Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
72 - 2323
ہاں اگر مرجائے تو سرکہ ناپاک ہوگیا پس زندہ رہنے کی حالت میں اگر غنی ازالہ کراہت اور سرکہ کا اپنے حق میں ستھرا نظیف ہوجانا چاہے یا مرجانے کی صورت میں پاک کریں تو اس کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ دوسرا سرکہ صاف محفوظ کسی لوٹے میں لے کر اس گھڑے میں ڈالتے جائیں یہاں تک کہ یہ مُنہ تک بھر کر اُبل جائے اور باہر نکلنا شروع ہوجب زمین پر کچھ دُور بَہہ جائے موقوف کریں سارا گھڑا صاف ونظیف ہوجائے گا۔ اور انسب یہ کہ اس قدر ڈالیں جس میں سرکہ گھڑے سے اُبل کر بقدر د وڈیڑھ ہاتھ طول کے بہہ جائے۔

دوم : یہ کہ ایک گھڑا طیب محفوظ سرکہ کالے کر دونوں سبوچے کسی بلندی مثلا پلنگ پر رکھیں اور اُن کی محاذات میں کوئی بڑا دیگچہ کشادہ مُنہ کا نیچے رکھا ہو دونوں گھڑوں کو ایک ساتھ اس طرح جھکائیں کہ اُن کی دھاریں دیگچے تک پہنچنے سے پہلے ہوا میں باہم مل جائیں اور دیگچے میں ایک دھار ہوکر گریں یوں جس قدر سرکہ دیگچے میں پہنچے گا سب پاک ونظیف بلاکراہت ہوجائیگا مگر اس میں یہ خیال رکھیں کہ مکروہ یا نجس سرکہ کا کوئی جز بغیر دوسرے سرکہ سے ملے ہوئے دیگچے میں نہ پہنچے مثلاً جھُکاتے وقت دوسرا سرکہ ابھی نہ گرا تھا کہ اس کی دھار اول گئی یا دُوسرا گھڑا ختم ہوگیا اس میں کا سرکہ باقی تھا وہ بعد کو ڈال دیا گیا یا کسی وقت ایسا ہوا کہ دونوں کی دھار الگ الگ ہوکر گری یہ صورتیں نہ ہونے پائیں بلکہ اس سرکہ کا ہر جز دیگچے میں دوسرے سرکہ کی دھار سے ہوا میں مل ہی کر پہنچے۔ یہ دونوں نفیس طریقے بغور سمجھ کر ہمیشہ محفوظ رکھے جائیں کہ وہ نہ صرف ازالہ کراہت بلکہ ازالہ نجاست میں بھی بکار آمد ہیں۔
دودھ، پانی، سرکہ، تیل، رقیق گھی اور ایسی ہی ہر بہتی چیز جو ناپاک ہوجائے دودھ ہو تو پاک دودھ اور پانی ہو تو پاک پانی، وعلی ہذا القیاس ہر شَے اپنی ہی جنس کے ساتھ ملاکر بطور مذکور بہادیں یا دھاریں ملاکر برتن میں لے لیں سب پاک ہوجائے گا اور دوسرا طریقہ پہلے سے بھی افضل واعلٰی ہے کہ اس میں اس شَے کا کوئی جُز ضائع نہیں جاتا۔

درمختار میں ہے:
المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۱؎۔
مختار یہ ہے کہ ناپاک چیز کو محض جاری کرکے پاک کیا جائے۔ (ت)
 (۱؎ درمختار        باب المیاہ        مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)
بحرالرائق میں ہے: وان قل الخارج ۲؎۔
اگرچہ نکلنے والا کم ہو۔ (ت)
 (۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    مطبوعہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۸)

(ردالمحتار    مطلب یطہرا لحوض بمجرد الجریان    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۳۰)
علّامہ عبدالبر ابن الشحنہ نے فرمایا:  لانہ صارجاریا حقیقۃ وبخروج بعضہ وقع الشک فی بقاء النجاسۃ فلاتبقی مع الشک ۱؎۔
کیونکہ وہ حقیقتاً جاری ہوگیا اور بعض کے نکلنے سےنجاست کے باقی رہنے میں شک ہے، تو شک کے ساتھ نجاست باقی نہیں رہے گی۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان    مطبوعہ مجتبائی دہلی   ۱/۱۳۰)
بدائع میں ہے:وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذاتنجس ۲؎۔
حمام کا حوض اور  برتن ناپاک ہوجائیں تو ان کا بھی یہی حکم ہے۔ (ت)
 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مایقع بہ التطہیر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۷)
شرح تنویر میں ہے:حکم سائر المائعات کالماء فی الاصح ۳؎۔
اصح قول کے مطابق تمام مائع چیزوں کا حکم پانی کی طرح ہے۔ (ت)
 (۳؎ درمختار        باب المیاہ            مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۳۵)
شرح نقایہ میں ہے: المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ اما باجرائہ مع جنسہ مختلطابہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی ۴؎ الخ۔
مائع (بہنے والی چیز) پانی اور شیرے وغیرہ کی طہارت اس کی جنس کے ساتھ ملاکر جاری کرنے سے ہوتی ہے، جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے جیسے تمرتاشی میں ہے۔ (ت)
(۴؎ جامع الرموز    فصل یطہر الشیئ الخ  مکتبہ اسلامیہ قاموس گنبد ایران    ۱/۹۵)
ردالمحتار میں ہے:ھذا صریح بانہ یطھر بالاجراء نعم علٰی ماقدمناہ عن الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من ذراع اوذراعین تیقید بذلک ھنالکنہ مخالف لاطلاقھم من طھارۃ الحوض بمجرد الجریان ۵؎۔
یہ اس بارے میں واضح ہے کہ وہ جاری کرنے سے پاک ہوجاتا ہے۔ ہاں جو کچھ ہم نے اس سے پہلے خلاصہ سے نقل کیا ہے کہ جریان ایک یا دوہاتھوں سے زیادہ بلند ہونے کے ساتھ خاص ہے۔ یہ قید وہاں تو صحیح ہے لیکن حوض کے بارے میں ان کے اطلاق کے خلاف ہے کیونکہ وہ محض جاری ہونے سے پاک ہوجاتا ہے (ت)
 (۵؎ ردالمحتار        مطلب فی الحاق نحوالقصعۃ بالحوض    مطبوعہ مجتبائی دہلی        ۱/۱۳۱)
خزانہ میں ہے: اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلاطھر کلہ ۱؎۔
دو۲ برتن جن میں سے ایک کا پانی پاک ہو اور دوسرے کا ناپاک ہو بلند جگہ سے ان کا پانی گرایا جائے پھر فضا میں ان کا پانی مل کر گرے تو تمام پانی پاک ہوجائے گا۔ (ت)
 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۲۱۷)
ان مسائل کی تحقیق کامل حاشیہ علّامہ فاضل شامی قدس سرّہ السامی میں ہے
من شاء فلیرجع الیھا قلت واذاکانت النجاسۃ تزول بھذا فزوال الکراھۃ من باب اولی فانھا انما کانت فی سؤر السواکن لتوھم النجاسۃ کماحققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر فمزیل المعلوم احق واحری بازالۃ الموھوم واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے قلت جب اس طریقے سے نجاست زائل ہوجاتی ہے تو کراہت کا زوال بطریق اولٰی ہوگا وہ گھروں میں رہنے والے جانوروں کے جھُوٹے میں نجاست کے وہم سے ہوتی ہے جیسے محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے پس جو چیز معلوم نجاست کو زائل کرتی ہے وہ موہوم نجاست کو زائل کرنے کا زیادہ حق رکھتی ہے اور زیادہ مناسب ہے۔ اللہ سبحٰنہ وتعالٰی خوب جانتا ہے اور اس ذات بزرگ وبرتر کا علم زیادہ کامل اور مضبوط ہے۔ (ت)
مسئلہ ۱۷۰: از اندور صدربازار چھاؤنی       بانسری صاحب قریب مکان بابودین دیال      مرسلہ میاں عبدالقادر صاحب یکم رجب ۱۳۰۸ھ

چہ می فرمایند علمائے ذوی الاقتدار ومفتیان ورع شعاردریں مسئلہ کہ مردے میگوید کہ ماکیان مذبوحہ رابدون برآوردن پروچاک شکمش درآب گرم انداختہ برون برآوردہ پرہاے برکندہ پزانندپس بعدم چاک شکم اوکہ آلایش بطنی اندرونش بودمردار گردیدہ ازیں باعث تشکیک است ورحلت وحرمت آں جانور مذبوجہ صورت ایں مسئلہ چگونہ است بیان فرمایند
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور متقی مفتیانِ کرام اس مسئلہ میں کہ ایک آدمی کہتا ہے کہ ذبح کی ہوئی مُرغیوں کے پَر اکھیڑنے اور پیٹ چاک کیے بغیر ان کو گرم پانی میں ڈالتے ہیں پھر باہر نکال کر پَر اکھاڑ کر پکاتے چونکہ پیٹ چاک نہ کرنے کی وجہ سے پیٹ کی آلائش اندر ہی رہتی ہے لہذا وہ مردار ہوگیا۔ بنابریں اس مذبوحہ جانور کے حلال وحرام ہونے میں شک پیدا ہوگیا
بسند عبارت کتب علماء رحمۃ اللہ علیہم اجمعین۔
اس مسئلہ کی کیا صورت ہوگی۔ علمائے کرام رحمہم اللہ کی کتابوں سے حوالہ دیتے ہوئے بیان فرمائیں۔ (ت)
الجواب: پیداست کہ مراد اینان ازنیکار یختن ماکیان دریں آب نمی باشد بلکہ ہمیں ایصال حرارتے لظاہر جلدش تامواضع بینحاے پرسست ونرم شود وبرکندن نیز آساں گردر اینقدر راتیزگرم آبی کہ بحدجوش وغلیان رسیدہ باشد ضرورنیست نہ درنگ بسیارے کہ باعث نفوذ آب وجزآں دراجزائے باطنہ لحم باشدبلکہ اگر ایں چنیں کنند مقصود ایشاں رازیاں دارد پس ہمیں قدر کہ درآب فاترے نہادند یادرجوشش آب مہلت بسیارے ندادند نجاست باجزائے گوشت سرایت نمی کندہمیں بسطوح ظاہرہ میر سد لہذا دریں صورت حکم مردار زنہارنتواں دادطہارت وحلت اور اہمیں بسندست کہ لحم را سہ باربہ آب شویند وفشرند وبکاربرند۔
ظاہر ہے کہ ان لوگوں کے اس عمل کا مقصد مرغیوں کو اس پانی میں پکانا نہیں ہے بلکہ یہی ان کی ظاہری جلد کو حرارت پہنچاتا ہے تاکہ پَر کی جڑوں والی جگہ ڈھیلی اور نرم پڑ جائے اور پروں کا اکھاڑنا آسان ہوجائے۔ اس کام کیلئے اتنے گرم پانی کا ہونا ضروری نہیں جو جوش کی حالت کو پہنچ چکا ہو نہ ہی زیادہ ٹھہرنا جو پانی اور اس کے اجزا کا گوشت کے اندرونی اجزاء میں سرایت کرنے کا باعث بنے بلکہ اگر وہ ایسا کریں تو اُن کے مقصد میں نقصان ہوگا۔ پس اتنے کام سے کہ نیم گرم پانی میں رکھیں یا اُبلے ہوئے پانی میں زیادہ دیر نہ رکھیں نجاست، گوشت کے اجزاء میں سرایت نہیں کرتی محض ظاہری سطح تک پہنچتی ہے لہذا اس صورت میں ہرگز مردار ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا اور اس کے پاک وحلال ہونے کیلئے یہی کافی سند ہے کہ گوشت کو تین بار پانی سے دھوئیں اور نچوڑیں اور کام میں لائیں۔ (ت)
آرے اگر ماکیان بحالت غلیان وفوران آب آں مقدار در آب مکث کرد کہ نجاست باطن بسبب جوش ودرنگ درقعر وعمق لحم نفود نمود آنگاہ برقول مفتی بہ حکم مردار پیدا کندکہ بہےیچ حیلہ او را طاہر وحلال نتواں ساخت۔
البتہ اگر مرغیوں کو اُبلتے ہوئے پانی میں اتنا وقت رکھیں کہ پانی کے جوش اور اس میں ٹھہرنے کی وجہ سے اندر کی نجاست گوشت کی گہرائیوں میں سرایت کرجائے تو اس وقت مفتٰی بہ قول کے مطابق وہ مردار ہوجائیں گی، کیونکہ اسے کسی طریقے سے بھی پاک اور حلال نہیں کیا جاسکتا۔ (ت)
امام محقق علی الاطلاق سیدی کمال الملۃ دالدین محمد بن الہمام قدسنا اللہ تعالٰی بسرہ الکریم درفتح القدیر فرماید:

محقق علی الاطلاق، دین وملت میں کامل، سیدی امام محمد بن ہمام، اللہ تعالٰی ان کی ذاتِ والا صفات سے ہمیں برکت عطا فرمائے، فتح القدیر میں فرماتے ہیں: لوالقیت دجاجۃ حالۃ الغلیان فی الماء قبل ان یشق بطنھا لنتف اوکرش قبل الغسل لایطھر ابدا لکن علی قول ابی یوسف یجب ان یطھر علی قانون ماتقدم فی اللحم۔
اگر تم مرغی کے پیٹ کو چاک کرنے سے پہلے اسے دھوئے بغیر پَر اُکھاڑنے کے لئے اُبلتے ہوئے پانی میں ڈال دی تو وہ کبھی بھی پاک نہ ہوگی البتہ امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول پر گوشت کے بارے میں جو قانون گزر چکا ہے اس کا پاک ہونا ثابت ہے۔ (ت)
قلت وھو سبحٰنہ اعلم ھو معلل بتشربھا النجاسۃ المتخللۃ فی اللحم بواسطۃ الغلیان وعلی ھذا اشتھران اللحم السمیط بمصر نجس لایطھر لکن العلۃ المذکورۃ لاتثبت حتی یصل الماء الی حد الغلیان ویمکث فیہ اللحم بعد ذلک زمانا یقع فی مثلہ التشرب والدخول فی باطن اللحم وکل من الامرین غیر متحقق فی السمیط الواقع حیث لایصل الماء الی حد الغلیان ولایترک فیہ الامقدار ماتصل الحرارۃ الی سطح الجلد فتنحل مسام السطح عن الصوف بل ذلک الترک یمنع من جودۃ انقلاع الشعر فالاولی فی السمیط ان یطھر بالغسل ثلثا لتنجس سطح الجلد بذلک الماء فانھم لایتحرسون فیہ عن المنجس ۔
قلت وہوسبحنہ اعلم اس مذکور بالا قول کی علّت یہ ہے کہ پانی کے جوش کے باعث وہ نجاست گوشت کے اندر جذب ہوجاتی ہے، اسی بنیاد پر مشہور ہے کہ مصر میں سمیط (بکری کا بچہ جس کے بال صاف کرکے اسے بھُون لیا جائے) کا گوشت ناپاک شمار ہوتا ہے وہ پاک نہیں ہوتا، لیکن یہ علت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک پانی جوش کی حد کو نہ پہنچ جائے اور اس کے بعد اس میں گوشت اتنی دیر تک نہ ٹھہرا رہے جس سے پانی گوشت کے اندر داخل ہوکر جذب ہوجائے۔ اور سمیط میں یہ دونوں باتیں نہیں پائی جاتیں کیونکہ نہ تو پانی جوش کی حد کو پہنچتا ہے اور نہ ہی اسے اس میں اتنی دیر چھوڑا جاتا ہے کہ حرارت، جِلد کی سطح کے نیچے پہنچ جائے اور بالوں کے نیچے مساموں میں داخل ہوجائے بلکہ اس کو اس قدر (پانی میں) چھوڑنا اچھی طرح بال اکھاڑنے سے بھی مانع ہے پس سمیط کے بارے میں بہترین بات یہ ہے کہ چونکہ اِس نجس پانی سے جِلد کا ظاہر ناپاک ہوگیا لہذا تین باردھونے سے پاک ہوجائے گا کیونکہ وہ لوگ ناپاک کرنے والی چیز سے پرہیز نہیں کرتے۔
وقدقال شرف الائمۃ بھذا فی الدجاجۃ والکرش والسمیط مثلھما ۱؎ اھ۔
شرف الائمہ نے مرغی اور کرش (جگالی کرنے والے جانوروں کی اوجھڑی) کے بارے میں یہی بات فرمائی اور سمیط ان دونوں کی مثل ہے الخ۔
( ۱؎ فتح القدیر        آخر باب الانجاس وتطہیرھا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۸۶)
وقال قدس سرہ قبل ذلک ناقلا عن التجنیس طبخت الحنطۃ فی الخمر قال ابویوسف تطبخ ثلثا بالماء وتجفف کل مرۃ وکذا اللحم وقال ابوحنیفۃ لاتطھر ابدا وبہ یفتی اھ قال والکل عند محمد لاتطھر ابدا ۲؎۔
صاحبِ فتح القدیر قدس سرہ، نے اسے پہلے تجنیس سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ گندم، شراب میں پکائی گئی اس کے بارے میں امام ابویوسف رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں اسے تین بار پانی میں پکایا جائے اور ہر بار خشک کیا جائے۔ گوشت کا بھی یہی حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کبھی پاک نہیں ہوگی اور اسی پر فتوٰی ہے اھ اور فرمایا یہ سب کچھ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک پاک نہیں ہوتا۔ (ت)
 (۲؎ فتح القدیر        آخر باب الانجاس وتطہیرھا    مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۸۵)
وازینجا بوضوح پیوست کہ ہرکہ ایں کارخواہدا ولے واحوط درحقش آنست کہ اولاً ماکیان راشکم چاک وازامعا پاک کندوخون مسفوح کہ بمحل ذبح منجمد مے شود شوید پس ازاں بہرآبے کہ خواہد تہدتا ازنجس شدن لحم ایمن ماند سید علّامہ احمد طحطاوی درحاشیہ درمختارفرمودہ فالاولی قبل وضعھا فی الماء المسخن ان ےیخرج مافی جوفھا ویغسل محل الذبح مما علیہ من دم مسفوح تجمد ۳؎ اھ واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔
یہاں سے ظاہر ہوا کہ جو شخص یہ کام کرنا چاہے اس کیلئے بہتر اور زیادہ محتاط یہ ہے کہ پہلے مرغی کا پیٹ چاک کرکے اسے آنتوں سے پاک کرے اور بہنے والے خون کو جو گردن وغیرہ پر جم جاتا ہے دھولے اس کے بعد جس پانی میں چاہے رکھے تاکہ گوشت کے ناپاک ہونے سے مطمئن ہو۔ علّامہ احمد طحطاوی نے درمختار کے حاشیہ میں فرمایا بہتر یہ ہے کہ گرم پانی میں رکھنے سے پہلے جو کچھ اس کے پیٹ میں ہے نکال لیا جائے اور ذبح کے مقام سے جما ہوا خون مسفوح دھولیا جائے اھ۔ (ت)
 (۳؎ طحطاوی حاشیہ درمختار    آخر باب الانجاس    دار المعرفۃ بیروت لبنان       ۱/۱۶۴)
Flag Counter