Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
73 - 2323
مسئلہ ۱۷۱:از شہرکہنہ۴۔ذیقعدہ ۱۳۰۸

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ پڑیا کے رنگ ہوئے کپڑے سے نماز درست ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب:  بادامی رنگ کی پُڑیا میں تو کوئی مضائقہ نہیں اور رنگت کی پُڑیا سے ورع کے لئے بچنا اولٰی ہے پھر بھی اس سے نماز نہ ہونے پر فتوٰی دینا آج کل سخت حرج کا باعث ہے۔
والحرج مدفوع بالنص وعموم البلوی من موجبات التخفیف لاسیما فی مسائل الطھارۃ والنجاسۃ۔
نص سے ثابت ہے کہ حرج دُور کیا گیا اور عموم بلوٰی اسبابِ تخفیف سے ہے خصوصاً مسائلِ طہارت اور نجاست میں۔ (ت)
لہذا اس مسئلہ میں مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف رضی اللہ تعالٰی عنہما سے عدول کی کوئی وجہ نہیں ہمارے ان اماموں کے مذہب پر پُڑیا کی رنگت سے نماز بلاشبہ جائز ہے۔ فقیر اس زمانے میں اسی پر فتوٰی دینا پسند کرتا ہے۔
وقدذکرنا علی ھذہ المسئلۃ کلاما اکثر من ھذا فی فتاوٰنا وسنحقق الامر بمالامزید علیہ ان ساعد التوفیق من اللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
ہم نے اپنے فتاوٰی میں اسی مسئلہ پر اس سے بھی زیادہ بحث کی ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف سے توفیق معاون ہُوئی تو ہم اس سلسلے میں ایسی تحقیق کریں گے جس کے بعد مزید گنجائش نہیں رہے گی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۲:مرسلہ مرزا باقی بیگ صاحب رام پوری    ۲۰ ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مرغی کی قے پاک ہے یا ناپاک، اور جس شے کی بِیٹ پلید ہے کیا اس کی قے بھی پلید ہے؟ بینوا توجروا۔
الجواب: ہر جانور کی قے اس کی بیٹ کا حکم رکھتی ہے جس کی بیٹ پاک ہے جیسے چڑیا یا کبوتر، اس کی قے بھی پاک ہے۔ اور جس کی نجاست خفیفہ جیسے باز یا کوّا، اُس کی قے بھی نجاست خفیفہ۔ اور جس کی نجاست غلیظہ ہے جیسے بط یا مرغی، اس کی قے بھی نجاست غلیظہ۔ اور قے سے مراد وہ کھانا پانی وغیرہ ہے جو پوٹے سے باہر نکلے کہ جس جانور کی بیٹ ناپاک ہے اس کا پوٹا معدن نجاسات ہے پوٹے سے جو چیز باہر آئے گی خود نجس ہوگی یا نجس سے مل کر آئے گی بہرحال مثل بیٹ نجاست رکھے گی خفیفہ میں خفیفہ، غلیظہ میں غلیظہ بخلاف اُس چیز کے جو ابھی پوٹے تک نہ پہنچی تھی کہ نکل آئی۔ مثلاً مُرغی نے پانی پیا ابھی گلے ہی میں تھا کہ اُچھّو لگا اور نکل گیایہ پانی پیٹ کا حکم نہ رکھے گا
لانہ مااستحال الی نجاسۃ ولالاقی محلھا
 (کیونکہ اس نے نجاست میں حلول نہیں کیا اور نہ ہی نجاست کی جگہ سے ملا۔ ت) بلکہ اسے سؤر یعنی جھُوٹے کا حکم دیا جائے گا کہ اُس کے منہ سے مل کر آیا ہے اُس جانور کا جھُوٹا نجاست غلیظہ یا خفیفہ یا مشکوک یا مکروہ یا طاہر جیسا ہوگا ویسا ہی اس چیز کو حکم دیا جائے گا جو معدہ تک پہنچنے سے پہلے باہر آئی جو مُرغی چھوٹی پھرے اُس کا جھوٹا مکروہ ہے یہ پانی بھی مکروہ ہوگا اور پوٹے میں پہنچ کر آتا تو نجاست غلیظہ ہوتا۔
اقول: اتقن ھذا التحقیق النفیس فلعلک لاتجدہ مصرحابہ فی متداولات الاسفار وانما استنبطناہ بحمداللّٰہ من کلمات العلماء استنباطاً واضحاً کالصبح حین الاسفار۔
اقول:  اس نفیس تحقیق کو محفوظ کرلو شاید تم اسے بڑی کتب میں بھی بالتصریح نہ پاؤ بحمداللہ تعالٰی ہم نے اسے علماءِ کرام کے کلام سے روزِ روشن کی طرح واضح استنباط کیا ہے۔ (ت)
دُرمختار میں ہے: مرارۃ کل حیوان کبولہ وجرتہ کزبلہ ۱؎۔
ہر جانور کا پِتّا اس کے پیشاب کی طرح اور اس کی جگالی گوبر کے حکم میں ہے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الاستنجاء        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۷)
کتاب التجنیس والمزیر میں ہے: لانہ واراہ جوفہ ۲؎۔
 (کیونکہ اس نے اسے پیٹ میں چھپایا۔ ت)
(۲؎ ردالمحتار    باب الاستنجاء        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۳۳)
درمختار میں ہے:ینقضہ قیئ ملا ئفاہ من مرۃ اوطعام اوماء اذا وصل الی معدتہ وان لم یستقر وھو نجس مغلظ ولومن صبی ساعۃ ارتضاعہ وھو الصحیح لمخالطۃ النجاسۃ ولوھو فی المرئ فلانقض اتفاقا ۳؎ اھ ملخصا۔
صفرا نیز کھانے یا پانی کی قے منہ بھر وضو کو توڑ دیتی ہے جب وہ معدے تک پہنچے اگرچہ وہاں نہ ٹھہرے اور وہ نجاست غلیظہ ہے اگرچہ دُودھ پیتے بچّے کی ہو اور یہی صحیح ہے کیونکہ وہ نجاست سے مِل جاتی ہے اور اگر وہ نرخرے میں رہے تو بالاتفاق وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ملخصا۔ (ت)
 (۳؎ درمختار    نواقض الوضوء     مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۵)
وقدعلم من لہ ادنی فھم وجہ الاستنباط فی المسألتین واعلم انابیننا الکلام علی ظاھر الروایۃ المصحح المرجح الواضح الوجہ القوی الدلیل الواجب التعویل وان کان ھھنا فی بعض الصور کلام للکمال اجبنا عــہ  عنہ علی ھامشہ والحمدللّٰہ حمدا کثیرا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
جس شخص کو ادنٰی سمجھ بھی حاصل ہے وہ دونوں مسئلوں میں استنباط کی وجہ جان سکتا ہے جان لوکہ ہمارے کلام کی بنیاد ظاہر روایت ہے جس کی تصحیح کی گئی اسے ترجیح دی گئی وہ نہایت واضح ہے اس کی دلیل قوی ہے اور اس پر اعتماد واجب ہے۔ اگرچہ اس جگہ بعض صورتوں میں کمال نے کلام کیا ہے جس کا جواب ہم نے اس کے حاشیے پر دیا ہے۔ اللہ تعالٰی کے لئے بہت زیادہ حمد ہے اور اللہ تعالٰی خوب جانتا ہے۔ (ت)
عـــہ  وقدتقدم فی المسألۃ العاشرۃ باب الوضوء (م) اس کا جواب باب الوضوء کے دسویں مسئلہ میں گزرچکا ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۳:مرسلہ مرزاباقی بیگ صاحب رام پُوری۲۰۔ذیقعدہ ۱۳۰۸ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ نجس چیز ایک مرتبہ میں پاک ہوگی بغیر مبالغہ کے یا نہیں بینوا توجروا۔
الجواب: نجاست اگر مرئیہ ہو یعنی خشک ہونے کے بعد بھی نظر آئے تو اُس کی تطہیر میں عدد اصلا شرط نہیں بلکہ زوال عین درکار ہے خواہ ایک بار میں ہوجائے یا دس بار میں مگر بقائے اثر بقائے عین پر دلیل تو زوال اثر مثل رنگ وبو ضرور لیکن وہ اثر جس کا زوال دشوار ہو معاف کیا جائےگا، صابُون یا گرم پانی وغیرہ سے چھُڑانے کی حاجت نہیں۔
درمختار میں ہے: یطھر محل نجاسۃ مرئیۃ بعد جفاف بزوال عینھا واثرھا ولوبمرۃ اوبمافوق ثلث فی الاصح ولایضربقاء اثرکلونٍ وریح لازم فلایکلف فی ازالتہ الٰی ماء حار اوصابون ونحوہ ۱؎ اھ ملخصا۔
اصح قول کے مطابق نظر آنے والی نجاست کی جگہ سے عینِ نجاست اور اس کا اثر دُور کیا جائے، خواہ ایک مرتبہ سے یا تین۳ سے بھی زیادہ مرتبہ سے دور ہو تو خشک ہونے کے بعد پاک ہوجاتی ہے، اور ایسا اثر جو اس کے لئے لازم ہوچکا ہے (یعنی دور نہیں ہوتا) مثلاً رنگ اور بُو، تو اسے گرم پانی یا صابن وغیرہ کے ساتھ دُور کرنے کی تکلیف نہیں دی جائے گی اھ ملخصا (ت)
 (۱؎ درمختار    باب الانجاس    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۶)
اور غیر مرئیہ کو سُوکھنے کے بعد نہ دکھائی دے اس میں علماء کے دو قول ہیں ایک قول پر غلبہ ظن کا اعتبار ہے یعنی جب گمان غالب ہوجائے کہ اب نجاست نکل گئی پاک ہوگیا اگرچہ یہ غلبہ ظن ایک ہی بار میں حاصل ہو یا زائد میں۔ اور دوسرے قول پر تثلیث یعنی تین بار دھونا شرط ہے ہر بار اتنا نچوڑیں کہ بوند نہ ٹپکے اور نچوڑنے کی چیز نہ ہو تو ہر بار خشک ہونے کے بعد دوبارہ دھوئیں اس قول پر اگر یوں تثلیث نہ کرے گا طہارت نہ ہوگی۔ ایک جماعتِ علماء نے فرمایا یہ طریقہ خاصل اہلِ وسواس کے لئے ہے جسے وسوسہ نہ ہو وہ اسی غلبہ ظن پر عمل کرے، ان علماء کا قصد یہ ہے کہ دونوں قولوں کو ہر دو حالت وسوسہ وعدمِ وسوسہ پر تقسیم کرکے نزاع اُٹھادیں۔
اقول: الا ان ھذا التطبیق لایکاد یلائم ظاھر اطلاق عامۃ المتون فان الموسوسین فی الناس اقل قلیل بالنسبت الی غیرھم واطلاق الحکم المختص بالغالب الکثیر غیر بعید ولامستنکر بخلاف عکسہ کمالایخفی۔
اقول:  مگر یہ تطبیق عام متون کے ظاہر اطلاق کے مناسب معلوم نہیں ہوتی کیونکہ وسوسے والے لوگ دوسروں کی نسبت بہت کم ہیں اور حکم کا اطلاق جو غالب اکثریت سے مختص ہے وہ (عقل سے) نہ تو بعید ہے اور نہ ہی غیر معروف، بخلاف اس کے عکس کے جیسا کہ مخفی نہیں۔ (ت)
دُوسری جماعتِ ائمہ نے فرمایا قول ثانی قول اول کی تحدید وتقدیر ہے یعنی یہ غلبہ ظن غالباً تین بار میں حاصل ہوتا ہے۔
ای وانما العبرۃ للغالب وعلیہ تبنی الاحکام ویقطع النظر عن القلیل النادر۔
یعنی اعتبار غالب کا ہوتا ہے اور احکام کی بنیاد بھی یہی ہے، قلیل وکمیاب سے صرفِ نظر کیا جاتا ہے۔ (ت)
Flag Counter