اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے گلے میں ایسا ہار ہو جس میں کُتّے یا بھیڑیے کے دانت ہوں، تو اس کی نماز جائز ہے(ت)
( ۵؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۰)
اور فرمایا: ان کان فی کمہ ثعلب اوجروکلب لاتجوز صلاتہ لان سؤرہ نجس لایجوزبہ التوضأ ۶؎۔
اگر اس کی آستین میں لومڑی یا کُتّے کا بچّہ ہو تو اس کی نماز جائز نہیں کیونکہ اس کا جھُوٹا ناپاک ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ (ت)
(۶؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی النجاسۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۱۱)
بلکہ صاف واضح فرمادیا کہ اُس کی نجاست عین کے یہ معنے ہیں کہ اس کا مادٰی نجاسات ہیں لہذا اس کا بدن غالباً ناپاک ہوتا ہے۔
حیث قال ینزح کل الماء اذاوقع فیھا کلب اوخنزیر مات اولم یمت اصاب الماء فم الواقع اولم یصب اما الخنزیر فلان عینہ نجس والکلب کذلک ولھذا لوابتل الکلب وانتقض فاصاب ثوبا اکثر من قدر الدرھم افسدہ لان مأواہ النجاسات وسائر السباع بمنزلۃ الکلب ۱؎ اھ ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ جب اس میں کتّا یا خنزیر گر جائیں تو تمام پانی نکالا جائے چاہے وہ مریں یا نہ، اور گرنے والے کا منہ پانی کو پہنچے یا نہ۔ خنزیر اسی لئے کہ وہ نجسِ عین ہے اور کتّا بھی اسی طرح ہے، اس لئے اگر کتّا تر ہوجائے اور اپنے آپ کو جھاڑے اور یہ (پانی) درہم سے زیادہ کپڑے کو پہنچے تو اسے ناپاک کردے گا کیونکہ اس کا ٹھکانہ نجاستیں ہیں اور تمام درندے کتے کی طرح ہیں اھ تلخیص (ت)
(۱؎ فتاوٰی قاضی خان فصل فی مایقع فی البئر مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۵)