اس کے طاہر عین ہونے کا قول ہی زیادہ صحیح ہے اھ ۔تلخیص،
(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر ،کتاب الطہارۃ ، مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/۱۰۲)
مرقاۃ(۴۹) میں زیرحدیث اذادبغ الاھاب فقدطھر
(جب چمڑے کو دباغت دی جائے تو وہ پاک ہوجاتا۔ ت)
علامہ ابن(۵۰) ملک سے نقل فرمایا: ھذا بعمومہ حجۃ علی الشافعی فی قولہ جلد الکلب لایطھر بالدباغ واستشنی من عمومہ الاٰدمی تکریمالہ والخنزیر لنجاسۃ عینہ ۳؎۔
یہ (حدیث) اپنے عموم کے ساتھ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول میں کہ کتّے کا چمڑا دباغت سے پاک نہیں ہوتا ان کے خلاف حجت ہے اس کے عموم کی وجہ سے آدمی کو اس کی عزّت واحترام کے پیشِ نظر اور خنزیر کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنٰی کیا گیا ہے۔ (ت)
(۳؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ فصل اول من باب تطہیر النجاسات مکتبہ امدادیہ ملتان ۲/۷۰)
یہ پچاس۵۰ ہیں ان میں اگرچہ ضمناً ہدایہ ودُرمختار واتقانی ومراقی ونہر کا بھی ذکر آیا مگر یہ کلام زید میں معدود ہوچکی تھیں لہذا انہیں شمار نہ کیا۔
وانمالم نعد السراج الوھاج لانہ وان نقل عن الذخیرۃ مامرلکنہ ذکر، ان جلد الکلب نجس وشعرہ طاھر ھوالمختار ۴؎ اھ
ہم سراج وہاج کو شمار نہیں کرتے کیونکہ اگرچہ اس نے ذخیرہ سے نقل کیا جیسا کہ گزرگیا لیکن اس نے ذکر کیا کہ کتے کا چمڑا ناپاک اور اس کے بال پاک ہیں۔ یہی مختار ہے اھ۔
وھذا قول ثالث ذکرہ الولوالجی وغیرہ واعتمدہ الفقیہ ابواللیث فی فتاواہ وحکاہ فی العیون عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان الکلب اذادخل الماء فانتفض فاصاب ثوبا افسدہ ولواصابہ مطرلالان فی الاول اصاب الماء جلدہ وجلدہ نجس وفی الثانی شعرہ وشعرہ طاھر ۱؎۔
یہ تیسرا قول ہے جسے ولوالجی وغیرہ نے ذکر کیا اور فقیہ ابواللیث نے اپنے فتاوٰی میں اس پر اعتماد کیا اور عیون میں امام ابویوسف رحمہ اللہ سے نقل کیا کہ کتا جب پانی میں داخل ہوکر اپنے آپ کو جھاڑے اور اس سے کپڑے پر چھینٹے پڑجائیں تو کپڑے کو ناپاک کردے گا اور اگر اسے بارش پہنچے تو کپڑا خراب نہیں ہوگا، کیونکہ پہلی صورت میں پانی اس کے چمڑے کو پہنچا اور اس کا چمڑا ناپاک ہے جبکہ دوسری صورت میں پانی اس کے بالوں کو پہنچا اور اس کے بال پاک ہیں۔
(۱؎ درر شرح غرر قبیل فصل بئر مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ ۱/۲۴)
لیس فیہ ان القائلین بنجاسۃ العین متفقون علی طھارۃ الشعر کماظنہ البحر حیث قال بعد ذکرطھرہ لایخفی ان ھذا علی القول بنجاسۃ عینہ ویستفادمنہ ان الشعر طاھر علی القول بنجاسۃ عینہ لماذکر فی السراج الوھاج ۲؎ الخ۔
اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس کے نجس عین ہونے کا قول کرنے والے بالوں کی طہارت پر متفق ہیں جیسا کہ صاحبِ بحرالرائق نے گمان کیا جب اس کی طہارت کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا مخفی نہ رہے کہ یہ بات، اس کے نجس عین ہونے کے قول پر مبنی ہے اور اس سے مستفاد ہے کہ نجاست ذاتی کا قول کرنے کی صورت میں بھی بال پاک ہیں، جیسا کہ سراج وہاج میں ذکر کیا گیا الخ۔
(۲؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۰۲)
ثم قال بعد کلام طویل علم مماقررناہ انہ لایدخل فی قول من قال بنجاسۃ عین الخنزیر ۳؎ الخ وتبعہ الشرنبلالی ثم الدر ثم ابوالسعود وھذا نظم الدر لاخلاف فی نجاسۃ لحمہ وطھارۃ شعرہ ۴؎ اھ
پھر طویل کلام کے بعد فرمایا اس چیز سے جس کو ہم نے ثابت کیا، معلوم ہوا کہ جو شخص کتّے کے نجس عین ہونے کا قائل ہے اس کے قول میں بال داخل نہیں بخلاف ان کے اس قول کے کہ خنزیر نجسِ عین ہے (یعنی اس کے بال بھی ناپاک ہیں الخ شرنبلالی پھر دُرمختار اور ابوالسعود نے اس کی اتباع کی درمختار کی عبارت یہ ہے کہ ''اس کے گوشت کے ناپاک اور بالوں کے پاک ہونے میں کوئی اختلاف نہیں'' اھ
(۳؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۱۰۳)
(۴؎ درمختار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۸)
قال السید العلامۃ فی ردالمحتار یفھم من عبارۃ السراج ان القائلین بنجاسۃ عینہ اختلفوا فی طھارۃ شعرہ والمختار الطھارۃ وعلیہ یبتنی ذکر الاتفاق لکن ھذا مشکل لان نجاسۃ عینہ تقتضی نجاسۃ جمیع اجزائہ ولعل ما فی السراج محمول علی ما اذا کان میتا لکن ینافیہ ما مر عن الولوالجیۃ نعم قال فی المنح وفی ظاھر الروایۃ اطلق ولم یفعل ای انہ لوانتفض من الماء فاصاب ثوب انسان افسدہ سواء کان البلل وصل الی جلدہ اولا وھذا یقتضی نجاسۃ شعرہ فتأمل ۱؎ اھ
سید علامہ (ابن عابدین) نے ردالمحتار میں فرمایا سراج کی عبارت سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی ذاتی نجاست کے قائلین کا اس کے بالوں کی طہارت میں اختلاف ہے اور مختار، طہارت ہے اور اسی پر ذکر اتفاق کی بنیاد ہے۔ لیکن یہ مشکل ہے کیونکہ اس کا نجس عین ہونا تمام اجزاء کی نجاست کا تقاضا کرتا ہے اور شاید جو کچھ سراج میں ہے وہ اس کے مُردہ ہونے کی صورت پر محمول ہو لیکن جو کچھ ولوالجیہ سے گزرا ہے وہ اس کے منافی ہے ہاں المنح میں فرمایا ''اور ظاہر روایت میں مطلقاً ہے تفصیل سے بیان نہیں کیا یعنی اگر وہ پانی سے نکل کر اپنے آپ کو جھاڑے اور پانی انسان کے کپڑے کو لگ جائے تو اسے ناپاک کردے گا برابر ہے رطوبت اس کے چمڑے تک پہنچے یا نہ، اور یہ بات اس کے بالوں کی نجاست کا تقاضا کرتی ہے پس غور کرو اھ۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب المیاہ مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۹)
اقول: فیہ بحث من وجوہ۔ اقول: اس میں کئی وجوہ سے بحث ہے:
الاول: ضمیر ھو المختار فی عبارۃ السراج کما یحتمل رجوعہ الی کل من نجاسۃ الجلد وطھارۃ الشعر کذلک الی الکل اعنی المجموع من حیث ھومجموع فیکون المعنی ان قول القائل بان جلدہ نجس وشعرہ طاھر ھو المختار دون قول من یقول بطھارۃ الجمیع وح یکون التصحیح ناظرا الی ھذا القول الثالث ولایفھم خلافا بین قائلی النجاسۃفی طہارۃ الشعر۔
اول: سراج کی عبارت میں ''ھوالمختار کی ''ھو'' ضمیر جیسے ''نجاسۃ الجلد'' اور ''طہارۃ الشعر'' میں سے ہر ایک کی طرف رجوع کا احتمال رکھتی ہے اسی طرح وہ کل یعنی مجموعے کی طرف اس حیثیت سے کہ وہ دونوں کا مجموعہ ہے لَوٹنے کا احتمال بھی رکھتی ہے۔ پس معنٰی یہ ہوگا کہ قائل کا قول ''اس کا چمڑا ناپاک اور بال پاک ہیں'' یہی مختار ہے نہ اس کا قول جو دونوں کی طہارت کا قائل ہے اور اس وقت تصحیح اس تیسرے قول کی طرف متوجہ ہوگی اور نجاست (کتے کے نجس عین ہونے) کے قائلین کے درمیان بالوں کی طہارت میں اختلاف نہیں سمجھا جائے گا۔
الثانی :ظاھر کلامی البحر والدر لا یدخل ولاخلاف لکونھما نکرۃ او فی معناھا داخلین تحت النفی ناطق بنفی الخلاف اصلا وآب عن البناء علی روایۃ دون اخری ولاحاجۃ الیہ علی ما قررنا عبارۃ السراج کما تری۔
دوم: البحرالرائق اور درمختار کا ظاہر کلام ''لایدخل'' اور ''لاخلاف'' نکرہ یا اس کے حکم میں ہیں جو نفی کے تحت داخل ہوکر اختلاف کی بالکل نفی کرتا ہے اور اس بات سے انکار کرتا ہے کہ یہ ایک روایت پر مبنی ہو دوسرے پر نہ ہو اور اس کی حاجت بھی نہیں جیسا کہ ہم نے سراج کی عبارت سے ثابت کیا جس طرح تم دیکھ رہے ہو۔
الثالث :لاغرو فی حمل الکلب علی المیت الغیر المذکی والجلد علی غیر المدبوغ فلر بما تترک امثال القیود اعتمادا علی معرفتہا فی مواضعہا ولذا لما قال فی المنیۃ وفی البقال قطعۃ جلد کلب التزق بجراحۃ فی الرأس یعید ماصلی بہ ۱؎ اھ
سوم :کتّے سے مراد غیر مذبوح اور چمڑے سے بغیر دباغت چمڑا مراد لینا تعجب خیز بات نہیں کیونکہ بعض اوقات امثال قیود کو ان کے مقام میں حصول معرفۃ پر اعتماد کرتے ہوئے چھوڑ دیا جاتا ہے اسی لئے جب منیہ نے کہا کہ بقالی میں ہے کتّے کے چمڑے کا ٹکڑا سر میں زخم کے ساتھ چمٹ گیا تو پڑھی گئی نماز لوٹائے اھ۔
فسرہ العلامۃ الشارح ابرھیم الحلبی ھکذا جلد کلب ای غیر مدبوغ ولامذکی یعید ما صلی بہ ای بذلک الجلد اذاکان اکثر من قدر الدرھم وحدہ اوبانضمام نجاسۃ اخری وھذا ظاھر ۲؎ اھ۔
علامہ شارح ابراہیم حلبی نے اس کی وضاحت یوں کی کہ اسی طرح کہ کتّے کا چمڑا یعنی جسے دباغت نہ دی گئی ہو اور نہ اس (کتّے) کو ذبح کیا گیا اس چمڑے کے ساتھ جو نماز پڑھی ہے اسے لوٹائے جبکہ وہ تنہا (چمڑا) ایک درہم سے زائد ہو یا اس کے ساتھ دوسری نجاست ملی ہوئی ہو اور یہ ظاہر ہے اھ۔
وح لاملمح لکلام السراج الی قول نجاسۃ العین کما افاد ھو رحمہ اللّٰہ تعالٰی ولایعکر علیہ بمنافاتہ لما ذکر الولوالجی کما لا یخفی فانہ وان نافاہ فقد وافق لاصح الارجح ولیس السراج ھھنا فی بیان کلام الولوالجی حتی یجب التوافق بینھما۔
اس وقت سراج کے کلام میں نجاست عین کے قول کی طرف اشارہ نہیں ہوگا جیسا کہ انہوں (صاحب بحر) نے بتایا اور نہ ہی ان پر یہ الزام ہوگا کہ یہ ولوالجی کے کلام کے منافی ہے جیسا کہ مخفی نہیں کیونکہ وہ اگر اس کے منافی ہو تب بھی یہ اس کے موافق ہے جسے ترجیح دے کر اصح قرار دیا گیا ہے اور سراج یہاں ولوالجی کے کلام کے درپے نہیں کہ ان دونوں کے درمیان موافقت واجب ہو۔
الرابع: ھب ان نجاسۃ العین تقتضی نجاسۃ جمیع الاجزاء لکن لقائل ان یقول لا بدع فی استشناء الشعر الا تری ان الخنزیر نجس العین باتفاق مذھب اصحابنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ومع ذلک محمد یقول بطھارۃ شعرہ ففی الخلاصۃ من الفصل السابع من کتاب الطہارۃ شعر الخنزیر اذا وقع فی البئر علی الخلاف عند محمد لاینجس لان حل الانتفاع یدل علی طھارتہ وعند ابی یوسف ینجس لانہ نجس العین ویجوز الخرز بہ للضرورۃ ۱؎ اھ۔
چہارم: عین نجاست کا تمام اجزاء کی نجاست کا مقتضٰی ہونا مسلم ہے لیکن قائل کہہ سکتا ہے کہ بالوں کا استشناء کوئی نئی بات نہیں، کیا تم نہیں دیکھتے کہ ہمارے تینوں اصحاب (احناف) رضی اللہ عنہم خنزیر کے نجس عین ہونے پر متفق ہیں لیکن اس کے باوجود امام محمد رحمہ اللہ اس کے بالوں کی طہارت کے قائل ہیں، خلاصہ میں طہارت کی ساتویں فصل میں ہے کہ خنزیر کے بال کنویں میں گر جائیں تو اس میں اختلاف ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک پانی ناپاک نہیں ہوگا کیونکہ انتفاع کا جائز ہونا اس کی طہارت پر دلالت کرتا ہے امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ناپاک ہوجائے گا کیونکہ وہ نجس عین ہے اور اس کے ساتھ سلائی کرنا ضرورت کے تحت جائز ہے اھ۔
(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی فصل سابع من کتاب الطہارۃ مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ۱/۴۴)
وفی الغرر لمولی خسرو شعر المیتۃ طاھر وکذا شعر الخنزیر عند محمد قال فی الدرر لضرورۃ استعمالہ فلا ینجس الماء بوقوعہ فیہ وعند ابی یوسف نجس فینجس الماء ۲؎ اھ۔
(۲؎ درر شرح غرر ، قبیل فصل بئر ، مطبعۃ احمد کامل الکائنہ فی دار سعادۃ، ۱/۲۴)
مولٰی خسرو کی غرر میں ہے کہ مردار کے بال پاک ہیں۔ اسی طرح امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک خنزیر کے بال بھی پاک ہیں الدرر میں ''ضرورتِ استعمال کے لئے'' فرمایا پس اس کے گرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوگا۔ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وہ نجس ہے پس پانی بھی ناپاک ہوجائیگا۔ اھ (ت)