Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
83 - 2323
الخامس: ماعزاہ للمنح مذکور ایضا فی الخانیۃ واعتمدہ واشار الی ضعف التفصیل حیث قال مانصہ الکلب اذا خرج من الماء وانتفض فاصاب ثوب انسان افسدہ قیل ان کان ذلک من ماء المطر لایفسدہ الا اذا اصاب المطر جلدہ وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفصل۲؎  اھ وقدصرح فی خزانۃ المفتین برمزق لقاضی خان ان شعر الخنزیر او الکلب اذاوقع فی الماء یفسدہ لانہ نجس العین ۳؎ ۔
پنجم: جو کچھ انہوں نے منح کی طرف منسوب کیا ہے وہ خانیہ میں بھی مذکور ہے انہوں نے اس پر اعتماد کیا اور تفصیل کے ضعف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ''کتا جب پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور وہ کسی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاک کردے گا کہا گیا کہ اگر یہ بارش کے پانی سے ہو تو اسے ناپاک نہیں کریگا مگر جب بارش اس کے چمڑے تک پہنچ جائے اور ظاہر روایت میں اطلاق ہے تفصیل نہیں ہے اھ اور خزانۃ المفتین میں ''ق'' کے ساتھ قاضی خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان سے نقل کیا کہ خنزیر یا کُتّے کے بال پانی میں گر جائیں تو اُسے خراب کردیتے ہیں کیونکہ وہ نجس عین ہے۔
 (۲؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی النجاسۃ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۱۱)

(۳؎ فتاوٰی قاضی خان        فصل فی مایقع فی البئر   مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۶)
لکن لقائل ان یقول اذابنیتم حکایۃ الوفاق علی الروایۃ المختارۃ للسراج فلاوجہ للردعلیہ بروایۃ اخری نعم لوذکر ماذکرنا عن الخانیۃ وبین ان الترجیح قداختلف وان التنجیس ظاھر الروایۃ فوجب اختیارہ وسقط الحکم بالوفاق معتمدا علی اختیار السراج لکان وجیھا وبعد اللتیا واللتی فحکایۃ الوفاق مدخولۃ لاشک لاجرم ان صرح فی متن الغرر بالتثلیث فقال والکلب نجس العین وقیل ل اوقیل جلدہ نجس وشعرہ طاھر ۱؎ اھ۔
لیکن کوئی قائل کہہ سکتا ہے کہ جب تم نے سراج کی مختار روایت پر حکایتِ اتفاق کی بنیاد رکھی ہے تو دوسری روایت کے ساتھ اسے رَد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے ہاں اگر وہ اس بات کا ذکر کرتے جو ہم نے خانیہ سے (نقل کرتے ہوئے) ذکر کی ہے اور بیان کرتے کہ ترجیح مختلف ہے اور ظاہر روایت کے مطابق اسے ناپاک قرار دیا ہے لہذا اسے اختیار کرنا واجب ہے اور سراج کے اختیار کے مطابق جس اتفاق کا حکم دیا گیا ہے وہ ساقط ہے تو اس بات کا کوئی وقار ہوتا، مختصر اور طویل گفتگو کے بعد اتفاق کی بات محلِ نظر ہوگئی۔ بلاشک وشبہہ غرر کے متن میں تثلیث کی تصریح کرتے ہوئے کہا ''اور کتا نجس عین ہے کہا گیا کہ نہیں ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ اس کا چمڑا ناپاک ہے بال پاک ہیں۔ (ت)
 (۱؎ درر شرح غرر    قبیل فصل بئردون عشر الخ    مطبعۃ احمد الکامل الکائنہ فی دار سعادۃ    ۱/۲۴)
واما الترجیح فاقول بوجوہ:  ترجیح: میں اس سلسلے میں کئی طرح سے گفتگو کروں گا:
اولاً :یہی قول امام ہے کماقدمہ السائل عن الدر المختار وقدمناہ عن القھستانی والطحطاوی۔
اول: یہی قول امام ہے جیسا کہ سائل نے اس سے پہلے درمختار سے نقل کیا ہے، اور ہم نے قہستانی اور طحطاوی سے (نقل کرتے ہوئے) اس سے پہلے بیان کیا ہے (ت)
نظم الفرائد میں ہے: ؎ وعندھما عین الکلاب نجاسۃ وطاھرۃ قال الامام المطھر ۲؎
اور ان دونوں (صاحبین) کے نزدیک کتے کا عین ناپاک ہے، اور امام پاک (ابوحنیفہ رحمہ اللہ) نے فرمایا پاک ہے۔ (ت)
(۲؎ نظم الفرائد)
حلیہ میں ہے: مشی علیہ فی الحاوی القدسی ۱؎۔
حاوی قدسی میں یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
 ( ۱؎ حلیہ شرح منیۃ المصلی)
اسی میں ہے: فی النھایۃ وغیرھا عن المحیط الکلب اذاوقع فی الماء فاخرج حیا ان اصاب فمہ یجب نزح جمیع الماء وان لم یصب فمہ الماء فعلی قولھما یجب نزح جمیع الماء وعلی قول ابی حنیفۃ لاباس وقال ھذا اشارۃ الی ان عین الکلب لیس بنجس ۲؎۔
 (۲؎ حلیہ شرح منیۃ المصلی)
نہایہ وغیرہ میں محیط سے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں گِر جائے اور زند نکال لیا جائے اگر اس کا منہ پانی تک پہنچا ہے تو تمام پانی نکالا جائے، اور اگر منہ پانی تک نہیں پہنچا تو صاحبین کے قول پر تمام پانی نکالا جائے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک کوئی حرج نہیں اور فرمایا کہ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ کتا نجس عین نہیں۔ (ت)
اسی طرح تجرید القدوری میں ۳؎ ہے کمانقلہ عنہ ایضا فی الحلیۃ
(جیسے کہ انہوں نے اسے حلیہ میں بھی ان سے نقل کیا۔ ت)
 (۳؎ تجریدی القدوری)
بحرالرائق میں ہے: قال فی القنیۃ رامز المجد الائمۃ وقداختلف فی نجاسۃ الکلب والذی صح عندی من الروایات فی النوادر والامالی انہ نجس العین عندھما وعند ابی حنیفۃ لیس بنجس العین ۴؎۔
قنیہ میں مجد الائمہ کے حوالے سے بتایا کہ کتے کے نجس ہونے میں اختلاف ہے اور نوادر وامالی کی روایات میں سے جو کچھ میرے نزدیک صحیح ہے وہ یہ ہے کہ صاحبین کے نزدیک نجس عین ہے اور امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
(۴؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۲)
اور کچھ روایتیں امام محمد سے بھی اس کے موافق آئیں:
فی الحلیۃ عن الخانیۃ عن الناطفی انہ اذاصلےیعلی جلد کلب اوذئب قدذبح جازت صلاتہ۱؎۔
حلیہ میں بحوالہ خانیہ ناطفی سے نقل کیا ہے کہ جب کسی نے مذبوح کتّے یا بھیڑیے کی کھال پر نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے۔ (ت)
(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
بحرالرائق میں عقد الفوائد سے ہے: لایخفی ان ھذہ الروایۃ تفید طھارۃ عینہ عند محمد ۲؎ الخ۔
مخفی نہیں کہ یہ روایت امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی ذاتی طہارت کا فائدہ دیتی ہے (ت)
 (۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۲)
منیہ میں ہے: روی عن محمد امرأۃ صلت وفی عنقھا قلاوۃ علیھا سن اسد او ثعلب اوکلب جازت صلاتھا ۳؎ اھ قال شارحھا العلامۃ ابرھیم کون الروایۃ عن محمد لاینافی کونھا اتفاقیۃ ففی الفتاوٰی ذکرھا مطلقا والدلیل یدل علیہ ۴؎ اھ
حضرت امام محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے ایک عورت نے گلے میں ایسا ہار ڈال کر نماز پڑھی جس میں شیر، لومڑی یا کتے کے دانت (جڑے ہوئے) تھے تو اس کی نماز جائز ہے اھ اس کے شارح ابراہیم نے فرمایا اس روایت کا امام محمد رحمہ اللہ سے مروی ہونا اس کے اتفاقی ہونے کے منافی نہیں فتاوٰی میں اسے مطلقاً ذکر کیا گیا ہے اور دلیل بھی اس پر دلالت کرتی ہے۔ (ت)
 (۳؎ منیۃ المصلی    فصل فی النجاسۃ    مطبوعہ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۱۱۰)

(۴؎ غنیۃ المستملی     فصل فی النجاسۃ	مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۵۵)
اقول: نعم اطلقھا فی الخانیۃ والخلاصۃ والولوالجیۃ وغیرھا وقداسمعناک نص الخلاصۃ وھو بعینہ لفظ الخانیۃ والولوالجی عزاھا لہ فی الحلیۃ لکن الاطلاق لایدل علی الاتفاق فربما یطلق المطلق مایختارہ وان کانت ھناک خلافات عدیدۃ ورأیتنی کتبت علی ھامشہ مانصہ۔
اقول :ہاں خانیہ، خلاصہ اور ولوالجیہ وغیرہ نے اس کو مطلق ذکر کیا ہے ہم نے تمہیں خلاصہ کی عبارت سنائی تھی خانیہ کے الفاظ بھی بعینہٖ یہی ہیں اور حلیہ میں اسے ولوالجی کی طرف منسوب کیا گیا ہے لیکن اطلاق، اتفاق پر دلالت نہیں کرتا بسااوقات اپنے مختار کو مطلق قرار دیا جاتا ہے اگرچہ وہاں متعدد اختلافات ہوتے ہیں میرا خیال ہے کہ میں نے اس کے حاشیے پر لکھا ہے جس کی عبارت یہ ہے۔
اقول: کیف تکون اتفاقیۃ مع ان المنقول من الثانی المشہور عن الثالث نجاسۃ عین الکلب وقدصححہ جماعۃ وان کان الاصح المعتمد المفتی بہ ھی الطھارۃ ۱؎ اھ نعم ھو صحیح بالنسبۃ الی ماعدا الکلب من السباع المذکورۃ وامثالھا۔
اقول :(میں کہتا ہوں) یہ کیسے اتفاقی ہوگا حالانکہ ثانی سے منقول اور ثالث سے مشہور ہے کہ کتا نجس عین ہے۔ ایک جماعت نے اس کی تصحیح کی اگرچہ زیادہ صحیح، معتمد علیہ اور مفتی بہ، طہارت ہی ہے اھ ہاں یہ کتے کے علاوہ دیگر مذکورہ بالا درندوں اور ان کی امثال کی طرف نسبت کرتے ہوئے صحیح ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۱)
بلکہ امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی سے بھی بعض فروع اسی طرف جاتی ہیں۔
وقدقرأنا علیک عن الانقروی عن الزاھدی عن الدبوسی فی مواطئ الکلاب فی الطین ان طھارتھا ھی الروایۃ الصحیحۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا وھذہ کتب المذھب طافحۃ بتصریح جواز بیع الکلب وحل ثمنہ وانما ذکروا الخلف فی بیع العقود فعن محمد جوازہ وعن ابی یوسف منعہ واطلاق الاصل یؤید الاول وعلیہ مشی القدوری وغیرہ وصحح شمس الائمۃ الثانی فقال انما لا یجوز بیع الکلب العقور الذی لایقبل التعلیم وقال ھذا ھو الصحیح من المذھب ۲؎ کمانقلہ فی الفتح ۔
ہم نے بواسطہ انقروی اور زاہدی، دبوسی سے نقل کرتے ہوئے کیچڑ میں کتوں کی گزرگاہ کے بارے میں تمہیں بتایا ہے کہ اس کا پاک ہونا ہی صحیح روایت ہے اور ہمارے اصحاب سے منصوص روایات کے قریب ہے اور یہ کتبِ مذاہب کتے کی خریدوفروخت کے جواز اور اس کی قیمت حلال ہونے سے متعلق تصریح سے بھری پڑی ہیں البتہ کاٹنے والے کتّے کے بارے میں ان کا اختلاف ہے۔ پس امام محمد رحمہ اللہ سے اس کا جواز اور امام ابویوسف رحمہ اللہ سے عدمِ جواز منقول ہے۔ اصل (مبسوط) کا اطلاق پہلی بات کی تائید کرتا ہے، قدوری وغیرہ نے یہی راہ اختیار کی ہے جبکہ شمس الائمہ نے دوسری بات کو صحیح قرار دیا ہے انہوں نے فرمایا کاٹنے والا کتّا جو تعلیم کو قبول نہیں کرتا اس کی خریدوفروخت جائز نہیں اور فرمایا کہ صحیح مذہب یہی ہے جیسا کہ فتح القدیر میں اسے نقل کیا ہے۔
 (۲؎ فتح القدیر        مسائل منثورہ من باب البیع    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۶/۳۴۵)
Flag Counter