رسالہ
سلب الثلب عن القائلین بطھارۃ الکلب(۱۳۱۲ھ)
کتّے کی طہارتِ عین کے قائلین سے عیب دُور کرنے کا بیان
مسئلہ ۱۷۷:از بنارس محلہ پترکنڈہ مرسلہ مولوی عبدالحمید صاحب ۸۔رجب ۱۳۱۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین ابقاہم اللہ تعالٰی الٰی یوم الدین اس میں کہ زید تو مستنداً بقولہ تعالٰی
ویسئلونک ماذا احل لھم ۱؎ الآیۃ
(اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں ان کے لئے کیا حلال ہے۔ ت)
(اور ان احادیث کو دلیل بناتے ہوئے جن میں ایسے شکار کے کھانے کا حکم ہے جسے سکھائے ہوئے اور چوڑھے ہُوئے کتّے نے شکار کیا لیکن اس سے کچھ نہیں کھایا۔ ت)
(۱؎ القرآن ۵/۴)
کہ از انجملہ ایک یہ حدیث عدی بن حاتم ہے:قال قلت یارسول اللّٰہ انانرسل الکلاب المعلمۃ قال کل ماامسکن علیک قلت وان قتلن قال وان قتلن ۱؎ الحدیث۔
فرماتے ہیں میں نے عرض کیا ''یارسول اللہ! ہم سکھائے ہوئے کتّوں کو (شکار پر) چھوڑتے ہیں (اس کا کیا حکم ہے؟) آپ نے فرمایا: ''جو کچھ وہ تمہارے لئے روک رکھیں اسے کھاؤ''۔ میں نے عرض کیا ''اگرچہ وہ اسے ہلاک کردیں؟'' فرمایا: ''اگرچہ وہ اسے ہلاک کردیں'' الحدیث (ت)
(۱؎ جامع الترمذی باب مایؤکل من صید الکلب مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۷۷)
اور احادیث الاذن فی اقتناء کلب ماشیۃ وصید وزرع وغنم
(جانوروں کی حفاظت، شکار، کھیتی اور بکریوں کی حفاظت کیلئے کتّا رکھنے کی اجازت کے بارے میں احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایک یہ حدیثِ عبداللہ بن مغفل ہے:
قال انی لمن یرفع اغصان الشجرۃ عن وجہ رسول اللّٰہ وھو یخطب فقال لولا ان الکلاب امۃ من الامام لامرت بقتلھا فاقتلوا کل اسود وبھیم ومامن اھل بیت یرتبطون کلباً الا نقص من عملھم کل یوم قیراط الاکلب صیدا وکلب حرث اوکلب غنم ۲؎۔
آپ فرماتے ہیں مَیں ان لوگوں میں سے ہُوں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ انور کے آگے سے ٹہنیاں اٹھارہے تھے جب آپ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے، آپ نے فرمایا: اگر کتّے ایک مخلوق نہ ہوتے تو میں ان کو قتل کرنے کا حکم دیتا پس ہر سیاہ کتّے کو ماردو، اور جو لوگ گھروں میں کتا رکھتے ہیں ان کے عمل سے روزانہ ایک قیراط کم ہوتا ہے مگر شکار کا کُتّا، کھتیی کی حفاظت اور بکریوں کی حفاظت کے لئے کُتّا (اس سے مشتشنٰی ہے)۔ (ت)
(۲؎ جامع الترمذی باب من امسک کلباً ماینقص من اجرہ مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور ۱/۱۸۰)
واحادیث الترخیص فی ثمن کلب الصعید
(شکاری کتّے کہ حصولِ قیمت کے بارے میں آپکی اجازت سے متعلق احادیث۔ ت) کہ از انجملہ ایک وہ حدیث ہے جس کو ہمارے امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اپنی مسند میں ہیثم سے وہ عکرمہ سے وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں:
قال رخص رسول اللّٰہ فی ثمن کلب الصید ۳؎۔
فرماتے ہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شکاری کتّے کی قیمت لینے کی اجازت فرمائی ہے۔ (ت)
(۳؎ مسند امام اعظم ابوحنیفہ کتاب البیوع نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۱۶۹)
وحدیث ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما:کانت الکلاب تقبل وتدبر فی عھد رسول اللّٰہ فلم یکونوا یرشون شیأ من ذلک ۱؎۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کتے (اِدھر اُدھر) آتے جاتے تھے لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے (یعنی کتوں کے ان کے ساتھ چھُونے سے) کچھ بھی نہیں دھوتے تھے۔ (ت)
اور تیسرا جو تنویر الابصار اور اُس کی شرح درمختار میں ہے: اعلم انہ لیس الکلب بنجس العین عند الامام وعلیہ الفتوٰی وان رجح بعضھم النجاسۃ کمابسطہ ابن الشحنۃ ۵؎۔
جان لو! امام اعظم کے نزدیک کتّا نجسِ عین نہیں۔ اور اسی پر فتوٰی ہے، اگرچہ بعض فقہاء نے اس کے نجس ہونے کو ترجیح دی ہے جیسا کہ ابن الشحنہ نے اسے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (ت)
اور چوتھا یہ جو ردالمحتار میں ہے:وھو (ای عدم کون الکلب نجس العین) الصحیح والاقرب الی الصواب بدائع ووھو ظاھر المتون بحر ومقتضی عموم الادلۃ فتح ۱؎۔
اور وہ (یعنی کُتّے کا نجس العین نہ ہونا ہی) صحیح اور درستگی کے زیادہ قریب ہے، بدائع۔ متون سیےہی ظاہر ہوتا ہے البحرالرائق۔ عام دلائل کا مقتضٰی یہی ہے، فتح القدیر (ت)