اس تقدیر پر دونوں قول قولِ ثانی کی طرف عود کرآئیں گے ہدایہ وکافی ودرر وغنیہ وتنویر وغیرہا میں اسی طرف میل فرمایا اور بیشک وہ بہت قرینِ قیاس ہے بالجملہ دنوں قول نہایت باقوت ہیں اور دونوں کو ظاہر الروایۃ کہا گیا اور دونوں طرف تصحیح وترجیح۔
اقول: مگر قول ثانی عامہ متون میں مذکور اور غالباً اُسی میں احتیاط زیادہ اور اُس میں انضباط ازید اور آج کل اگر بعض لوگ موسوس ہیں تو بہتیرے مُداہن وبے پروا ہیں انہیں ایک ایسے غیر منضبط بات بتانے میں اُن کی بے پرواہی کی مطلق العنانی ہے لہذا قول ثانی ہی پر عمل انسب والیق ہے اور ہدایہ وکافی کی توفیق حسن پر تو قول ثانی کے سوا دوسرا قول ہی نہیں۔ بہرحال ایک بار دھونے سے جبکہ زوال نجاست کا ظن غالب نہ ہو اور غالباً بلامبالغہ سرسری طور پر ایک دفعہ دھونے میں ایسا ہی ہوگا تو اس صورت میں بالاتفاق حاصل نہ ہوگی۔
دُرِمختار میں ہے: یطھر محل غیر مرئیۃ بغلبۃ ظن غاسل لومکلفا والا فمستعمل طھارۃ محلھا بلاعدد بہ یفتی وقدر لموسوس بغسل وعصر ثلثا فیما ینعصر مبالغا بحیث لایقطر وبتثلیث جفاف فی غیر منعصر ۱؎ اھ ملخصا۔
جس جگہ نجاست دکھائی نہ دیتی ہو اگر دھونے والے کو غالب گمان حاصل ہوجائے تو پاک ہوجاتی ہے ورنہ اس جگہ کی طہارت کے لئے گنتی کے بغیر پانی استعمال کیا جائے اسی پر فتوٰی ہے اور وسوسہ والے کے لئے جس چیز کو نچوڑنا ممکن ہے اسے تین بار دھونا اور یوں نچوڑنا کہ اب قطرے نہ گریں اور جس چیز کو نچوڑنا ممکن نہیں اس کو تین بار خشک کرنا مقرر ہے۔ اھ ملخصا (ت)
(۱؎ درمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۶)
ردالمحتار میں ہے: قولہ بلاعددبہ یفتی، کذافی المنیۃ وظاھرہ انہ لوغلب علی ظنہ زوالھا بمرۃ اجزأہ وبہ صرح الامام الکرخی فی مختصرہ واختارہ الامام الاسبیجابی وفی غایۃ البیان التقدیر بالثلث ظاھر الروایۃ وفی السراج اعتبار غلبۃ الظن مختار العراقیین والتقدیر بالثلث مختار البخاریین والظاھر الاول ان لم یکن موسوسا وان کان موسوسا فالثانی اھ بحرقال فی النھر وھو توفیق حسن اھ وعلیہ جری صاحب المختار فانہ اعتبر غلبۃ الظن الافی الموسوس وھومامشی علیہ المصنّف واستحسنہ فی الحلیۃ وقال وقدمشی الجم الغفیر علیہ فی الاستنجاء۔
اس (صاحبِ درمختار) کا قول ''بلاعدد'' (گنتی شرط نہیں) پر فتوٰی ہے، منیہ میں بھی اسی طرح ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ایک مرتبہ دھونے سے نجاست کے زائل ہونے کا غالب گمان ہوجائے تو یہی کافی ہے۔ امام کرخی نے اپنی مختصر میں اسی کی تصریح فرمائی اور امام اسبیجابی نے بھی اسے ہی اختیار کیا اور غایۃ البیان میں ہے کہ تین بار کا مقرر کرنا ظاہر روایت ہے۔ سراج میں ہے کہ عراقیوں کے نزدیک غلبہ ظن کا اعتبار مختار ہے جبکہ تین بار کا اندازہ بخارا والوں کا مختار ہے۔ اور پہلا ظاہر ہے اگر وسوسے والا نہ ہو، اگر وسوسہ کرنے والا ہو تو دوسری بات ظاہر ہے اھ (بحرالرائق انتہٰی) نہر الفائق میں فرمایا کہ یہ اچھی تطبیق ہے اھ۔ صاحبِ مختار نے بھی یہی راستہ اختیار کیا کہ انہوں نے وسوسہ نہ کرنے والوں کے بارے میں اسی کا اعتبار کیا ہے مگر وسوسہ کرنے والے کے بارے میں ان کا وہی موقف جس پر مصنف (صاحبِ دُرمختار) چلے ہیں اور حلیہ نے بھی اسی کو مستحسن قرار دیا ہے اور فرمایا استنجاء کے بارے میں جم غفیر کا یہی مسلک ہے (ت)
اقول: وھذا مبنی علی تحقق الخلاف وھو ان القول بغلبۃ الظن غیر القول بالثلث قال فی الحلیۃ وھو الحق واستشھد لہ بکلام الحاوی القدسی والمحیط۔
اقول: میں (علامہ شامی) کہتا ہوں اس کی بنیاد (دونوں باتوں میں) ثبوتِ اختلاف پر ہے یعنی جب غلبہ ظن کا قول تین کے قول کا غیر ہو حلیہ میں فرمایا یہی حق ہے اور انہوں نے اس پر حاوی قدسی اور محیط کے کلام سے شہادت پیش کی ہے۔ (ت)
اقول: وھوخلاف مافی الکافی ممایقتضی انھما قول واحد وعلیہ مشی فی شرح المنیۃ فقال فعلم بھذا ان المذھب اعتبار غلبۃ الظن وانھا مقدرۃ بالثلث لحصولھا بھافی الغالب وقطعاً للوسوسۃ وانہ من اقامۃ السبب الظاھر مقام المسبب الذی فی الاطلاع علی حقیقتہ عسرکالسفر مقام المشقۃ اھ وھو مقتضی کلام الھدایۃ وغیرھا واقتصر علیہ فی الامداد وھو ظاھر المتون حیث صرحوا بالثلث ۱؎ اھ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اقول: (میں (علامہ شامی) کہتا ہوں) یہ (اختلاف) اس کے خلاف ہے جو کافی میں ہے اور اس کا مقتضٰی یہ ہے کہ دونوں ایک ہی قول ہیں۔ شرح منیہ میں یہی راستہ اختیار کیا گیا ہے انہوں نے فرمایا اس سے معلوم ہوا کہ مذہب میں غلبہ ظن کا اعتبار ہے اور وہ تین بار کا اندازہ ہے کیوں کہ غالب یہی ہے تین بار دھونے سے طہارت حاصل ہوجاتی ہے اور وسوسہ ختم ہوجاتا ہے اور یہ کہ سبب ظاہر کو اس مسبب کے قائم مقام رکھنا ہے جس کی حقیقت پر اطلاع مشکل ہے جیسے سفر مشقت کے قائم مقام ہے اھ ہدایہ وغیرہ کے کلام کا مقتضٰی بھی یہی ہے اور الامداد بھی اسی پر اختصار کیا گیا ہے۔ ظاہر متون بھی یہی ہیں کیونکہ انہوں نے تین کی تصریح کی ہے اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم (ت)
(۱؎ ردالمحتار باب الانجاس مطبوعہ مصطفی البابی مصر ۱/۲۴۲)
مسئلہ ۱۷۴:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جُوتے پر پیشاب پڑ گیا اور اس پر خاک جم کر تندار ہوگیا تو رگڑنے سے پاک ہوجائے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: جُوتے پر اگر پیشا ب پڑ گیا اور اس پر خاک جم گئی تو ایسے ملنے سے جس سے اُس کا اثر زائل ہوجائے پاک ہوجائے گا ورنہ بغیر دھونے کے پاک نہ ہوگا۔
درمختار میں ہے موزہ اور اس کی مثل جیسے جُوتا (وغیرہ) اگر جسم والی نجاست سے ناپاک ہوجائیں اور یہ ہر وہ نجاست ہے جو خشک ہونے کے بعد دکھائی دیتی ہو اگرچہ (یہ جسم نجاست کے) غیر سے ہو جیسے شراب اور پیشاب جس پر مٹّی پڑ گئی، تو یہ ایسے رگڑنے سے پاک ہوجائیں گے جس سے اثر زائل ہوجائے اسی پر فتوٰی ہے اور جس نجاست کا جسم نہ ہو اسے دھویا جائے گا اھ۔ اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
(۱؎ دُرمختار باب الانجاس مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۵۳)
مسئلہ ۱۷۵: از کلکتہ دھرم تلا نمبر۶ مرسلہ جناب میرزا غلام قادر بیگ صاحب۸رمضان المبارک ۱۳۱۰ھ۔
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ گدّا رُوئی کا جس میں نجس ہونے کا شبہہ قوی ہے نیچے بچھا ہے اور اس پر پاک رضائی اوڑھی ہے، بارش سے چھت ٹپکی رضائی اور گدّا خوب تَر ہوگیا رضائی پیروں کے تلے بھی دبی تھی یعنی گدّے سے ملحق تھی اس صورت میں رضائی کی نسبت کیا حکم ہے بینوّا توجّروا۔
الجواب: بہہ سے کوئی چیز ناپاک نہیں ہوتی کہ اصل طہارت ہے والیقین لایزول بالشک (یقین شک سے دُور نہیں ہوتا۔ ت) ہاں ظن غالب کہ بربنائے دلیل صحیح ہو فقہیات میں ملحق بیقین ہے نہ بربنائے تو ہمات عامہ پس اگر گدّے(۱) میں کسی نجاست کا ہونا معلوم تھا اور(۲) یہ بھی معلوم ہوکہ رضائی گدّے کے خاص موضع نجاست سے ملصق تھی اور(۳) گدّے میں خاص اُس جگہ تری بھی اتنی تھی کہ چھوٹ کر رضائی کو لگے یا رضائی کے موضع اتصال میں اس قدر رطوبت تھی کہ چھوٹ کر گدّے کے محلِ نجاست کو تر کردے غرض یہ کہ موضع نجاست پر رطوبت خواہ وہیں کہ خواہ دوسری چیز مجاور کی پہنچی ہوئی اس قدر ہو جس کے باعث نجاست ایک کپڑے سے دوسرے تک تجاوز کرسکے (اور اس تجاوز کے یہ معنی کہ کچھ اجزائے رطوبت نجسہ اُس سے متصل ہوکر اس میں آجائیں نہ صرف وہ جسے سیل یا ٹھنڈک کہتے ہیں کہ حکم فقہ میں یہ انفصال اجزا نہیں صرف انتقال کیفیت ہے اور وہ موجب نجاست نہیں اور اس قابلیت تجاوز کی تقدیرر رطوبت کا اس قدر ہونا ہے جسے نچوڑے سے بوند ٹپکے کہ ایسے ہی رطوبت کے اجزا دوسری شے کی طرف متجاوز ہوتےہیں)
جب تینوں شرطیں ثابت ہوں تو البتہ رضائی کے اُتنے موضع پر تجاوز نجاست کا حکم دیا جائے گا پھر اگر وہ موضع بقدر معتبر فی الشرع مثلاً ایک درہم سے زائد ہو تو رضائی ناپاک ٹھہرے گی اور اُسے اوڑھ کر نماز ناجائز ہوگی ورنہ حکم عفو میں رہے گی اگرچہ ایک درم کی قدر میں کراہت تحریمی اور کم میں صرف تنزیہی ہوگی اور اگر ان تینوں شرط میں کسی کی بھی کمی ہوئی تو رضائی سرے سے اپنی طہارت پر باقی اور سراپاک ہے۔ مثلاً گدّے کی نجاست مشکوک تھی یا وہ سب ناپاک نہ تھا اور رضائی کا خاص موضع نجاست سے ملنا معلوم نہیں یا محل نجاست کی رطوبت خود اپنی خواہ رضائی سے حاصل کی ہوئی قابلِ تجاوز نہ تھی یہ سب صورتیں طہارت مطلقہ تامہ کے ہیں۔
ھذا ھو التحقیق الذی عولنا علیہ لظھور وجھہ ولکونہ احوط وان کان الکلام فی المسئلۃ طویل الذیل ذکر بعضہ فی ردالمحتار اٰخر الانجاس واٰخر الکتاب وفیہ عن البرھان ولایخفی منہ انہ لایتیقن بانہ مجرد نداوۃ الا اذاکان النجس الرطب ھو الذی لایتقاطر بعصرہ اذیمکن ان یصیب الثوب الجاف قدر کثیر من النجاسۃ ولاینبع منہ شیئ بعصرہ کماھو مشاھد عند البدایۃ بغسلہ ۱؎ اھ وفیہ عن الامام الزیلعی لانہ اذالم یتقاطر منہ بالعصر لاینفصل منہ شیئ وانما یبتل مایجاورہ بالنداوۃ وبذلک لایتنجس ۲؎ الخ
یہی وہ تحقیق ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا کیونکہ اس کا سبب ظاہر ہے اور اس میں زیادہ احتیاط ہے اگرچہ اس مسئلہ میں کلام کا دامن نہایت طویل ہے جس میں سے کچھ ردالمحتار میں باب الانجاس اور کتاب ردالمحتار کے آخر میں مذکور ہے۔ اور اس میں البرہان سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی خفا نہیں کہ اس کے محض رطوبت ہونے کا یقین نہیں کیا جاسکتا مگر جب کہ تر نجاست کے نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں کیوں کہ ممکن ہے کہ خشک کپڑے کو بہت سی نجاست لگے اور نچوڑنے سے اس سے کچھ نہ نِکلے جیسا کہ اسے دھونے کا آغاز کرتے وقت مشاہدہ ہوتا ہے۔ الخ اسی (ردالمحتار) میں امام زیلعی سے نقل کیا کہ جب نچوڑنے سے قطرے نہ نکلیں تو اس سے کچھ بھی جُدا نہ ہوگا اور اس سے ملنے والی چیز محض مجاورت (ملنے) سے تر ہوگی اور اس سے وہ ناپاک نہیں ہوتی۔
(۱؎ ردالمحتار باب الانجاس مصطفی البابی مصر ۱/۲۵۵)
(۲؎ رد المحتار مسائل شتی مصطفی البابی مصر ۵/۵۱۷)
وفیہ عن الخانیۃ اذاغسل رجلہ فمشی علی ارض نجسۃ بغیر مکعب فابتل الارض من بلل رجلہ واسود وجہ الارض لکن لم یظھر اثر طبل الارض فی رجلہ فصلی جازت صلاتہ وان کان بلل الماء فی رجلہ کثیرا حتی ابتل وجہ الارض وصارطینا ثم اصاب الطین رجلہ لاتجوز صلاتہ ۱؎ الخ واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
اور اسی (ردالمحتار) میں خانیہ سے نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص پاؤں دھوکر جُوتے کے بغیر ناپاک زمین پر چلا اور اس کے پاؤں کی رطوبت سے زمین تر ہوگئی اور زمین پر نشان لگ گیا لیکن زمین کی رطوبت اس کے پاؤں میں ظاہر نہیں ہوئی اب اس نے نماز پڑھی تو اس کی نماز جائز ہے اور اگر پاؤں میں پانی کی رطوبت زیادہ تھی حتی کہ زمین کا ظاہر تر ہوگیا اور کیچڑ پاؤں میں لگ گیا تو اس کی نماز جائز نہیں الخ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ (ت)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر پکی ہوئی کھچڑی یا چاول میں یا چُونے میں چُوہے کی مینگنی نکلے تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: چُوہے کی مینگنی اگر چاول کھچڑی روٹی وغیرہ کھانے کی چیزوں میں نکلے تو اسے پھینک کر وہ اشیا کھالی جائیں بشرطیکہ اس کا رنگ یا بُو یا مزہ ان میں نہ آگیا ہو اور اگر چُونے میں نکلے اور وہ چونا جما ہوا ہے تو اس کے قریب کا پھینک کر باقی کھالیں اور بہتا ہوا ہے تو اس سب سے احتراز کریں واللہ تعالٰی اعلم۔