Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
80 - 2323
یہی قول امام صدر(۲۶)شہید کا مختار ہے، کمافی الطحطاوی علی الدر وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن شرح الطحاوی ان الکلب لیس بنجس العین ۳؎ وھو اختیار الصدر الشھید۔
جیسا کہ درمختار کی شرح طحطاوی میں اور حلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے شرح طحاوی سے منقول ہے کہ کُتّا نجسِ عین نہیں ہے صدر الشہید کا مختار قول بھی یہی ہے۔ (ت)
 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار     باب المیاہ        مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت    ۱/۱۱۴)
اُسی میں تحفہ(۲۳) الفقہاء امام علاء الدین سمرقندی ومحیط(۲۴) امام رضی الدین وبدائع امام(۲۵) العلماء ابوبکر مسعود کاشانی رحمہم اللہ تعالٰی سے ہے:
الصحیح انہ لیس بنجس العین ۴؎۔
صحیح بات یہ ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
 (۴؎ بدائع الصنائع         فصل فی طہارۃ الحقیقیۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۳)
اسی میں ہے: وفی موضع آخر من البدائع وھذا اقرب القولین الی الصواب انتھی ومشی علیہ غیر واحد من المشایخ ۵؎۔
بدائع میں دوسرے مقام پر ہے کہ یہ قول صحت کے زیادہ قریب ہے اھ اکثر مشائخ نے یہی راہ اختیار کی ہے۔ (ت)
 (۵؎ بدائع الصنائع  فصل اما بیان المقدار الذی الخ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/۷۴)
علامہ ابراہیم حلبی غنیہ(۲۶) شرح منیہ میں فرماتے ہیں:
الذی تقتضیہ الدرایۃ عدم نجاسۃ عینہ لماقال صاحب الھدایۃ ولعدم الدلیل علی نجاسۃ العین والاصل عدمھا والدلیل الدال علی نجاسۃ سؤرہ لایقتضی نجاسۃ عینہ ۱؎۔
درایت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس کا عین ناپاک نہیں جیسا کہ صاحب ہدایہ نے فرمایا نیز اس کے نجس ہونے پر کوئی دلیل نہیں اور اصل چیز عدم ہے اور وہ دلیل جو اس کے جھُوٹے کے ناپاک ہونے پر دلالت کرتی ہے وہ اس کے نجس ہونے کی مقتضی نہیں ہے۔ (ت)
 (۱؎ غنیۃ المستملی            فصل فے البئر    مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۵۹)
صغیری(۲۷) میں فرمایا: جروالکلب اذاجلس علیہ بنفسہ فعلی الروایۃ الصحیحۃ ینبغی ان تجوز صلاتہ لانہ غیر حاصل للنجاسۃ ۲؎ اھ ملخصا۔
 (۲؎ صغیری شرح منیۃ المصلی        فصل فی الآسار    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ص۱۰۷)
اگر اس (نمازی) پر کتے کا بچہ خود بخود بیٹھ جائے تو صحیح روایت کے مطابق مناسب ہے کہ اس کی نماز جائز ہو کیونکہ وہ نجاست اٹھائے ہوئے نہیں ہے اھ ملخصا (ت)
علامہ شرنبلالی تیسیر(۲۸) المقاصد شرح نظم الفرائد میں فرماتے ہیں: الکلب لیس نجس العین فی الاصح ۳؎۔
اصح قول کے مطابق کتا نجسِ عین نہیں ہے۔ (ت)
 (۳؎تيسر المقاصد شرح نظم الفرائد)
حاشیہ طحطاویہ علی الدر میں ہے: علی القول بان الکلب لیس بنجس العین لاینجسہ اذالم یصل فمہ الماء وھو الاصح ۴؎۔
اس قول کی بنیاد پر کہ کتا نجسِ عین نہیں ہے وہ پانی (وغیرہ) کو ناپاک نہیں کرے گا جب تک اس کا منہ پانی تک نہ پہنچے، یہی زیادہ صحیح ہے۔ (ت)
 (۴؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر     باب المیاہ   مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت   ۱/۱۱۷)
اُسی میں کتاب التجنیس(۳۰) والمزید للامام برہان الدین الفرغانی سے ہے:
انہ الاصح ۵؎
 (یہی زیادہ صحیح ہے۔ ت)
 (۵؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر        باب المیاہ        مطبوعہ دار المعرفۃ بیروت     ۱/۱۱۴)
بزازیہ(۳۱) میں اسی سے یوں ہے: ھو الصحیح ۶؎ (وہی صحیح ہے۔ ت)
 (۶؎ فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ    السادس فی ازالۃ الحقیقیۃ، نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۲۱)
نیز وجیز میں جامع صغیر(۳۲) سے ہے:
جلدہ یطہر بالدباغ عندنا ۱؎۔
ہمارے نزدیک اس کا (کتے کا) چمڑا دباغت سے پاک ہوجاتا ہے۔ (ت)
 (۱؎ فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ السادس فی ازالۃ الحقیقیۃ ،نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/۲۱)
اُسی میں نصاب(۳۳) سے ہے: ان کان الجرو مشدود الفم تجوز اھ یعنی صلاۃ حاملہ ۲؎۔
اگر کتے کے بچے کا منہ باندھا ہوا ہو تو (نماز) جائز ہے اھ یعنی اُسے اٹھانے والے کی نماز جائز ہے۔ (ت)
 (۲؎ فتاوی بزازیۃ علٰی حاشیۃ فتاوٰی ہندیۃ   السابع فی النجس    نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/۲۱)
مجموعہ علامہ(۳۴) انقروی میں ہے:
سنہ لیس بنجس ۳؎
(اس کا دانت ناپاک نہیں ہے۔ ت)
 (۳؎ فتاوٰی انقرویہ ، کتاب الطہارۃ    دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان     ۱/۴)
اسی میں بحوالہ قنیہ(۳۵) امام اجل ابونصر دبوسی(۳۶) سے ہے: طین الشارع ومواطئ الکلاب فیہ طاھر الا اذارأی عین النجاسۃ قال وھو الصحیح من حیث الروایۃ وقریب المنصوص عن اصحابنا ۴؎۔
راستے کا کیچڑ اور اس میں کتوں کی گزرگاہ پاک ہے مگر جب اس میں عینِ نجاست دیکھے۔ فرمایا روایت کے اعتبار سے یہی صحیح ہے اور ہمارے اصحاب کی تصریح کے قریب ہے۔ (ت)
 (۴؎ فتاوٰی انقرویہ    کتاب الطہارۃ    دار الاشاعۃ العربیۃ قندھار افغانستان     ۱/۴)
اسی طرح طریقہ محمدیہ(۳۷) میں مجمع الفتاوٰی(۳۸) سے ہے۔ خلاصہ(۳۹) میں ہے:
لوصلی وفی عنقہ قلادۃ فیھا من کلب اوذئب تجوز صلاتہ ۵؎۔
اگر کسی آدمی نے نماز پڑھی اور اس کی گردن میں ایک ہار تھا جس میں کتّے یا بھیڑئیے سے کوئی چیز تھی (مثلاً بال وغیرہ) تو اس کی نماز جائز ہے (ت)
 (۵؎ خلاصۃ الفتاوی، الفصل السابع، مطبوعہ نولکشور لکھنؤ ، ۱/۴۴)
اسی طرح اس مذہب مہذب کی تصحیح وترجیح اور اس پر جزم واعتماد بنا وتفریع شراح ہدایہ مثل علامہ(۴۰) قوام الدین کاکی وعلامہ(۴۱) سغناقی صاحبِ نہایہ وغیرہما وعقد الفوائد شرح نظم الفرائد (۴۲)للعلامۃ ابن الشحنۃ وامام اسبیجابی شارح مختصر طحاوی(۴۳) وذخیرۃ(۴۴) وتوشیح شرح الہدایہ(۴۵) للعلامۃ السراج الہندی وتجرید(۴۶) وعمدۃ المفتی(۴۷) وغیرہا سے ثابت۔
بحرالرائق میں ہے: صحح فی الھدایۃ طھارۃ عینہ وتبعہ شارحوھا کالاتقانی والکاکی والسغناقی ۱؎۔
ہدایہ میں اس کی ذاتی طہارت کو صحیح قرار دیا گیا ہے اور اس کے شارحین جیسے اتقانی، کاکی اور سغناقی نے بھی اسی کی پیروی کی ہے۔ (ت)
(۱؎ البحرالرائق ،  کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۱)
اُسی میں ہے: وقدصرح فی عقد الفوائد شرح منظومۃ ابن وھبان بان الفتوی علی طھارۃ عینہ ۲؎۔
ابن وہبان کی منظوم شرح عقد الفرائد میں تصریح کی گئی ہے کہ فتوی اس کی ذاتی طہارت پر ہے۔ (ت)۲
 (؎ البحرالرائق  کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۱)
اُسی میں ہے: قال القاضی الاسبیجابی واما الکلب یحتمل الذکاۃ والدباغۃ فی ظاھر الروایۃ خلافا لماروی والحسن ۳؎۔
قاضی اسبیجابی نے کہا ظاہر روایت کے مطاق کتّا ذبح اور دباغت کا احتمال رکھتا ہے یہ حسن کی روایت کے خلاف ہے (ت)
( ۳؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/۱۰۲)
اُسی میں ہے: ذکر فی السراج الوھاج معزیا الی الذخیرۃ اسنان الکلب طاھرۃ واسنان الاٰدمی نجسۃ لان الکلب یقع علیہ الذکاۃ بخلاف الخنزیر والاٰدمی اھ ولایخفی ان ھذاکلہ علی القول بطھارۃ عینہ لانہ عللہ بکونہ یطھر بالذکاۃ ۴؎۔
السراج الوہاج میں، ذخیرہ کے حوالے سے ذکر کیا گیا کہ کتّے کے دانت پاک ہیں اور آدمی کے دانت ناپاک ہیں کیونکہ کتّے کو ذبح کیا جاسکتا ہے نہ کہ خنزیر اور آدمی کو اھ مخفی نہیں کہ یہ تمام باتیں اس کی ذاتی طہارت کے قول کی بنیاد پر ہیں کیوں کہ انہوں نے اس کی علّت یہ بیان کی ہے کہ وہ ذبح کے ساتھ پاک ہوجاتا ہے۔ (ت)
 (۴؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/۱۰۳)
اُسی میں ہے: ذکر السراج الھندی فی شرح الھدایۃ معزیا الی التجرید ان الکلب لواتلفہ انسان ضمنہ ویجوزبیعہ وتملیکہ وفی عمدۃ المفتی لواستأجر الکلب یجوز ۱؎۔
السراج الہندی نے ہدایہ کی شرح میں تجرید کی طرف منسوب کرتے ہوئے ذکر کیا کہ اگر کوئی شخص کسی کتے کو مارے دے تو ضامن ہوگا اور اس کا بیچنا اور اس کا مالک بنانا جائز ہے۔ عمدۃ المفتی میں ہے کتّا اُجرت پر لینا جائز ہے۔ (ت)
 (۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۰۳)
Flag Counter