Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
78 - 2323
الجواب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمدللّٰہ الذی اعطی کل شیئ خلقہ ثم ھدی فکان اصل کل شیئ طاھرا اذمن القدوس الطاھر بدا وصلی اللّٰہ تعالٰی علی السید الطیب الطاھر الذی میزالخبیث من الطیب بنور الھدی وعلی اٰلہ الاطائب وصحبہ الطاھر وبارک وسلم دائما ابدا قال احد کلاب الباب النبوی احمد رضا المحمدی السنی الحنفی القادری البریلوی غفراللّٰہ لہ وحقق املہ اٰمین قول زید اصح وارجح واحق بالقبول واوفق بالمنقول والمعقول ہے۔
تمام تعریفیں اللہ تعالٰی کیلئے ہیں جس نے ہر چیز کو اس کے لائق صورت دی پھر اسے بداہت دی، پس ہر چیز کی اصل پاک ہے کیونکہ وہ پاکیزہ طاہر ذات کی طرف سے ظاہر ہُوئی طیب وطاہر سردار پرجس نے نورِ ہدایت کے ساتھ ناپاک کو پاک سے جُدا کردیا آپ کی پاکیزہ آل اور پاک صحابہ کرام پر اللہ تعالٰی کی رحمت، برکت اور سلامتی ہمیشہ ہمیشہ نازل ہو۔ سگِ بابِ نبوی احمد رضا محمدی، سُنّی، حنفی قادری، بریلوی، اللہ تعالٰی اس کی بخشش کرے اور اس کی امید کو ثابت وسچ کردے (آمین) نے کہا کہ زید کا قول زیادہ صحیح، راجح اور قبولیت کا زیادہ حق رکھتا ہے نیز معقول ومنقول کے زیادہ موافق ہے۔ (ت)

اور اس کے اکثر دلائل وجوابات صحیح ونجیح وقابل قبول فی الواقع ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے مذہب میں یہ جانور سائر سباع کے مانند ہے کہ لعاب نجس اور عین طاہر، یہی مذہب ہے صحیح واصح ومعتمد ومؤید بدلائل قرآن وحدیث ومختار وماخوذ للفتوٰی عند جمہور مشایخ القدیم والحدیث ہے۔ کلام زید میں بقدر کفایت اس کی تفصیل مذکور اور مسئلہ خود کثیر الددر ومعروف ومشہور لہذا اداءً لحق الجواب وکشف الصواب جمیع ابحاث متقدمہ حدیث وفقہ وترجیح وتزییف میں اضافہ چند فائدہ زائدہ منظور
اما الحدیث فنذکر ماذکر اصحابنا ثم نورد تحقیق الروایۃ ثم نشیر الی تنقیح الدرایۃ ۔
رہی حدیث تو ہم وہی ذکر کرینگے جو ہمارے اصحاب نے ذکر کیا پھر روایت کی تحقیق لائیں گے اس کے بعد درایت کی درستگی بیان کرینگے۔ (ت)
آثار عدیدہ میں مروی کہ کلب مملوک کے قاتل پر ضمان لازم اور سگ شکاری کو عورت کا مہر مقرر کرسکتے ہیں۔
قال العلامۃ علی القاری علیہ رحمۃ الباری فی المرقاۃ کتاب البیوع باب الکسب تحت حدیث ابی مسعود الانصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نھی عن ثمن الکلب مانصہ ھو محمول عندنا علی ماکان فی زمنہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حین امربقتلہ وکان الانتفاع بہ ےیومئذ محرما ثم رخص فی الانتفاع بہ حتی روی انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش ذکرہ ابن الملک ۱؎ اھ۔
علّامہ ملّا علی قاری ان پر اللہ تعالٰی کی رحمت ہو، نے مرقاۃ کے کتاب البیوع، باب الکسب میں حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث کو ''رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتّے کی قیمت وصول کرنے سے منع فرمایا'' کے تحت فرمایا ''جو کچھ انہوں نے ذکر کیا وہ ہمارے نزدیک اس پر محمول ہے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تھا جب آپ نے اسے مار دینے کا حکم دیا اور ان دنوں اس سے نفع حاصل کرنا حرام تھا پھر اس سے انتفاع کی اجازت دے دی یہاں تک مروی ہے کہ ایک شخص نے شکاری کتّا ہلاک کردیا تو آپ نے (اس کے خلاف) چالیس درہم کے ساتھ فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کیلئے رکھے گئے کتّے کے سلسلے میں ایک مینڈھا دینے کا فیصلہ فرمایا اسے ابن الملک نے ذکر کیا اھ (ت)
 (۱؎ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ    باب الکسب وطلب الحلال        مطبوعہ مکتبہ امدادیہ ملتان    ۶/۳۸)
اقول: ظاھرہ عزوذلک الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وقدصرح بہ فی الاسرار والنھایۃ وذخیرۃ العقبٰی ۲؎ وغیرھا من الشروح والاسفار فقالوا ان عبداللّٰہ بن عمروبن العاص رضی اللّٰہ عنہما روی عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ قضی فی کلب باربعین درھما ولکن ظنی ان المعروف عــــہ وقفہ فلعل قضی فی الموضعین علی البناء للمفعول ،
اقول: بظاہر یہ، رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی طرف منسوب ہے اور اسرار، نہایہ ذخیرۃ العقبٰی وغیرہ شروح اور بڑی بڑی کتب میں اس کی تصریح کرتے ہوئے کہا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما نے رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ نے کُتّے کے سلسلے میں چالیس درہم کا فیصلہ فرمایا لیکن میرے خیال میں اس کا موقوف ہونا معروف ہے شاید دونوں جگہوں میں ''قُضِیَ'' مبنی للمفعول ہے۔
 (۲؎ ذخیرۃ العقبٰی علی شرح الوقایۃ    مسائل شتی من البیع ، مطبع منشی نولکشور کانپور    ۲/۴۰۰)
عـــہ بعد کتابتی لھذا المحل رأیت المحقق حیث اطلق ذکر الحدیث فی الفتح عن الاسرار ثم قال ھذا لایعرف الاموقوفا الخ واللّٰہ الحمد ۱۲ منہ 

اس جگہ کی کتابت کے بعد میں نے دیکھا کہ محقق علی الاطلاق نے اس حدیث کو فتح القدیر میں اسرار سے ذکر کیا ہے پھر فرمایا یہ حدیث نہیں پہچانی جاتی مگر موقوفاً الخ وللہ الحمد ۱۲ منہ (ت)
قال الامام الاجل ابوجعفر فی شرح معافی الآثار نزول ھذہ الاٰیۃ بعد تحریم الکلاب وان ھذہ الاٰیۃ اعادت الجوارح المکلبین الی صیرتھا حلالا واذاصارت کذلک کانت فی سائر الاشیاء التی ھی حلال فی حل امساکھا واباحۃ اثمانھاوضمان متلفیھا مااتلفوا منھا کغیرھا اوقدوری فی ذلک عمن بعد النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حدثنا یونس ثناابن وھب قال سمعت ابن جریج یحدث عن عمروبن شعیب عن ابیہ عن جدہ عبداللّٰہ بن عمرو انہ قضی فی کلب صید قتلہ رجل باربعین درھما وقضی فی کلب ماشیۃ بکبش اھ ،ثم اسند عن ابن شھاب الزھری انہ قال اذا قتل الکلب المعلم فانہ یقوم قیمتہ فیغرمہ الذی قتلہ ثم عن محمد بن یحیی بن حبان الانصاری قال کان یقال یجعل فی الکلب الضاری اذاقتل اربعون درھما ۱؎ اھ
امام اجل ابوجعفر طحاوی رحمہ اللہ نے شرح معافی الآثار میں فرمایا کہ اس آیت کا نزول کتّوں کو حرام قرار دینے کے بعد ہوا اور اس آیت نے سکھائے ہوئے شکاری کتوں کو دوبارہ حلت کی طرف لوٹا دیا یعنی ان کا روکا ہوا (شکار) حلال ہوگا، ان کی قیمت لینا جائز ہوگی اور ان میں سے جو کچھ ضائع کیا گیا، ضائع کرنے والے پر اس کی ضمان ہوگی جیسا کہ دوسرے جانوروں میں ہوتا ہے (یہ مطلب نہیں کہ خود اس کا کھانا حلال ہوگیا) اس سلسلے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعد والوں (صحابہ کرام وتابعین) سے بھی روایات مروی ہیں۔ ہم (امام طحاوی) سے یونس نے بیان کیا وہ فرماتے ہیں ہم سے ابن وہب نے بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں نے ابنِ جریج سے سُنا وہ عمروبن شعیب سے وہ اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا (عبداللہ بن عمرو) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شکاری کتے کو کسی نے ہلاک کردیا تو انہوں نے اس کے بدلے میں چالیس درہموں کا فیصلہ فرمایا اور جانوروں کی حفاظت کرنے والے کتے کے بارے میں ایک مینڈھے کا فیصلہ کیا اھ، پھر (امام طحاوی نے) ابن شہاب زہری کا قول نقل کیا انہوں نے فرمایا: جب معلّم کتّا ہلاک کیا جائے تو اس کی قیمت معین کرکے قاتل تاوان اداکرے پھر محمد بن یحیٰی بن حبان کا قول نقل کیا فرماتے ہیں کہا جاتا تھا کہ جب کوئی شخص شکاری کتّے کو ہلاک کرے تو اس کے بدلے میں چالیس درھم مقرر کئے جائیں اھ
 (۱؎ شرح معانی الآثار    باب ثمن الکلب    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،  ۲/۲۵۱)
وفی عمدۃ القاری للعلامۃ البدر محمود العینی عن عثمٰن رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ اجاز الکلب الضاری فی المھر وجعل علی قاتلہ عشرین من الابل ۲؎ ذکرہ ابوعمر في التمھید۔
علامہ بدر الدین عینی محمود کی عمدۃ القاری میں ہے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے مہر میں شکاری کتا دینا جائز قرار دیا ہے اور اس کے قاتل پر بیس۲۰ اونٹ تاوان رکھا ہے، اسے ابوعمر نے تمہید میں ذکر کیا ہے۔ (ت)
 (۲؎ عمدۃ القاری شرح البخاری	باب ثمن الکلب     ادارۃ الطباعۃ المنیریہ بیروت    ۱۲/۵۹)
ان احادیث سے کلب کا مال متقوم ہونا ثابت اور پُرظاہر کہ نجس العین مال متقوم نہیں تو واجب کہ طاہر العین ہو
ولذاجعل التضمین فی الدر مبنیا علی القولبالطھارۃ حیث قال لیس الکلب بنجس العین عند الامام وعلیہ الفتوٰی فیباع ویوجر ویضمن ۱؎ الخ
اسی لئے دُرمختار میں اس کی ضمان مقرر کرنے کیلئے طہارت کے قول کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ جب انہوں نے فرمایا کہ امام اعظم رحمہ اللہ کے نزدیک کُتّا نجسِ عین نہیں ہے۔ اور اسی پر فتوی ہے لہذا اسے بیچا جاسکتا ہے اُجرت پر دیا جاسکتا ہے اور اس کی ضمان بھی (واجب) ہوگی۔ الخ
 (۱؎ درمختار        باب المیاہ        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۸)
قال الشامی ھذہ الفروع بعضھا ذکرت احکامھا فی الکتب ھکذا وبعضھا بالعکس والتوفیق بالتخریج علی القولین کمابسطہ فی البحر ۲؎ الخ۔
علّامہ شامی نے فرمایا: ان فروع میں سے بعض کے احکام، کتب میں اس طرح ذکر کیے گئے ہیں اور بعض کے بالعکس، اور ان کے درمیان مطابقت دونوں پر تخریج کی صورت میں ہوسکتی ہے جیسا کہ البحرالرائق میں اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ الخ
(۲؎ ردالمحتار         باب المیاہ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۳۹)
اقول: وانتظر مانذکرہ فی جواز البیع وفتش تعرف۔
اقول:  جو کچھ ہم بیع کے جواز میں ذکر کریں گے اس کا انتطار کرو اور جستجو کروگے جان لوگے (ت)
واما الفقہ: فنقول نقول کثیرۃ بثیرۃ شائع فی کتب المذھب متونا وشروحا وفتاوٰی۔
رہا فقہ کے بارے، تو ہم کہتے ہیں کتب مذہب میں چاہے وہ متون شروح ہوں یا فتاوٰی، ان میں اس مسئلہ کا بکثرت ذکر ہے۔ (ت)
مختصر(۱) قدوری وہدایہ(۲) وقایہ(۳) ونقایہ(۴) ومختار(۵) وکنز(۶) ووافی(۷) واصلاح(۸) ونور الایضاح(۹) وملتقی(۱۰) وتنویر وغیرہا عامہ متون میں تصریح صریح ہے کہ:
کل اھاب دبغ فقدطھر الاجلد الخنزیر والآدمی ۳؎۔
خنزیر اور آدمی کے چمڑے کے علاوہ جس چمڑے کو بھی دباغت دی جائے وہ پاک ہوجاتا ہے (ت)
 (۳؎ المختصر للقدوری    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ مجیدی  کانپور    ص۷)
Flag Counter