لاجرم ان قال حافظ الحدیث والمذھب الامام الطحاوی فی شرح معانی الاٰثار بعدماحق حل اثمانالکلب ھذا قول ابیحنیفۃ وابی یوسف ومحمد رحمۃ اللّٰہ تعالٰی علیھم اجمعین ۱؎ اھ۔
یقینا حدیث ومذہب کے حافظ امام طحاوی نے شرح معافی الآثار میں کتے کی قیمت کے حلال ہونے کے بارے میں تحقیق فرمانے کے بعد فرمایا امام ابوحنیفہ، امام ابویوسف اور امام محمد رحمہم اللہ تعالٰی تمام کا یہی قول ہے اھ۔
(۱؎ شرح معافی الآثار باب ثمن الکلب مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲/۲۵۰)
وقال فی البحر امابیعہ وتملیکہ فھوجائز ھکذا نقلوا واطلقوا لکن ینبغی انیکون ھذا علی القول بطھارۃ عینہ اماعلی القول بالنجاسۃ فھو کالخنزیر فبیعہ باطل فی حق المسلمین کالخنزیر ۲؎ الخ فینقدح من ذلک وفاقھم جمیعا علی قضیۃ الطھارۃ من جراء تلک الروایات۔
بحرالرائق میں فرمایا کہ اس (کتّے) کی بیع اور تملیک جائز ہے۔ اسی طرح فقہاءِ کرام نے نقل کیا اور مطلقاً بیان کیا لیکن مناسب ہے کہ یہ بات اس کی عینی طہارت کے قول پر ہو لیکن نجاست کے قول پر وہ خنزیر جیسا ہوگا، لہذا مسلمانوں کے حق میں خنزیر کی طرح اس کی خریدوفروخت بھی باطل ہے الخ پس ان روایات کے پیش نظر ان سب کا طہارت کے فیصلی پر اتفاق مطعون ہوگا۔ (ت)
اقول: لکن افاد فی الفتح منع توقف جواز البیع علی طھارۃ العین وانما یعتمد جوازہ جواز الانتفاع الا تری ان السرقین والبعرلما جاز الانتفاع بھما جاز بیعھما وقد قال فی الھدایۃ مجیبا عن استدلال الشافعی علی حرمۃ بیع الکلب بانہ نجس العین ولانسلم نجاسۃ العین ولوسلم فیحرم التناول دون البیع ۳؎ اھ
اقول: لیکن فتح القدیر سے اس بات کا فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ جو ازبیع، طہارت عین پر موقوف نہیں بلکہ بیع کا جواز، جوازِ انتفاع پر مبنی ہے کیا تم نہیں دیکھتے کہ گوبر اور مینگنی سے جب نفع حاصل کرنا جائز ہے تو ان کی خریدوفروخت بھی جائز ہے۔ کتّے کی بیع حرام ہونے پر امام شافعی رحمہ اللہ کے استدلال کہ وہ نجس عین ہونے کی وجہ سے حرام ہے، کا جواب دیتے ہوئے ہدایہ میں فرمایا ہم نجاست عین تسلیم نہیں کرتے اور اگر تسلیم کربھی لیا جائے تو اس کا کھانا حرام ہے، خریدوفروخت حرام نہیں اھ۔
(۳؎ الہدایۃ مسائل منثوہ من کتاب البیوع مطبوعہ مطبع یوسفی لکھنؤ ۲/۱۰۳)
فان عدت قائلا ان حل الانتفاع ایضا یعتمد طہارۃ العین فان الخنزیر لماکان نجس العین لم یجز الانتفاع بہ بوجوجہ من الوجوہ بذلک عللوہ فی عامۃ الکتب نعم یجوز الانتفاع بنجس العین علٰی سبیل الاستھلاک وھذا ھو الثابت فی السرقین ۱؎ کما افادہ فی النھایۃ ونقلہ فی البحر ۔
اگر تم یہ کہتے ہوئے اعتراض کرو کہ انتفاع کا جائز ہونا بھی تو طہارتِ عین پر مبنی ہے کیونکہ جب خنزیر نجس عین ہے تو کسی طرح اس سے انتفاع جائز نہیں۔ عام کتب میں اس کی یہی علّت بیان کی ہے ہاں نجس عین کو ہلاک کرکے اس سے نفع حاصل کرنا جائز ہے۔ یہی بات گوبر میں بھی ثابت ہے، جیسا کہ نہایہ میں اس بات کا فائدہ دیا اور اسے البحرالرائق نے نقل کیا ۔
(۱؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۰۱)
قلت نعم ھذا یصلح دلیلا لاصل المدعی اعنی الطھارۃ اماجعلہ وجھا لتخصیص جواز البیع بقول الطھارۃ فکلا کیف وحل الانتفاع بالکلب بطریق الاصطیاد مجمع علیہ قطعا لما نطق بہ النص الکریم فمبنی جواز البیع ثابت عند الکل وان انکرالصاحبان مبنی المبنی اعنی الطھارۃ کما انکر الشافعی فرع المبنی اعنی جواز البیع فافھم۔
میں کہتا ہوں ہاں یہ اصل مدعٰی یعنی طہارت کی دلیل بن سکتی ہے لیکن اسے طہارت کے قول پر جوازِ بیع کی تخصیص کیلئے سبب قرار دینا ہرگز صحیح نہیں اور یہ کیسے ہوسکتا ہے حالانکہ کتّے سے شکار کے طریقے پر نفع حاصل کرنا جائز ہے اور یہ قطعی طور پر متفق علیہامسئلہ ہے کیونکہ اس کو قرآنِ کریم نے بیان کیا ہے پس جوازِ بیع کی بنیاد سب کے نزدیک ثابت ہے اگرچہ صاحبین اس بنیاد کی بنیاد یعنی طہارت کا انکار کرتے ہیں جیسا کہ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس بنیاد کی فرع یعنی جواز بیع کا انکار کیا ہے۔ پس اسے سمجھو۔ (ت)
اور معلوم ومقرر ہے کہ کلام الامام امام الکلام علما فرماتے ہیں قول امام پر افتا لازم ہے اگرچہ صاحبین خلاف پر ہوں نہ کہ جب صاحبین سے بھی روایات اُن کے موافق آئی ہوں۔
اللھم الالضرورۃ اوضعف دلیل وقدعلم انتفاؤھما ھھنا۔
اے اللہ! مگر ضرورت یا ضعفِ دلیل کی وجہ سے، اور یقینا یہاں ان دونوں کا نہ ہونا معلوم ہے (ت)
بحرالرائق وفتاوٰی خیریہ وحاشیہ طحطاویہ علی الدر المختار وردالمحتار میں ہے:واللفظ للعلامۃ الرملی المقرر ایضا عندنا انہ لا یفتی ولا یعمل الابقول الامام الاعظم ولایعدل عنہ الی قولھما اوقول احدھما اوغیرھما الا لضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کمسألۃ المزارعۃوان صرح المشایخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم ؎ اذاقالت حذام فصدقوھا فان القول ماقالت حذام
اور الفاظ علّامہ رملی کے ہیں ہمارے نزدیک بھی ثابت ہے کہ صرف امام اعظم رحمہ اللہ کے قول پر فتوٰی دیا جائے گا اور عمل کیا جائیگا اس سے صاحبین یا ان میں سے ایک یا کسی دوسرے کے قول کی طرف بغیر ضرورت متوجہ نہیں ہوں گے ضرورت جیسے کمزور دلیل یا اس کے خلاف تعامل کا پایا جانا جیسا کہ مسئلہ زراعت میں ہے اگرچہ مشائخ تصریح کریں کہ فتوٰی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ آپ (امام اعظم رحمہ اللہ) صاحبِ مذہب اور امام متقدم ہیں ؎
جب حذام کوئی بات کہے تو اس کی تصدیق کرو کیونکہ بات تو وہی ہے جو خدام نے کہی۔
۱؎(۱؎ فتاوٰی خیریۃ مطلب لایفتی بغیر قول ابی حنیفہ وان صححہ المشایخ مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت ۲/۳۳)
امام برہان الدین فرغانی صاحبِ ہدایہ تجنیس میں فرماتے ہیں: الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال ۲؎۔
میرے نزدیک واجب ہے کہ ہر حال میں امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے قول پر فتوٰی دیا جائے۔ (ت)
(۲؎ التجنیس والمزید)
اسی طرح اور کتب سے ثابت
وقدذکرناہ فی کتا النکاح من فتاوٰنا
(ہم نے اسے اپنے فتاوٰی کی کتاب النکاح میں ذکر کیا ہے۔ ت) تو واجب ہوا کہ طہارت عین ہی پر فتوے دیں اور اسی کو معمول ومقبول رکھیں۔
ثانیاً :یہی قول اکثر ہے ۔کمایظھر لمن یطالع نقولنا فی التطھیر مع ما ترکنا من الکثیر البشیر ویراجع نقول التنجس یجدھا لاتبلغ نصف ذلک ولاثلثہ وان شرط مع ذلک عدم الاضطراب فلا یبقی فی یدہ الا اقل قلیل کماستقف علیہ ان شاء اللّٰہ تعالی وقدقال فی الحلیۃ الکثیر علی انہ لیس بنجس العین ۳؎۔
جیسا کہ اس شخص کے لئے ظاہر ہے جو تطہیر کے بارے میں ہمارے نقول کا مطالعہ کرے باوجود کہ ہم نے بہت کچھ چھوڑ دیا ہے اور اس کے نجس ہونے کے بارے میں نقول کی طرف رجوع کرے تو انہیں ان (نقولِ تطہیر) کا نصف بلکہ تہائی بھی نہیں پائے گا۔ اور اس کے ساتھ عدمِ اضطراب کی شرط رکھی جائے تو اس کے ہاتھ میں بہت کم رہ جائیگی جیسا کہ تو عنقریب اس پر مطلع ہوگا ان شاء اللہ تعالٰی۔ اور حلیہ میں فرمایا کہ زیادہ روایات اس کے نجسِ عین نہ ہونے پر ہیں۔ (ت)
اور ثابت ومشہور ہے کہ معمول بہ وہی قول اکثر وجمہور ہے۔
فی ردالمحتار قدصرحوا بان العمل بماعلیہ الاکثر ۱؎ اھ۔
ردالمحتار میں ہے فقہاءِ کرام نے تصریح کی ہے کہ عمل اکثر کے اقوال پر ہوگا اھ۔
(۱؎ ردالمحتار ، فصل فی البئر ، مطبوعہ مصطفی البابی مصر ، ۱/۶۶)
وفی العقود الدریۃ عن شرح الاشباہ للبیری لایجوز لاحد الاخذ بہ لان المقرر عند المشایخ انہ متی اختلف فی مسألۃ فالعبرۃ بماقالہ الاکثر ۲؎۔
بیری کی شرح اشباہ کے حوالے سے العقود الدریہ میں ہے کہ اسے اختیار کرنا کسی کیلئے جائز نہیں کیونکہ مشائخ کے نزدیک یہ بات ثابت ہے کہ جب کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو اکثر کے قول کا اعتبار ہوگا۔ (ت)
ثالثا: يہی موافق احکام قرآن وحدیث ہے ۔کماعلمت وتعلم وقدقال فی الغنیۃ قبیل واجبات الصلاۃ لاینبغی ان یعدل عن الداریۃ اذاوافقتھا روایۃ ۳؎ اھ و مثلہ فی ردالمحتار۔
جیسا کہ تُونے جانا اور تجھے معلوم ہوجائیگا۔ اور غنیہ میں واجباتِ نماز سے کچھ پہلے فرمایا کہ جب روایت، درایت کے موافق ہوجائے تو اس سے رُوگردانی کرنا مناسب نہیں اھ ردالمحتار میں بھی اسی کی مثل ہے (ت)