Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
76 - 2323
اور نواں یہ جو نہر الفائق میں ہے: یطھر جلد الکلب ایضا بناء علی ماعلیہ الفتوی من طھارۃ عینہ وان رجح بعضھم النجاسۃ ۶؎۔
کتّے کا چمڑا بھی پاک ہوجاتا ہے اور اس کی بنیاد وہ مفتٰی بہ قول ہے کہ یہ ذاتی طور پر پاک ہے اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے ناپاک ہونے کو ترجیح دی ہے۔ (ت)
 (۶؎ السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ  من احکام الدباغۃ  سہیل اکیڈمی لاہور، ۱/۴۰۹)
اور دسواں یہ جو شامی میں ہے: فمعنی القول بطھارۃ عینہ طھارۃ ذاتہ مادام حیا وطھارۃ جلدہ بالدّباغ والذکاۃ وطھارۃ مالا تحلہ الحیوۃ من اجزائہ کغیرہ من السباع ۱؎۔
اس کے طاہر عین ہونے کے قول کا مطلب یہ ہے کہ یہ جب تک زندہ ہے ذاتی طور پر پاک ہے۔ اس کا چمڑا دباغت یا ذبح (شرعی) کے ساتھ پاک ہوجاتا ہے نیز اس کے جن اجزاء میں زندگی سرایت نہیں کرتی دوسرے درندوں کی طرح وہ بھی پاک ہیں۔ (ت)
(۱؎ ردالمحتار    قبیل فصل فی البئر    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۳۹)
اور گیارھواں یہ جو سعایہ میں ہے: قلت لم یتضح لی الی الاٰن دلیل علی کونہ نجس العین ودلائل المثبتین کلھا مخدوشۃ ۲؎۔
میں کہتا ہوں اب تک مجھے اس کے نجس عین ہونے پر کوئی واضح دلیل نہیں ملی، نجس ثابت کرنے والوں کے تمام دلائل کمزور ہیں ۔ (ت)
 (۲؎ السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ    من احکام الدباغۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۴۰۹)
اور بارھواں وہ جو مولوی عبدالحی لکھنوی نے تعلیق ممجد میں بعد ذکر ان حدیثوں کے جو کہ طہارت اُہُب پر دباغت سے مطلقاً دلالت کرتی ہیں کہا ہے:
وبھذہ الاحادیث ونظائرھا ذھب الجمہور الی الطھارۃ بالدباغۃ مطلقا الا انھم استثنوا من ذلک جلد الانسان لکرامتہ وجلد الخنزیر لنجاسۃ عینہ واستثنی ایضا جلد الکلب من ذھب الی کونہ نجس العین وھو قول جمع من الحنفیۃ وغیرھم ولم یدل علی دلیل قوی بعد ۳؎۔
ان احادیث اور ان کی مثل پر بنیاد رکھتے ہوئے جمہور فقہاء نے دباغت کے ذریعے مطلقاً طہارت کی راہ اختیار کی ہے مگر انہوں نے اس سے انسان کے چمڑے کو اس کی عزّت کی بنیاد پر اور خنزیر کے چمڑے کو اس کے نجس عین ہونے کی وجہ سے مستشنٰی قرار دیا ہے اور جو لوگ کتّے کو نجسِ عین سمجھتے ہیں انہوں نے اس کو بھی مستشنٰی کیا ہے احناف کی ایک جماعت اور ان کے علاوہ فقہاء کرام کا یہی قول ہے لیکن ابھی تک اس پر کوئی مضبوط دلیل نہیں پائی گئی۔ (ت)
(۳؎ تعلیق ممجد لعبد الحی اللکھنوی)
اور تیرھواں یہ جو فتح القدیر میں ہے:اختلف المشایخ فی التصحیح والذی یقتضیہ عموم ایما اھاب طھارۃ عینہ ولم یعارضہ مایوجب نجاستھا فوجب حقیقۃ عدم نجاستھا ۱؎۔
تصحیح میں علماءکا اختلاف ہے اور ''ایما اھاب'' (جو بھی چمڑا) کا عموم طہارت عین کا مقتضی ہے اور اس کے مقابلے میں نجاست کو واجب کرنے والی کوئی دلیل موجود نہیں لہذا ضروری ہوا کہ اس کا نجس نہ ہونا حق ہوا۔ (ت)
 (۱؎ فتح القدیر        باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء الخ    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر        ۱/۸۳)
کہتا ہے کہ کُتّا طاہر العین ہے اور کہتا ہے کہ آیت میں تو وجہ دلالت کی یہ ہے کہ یہ آیت بلاضرورت کتّے سے ازروئے اصطیاد کے جواز انتفاع پر بلکہ بجز کھانے کے اور اُس سے سب طرح کے فائدے اُٹھانے کے جواز پر دلالت کرتی ہے،
قرطبی نے کہا ہے: وقدذکر بعض من صنف فی احکام القراٰن ان الایۃ تدل علی ان الاباحۃ تناولت ماعلمنا الجوارح وھو ینظم الکلب وسائر جوارح الطیر وذلک یوجب اباحۃ سائر وجوہ الانتفاع فدل علی جواز بیع الکلب والجوارح والانتفاع بھابسائر وجوہ المنافع الاماخصہ الدلیل وھو الاکل من الجوارح ای الکواسب من الکلاب وسباع الطیر ۲؎۔
احکامِ قرآن کے بعض مصنفین نے ذکر کیا ہے کہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اباحت ان تمام شکاری جانوروں کو شامل ہے جن کو ہم سکھائیں اور اس میں کتّا اور تمام شکاری پرندے بھی شامل ہیں اور یہ (جواز) انتفاع کے تمام طریقوں کی اباحت کو واجب کرتا ہے پس یہ کتّے اور (دیگر) شکاری جانوروں کو بیچنے اور ان سے ہر طرح کا نفع حاصل کرنے پر دلالت کرتا ہے مگر جس کو دلیل نے خاص کرلیا ہو، اور وہ شکاری جانوروں یعنی کسب کرنے والے کتّوں اور درندوں کو کھانا ہے (اور یہ جائز نہیں)۔ (ت)
 (۲؎ الجامع لاحکام القرآن    زیر آیہ وماعلمتم من الجوارح الخ دار احیاء التراث العربی بیروت    ۶/۶۶)
اور کسی چیز سے بلاضرورت انتفاع کا جائز ہونا اُس چیز کے عدمِ نجاست کی علامت ہے تو اس نے اُس کے عدمِ نجاست پر بھی دلالت کی کماھو ظاھر (جیسا کہ وہ ظاہر ہے۔ ت)

اور حدیث ابن عمر میں یہ کہ موسم گرمی میں اکثر اوقات کُتّے کیچڑ میں بھرئے ہوئے پانی میں بھیگے ہوئے مسجد میں آتے جاتے ہوں گے اور کیچڑ پانی مسجد میں گرتا ٹپکتا ہوگا تو جبکہ باوجود اس کے رش بھی نہ ثابت ہوا تو ان کے اجسام اور اعیان کے عدم نجاست ثابت ہُوئی۔
اور احادیث اذن فی اقتناء الکلب (کتّا رکھنے کی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کی دلالت کی نسبت مولوی عبدالحی نے سعایہ میں کہا ہے:
 (۱؎ السعایۃ فی کشف مافی شرح الوقایۃ    احکام الاٰسار        سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۴۴۶)
نعم لھا دلالۃ علی طھارۃ جسمہ وعدم تنجس عینہ البتۃ فان الاذن فی اقتنائہ دال علی انہ لیس ینجس العین ۱؎۔
ہاں اس کے جسم کے پاک ہونے اور نجس عین نہ ہونے پر یقینا دلیل ہے کیوں کہ اسے رکھنے کی اجازت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ وہ نجس عین نہیں۔ (ت)
اور باقی حدیثوں میں وجہ دلالت کی ظاہر ہے اور عمرو
استدلالاً باحادیث الامر بقتل الکلاب
(کتوں کو ہلاک کرنے کے حکم سے متعلق احادیث سے استدلال کرتے ہوئے۔ ت)
واحادیث عدم دخول الملٰئکۃ بیتافیہ کلب
 (جس گھر میں کتّا ہو اس میں فرشتوں کے داخل نہ ہونے کے بارے میں احادیث۔ ت)
واحادیث الامر بغسل الاناء من دلوغ الکلب سبعا اوثمانیا اوثلثا واہراق مافضل من شربہ
(کتّے کے چاٹنے سے برتن کو سات یا آٹھ یا تین بار دھونے اور اس کے پینے سے جو بچ جائے اسے بہادینے کے بارے میں احادیث۔ ت)
وحدیث ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ: ان النبی دعی الی دار قوم فاجاب ودعی ای دار اٰخرین فلم یجب فقیل لہ فی ذلک فقال ان فی دار فلاں کلبا فقیل لہ وان فی دار فلان ھرۃ فقال الھرۃ لیست بنجسۃ انما ھی الطوافین علیکم والطوافات ۲؎۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک قوم نے دعوت دی، آپ نے قبول کرلی۔ اور آپ کو دوسروں کے گھر میں بلایا گیا تو آپ نے قبول نہ کیا، اس بارے میں آپ سے عرض کیا گیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلاں کے گھر میں کتّا ہے۔ عرض کیا گیا اور فلاں کے گھر میں بلّی ہے۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بلّی ناپاک نہیں اور وہ تمہارے پاس آنے جانے والے (غلاموں) اور آنے جانے والی (لونڈیوں) کی طرح ہے۔ (ت)
 (۲؎ التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر ، اب بیان النجاسات، المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل، ۱/۲۵)
وتمسکا باقوال بعض علمائنا الحنفیۃ کو ازانجملہ ایک یہ ہے جو مبسوط میں ہے:
الصحیح من المذھب عندنا ان الکلب نجس ۳؎۔
ہمارے نزدیک صحیح مذہب یہ ہے کہ کتا ناپاک ہے۔ (ت)
 (۳؎ المبسوط للسرخسی   سؤرمالایوکل لحمہ    مطبوعہ دار المعرفت بیروت    ۱/۴۸)
اور دوسرا یہ جو ابو المکارم کی شرح نقایہ میں ہے:
فی فتاوٰی قاضی خان مایدل علی ان الکلب نجس العین وفی موضع آخر مایدل علی انہ لیس کذلک وسمعت ان الروایۃ الصحیحۃ عندنا ھو الاول ۱؎۔
فتاوی قاضی خان میں ایسی بات ہے جو کتّے کے نجسِ عین ہونے پر دلالت کرتی ہے اور (اسی میں) دوسری جگہ وہ بات ہے جس میں ایسا نہ ہونے پر دلالت ہے اور میں نے سنا کہ ہمارے نزدیک صحیح روایت، پہلی ہے (یعنی نجسِ عین)۔ (ت)
 ( ۱؎ شرح النقایۃ لابی المکارم    )
اور تیسرا یہ جو شرح وقایہ وغیرہ بعض کتبِ فقہ میں ہے:
اذاسد کلب عرض النھر ویجری الماء فوقہ انکان مایلاقی الکلب اقل ممالایلاقیہ یجوز الوضوء فی الاسفل والالا ۲؎۔
اگر کتّا نہرکی چوڑائی بند کردے اور پانی اس کے اوپر سے جاری ہو تو اگر کتّے سے ملا ہوا پانی اس سے کم ہے جو اس (کے جسم) سے ملا ہوا نہیں ہے تو (نہر کی) نچلی جانب سے وضو کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت)
 (۲؎ شرح الوقایۃ    بیان مایجوز بہ الوضوء    المکتبۃ الرشیدیہ دہلی    ۱/۸۴)
کہتا ہے کہ کتّا نجس العین ہے اور زید عمرو کے ان دلائل میں سے احادیث امر بقتل کلاب اور احادیث عدم دخول ملائکہ اور احادیث امر بغسل اناء کا توجواب یہ دیتا ہے کہ ان سب حدیثوں کے نجاست کلب پر دلالت کرنے میں ضُعف ہے۔ احادیث امر بقتل کلاب کے دلالت کرنے میں تو اس وجہ سے کہ یہ امر ان کی نجاست کے سبب نہ تھا بلکہ ملائکہ کے اُس گھر میں جس میں کتّا ہو نہ داخل ہونے کی وجہ سے تھا جیسا کہ امر مذکور ہی کی احادیث سے مفہوم ہوتا ہے اور اگر ہم تسلیم بھی کرلیں تو اس کا نسخ وارد ہوچکا ہے اور احادیث عدم دخول ملائکہ کے دلالت کرنے میں اس وجہ سے کہ امتناعِ ملائکہ کا باعث کلب کی نجاست ہی نہیں متعین ہوسکتی بلکہ ممکن ہے کہ کوئی اور امر ہو۔
قال العلامۃ الدمیری فی حیٰوۃ الحیوان قال العلماء سبب امتناعھم من البیت الذی فیہ الکلب کثرۃ اکلہ النجاسات وبعض الکلاب یسمی شیطانا والملائکۃ ضد الشیاطین ولقبح رائحۃ الکلب والملٰئکۃ تکرہ والرائحۃ الخبیثۃ ولانھا منھی عن اتخاذھا فعوقب متخذھا بحرمانہ دخول الملٰئکۃ بیتہ ۱؎۔
 (۱؎ حیٰوۃ الحیوان الکبرٰی، زیر لفظ الکلب، مصطفی البابی حلبی مصر ، ۲/۲۹۰)
علامہ دمیری نے حیٰوۃ الحیوان میں فرمایا کہ علماء فرماتے ہیں جس گھر میں کتّا ہو اس میں فرشتوں کے نہ آنے کا باعث کتّوں کا بکثرت نجاست کھانا ہے، اور بعض کتوں کو تو شیطان کہا جاتا ہے اور فرشتے شیطان کی ضد میں، نیز کتا بدبودار ہوتا ہے اور فرشتے بدبُو کو پسند نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ کتا رکھنے سے منع کیا گیا پس اسے رکھنے والے کو یوں سزا دی گئی کہ اس کے گھر میں فرشتوں کا داخلہ نہیں ہوتا۔(ت)
اور نظیر اس کی وہ حدیث ہے جس کو امام مالک اور بخاری اور مسلم نے حضرت عائشہ سے مرفوعاً اخراج کیا ہے کہ جس گھر میں تصویریں ہوتی ہیں اس میں فرشتے نہیں داخل ہوتے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو امام مالک اور احمد اور ترمذی اور ابن حبان نے ابوسعید سے مرفوعاً اخراج کیا ہے کہ جس گر میں تماثیل یا صورت ہوتی ہیں اُس میں فرشتے نہیں آتے اور نیز وہ حدیث جس کو بغوی اور طبرانی اور ابونعیم نے معرفۃ میں اور ابن قانع نے سوط بن غزی سے مرفوعاً اخراج کیا ہے کہ ملائکہ اس قافلہ کے ساتھ نہیں ہوتے جس میں گھنٹا ہوتا ہے اور نیز وہ حدیث ہے جس کو طبرانی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مرفوعاً اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنب اور متضمخ بخلوق ۲؎ پر اُن کے غسل کرنے تک حاضر نہیں ہوتے۔۲؎ خلوق (ایک خاص قسم کی خوشبو) لگانے والا۔

 اور نیز وہ حدیث ہے جس کو احمد اور ابوداؤد نے عمار سے مرفوعاً اخراج کیا ہے کہ ملائکہ جنازہ کافر پر خیر سے اور متضمخ بزعفران اور جنب پر نہیں حاضر ہوتے تو جیسا کہ ان حدیثوں سے نجاست تصویر اور جنازہ کافر اور متضمخ بزعفران وغیر ذلک پر استدلال کرنا غیر ممکن ہے ایسا ہی احادیث عدم دخول ملائکہ سے نجاست کلب پر تمسک کرنا ناجائز اور احادیث امر بغسل اناء کے دلالت کرنے میں تو ضعف کا ہونا ظاہر ہے، ہاں نجاست لعابِ کلب پر یہ حدیثیں البتہ دال ہیں نہ اُس کے عین کی نجاست پر۔ اور حدیث ابی ہریرہ کا جواب اوّلاً تو یہ دیتا ہے کہ مولٰنا الہداد جونپوری نے حاشیہ ہدایہ میں اور دمیری نے حیوٰۃ الحیوان میں نقل کیا ہے اور کہا ہے یعنی دمیری نے کہ اس حدیث کو امام احمد اور دارقطنی اور حاکم اور بہیقی نے حدیث ابی ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا ہے لیکن میں نے جو سنن دارقطنی اور مستدرک حاکم کی طرف مراجعت کی تو میں نے ان دونوں میں اس حدیث کو اس لفظ سے نہیں پایا بلکہ لفظ
کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یاتی دارقوم من الانصار ودونھم دارفیشق ذلک علیھم فقالوا یارسول اللّٰہ تاتی دارفلان ولاتاتی دارنا فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لان فے دارکم کلبا قالوا فان فی دارھم سنورا فقال النبی السنور سبع ۱؎۔
رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم چند انصار کے گھروں میں تشریف لاتے تھے ان میں سے نیچے کی جانب ایک گھر تھا ان پر یہ بات گراں گزری تو انہوں نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ فلاں کے گھر تشریف لاتے ہیں اور ہمارے گھر تشریف نہیں لاتے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس لئے کہ تمہارے گھر کتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا تو ان (فلاں کے ) گھر بلّی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بلّی ایک درندہ ہے۔ (ت)کے ساتھ پایا تو اول تو اصح اس کا وقف ہے اور دوسرے اسناد اس کی قوی نہیں۔
 (۱؎ مسند امام احمد بن حنبل عن ابی ہریرۃ  ،  مطبوعہ دار الفکر بیروت ،  ۲/۳۲۷)
قال الحافظ ابن حجر فی التلخیص بعدذکر الحدیث قال ابن ابی حاتم فی العلل سألت ابازرعۃ عنہ فقال لم یرفعہ ابونعیم وھو اصح وعیسی عہ لیس بالقوی قال العقیلی لایتابعہ علی ھذا الحدیث الامن ھو مثلہ اودونہ وقال ابن حبان خرج عیسی عن حدالاحتجاج ولما ذکرہ الحاکم قال ھذا الحدیث صحیح تفرد بہ عیسی عن ابی زرعۃ وھو صدوق لم یجرح قط ھکذا قال وقدضعفہ ابوحاتم وابوداود وغیرھا وقال ابن الجوزی لایصح ۲؎ انتھی ملخصا۔
حافظ ابن حجر (عسقلانی) نے تلخیص میں یہ حدیث ذکر کرنے کے بعد فرمایا ابن ابی حاتم نے عللِ میں فرمایا کہ میں نے اس حدیث کے بارے میں ابوزرعہ سے پُوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ ابونعیم نے اسے مرفوع ذکر نہیں کیا اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ اور عیسٰی (راوی) قوی نہیں۔ عقیلی نے فرمایا اس حدیث میں ان کی متابعت وہی کرے گا جو اس کی مثل یا اس سے کم (درجہ میں) ہو۔ ابنِ حبان نے کہا: عیسٰی حجت کی حد سے نکل گیا (یعنی اس کی بات کو دلیل نہیں بناسکتے) اور حاکم نے اس حدیث کا ذکر کرتے ہوئے کہا یہ حدیث صحیح ہے اس کو ابو زرعہ سے روایت کرنے میں عیسٰی متفرد ہیں اور وہ سچّے ہیں ان پر کبھی جرح نہیں ہُوئی، انہوں نے اسی طرح کہا، (لیکن) ابوحاتم اور ابوداؤد کے علاوہ دوسروں نے اسے ضعیف قرار دیا، اور ابن جوزی نے کہا یہ صحیح نہیں انتہی ملخصا (ت)
عہ:  ھذا احد رواۃ ھذا الحدیث ۱۲ (م) اس حدیث کے راویوں میں سے ایک یہ ہیں۔ (ت)
 (۲؎ التلخیص الجیر فی تخریج احادیث الرافعی الکبیر    باب بیان النجاسات    المکتبۃ الاثریہ سانگلہ ہل    ۱/۲۵)
Flag Counter