Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
87 - 2323
اور اسی باب سے ہے عامہ کتب مذہب کا اتفاق کہ
کلیہ کل اھاب دبغ طاھر
 (ہر وہ چمڑا جسے دباغت دی جائے پاک ہو جاتا ہے۔ ت) سے سوا خنزیر کے کسی جانور کا استشناء نہیں فرماتے، فقیر کی نظر سے نہ گزرا کہ کسی کتاب میں یہاں والکلب بھی فرمایا ہو اگرچہ دوسری جگہ طہارت جلد کلب میں خلاف نقل کریں وباللہ التوفیق۔
واما التزیيف فاقول اولا: (رہا اس کا کھوٹاپن! تو میں کہتا ہوں، اوّلا۔ ت) امر بالقتل سے تحریم پر استدلال تو ایک طریق ہے مگر نجاست عین پر اُس سے احتجاج محض باطل وسحیق احادیث میں سانپ بچھّو چیل کوّے چوہے چھپکلی گرگٹ وغیرہا اشیائے کثیرہ کے قتل کا حکم ہے یہاں تک کہ احرام میں حتی کہ حرم میں پھر کیا یہ سب اشیا نجس العین ہوں گی۔
ھذا لم یقل بہ احد اخرج الائمۃ مالک واحمد والبخاری ومسلم وابوداؤد والنسائی وابن ماجۃ عن ابن عمرو البخاری ومسلم والنسائی والترمذی وابن ماجۃ عن ام المؤمنین الصدیقۃ وابوداؤد بسندحسن عن ابی ھریرۃ واحمد باسناد حسن عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کلھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خمس من الدواب لیس علی المحرم فی قتلھن جناح الغراب والحدأۃ والعقرب والفارۃ والکلب العقور ۱؎ ۔
 (۱؎ صحیح البخاری    باب ما یقتل المحرم من الدواب    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی        ۱/۲۴۶
اس کا کوئی بھی قائل نہیں امام مالک ،احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ (رحمہم اللہ تعالٰی) نے حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بخاری، مسلم، نسائی، ترمذی اور ابن ماجہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا سے، ابوداؤدنے سند ِحسن کے ساتھ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور احمد نے سندِ حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ان سب نے سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ مُحرِم پر پانچ جانوروں کو قتل کرنے میں کوئی حرج نہیں، کوّا، چیل، بچھّو، چُوہا اور کاٹ کھانے والا کتّا۔
وفی حدیث ابن عباس خمس کلھن فاسقۃ یقتلھن المحرم ویقتلن فی الحرم وعد الحیۃ بدل الحدأۃ ۲؎ وفی احدی روایات الصدیقۃ الحیۃ مکان العقرب ۳؎ ۔
حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے پانچ جانور تمام کے تمام فاسق ہیں مُحرم ان کو قتل کرے، اور انہیں حرم میں بھی قتل کیا جائے، انہوں نے چیل کی جگہ سانپ کو شمار کیا ہے۔ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ایک روایت میں بچھّو کی جگہ سانپ کا ذکر ہے۔
 (۲؎ مسند احمد بن حنبل    عن ابن عباس رضی اللہ عنہ   مطبوعہ دار الفکر بیروت            ۱/۲۵۷)

(۳؎ سنن ابن ماجہ    مایقتل المحرم        مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ص۲۳۰)
احمد والشیخان وابوداود والترمذی وابن ماجۃ عن ابن عمرعن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الحیات اقتلوا ذاالطفیتین والابتر ۴؎ الحدیث۔
امام احمد، شیخان (بخاری ومسلم)، ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ رحمہم اللہ تعالٰی، حضرت عبداللہ ابن عمر کے واسطے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: سانپوں کو قتل کرو گر گل کے پتّوں جیسے نشانات والے سانپ اور دُم کٹے سانپ کو قتل کرو (الحدیث) ۔
 (۴؎ سنن ابی داؤد    باب قتل الحیات        مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۲/۳۵۶)
ابوداؤد والنسائی عن ابن مسعود والطبرانی فی الکبیر عن جریر بن عبداللّٰہ البجلی وعن عثمان بن ابی العاص بسند صحیح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الحیات کلھن فمن خاف ثأرھن فلیس منا ۵؎ ۔
ابوداؤد اور نسائی نے حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت جریر بن عبداللہ بجلی اور حضرت عثمان ابن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا تمام سانپوں کو مارو، جو شخص ان کی طرف سے حملے کا خوف رکھے وہ ہم میں سے نہیں۔
 (۵؎ سنن ابی داؤد    باب قتل الحیات        مطبوعہ  مجتبائی پاکستان لاہور        ۲/۳۵۶)
ابوداود والترمذی والنسائی وابن حبان والحاکم عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الکبیرعن ابن عباس عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اقتلو السودین فی الصلوۃ الحیۃ والعقرب ۱؎ وایضا ھذا عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اقتلوا الوزغ ولوفی جوف الکعبۃ ۲؎ ۔
ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن حبان اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے کبیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ (آپ نے فرمایا) نماز میں دو سیاہ جانوروں سانپ اور بچھّو کو ہلاک کرو، نیز انہوں نے ہی نبی اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا گرگٹ کو قتل کرو اگرچہ کعبہ شریف کے اندر ہو۔
 (۱؎؎ سنن ابی داؤد     باب العمل فی الصلٰوۃ    مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور        ۱/۱۳۳)

(۲؎ المعجم الکبیر     حدیث ۱۱۴۹۵    مطبوعہ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت        ۱۱/۲۰۲)
احمد عن ابن مسعود بسند صحیح عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من قتل حیۃ فکانما قتل رجلا مشرکا قد حل دمہ ۳؎ احمد وابن حبان بسند صحیح عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من قتل حیۃ فلہ سبع حسنات ومن قتل وزغۃ فلہ حسنۃ ۴؎۔
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ''جو شخص سانپ کو مارے گویا اس نے ایسے مشرک مرد کو قتل کیا'' جس کا خون (بہانا) حلال ہوچکا تھا۔ امام احمد اور ابن حبان نے صحیح سند کے ساتھ انہی کی روایت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا آپ نے فرمایا: ''جس نے سانپ کو قتل کیا اس نے سات۷ نیکیاں پائیں جس نے گرگٹ کو ہلاک کیا اس کیلئے ایک نیکی ہے''۔ (ت)
 (۳؎ مسند الامام احمد بن حنبل    عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت        ۱/۳۹۵)

(۴؎ مسند الامام احمد بن حنبل    عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ مطبوعہ دار الفکر بیروت               ۱/۴۲۰)
ثانیاً :رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ثلثۃ لاتقربھم الملٰئکۃ الجنب والسکران والمتضمخ بالخلوق ۵؎ رواہ البزار باسناد صحیح عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما۔
تین آدمیوں کے قریب (رحمت کے) فرشتے نہیں جاتے جنبی، نشے والا اور خلوق (ایک قسم کی خوشبو) لگانے والا۔ بزار نے اسے صحیح سند کے ساتھ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا۔ (ت)
 (۵؎ مجمع الزوائد     باب ماجاء فی الخمرومن یشربہا    مطبوعہ دار الکتاب بیروت      ۵/۷۲)
اس حدیث میں مست نشہ کو بھی فرمایا کہ ملائکہ اس کے پاس نہیں آتے، کیا مدہوش نجس العین ہے۔

ثالثاً : ولوغ کلب سے غسل اناء بلکہ مبالغہ تسبیع وتثمین وتتر یب کو بھی تنجیس عین سے اصلاً علاقہ نہ ہونا اجلے بدیہیات سے ہے۔
وقداغرب الشوکانی فی نیل الاوطار فجعلہ حجۃ زاعما انہ اذاکان لعابہ نجسا وھوعرق فمہ ففمہ نجس ویستلزم نجاسۃ سائر بدنہ وذلک لان لعابہ جزء من فمہ وفمہ اشرف مافیہ فبقیۃ بدنہ اولٰی ۱؎ اھ۔
شوکانی نے نیل الاوطار میں عجیب بات کرتے ہوئے اسے حجت قرار دیا ہے ان کا خیال ہے کہ جب اس کا لعاب ناپاک ہے اور وہ منہ کا پسینہ ہے تو اس کا منہ بھی ناپاک ہوگا اور یہ تمام بدن کی نجاست کو مستلزم ہے یہ اس لئے کہ اس کا لعاب اس کے منہ کا ایک جزء ہے اور منہ اس کے جسم کا اشرف حصّہ ہے، پس باقی بدن تو بدرجہ اولٰی ناپاک ہوگا۔ اھ (ت)
 (۱؎ نیل الاوطار    باب آسار البہائم    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۴۷)
اقول: ھذا کما تری یساوی ھزلا ویتساوک ھُزلا فان کون اللعاب جزء الفم ممالایتفوہ بہ صبی عاقل فضلا عن فاضل ثم ھو انما یتولد من داخل لا من الجلد فانما یدل علی نجاسۃ اللحم دون العین ثم لوتم لدل علی نجاسۃ عین کل ماسؤرہ نجس وھوباطل۔
اقول :یہ بات جیسا کہ تم دیکھ رہے ہو مذاق کے برابر ہے اور کمزوری کے باعث متزلزل ہے کیونکہ لعاب کا منہ کا جُزء ہونا کسی عقلمند بچّے کا قول بھی نہیں ہوسکتا چہ جائیکہ ایک فاضل یہ کہے، پھر یہ (لعاب) اندر سے پیدا ہوتا ہے جلد سے نہیں، اور یہ گوشت کی نجاست پر دلالت کرتا ہے عین کے نجس ہونے پر نہیں، پھر اگر ان کی بات صحیح بھی ہو تو یہ اس چیز کے عین نجس ہونے پر دلالت کرے گی جس کا جھوٹا ناپاک ہے حالانکہ یہ باطل ہے۔ (ت)
رابعاً :حدیث انھا لیست بنجس انھا من الطوافین والطوافات ۲؎
(یہ ناپاک نہیں کیونکہ تمہارے پاس چکّر لگانے والوں اور آنے جانے والیوں میں سے ہے۔ ت)حدیث حسن صحیح ہے
 (۲؎ سنن ابی داؤد  باب سور الہرۃ   مطبوعہ  آفتاب عالم پریس لاہور    ۱/۱۰)
اخرجہ الا ئمہ مالک و احمد و الاربعۃ وابن حبان والحاکم وابن خزیمۃ وابن منیدۃ فی صحاحھم عن ابی قتادۃ وابوداود والدارقطنی عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم
ائمہ حدیث امام مالک، احمد، ائمہ اربعہ (بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ) ابن حبان، حاکم، ابن خزیمہ اور ابن مندہ نے اپنی صحاح میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے نیز ابوداو،د اور دارقطنی نے حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا (ت)

مگر یہ حدیث ابی ہریرہ کا تتمہ نہیں نہ اس میں مقابلہ کلب ہے کہ اس میں نفی نجاست سے اُس میں اثبات ہو حدیث ابی ہریرہ جس کے طریق مطول میں ذکر قصد ومقابلہ بالکلب ہے اُس کا تتمہ یا طرق مختصرہ کی تمام حدیث احمد واسحٰق بن راہویہ وابوبکر بن ابی شیبہ دارقطنی وحاکم وعقیلی سب کے یہاں اُسی قدر ہے کہ :
الھر یا السنور سبع فرواہ الاربعۃ الاول من طریق وکیع عن سعید بن المسیب عن ابی زرعۃ عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الھر سبع ۱؎ ۔
 (الھر یا السنور فرمایا) بلّی درندہ ہے پہلے چار نے اسے وکیع سے انہوں نے حضرت سعید بن مسیب سے انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بلّی درندہ ہے۔
 (۱؎ مصنف ابن ابی شیبہ    من قال لایجزئ ویغسل منہ الاناء ،  مطبوعہ ادارۃ القرآن والعلوم الاسلامیہ کراچی   ۱/۳۲ )
Flag Counter