Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
77 - 2323
اور تیسرے برتقدیر اس کے رفع اور اس کے اسناد کی صحت کے اس کو اس لفظ سے نجاست کلب پر ہرگز دلالت نہیں۔ ہاں بلّی کے مثل کُتّے کے شیطان نہ ہونے پر البتہ اس کو دلالت ہے جیسا کہ بعض شارحین نے لکھا ہے اور ثانیاً یہ کہ برتقدیر اس کے اُس لفظ کے ساتھ موجود ہونے اور اس کے رفع اور اس کے اسناد کی صحت کے نہیں ثابت ہوگی اس سے مگر نجاست اضافیہ یعنی کتّے کا بہ نسبت بلّی کے نجس ہونا نہ حقیقیہ
کمالایخفی علی من لہ طبع سلیم وذھن مستقیم
 (جیسا کہ اس شخص پر مخفی نہیں جس کی فطرت سلیم اور ذہن ٹھیک ہے۔ ت) اور وہ مسلّم ہے بیشک بہ نسبت بلّی کے کتا نجس ہے کیونکہ اس کا گوشت اور خون اور لعاب اور سور اور عرق ہمارے نزدیک نجس ہے بخلاف بلّی کے، اور بحث اس کی نجاست عین سے ہے تو حدیث کو اُس پر دلالت نہیں فتدبر، اور اقوالِ فقہا میں سے اُن دونوں قولوں کا تو جو مبسوط اور شرح نقایہ میں ہے جواب یہ دیتا ہے کہ اول تو ان دونوں قولوں میں کلب کی نجاست کی نسبت لفظ صحیح بولا ہے اور اُن اقوال میں جو میرے دلائل سے ہیں اس کے طاہر العین ہونے کی نسبت لفظ اقرب الی الصواب اور لفظ اصح کہا ہے
وقدصرحوا بان لفظ الاصح اٰکد من الصحیح فیتبع الاٰکد کماصرح بہ فی ردالمحتار ۱؎
 (فقہاء کرام نے تصریح کی ہے کہ لفظ ''اصح'' لفظ ''صحیح'' سے زیادہ مؤکد ہے پس جس میں زیادہ تاکید ہے اس کی اتباع کی جائے جیسا کہ ردالمحتار میں اس کی تصریح کی گئی ہے۔ ت)
 (۱؎ الدرالمختار علی حاشیۃ ردالمحتار ، مطلب اذاتعارض التصحیح ،  مطبوعہ مجتبائی دہلی ،  ۱/۵۰)
اور دوم: اگر ہم مساوات لفظ تصحیح کو بھی مان لیں تو فتوٰی تو اس کے طاہر العین ہونے پر ہے
فیؤخذ بماعلیہ الفتوی دون غیرہ
 (پس اسے اختیار کےیا جائے جس پر فتوٰی ہے نہ کہ اس کے غیر کو۔ ت)
اور سوم: اگر ہم اختلاف فتوٰی کو بھی تسلیم کریں تو تب بھی بموجب قاعدہ
اذااختلف التصحیح والفتوٰی فالعمل بمافی المتون اولی ۲؎
 (جب تصحیح اور فتوٰی میں اختلاف ہو تو جو کچھ متون میں ہے اس پر عمل کرنا اولٰی ہے۔ ت) کے عمل مافی المتون ہی پر کیا جائے گا۔
(۲؎ ردالمختار            مطلب اذاتعارض التصحح     مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۴۹)
والمراد بالمتون لیس جمیع المتون بل المختصرات التی الفھا حذاق الائمۃ وکبار الفقھاء المعروفین بالعلم والزھد والفقۃ والثقۃ فی الروایۃ کابی جعفر الطحاوی والکرخی والحاکم والشھید والقدوری ومن فی ھذہ الطبقۃ وقدکثر اعتماد المتأخرین علی الوقایۃ لبرھان الشریعۃ وکنزالدقائق لابی البرکات والمختار لابی الفضل ومجمع البحرین لمظفر الدین ومختصر القدوری لاحمد بن محمد وذلک لماعلموا من جلالۃ مولفیھا والتزامھم ایراد مسائل معتمد علیھا واشھرھا ذکرا واقولھا اعتمادا الوقایۃ والکنز ومختصر القدوری وھی المراد بقولھم المتون الثلثۃ۔
متون سے مراد تمام متون نہیں بلکہ وہ مختصر کتب میں جن کو ماہر ائمہ اور فقہاءِ کبیر جو علم، زہد، فقہ اور روایت میں ثقافت کے ساتھ مشہور ہیں، نے تالیف کیا جیسے ابوجعفر طحاوی، کرخی، حاکم، شہید، قدوری اور وہ لوگ جو اس طبقے

میں شامل ہیں متاخرین کا برہان الشریعۃ کے وقایہ، ابو البرکات کی کنز الدقائق اور ابو الفضل کی المختار مظفر الدین کی مجمع البحرین اور احمد بن محمد کی مختصر القدوری پر بہت زیادہ اعتماد ہے، اور یہ اس لئے کہ انہیں ان کتب کے مولفین کی جلالت علمی نیز قابلِ اعتماد مسائل ذکر کرنے کے التزام کا علم تھا۔ ان میں سے ذکر کے اعتبار سے زیادہ مشہور اور قول کے اعتبار سے زیادہ معتمد علیہ وقایہ، کنزالدقائق اور مختصر القدوری ہے اور فقہاء کرام کے قول متون سے یہی ''تین متون'' مراد ہیں۔ (ت)
تو ان سب میں علی الخصوص ان متون ثلثہ میں بجز اس کے طاہر العین ہونے کے اور کچھ نہیں ہے وللہ الحمد، اور اس کا جو کہ شرح وقایہ وغیرہ میں ہے یہ کہ اس قول میں کلب سے مراد کلبِ میت ہے۔ حسن چلپی نے ذخیرۃ العقبٰی میں کہا ہے:
قولہ واذاسد کلب ای میت ۱؎۔
قولہ اور جب کتا (نہر کی چوڑائی) بند کرے، یعنی مردہ (کتا)۔ (ت)
 (۱؎ ذخیرۃ العقبٰی فی شرح صدر الشریعۃ    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۴)
اور ایسا ہی سعایہ اور رعایہ میں بھی ہے اور شرح وقایہ کے اردو ترجمہ میں ہے کہ اگر مرا ہوا کتّا رواں ندی میں پڑا ہو تو دونوں میں صحیح قول کس کا ہے اور برتقدیر زید کے قول کے صحیح ہونے کے اُس کے استدلال اور جواب بھی صحیح ہیں یا نہیں اور نیز اس میں کہ برتقدیر کلب کی طہارت عین کی صحت کے یہ جو ردالمحتار میں نقلاً عن البدائع ہے
قال مشایخنا من صلی وفی کمہ جر وتجوز صلاتہ وقیدہ الفقیہ ابوجعفر الھندوانی بکونہ مشدود الفم ۲؎۔
ہمارے مشائخ نے فرمایا جس نے اس حال میں نماز پڑھی کہ اس کی آستین میں کتّے کا بچّہ تھا تو اس کی نماز جائز ہے فقیہ ابوجعفر ہندوانی نے قید لگائی ہے کہ اس کا مُنہ باندھا ہوا ہو۔ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار  باب المیاہ ، مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۱۳۹)
اور نیز یہ جو اس میں نقلاً عن المحیط ہے:
صلی ومعہ جروکلب اومالایجوز الوضوء بسورہ قیل لم یجز والاصح انکان فمہ مفتوحا لم ےیجز لان لعابہ یسیل فی کمہ فینجس لواکثر من قدر الدرھم ولوکان مشدودا بحیث لایصل لعابہ الی ثوبہ جازلان ظاھر کل حیوان طاھر ولایتنجس الابالموت ونجاسۃ باطنہ فی معدنھا فلایظھر حکمھا کنجاسۃ باطن المصلی ۱؎۔
کسی نے نماز پڑھی اور اس کے پاس کتّے کا بچّہ یا وہ چیز تھی جس کے جھُوٹے سے وضو جائز نہیں، تو کہا گیا (نماز) جائز نہیں، یقینا زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اگر اس کا منہ کھُلا ہوا ہو تو جائز نہیں کیونکہ اس کا لعاب آستین میں بہہ کر اسے ناپاک کردے گا جبکہ وہ ایک درہم سے زیادہ ہو، اور اگر اس کا منہ اس طرح باندھا ہو ہوکہ اس کا لعاب نمازی کے کپڑے تک نہ پہنچے تو نماز جائز ہے کیونکہ ہر حیوان کا ظاہر پاک ہے اور وہ مرنے کے بغیر ناپاک نہیں ہوتا، اندرونی نجاست اپنے اصل مقام پر ہے لہذا نمازی کے پیٹ کی نجاست کی طرح اس کا حکم بھی ظاہر نہ ہوگا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی ،۱/۳۹)
اور نیز یہ جو اُس میں نقلاً عن الحلیۃ ہے:
والاشبہ اطلاق الجواز عند امن سیلان القدر المانع قبل الفراغ من الصّلاۃ ۲؎۔
زیادہ مناسب بات یہ ہے کہ مطلقاً جائز ہے جبکہ نماز سے فارغ ہونے سے پہلے اس قدر (لعاب) جاری ہونے سے بے خوف ہوجو مانع طہارت ہے۔ (ت)
(۲؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۹)
بوجہ اس کے اُس پر یعنی کلب کی طہارت عین پر مبنی ہونے کے بدلیل المبنی علی الصحیح صحیح (جس کی بنیاد صحیح پر ہو وہ صحیح ہوتا ہے۔ ت) کے صحیح ہوگا یا نہیں بینوا توجروا۔
Flag Counter