ورواہ الدارقطنی من جھۃ محمد بن ربیعۃ عن سعید عن ابی زرعۃ وھومطولا بالقصۃ والحاکم من حدیث عیسٰی بن المسیب ثنا ابوزرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم السنور سبع ۲؎ ۔
دارقطنی نے محمد بن ربیعہ سے انہوں نے حضرت سعید سے انہوں نے حضرت ابوزرعہ سے روایت کیا، اس کا قصہ طویل ہے، حاکم نے عیسٰی بن مسیب کی روایت سے نقل کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابوزرعہ نے بیان کیا انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بلّی درندہ ہے''۔
(۲؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت ۲/۳۲۷)
وقال العقیلی فی ترجمۃ عیسٰی بن المسیب من کتاب الضعفاء حدثنا محمد بن زکریا البلخی نامحمد بن ابان ومحمدبن الصباع قالا ثنا وکیع نا عیسی بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وذکر الھر وقال ھی سبع ۱؎ اھ۔
(۱؎ کتاب الضعفاء الکبیر فی ترجمہ عیسٰی بن المسیب مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت ۳/۳۸۷)
عقیلی نے کتاب الضعفاء میں عیسٰی بن مسیب کا ترجمہ (تعارف) نقل کرتے ہوئے کہا ہم سے محمد بن زکریا بلخی نے بیان کیا ان سے محمد بن ابان اور محمد بن صباح نے بیان کیا وہ دونوں فرماتے ہیں ہم سے وکیع نے، وہ فرماتے ہیں ہم سے عیسٰی بن مسیب نے بواسطہ ابوزرعہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، پھر انہوں نے بلّی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ''یہ درندہ ہے'' اھ۔
فلعل العلامۃ الدمیری شُبّہ علیہ فانتقل ذھنہ فی تتمّۃ ھذا الحدیث الی ذاک ھذا فی لفظ الھرۃ وقدذکرہ علی الصواب فی لفظ السنور فقال روی الحاکم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال کان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یأتی دارقوم من الانصار فساق الحدیث الی قولہ فقال السنور سبع ۲؎ اھ ۔
شاید علامہ دمیری کو شبہہ ہوگیا اور ان کا ذہن اس حدیث کے تتمہ پر اس بات کی طرف منتقل ہوگیا۔ یہ تو لفظ ''ھرۃ'' میں ہے لیکن انہوں نے لفظ ''سنور'' کو صحیح قرار دیتے ہوئے ذکر کیا، فرماتے ہیں حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قوم انصار کے گھر تشریف لاتے تھے پھر وہ حدیث بیان کرتے ہوئے یہاں تک پہنچے، آپ نے فرمایا بلّی درندہ ہے اھ۔
(۲؎ حیاۃ الحیوان تحت لفظ السنور مطبوعہ مصطفی البابی الحلبی مصر ۱/۵۷۶)
فانقلت ربما یتحصل لناالمقصود بھذا اللفظ ایضا فان الحدیث قدعلل زیارۃ اھل بیت عندھم ھرٌّ دون الذین عندھم کلب بانھا سبع فدل علی ان الکلب اخبث من السبع وقد تقرر عندنا نجاسۃ اساٰر سائر السباع فلوکانت ھی ایضا قصاری الامر فی الکلاب غیر متعدیۃ من اللعاب علی الاھاب لم یکن لھذا التعلیل معنی قلت نعم یدل علی زیادہ شیئ فی الکلب علی سائر السباع ولیکن مافیہ من عدم دخول الملٰئکۃ بیتا ھو فیہ اما خصوص الفرق بنجاسۃ العین فکلا ومن ادعی فعلیہ الدلیل ولعل تعلیلی ھذا احسن من تعلیل الطیبی بان الکلب شیطان ۱؎ کمانقلہ فی مجمع بحار الانوار واقرہ۔
اگر تم کہو کہ کبھی ہمیں اس لفظ سے بھی مقصود حاصل ہوجاتا ہے کیونکہ جن کے ہاں بلّی ہو وہاں جانا صحیح ہے جہاں کتا ہو وہاں نہیں۔ حدیث شریف میں اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ ایک درندہ ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ کتا درندوں سے بھی زیادہ خبیث ہے۔ اور ہمارے نزدیک تمام درندوں کے پس خوردہ کی نجاست ثابت ہوچکی ہے۔ پس اگر کتے کے بارے میں بھی صرف اتنی ہی بات ہو اور وہ لعاب سے چمڑے کی طرف متعدی نہ ہو تو اس تعلیل کا کوئی مطلب نہ ہوگا (قلت) ہاں کتّے میں باقی درندوں سے زائد چیز پر دلالت موجود ہے وہ یہ کہ کتّے کے بارے میں جس گھر میں یہ ہو اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے لیکن نجاست عین کے ساتھ خصوصی فرق ہرگز نہیں، جو دعوٰی کرے اس کے ذمہ دلیل ہے اور شاید میری یہ تعلیل، طیبی کی تعلیل کہ کتا شیطان ہے سے زیادہ اچھی ہے جیسا کہ انہوں نے مجمع بحار الانوار میں نقل کرکے اسے برقرار رکھا۔
(۱؎ مرقات المفاتیح باب السترۃ فصل اول مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۲۴۵)
فان ذلک انماورد فیما نعلمہ فی الکلب الاسود کما فی حدیث قطع الصلاۃ عند احمد والستۃ الا البخاری عن عبداللّٰہ بن الصامت عن ابی ذر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وفیہ فانہ یقطع صلاتہ المرأۃ والحمار والکلب الاسود قلت یااباذر مابال الکلب الاسود من الکلب الاحمر من الکلب الاصفر قال یاابن اخی سألت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کماسألتنی فقال الکلب الاسود شیطان ۲؎ ۔
ہمارے علم کے مطابق یہ بات سیاہ کتّے کے بارے میں آئی ہے جیسا کہ نماز توڑنے سے متعلق حدیث میں ہے جسے امام احمد نے اور بخاری کے سوا صحاح ستّہ کے دیگر ائمہ نے بواسطہ حضرت عبداللہ بن صامت، حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ''آدمی کی نماز عورت، گدھے اور سیاہ کتّے کے گزرنے سے ٹوٹ جاتی ہے'' میں نے عرض کیا اے ابوذر سیاہ کتے کی کیا خصوصیت ہے جو سرخ اور زرد کو حاصل نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اے بھتیجے! میں نے اس کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری طرح سوال کیا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ''سیاہ کتا شیطان ہے''۔
ولاحمد عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الکلب الاسود البھیم الشیطان ۳؎ وقد دل السؤال والجواب ان القید ملحوظ وان غیر الاسود عن ذاک محفوظ۔
امام احمد، حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا سے وہ سرکارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں آپ نے فرمایا : ''نہایت سیاہ کتّا شیطان ہے''۔ سوال وجواب اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ (رنگ کی) قید ملحوظ ہے اور غیر سیاہ کتا اس (حکم) سے محفوظ ہے۔ (ت)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ عنہا دار الفکر بیروت ۶/۱۵۷)
فان قلت مایدریک لعل الکلب الذی کان فی بیتھم کان اسودقلت مایدریک لعلہ کان احمر اواصغر وبالجملۃ فالحدیث اقتصر فی معرض التعلیل علی وصف الکلبیۃ فلوکان العلۃ خصوص اللون لصرح بہ او اتی بلام العہد ھذا ثم ان فی الحدیث تاویلا اٰخر افادہ ایضا الطیبی فقال ھو استفھام انکار ۱؎ اھ فعلی ھذا یکون المعنی اثبات السبعیۃ للکلب ونفیھا عن الھر فینصلم الاستدلال من اصلہ ۔
اگر تم کہو کہ تمہیں کیا معلوم شاید وہ کتا جو ان کے گھروں میں تھا سیاہ رنگ کا ہو؟ میں کہتا ہوں تمہیں کیا معلوم، شاید وہ سرخ یا زرد رنگ کا ہو۔ بہرحال حدیث شریف میں صرف اس کا کتّا ہونا ہی دلیل بنے گا۔ اگر کوئی خصوصی رنگ علّت ہوتا تو اس کی تصریح فرماتے یا لامِ عہدلاتے، اسے اپنائیے، پھر حدیث میں ایک اور تاویل بھی ہے جس کا فائدہ بھی طیبی سے حاصل ہوا، انہوں نے فرمایا یہ استفہام انکاری ہے اھ پس اس بنیاد پر معنٰی یہ ہوگا کہ کتنے کیلئے درندگی ثابت کرنا اور بلّی سے اس کی نفی کرنا ہے، لہذا استدلال سرے سے ہی ختم ہوجائیگا ۔
(۱؎ مجمع بحار الانوار )
اقول :لکن الحدیث فی بعض طرقہ بلفظ ان السنور سبع کمافی المیزان فافھم عـــہ۔
اقول: لیکن حدیث کے بعض طرق یہ الفاظ ہیں ''ان السنور سبع'' جیسا کہ میزان میں ہے۔ پس سمجھ لو۔ (ت)
عـــہ: یشیر الی ان ان لیس بنص فی عدم حذف الھمزۃ ۱۲ (م) اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ لفظِ ''ان'' ہمزہ کے حذف نہ ہونے میں نص نہیں۔ (ت)
خامساً :عبارت شرح وقایہ سے استدلال عجیب ہے حالانکہ اسی کی بیوع میں یہاں تک تصریح ہے
: صح بیع الکلب والفھد والسباع علمت اولا ش ھذا عندنا وعند ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز بیع الکلب العقور وعند الشافعی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز بیع الکلب اصلا بناء علی انہ نجس العین عندہ ۲؎۔
(متن) کتے، بھیڑیے اور درندوں کی بیع جائز ہے، انہیں سکھایا جائے یا نہ۔ (شرح) یہ ہمارے نزدیک ہے اور امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک کاٹنے والے کتّے کی بیع جائز نہیں جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کتّے کی بیع بالکل جائز نہیں، کیوں کہ وہ ان کے نزدیک نجس عین ہے۔ (ت)
بالجملہ قول اصح وارجح بلکہ ماخوذ ومعمول ومفتی بہ وہی طہارت عین ہے تو جتنے امور بربناے نجاست عین مانے جاتے ہیں سب خلاف معتمد ومخالف قول مختار ومشید ہیں لاجرم فتح میں فرمایا:
ماذکر فی الفتاوی من التنجس من وضعرجلہ موضع رجل کلب فی الثلج اوالطین ونظائر ھذہ مبنی علی روایۃ نجاسۃ عین الکلب ولیست بالمختارۃ ۱؎۔
فتاوٰی میں جو مذکور ہے کہ برف یا کیچڑ میں جہاں کتّے نے پاؤں رکھا وہاں پاؤں رکھا جائے تو ناپاک ہوجاتا ہے، اور اس قسم کی دوسری باتیں کتے کے نجس عین ہونے پر مبنی ہیں اور یہ بات مختار نہیں (ت)
(۱؎ فتح القدیر، آخر باب الانجاس مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۱۸۶)
حلیہ میں فرمایا: الکثیر علی انہ لیس نجس العین وعلی ھذا فیکون الصحیح عند الکثیر انہ لاینزح اذا اخرج ولم یصب الماء فمہ کماھو معزو الی ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۲؎۔
بہت سے فقہا کے نزدیک یہ نجس عین نہیں لہذا اس بنیاد پر زیادہ لوگوں کے نزدیک صحیح یہ ہے کہ جب کتا (پانی سے) نکالا جائے اور اس کا منہ پانی تک نہ پہنچا ہو تو (کنویں سے) پانی نہیں نکالا جائے گا، یہ بات امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف منسوب ہے۔ (ت)