وقداعترف بذلک الائمۃ الشافعیۃ قال فی البحر ولقد انصف النووی حیث قال فی شرح المھذب واحتج اصحابنا باحادیث لادلالۃ فیھا فترکتھا لانی التزمت فی خطبۃ الکتاب الاعراض عن الدلائلالواھیۃ ۱؎ اھ ۔
شافعی ائمہ نے بھی اس کا اعتراف کیا ہے۔ بحرالرائق میں فرمایا امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مہذب میں یہ کہہ کر انصاف سے کام لیا کہ ہمارے اصحاب نے ایسی احادیث کو دلیل بنایا جن میں کوئی دلالت نہیں پس میں نے ان کو چھوڑ دیا کیونکہ میں نے خطبہ کتاب میں اس بات کا التزام کیا ہے کہ کمزور دلائل سے اعراض کروں گا اھ۔
وقال الامام العارف الشعرانی الشافعی فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ تعالٰی یقول لیس لنادلیل علی نجاسۃ عین الکلب الامانھی عنہ الشارع من بیعہ اواکل ثمنہ ۲؎ اھ۔
امام عارف شعرانی شافعی رحمہ اللہ نے میزان الشریعۃ الکبرٰی میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص رحمہ اللہ سے سُنا آپ فرماتے تھے ہمارے پاس کتّے کے نجسِ عین ہونے پر اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کو شارع علیہ السلام نے اس کی خریدوفروخت اور اس کی قیمت کھانے سے منع فرمایا اھ۔ (ت)
(۲؎ المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۱۱۴)
اقول: ای ولایتم ایضا فان الشارع صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قدنھی عن بیع اشیاء واثمانھا وھی طاھرۃ العین وفاقا اخرج الائمۃ احمد والستۃ عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ان اللّٰہ ورسولہ حرم بیع الخمر والمیتۃ والخنزیر والاصنام ۳؎ ۔
اقول: یہ دلیل بھی تام نہیں کیونکہ شارع صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض چیزوں کی خریدوفروخت اور ان کی قیمت لینے سے منع فرمایا حالانکہ ان کا عین بالاتفاق پاک ہے۔ امام احمد اور اصحاب صحاح ستّہ نے بواسطہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کی خریدوفروخت سے منع فرمایا۔
ولاحمد ومسلم والاربعۃ والطحاوی والحاکم عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب والسنور ۴؎ علی ان علماء نا قدبینوا ان ذلک کان حین کان الامر بقتل الکلاب ولم یکن یحل لاحد امساک شیئ منھا فنسخ بنسخہ ۵؎ کماحققہ الامامابوجعفر الطحاوی وفی شرح معانی الاٰثار۔
احمد، مسلم، اصحابِ اربعہ، طحاوی اور حاکم رحمہم اللہ انہی حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتّے اور بلّی کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔ علاوہ ازیں ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ یہ اس وقت تھا جب کتّے کو قتل کرنے کا حکم تھا اور کسی کیلئے اس میں سے کچھ روک رکھنا جائز نہ تھا پس اس (قتل) کے منسوخ ہونے سے یہ بھی منسوخ ہوگیا جیسا کہ امام ابوجعفر طحاوی نے شرح معانی الآثار میں اس کی تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
(۴؎ شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۵۱)
(۵؎ شرع معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۴۸)
خامساً :اگر دلائل میں تعارض بھی ہو تو مرجع اصل ہے ،
کمانصوا علیہ فی الاصول وتشبثوا بہ فی مسائل الاسرار بال تائین وترک رفع الیدین وغیرھما۔
جیسا کہ انہوں نے اسے اصول میں بیان کیا اور آہستہ آمین کہنے اور ترکِ رفع یدین جیسے مسائل میں اس کو اختیار کیا۔ (ت)
اور اصل تمام اشیا میں طہارت ہے ۔
حتی الخنزیر فانہ من المنی والمنی من الدم والدم من الغذاء والغذاء من العناصر والعناصر طاھرۃ حتی لولم یرد الشرع بتنجیس عینہ بقی علی اصلہ فی المیزان الاصل فی الاشیاء الطھارۃ وانما النجاسۃ عارضۃ فانھا صادرۃ عن تکوین اللّٰہ تعالٰی القدوس الطاھر ۱؎ الخ۔
حتی کہ خنزیر بھی، کیونکہ وہ منی سے ہے، منی خون سے، خون غذا سے اور غذا عناصر سے اور عناصر پاک ہیں حتی کہ اگر شریعت اسے نجسِ عین قرار نہ دیتی تو وہ اپنی اصل پر باقی رہتا۔ میزان میں ہے اشیاء میں اصل طہارت ہے اور نجاست لاحق ہوتی ہے یعنی اللہ تعالٰی پاک وطاہر کے حکم سے صادر ہوتی ہے الخ۔
(۱؎ المیزان الکبرٰی باب النجاسۃ مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۱۱۴)
وفی الطریقۃ والحدیقۃ ص ان الطھارۃ فی الاشیاء اصل ش لان اللّٰہ تعالٰی لم یخلق شیأ نجسا من اصل خلقتہ ص وش انما ص النجاسۃ عارضۃ ش فاصل البول ماء طاھر وکذلک الدم والمنی والخمر عصیر طاھر ثم عرضت النجاسۃ ۲؎ اھ ملخصا۔
الطریقۃ الحمدیہ اور الحدیقۃ الندیہ میں ہے (متن) اشیاء میں اصل طہارت ہے (شرح) کیونکہ اللہ تعالٰی نے اصلِ تخلیق میں کسی چیز کو نجس پیدا نہیں کیا (متن) نجاست عارضی ہے (شرح) پس پیشاب کا اصل پاک پانی ہے، اسی طرح خون، منی اور شراب پاک رس ہے پھر نجاست لاحق ہوئی اھ ملخصا۔
(۲؎ الحدیقۃ الندیۃ النوع الرابع تمام انواع الاربعۃ فی بیان اختلاف الفقہا فی امر الطہارۃ والنجاسۃ الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲/۷۱۳)
ولذا قال فی الغنیۃ ھٰھنا والاصل عدمھا ۳؎ ای عدم النجاسۃ کمامر۔
اسی لئے غنیہ میں اس مقام پر فرمایا اور اصل عدمِ نجاست ہے جیسا کہ گزرگیا۔ (ت)
سادساً :اسی میں تیسیر ہے :لاسیما علی من ابتلی باقتنائہ لصید اوزرع اوماشیۃ والتیسیر محبوب فی نظر الشارع
یرید اللّٰہ بکم الیسر ولایریدبکم العسر ۱؎
وقال صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان الدین یسر الحدیث ۲؎ رواہ البخاری والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یسروا ولاتعسروا ۳؎ رواہ احمد والشیخان والنسائی عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔
خصوصاً جو شخص شکار، کھیتی باڑی یا جانوروں کی حفاظت کے لئے اس کے رکھنے پر مجبور ہو اور شارع کی نظر میں آسانی محبوب ہے (ارشادِ خداوندی ہے) اللہ تعالٰی تمہارے لئے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے تنگی نہیں چاہتا۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''بے شک دین آسان ہے'' (الحدیث) اسے امام بخاری اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ اور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''آسانی پیدا کرو اور تنگی پیدا نہ کرو''۔ اس حدیث کو امام احمد، بخاری ومسلم اور نسائی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ (ت)
(۱؎ القرآن ۲/۱۵۸)
(۲؎ صحیح البخاری باب الدین یسر مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۰)
(۳؎ صحیح البخاری باب امر الوالی اذاوجہ امیرین الٰی موضع الخ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/۱۰۶۳)
سابعاً :بہت قائلان تنجیس کے اقوال خود مضطرب ہیں کہیں نجاست عین پر حکم فرماتے کہیں طہارت عین کا پتادیتے بلکہ صاف تصریح کرتے ہیں جس مبسوط شمس الائمہ سرخسی کے مسائل الآسار میں ہے:
الصحیح من المذھب عندنا ان عین الکلب نجس ۴؎۔
ہمارے نزدیک صحیح مذہب یہ ہے کہ کتے کا عین نجس ہے۔ (ت)
اُسی کے باب الحدث میں ہے: جلد الکلب یطھر عندنا بالدباغ خلافا للحسن والشافعی لان عینہ نجس عندھما ولکنا نقول الانتفاع بہ مباح حالۃ الاختیار فلوکان عینہ نجساً لماابیح الانتفاع بہ ۵؎۔
ہمارے نزدیک کتّے کا چمڑا دباغت سے پاک ہوجاتا ہے امام حسن اور امام شافعی رحمہما اللہ کا اس میں اختلاف ہے کیونکہ ان کے نزدیک اس کا عین ناپاک ہے لیکن ہم کہتے ہیں حالتِ اختیار میں اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے پس اگر اس کا عین ناپاک ہوتا تو اس سے نفع حاصل کرنا جائز نہ ہوتا۔ (ت)