Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
86 - 2323
جس فتاوٰی ولوالجیہ میں مسئلہ تنجس ثوب بانتقاض قلب بیان کیا ۔قال فی البحر ولایخفی ان ھذا علی القول بنجاسۃ عینہ ۲؎۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات (کتّے کے جھاڑنے سے کپڑے کا ناپاک ہونا) اس کے نجس عین ہونے کا قائل ہونے کی بنیاد پر ہے (ت)
 (۲؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ  مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/۱۰۲)
اُسی میں مثل تجنیس مسئلہ جواز صلاۃ مع قلادہ اسنان کلب بیان فرمایا۔ قال فی البحر ولایخفی ان ھذا کلہ علی القول بطہارۃ عینہ ۳؎۔
بحرالرائق میں فرمایا مخفی نہ رہے یہ سب کچھ اس کا عین پاک ہونے کی بنیاد پر ہے۔ (ت)
 (۳؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۱۰۳)
جس ایضاح میں عبارت مبسوط شیخ الاسلام فی روایۃ لایطھر وھو الظاھر من المذھب
 (ایک روایت میں ہے پاک نہیں ہوتا اور یہی ظاہر مذہب ہے۔ ت) نقل کرکے خود اپنے متن اصلاح کے
قول الا جلد الخنزیر والاٰدمی
(مگر خنزیر اور آدمی کی کھال۔ ت) پر اعتراض فرمایا
الحصر المذکور علی خلاف الظاھر
 (حصر مذکور، ظاہر کے خلاف ہے۔ ت)
اُسی کی کتاب البیوع میں فرمایا:
صح بیع الکلب خلافا للشافعی لانہ نجس العین عندہ لاعندنا لانہ ینتفع بہ ۴؎۔
کتے کی خرید وفروخت صحیح ہے اس میں امام شافعی کا اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیک یہ نجسِ عین ہے ہمارے نزدیک نہیں کیونکہ اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے۔ (ت)
( ۴؎ ایضاح واصلاح)
جن درر وغرر میں وہ فرمایا تھا کہ الکلب نجس العین ۵؎ الخ
 (کتّا نجسِ عین ہے الخ۔ ت)
 (۵؎ درر الحکام فی شرح غرر الاحکام    فرض الغسل        مطبوعہ کامل الکائنہ فی دار السعادۃ    ۱/۲۴)
اُنھی کی بیوع میں ہے: صح بیع کل ذی ناب کالکلب لانہ مالمتقوم الاالخنزیر لانہ نجس العین ۱؎ اھ
ملخصا کتّے کی طرح ہر دانت والے جانور کی خریدوفروختجائز ہے کیونکہ وہ مال متقوم ہے سوائے خنزیر کے، کیونکہ وہ نجس عین ہے اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ درر الحکام فی شرح غرر الاحکام    کتاب البیوع مسائل شتی    مطبوعہ کامل الکائنہ فی دار السعادۃ    ۲/۱۹۸)
جس خزانۃ المفتین میں ہے
عینہ نجس
(اس کا عین ناپاک ہے۔ ت) اُسی میں ہے:
 سنہ لیس بنجس ۲؎
 (اس کا دانت ناپاک نہیں ہے۔ ت)
 ( ۲؎ خزانۃ المفتین)
جس خانیہ میں مسائل متقدمہ شعر وانتفاض فرمائے اور فرمایا: اذامشی کلب علی ثلج یصیر الثلج نجسا وکذا الطین والردغۃ اھ ملخصا ۳؎۔
کتّا برف پر چلے تو برف ناپاک ہوجائے گی، اسی طرح مٹّی اور گارا بھی اھ ملخصا (ت)
 (۳؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی النجاسۃ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۱)
یہاں تک کہ حلیہ وغنیہ وبحرالرائق میں واقع ہوا، واللفظ للبحر اختار قاضی خان فی الفتاوی نجاسۃ عینہ وفرع علیھا فروعا ۴؎ اھ
الفاظ بحرالرائق کے ہیں کہ قاضی خان نے اپنے فتاوٰی میں اس کے نجس عین ہونے کو اختیار کیا اور اس کو کئی مسائل کی بنیاد بنایا اھ (ت)
( ۴؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۱)
اُسی خانیہ میں فرمایا:
سنہ غیر نجس
 (اس کا دانت ناپاک نہیں ہے۔ ت) اور فرمایا:
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا سن کلب اوذئب یجوز صلاتہ ۵؎۔
اگر کوئی شخص نماز پڑھے اور اس کے گلے میں ایسا ہار ہو جس میں کُتّے یا بھیڑیے کے دانت ہوں، تو اس کی نماز جائز ہے(ت)
( ۵؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی النجاسۃ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ            ۱/۱۰)
اور فرمایا: ان کان فی کمہ ثعلب اوجروکلب لاتجوز صلاتہ لان سؤرہ نجس لایجوزبہ التوضأ ۶؎۔
اگر اس کی آستین میں لومڑی یا کُتّے کا بچّہ ہو تو اس کی نماز جائز نہیں کیونکہ اس کا جھُوٹا ناپاک ہے تو اس سے وضو کرنا جائز نہیں۔ (ت)
(۶؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی النجاسۃ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ         ۱/۱۱)
بلکہ صاف واضح فرمادیا کہ اُس کی نجاست عین کے یہ معنے ہیں کہ اس کا مادٰی نجاسات ہیں لہذا اس کا بدن غالباً ناپاک ہوتا ہے۔
حیث قال ینزح کل الماء اذاوقع فیھا کلب اوخنزیر مات اولم یمت اصاب الماء فم الواقع اولم یصب اما الخنزیر فلان عینہ نجس والکلب کذلک ولھذا لوابتل الکلب وانتقض فاصاب ثوبا اکثر من قدر الدرھم افسدہ لان مأواہ النجاسات وسائر السباع بمنزلۃ الکلب ۱؎ اھ ملخصا۔
جہاں فرمایا کہ جب اس میں کتّا یا خنزیر گر جائیں تو تمام پانی نکالا جائے چاہے وہ مریں یا نہ، اور گرنے والے کا منہ پانی کو پہنچے یا نہ۔ خنزیر اسی لئے کہ وہ نجسِ عین ہے اور کتّا بھی اسی طرح ہے، اس لئے اگر کتّا تر ہوجائے اور اپنے آپ کو جھاڑے اور یہ (پانی) درہم سے زیادہ کپڑے کو پہنچے تو اسے ناپاک کردے گا کیونکہ اس کا ٹھکانہ نجاستیں ہیں اور تمام درندے کتے کی طرح ہیں اھ تلخیص (ت)
 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی مایقع فی البئر    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)
Flag Counter