اس کلیہ سے صرف یہی دو استشنا فرماتے ہیں استشناے کلب کا اصلاً پتا نہیں دیتے ولہذا علامہ زین العلماء نے البحرالرائق(۱۳) پھر علامہ حسن شرنبلالی نے غنیہ(۱۳) ذوی الاحکام میں تبعا للمحق علی الاطلاق فی الفتح فرمایا:
الذی یقتضیہ عموم مافی المتون کالقدوری والمختار والکنز طھارۃ عینہ ولم یعارضہمایوجب نجاستھا فوجب احقیۃ تصحیح عدم نجاستھا ۱؎ الخ۔
متون مثلاً مختصر القدوری، المختار اور کنزالدقائق کا عموم اسی بات کا مقتضی ہے کہ اس (کتّے) کا عین پاک ہے اور ایسی کوئی چیز معارض نہیں جو اس کی نجاست کو واجب کرتی ہو لہذا اس کی طہارت کا زیادہ حق ہونا ثابت ہوا۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب ماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر ۱/۸۳)
علامہ سید ابوسعود ازہری نے فتح اللہ(۱۴) المعین میں فرمایا: قولہ وکل اھاب مقتضی ھذہ الکلیۃ طھارۃ جلد الکلب بالدباغ بناء علی ماھو المفتی بہ من انہ لیس بنجس العین ۲؎۔
اس کا قول ''وکل اھاب'' (اور ہر چمڑا) ایک ایسا کلیہ ہے جس کے مطابق کتّے کا چمڑا بھی دباغت کے ذریعے پاک ہوجاتا ہے اس کی بنیاد وہ مفتٰی بہ قول ہے کہ یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
(۲؎ فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
اسی میں حکم قیل بیان کرکے فرمایا:
وکذا الکلب ایضا علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۳؎۔
کُتّے کا بھی یہی حکم ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی طہارتِ ذاتی پر فتوٰی ہے اگرچہ ان (فقہاءِ کرام) میں سے بعض نے نجاست کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
(۳؎ فتح اللہ المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/۷۱)
امام ابوالبرکات عبداللہ محمود نسفی کافی(۱۵) شرح وافی میں فرماتے ہیں:
کتا نجس عین نہیں کے کیونکہ حفاظت اور شکار کے لئے اس سے نفع حاصل کیا جاتا ہے لہذا وہ چیتے کی طرح ہے پس دباغت سے پاک ہوجائے گا۔ (ت)
(۴؎ کافی شرح وافی)
اسی طرح مستخلص(۱۶) الحقائق میں ہے۔ امام(۱۷) زیلعی تبیےن(۱۸) الحقائق پھر علّامہ شرنبلالی غنیہ میں فرماتے ہیں:
فی الکلب روایتان بناء علی انہ نجس العین اولا والصحیح انہ لایفسد مالم یدخلفاہ لانہ لیس بنجس العین ۱؎۔
اس بنیاد پر کہ کتّا نجس عین ہے یا نہیں اس کے بارے میں دو۲ روایتیں ہیں صحیح یہ ہے کہ (پانی وغیرہ) خراب نہیں کرتا جب تک منہ نہ ڈالے کیونکہ وہ نجسِ عین نہیں ہے۔ (ت)
(۱؎ غنیہ ذوی الاحکام برحاشیہ الدرر الحکام مطبعۃ احمد کامل امکائنہ فی دار السعادۃ ۱/۲۷)
ملتقی الابحر اور اس کی شرح مجمع الانہر(۱۸) میں ہے:
(ہر چمڑا جسے دباغت دی جائے پاک ہوجاتا ہے مگر آدمی کا چمڑا اس کی عزّت اور خنزیر کا چمڑا اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے پاک نہیں ہوتا) کتّے کے چمڑے میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ وہ پاک ہوجاتا ہے۔ (ت)
(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر فصل فی ابحاث الماء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/۳۲)
(جس چمڑے کو دباغت دی جائے پاک ہوجاتا ہے سوائے خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے) (ان دونوں پر) اکتفاء کرنے میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دباغت سے کتّے کا چمڑ اپاک ہوجاتا ہے اس میں صاحبین کا اختلاف ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے۔ پہلا قول صحیح ہے جیسا کہ تحفہ میں ہے۔ (ت)
(۳؎ جامع الرموز کتاب الطہارۃ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران ۱/۵۴)
خنزیر کے گرنے سے سارا پانی نکالا جائے اگرچہ زندہ نکلے اور اس کا منہ پانی تک نہ پہنا ہو کیونکہ وہ نجس عین ہے، اور کتّے کے مرنے سے تمام پانی نکالا جائے، اس کے ساتھ موت کی قید اس لئے لگائی ہے کہ صحیح قول کے مطابق یہ نجس عین نہیں ہے۔ (ت)
(۴؎ مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحاوی فصل فی مسائل الاٰبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱)
علامہ احمد مصری اس کے حاشیہ(۲۰) میں فرماتے ہیں: ھو قول الامام رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وعندھما نجس العین کالخنزیر والفتوٰی علی قول الامام وان رجح قولھما کمافی الدرعن ابن الشحنۃ ۱؎۔
امام اعظم رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ خنزیر کی طرح نجس عین ہے، فتوٰی امام اعظم رحمہ اللہ کے قول پر ہے اگرچہ صاحبین کے قول کو ترجیح دی گئی ہے جیسا کہ درمختار میں ابن الشحنہ سے منقول ہے۔ (ت)
(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی فصل فی مسائل الآبار نور محمد کارخانہ کراچی ص۲۱)
علّامہ محقق محمد محمد محمد ابن امیر الحاج حلیہ(۲۱) میں فرماتے ہیں: