ (ت)
غنیہ میں ہے: (ان صلی ومعہ سنورتجوز) صلاتہ مطلقا ان جلس بنفسہ واذا لم یکن علی ظاھرہ نجاسۃ مانعۃ ان حملہ اما ان کان علیہ نجاسۃ مانعۃ اذ ذاک فلا تجوز صلاتہ کما لوحمل صبیا لایستمسک بنفسہ وفی ثیابہ اوبدنہ نجاسۃ مانعۃ لانہ حینئذ ھو الحاصل للنجاسۃ بخلاف المستمسک فان المصلی لیس حاملا للنجاسۃ التی علیہ (بخلاف الکلب) اذا حملہ المصلی حیث لا تجوز صلاتہ لانہ حامل للنجاسۃ التی ھی لعابہ اما اذا جلس علیہ بنفسہ فعلی روایۃ انہ نجس العین کذلک لانہ حاملہ وھو نجاسۃ واما علی الروایۃ الصحیحۃ فینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حامل للنجاسۃ کما فی الھرۃ ونحوھا علی ماسبق ۱؎ اھ ملخصا۔
اگر کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس بلّی تھی اس کی نماز مطلقاً جائز ہے اگر وہ خودبخود بیٹھی ہو، اور اگر اس نے اسے اٹھایا ہو تو اس صورت میں اس کے ظاہر پر اتنی نجاست نہ ہو جو مانع ہو (نماز جائز ہوگی) لیکن جب اس پر مانع کی حد تک نجاست ہو اس وقت نماز جائز نہیں جیسا کہ اگر اس نے بچہ اٹھایا ہو جو خود بخود ٹھہر نہیں سکتا اور اس کے کپڑوں یا بدن پر اتنی نجاست ہے جو نماز سے مانع ہے کیونکہ اس وقت وہ خود نجاست اٹھانے والا ہوگا بخلاف اس کے جو خود بخود ٹھہر سکتا ہے اس صورت میں نماز ہی اپنے اور پائی جانے والی نجاست کو اٹھانے والا شمار نہیں ہوگا (بخلاف کتے کے) جب اسے اٹھایا ہو تو نماز جائز نہ ہوگی کیونکہ وہ اس کی نجاست یعنی لعاب کو اٹھائے ہوئے ہے۔ لیکن جب وہ خودبخود بیٹھ جائے تو اس روایت کی بنیاد پر کہ وہ نجس عین ہے اسی طرح ہے کہ کیونکہ وہ اسے اٹھائے ہوئے ہے اور وہ نجاست ہے لیکن صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز صحیح ہو کیونکہ وہ نجاست کو اٹھائے ہوئے نہیں، جیسا کہ بلّی وغیرہ کے بارے میں گزرچکا ہے۔ (ت)
اور اگر خود مصلی ہی نے اسے لے کر نماز پڑھی یا نماز میں اٹھالیا تو قول طہارت عین ہی پر اس صورت میں دو۲ قول ہیں۔
اقول: والسرفیہ ان الابتناء علی شےیئ لہ وجھان احدھما ان لایبتنی الا علیہ والاٰخر ان یکون ھو احد ما یبتنی علیہ والمبنی علی الصحیح بالمعنی الاول صحیح قطعا وبالمعنی الاٰخر لایجب ان یکون صحیحا فجواز ان یکون البعض الاٰخر مما یبتنی علیہ غیر صحیح فلا یکون المبتنی صحیحا بسبہ وعن ھذا نقول ان صحۃ الفرع تستلزم صحۃ الاصل ولاعکس لان الاصل لازم اعم فثبوتہ غیرقاض بثبوت ملزومہ۔
اقول:اس میں راز یہ ہے کہ کسی چیز پر بنیاد رکھنے کی دو۲ صورتیں ہیں ایک(۱) یہ کہ اس کے علاوہ دوسری چیز پر بنیاد نہ ہو، اور دوسرا(۲) یہ کہ جن باتوں پر بنیاد رکھی گئی ہے، یہ ان میں سے ایک ہے پہلے معنٰی کے اعتبار سے جو چیز صحیح پر مبنی ہوگی وہ قطعی طور پر صحیح ہوگی، اور دوسرے معنٰی کے اعتبار سے اس کا صحیح ہونا واجب نہیں کیونکہ جائز ہے کہ دوسرا بعض جس پر اس کی بنیاد ہے وہ غیر صحیح ہو لہذا اس کے سبب (فرع کی صحت) سے بنیاد کا صحیح ہونا لازم نہ ہوگا اسی بنیاد پر ہم کہتے ہیں کہ فرع کی صحت اصل کے صحیح ہونے کو مستلزم ہے لیکن اس کا عکس نہیں کیونکہ اصل لازم اعم ہے پس اس کے ثبوت سے ملزوم کا ثبوت ضروری نہیں۔ (ت)
اس قول پر اگرچہ عین کلب نجس نہیں مگر لعاب تو بالاتفاق نجس ہے اور اصل کلی یہ ہے کہ کوئی نجاست اپنے معدن میں حکم نجاست نہیں پاتی ورنہ نماز محال ہوکہ خود بدن مصلی خون وغیرہ سے کبھی خالی نہیں اب نظر علماء دو۲ مسلک پر مختلف ہوئی:
مسلک اوّل: جن کی نظر میں لعاب جب تک منہ سے باہر نہ نکلے اپنے معدن میں ہے انہوں نے حکم صحت دیا یا تو مطلقاً جیسا کہ امام ملک العلماء نے بدائع میں اختیار فرمایا اور اپنے مشائخ کرام سے نقل کیا اور اسی پر حلیہ میں اور بحرالرائق ودرمختار کے کتاب الطہارت میں اور حلبی وشامی نے حواشی در اور طحطاوی نے حاشیہ مراقی الفلاح میں جزم فرمایا، یا اس شرط کے ساتھ کہ اُس کا منہ بندھا ہو ورنہ نماز نہ ہوگی یہ امام فقیہ ابوجعفر ہندوانی کا ارشاد ہے۔ محیط رضوی ونصاب وابوالسعود وغیرہا اور بحر ودُر کی شروط الصلاۃ میں اسی پر اعتماد اور اسی طرف علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں میل کیا اور نظر فقہی میں تحقیق وہی ہے کہ بندش شرط نہیں قبل از فراغ نماز لعاب بقدر مانع جواز کے سیلان پر بنا ہے نہ بہے تو نماز ہوجائے گی اگرچہ منہ کھُلا رہے، ورنہ نہیں، اگرچہ بندھا ہو۔
اقول: بلکہ حق یہ کہ شرط بندش کا مقصود بھی یہی ہے
کمایفیدہ مانذکر عن المحیط وغیرہ من تعلیل التقیيد
(جیسا کہ وہ بات یعنی تقیےد کی علت اس کا فائدہ دے گی جسے ہم محیط وغیرہ سے ذکر کریں گے۔ ت) غالباً لعاب کلاب کا منہ کھُلا ہونے کی حالت میں میلان کرتا اور بندش سے رکنا مظنون ہے لہذا شدوفتح سے تعبیر کی گئی ومثلہ کثیرالوقوع من الفقھاء کمالایخفی علی من تتبع (اور اس کی مثل فقہاء سے کثیر الوقوع ہے جیسا کہ تلاش کرنے والے پر مخفی نہیں۔ ت) غرض اختلاف لفظ میں ہے نہ معنٰی میں
(بحرالرائق، درمختار اور طحطاوی کے کلمات میں جس تکرار کا گمان تھا اس سے وہ دُور ہوگیا۔ اور اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا کرنے والا ہے۔ ت) بہرحال ان سب ائمہ وعلماء نے نجاستِ لعاب کا اعتبار نہ فرمایا جب تک منہ سے باہر سیلان نہ کرے اس مسلک پر بلاشبہہ یہ فرع بھی صرف اسی طہارت میں کلب پر مبتنی اور جب وہ مفتی بہ تو یہ بھی اس طریقہ پر یقینا مفتی بہ۔
بحرالرائق میں بدائع سے منقول ہے کہ یہ (کتے کا طاہر عین ہونا) دو۲ قولوں میں سے صحت کے زیادہ قریب قول ہے۔ اس لئے ہمارے مشایخ نے فرمایا کہ جس آدمی کی آستین میں کتّے کا بچّہ ہو اس کی نماز جائز ہے اور فقیہ ابوجعفر ہندوانی کے نزدیک جواز کے لئے اس کے منہ کا باندھا ہونا شرط ہے اھ۔
وفی البحر ایضا اذاصلی وھوحامل جروا صغیرا لا تصح صلاتہ علی القول بنجاسۃ مطلقا وتصح علی القول بطھارتہ اما مطلقا او بکونہ مشدود الفم کما قدمناہ عن البدائع ۲؎ اھ۔
بحرالرائق میں ہی ہے کہ جب کسی آدمی نے اس حالت میں نماز پڑھی کہ اس نے کتے کا چھوٹا سا بچّہ اٹھارکھا تھا تو اس قول پر کہ وہ نجس ہے نماز مطلقاً صحیح نہیں ہوگی اور طہارت کے قول کی بنیاد پر یا تو مطلقاً صحیح ہوگی یا اس صورت میں کہ اس کا منہ باندھا ہوا ہو، جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے بدائع سے نقل کیا اھ ۔
مراقی الفلاح کے حاشیہ میں ہے کہ وہ نجس عین نہیں اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اور اختلاف کا اثر اسصورت میں ظاہر ہوگا جب وہ اس حال میں نماز پڑھے کہ اس کی آستین میں کتّے کا چھوٹا بچّہ ہو، پہلے قول کے مطابق نماز جائز ہوگی دوسرے کے مطابق نہیں۔ اور ہندوانی نے منہ بندھا ہونا شرط رکھی ہے اھ تلخیص۔ ۱
؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح فصل یطہر جلد المیتۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۸۸)
وفی البزازیۃ عن النصاب ان کان الجرو مشدود الفم یجوز ۲؎ اھ وفی شروط الصلاۃ للدر والبحر وفتح اللّٰہ المعین واللفظ للدر ما یتحرک بحرکۃ او یعد حامل لہ کصبی علیہ نجس ان لم یستمسک بنفسہ منع والالا کجنب وکلب ان شد فمہ فی الاصح ۳؎ اھ۔
بزازیہ میں نصاب سے نقل کیا ہے کہ اگر کتّے کے بچّے کا مُنہ باندھا ہوا ہو تو نماز جائز ہے اھ۔ نماز کی شرائط میں درمختار، بحرالرائق اور فتح اللہ المعین میں ہے الفاظ درمختار کے ہیں کہ جو اس کی حرکت سے حرکت کرے یا اسے اٹھانے والا شمار ہو جیسے بچہ کہ اس پر نجاست ہو اگر وہ خودبخود نہ ٹھہر سکے تو منع کیا جائے گا ورنہ نہیں جیسے جنبی اور کتا، اگر اس کا منہ باندھا ہو۔ یہ اصح قول کے مطابق ہے اھ۔
(۲؎ فتاوٰی بزازیۃ مع الفتاوٰی الہندیۃ السابع فی النجس نورانی کتب خانہ پشاور ۴/۲۱)
(۳؎ الدرالمختار باب شروط الصلاۃ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۶۵)