مسئلہ ۱۶۷:از کلکتہ فوجداری بالاخانہ ۳۶مرسلہ جناب مرزا غلام قادر بیگ صاحب ۳۰ ربیع الاول شریف ۱۳۰۸ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مصری ایک سُرخ رنگ کے کاغذ میں جس کی نسبت قوی گمان ہے کہ پڑیا کے رنگ میں رنگا گیا ہو بندھی تھی اُس کی سُرخی فی الجملہ مصری میں آگئی تو وہ مصری کھائی جائے یا نہیں اور نہ کھائیں تو پھینک دیں یا کیا کریں بینوا توجروا۔
الجواب: پڑیا کی نجاست پر فتوٰی دئے جانے میں فقیر کو کلام کثیر ہے ملخص اُس کا یہ کہ پُڑیا میں اسپرٹ کا ملنا اگر(۱) بطریقہ شرعی ثابت بھی ہو تو اس(۲) میں شک نہیں کہ ہندیوں کو اس کی رنگت میں ابتلائے عام ہے اور عموم بلوے نجاست متفق علیہا میں باعث تخفیف۔
حتی فی موضع النص القطعی کمافی ترشش البول قدرؤس الابرکما حققہ المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ۱؎۔
حتی کہ نص قطعی کی جگہ میں جیسا کہ سوئی کے سرے برابر پیشاب کے چھینٹے (باعثِ تخفیف ہیں) جیسا کہ محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں تحقیق فرمائی ہے۔ (ت)
(۱؎ فتح القدیر باب الانجاس مطبوعہ نوریہ رضویہ سکھّر ۱/۱۸۳)
نہ کہ محلِ(۳) اختلاف میں جو زمانہ صحابہ سے عہدِ مجتہدین تک برابر اختلافی چلاآیا نہ کہ(۴) جہاں صاحبِ مذہب حضرت امام اعظم وامام ابویوسف کا اصل مذہب طہارت ہو اور وہی امام ثالث امام محمد سے بھی ایک روایت اور اُسی کو امام طحاوی وغیرہ ائمہ ترجیح وتصحیح نے مختار ومرجح رکھا ہو نہ کہ(۵) ایسی حالت میں جہاں اُس مصلحت کو بھی دخل نہ ہو جو متأخرین اہلِ فتوٰی کو اصل مذہب سے عدول اور روایت اخرٰی امام محمد کے قبول پر باعث ہوئی نہ کہ(۶) جب مصلحت اُلٹی اس کے ترک اور اصل مذہب پر افتا کی موجب ہو تو ایسی جگہ بلاوجہ بلکہ برخلاف وجہ مذہب مہذب صاحب مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ترک کرکے مسلمانوں کو ضیق وحرج میں ڈالنا اور عامہ مومنین ومومنات جمیع دیار واقطار ہندیہ کی نمازیں معاذاللہ باطل اور انہیں آثم ومصر علی الکبیرہ (گناہ گار اور گناہِ کبیرہ پر اصرار کرنے والا۔ ت) قرار دینا روشِ فقہی سے یکسر دُور پڑنا ہے وباللہ التوفیق۔
.پھر اس کاغذ میں تو یقین بھی نہیں کہ پُڑیا ہی سے رنگاگیا ہو اور صرف گمان اگرچہ قوی ہو جب تک اس درجہ قوّت وشوکت کو نہ پہنچے کہ دوسرا احتمال اُس کے حضور محض مضمحل ومہجور ہوجائے ہرگز اصل طہارت کا معارض نہیں ہوسکتا
(جیسا کہ میں نے اللہ تعالٰی کی توفیق سے اپنے رسالہ الاحلی من السکر لطلبۃ سکرر وسر میں اس کی تحقیق کی ہے۔ ت)
اور جہاں مصری ناپاک ہوجائے تو اس کا پھینک دینا روا نہیں کہ اضاعتِ مال ہے اور اضاعتِ مال حرام بلکہ اگر اُس کے بڑے بڑے ٹکڑے دَلدار ہیں جن پر سے کھُرچ کر نجاست کو دُور کرسکتے ہیں جب تو یوں ہی کریں کہ یہ طریقہ بھی تطہیر کیلئے کافی ہے۔
کمانصوا علیہ فی مسئلۃ تقویر السمن کمافی الدر المختار وغیرہ من اسفار الکبار
(جیسا کہ فقہاءِ کرام نے گھی کھُرچنے کے مسئلہ میں بیان فرمایا جس طرح درمختار وغیرہ میں اکابر کی کتب سے منقول ہے۔ ت)
اور اگر ریزے ہیں جن پر سے کھُرچنا میسر نہیں یا نجاست جگر میں پَیر گئی کہ کھُرچے سے نہ جائے گی تو مصری کو قوام کریں کہ خوب رقیق وسیال ہوجائے اور اس کے ساتھ ہی دوسری مصری پاک بھی قوام کریں کہ وہ بھی اسی حالت پر آئے اب فوراً بحالت رقّت وسیلان ہی یہ پاک مصری اُس ناپاک کے برتن میں ڈالتے جائیں یہاں تک کہ بھر کر اُبلنے لگے اور قدرے بَہہ جائے سب پاک ہوگئی یا دونوں مصریوں پاک وناپاک کی دھار ملاکر تیسرے خالی برتن میں چھوڑیں کہ ناپاک مصری کی بوند نہ اس پاک سے پہلے اُس برتن میں پہنچے نہ بعد بلکہ ہوا میں دونوں کی دھار ایک ہوکر برتن میں گرے سب پاک ہوجائے گی کمابیناہ فی فتاوٰنا (جیسا کہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا ہے۔ ت) واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۸:ایضاً۔روسر کی شکر جیسی شاہجہان پور میں بنتی ہے اور اُس کی نسبت مشہور ہے کہ ہڈی کی راکھ سے صاف کی جاتی ہے کھانا جائز یا ناجائز۔ بینوا توجروا۔
الجواب: حلال ہے جب تک تحقیق نہ ہوکہ اس خاص شکر میں جو ہمارے سامنے رکھی ہے کوئی نجس یا حرام چیز ملی ہے محرر مذہب سیدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی فرماتے ہیں:
بہ ناخذ مالم نعرف شیئاحرما بعینہ ۱؎۔
ہم اسے اختیار کریں گے جب تک ہمیں کسی چیز کا بالذات حرام ہونا معلوم نہ ہو۔ (ت)
فقیر نے اس شکر کی تحقیق میں بحمداللہ تعالٰی ایک کافی ووافی رسالہ مسمّے بنام تاریخی
''الاحلی من السُّکَّر لطلبۃ سُکّرروسر۱۳۰۳ھ''
لکھا جس میں نہ صرف اس شکّر بلکہ اس قسم کی تمام چیزوں اور انگریزی دواؤں شربتوں وغیرہا کا حکم منقح کردیا اس باب میں بفضلہ تعالٰی وہ نفیس ضوابط لکھے جس سے ہر جزئیہ کا حکم بہ نہایت انجلا منکشف ہوسکے من شاء فلیرجع الیھا (جو چاہے اس کی طرف رجوع کرے۔ ت) واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۹:از رائے پور ڈاک خانہ ہنڈوان راج سوائی جے پور مرسلہ سیدمحمد نوازش علی صاحب۱۸ شعبان ۱۳۰۵ھ
بعد سلام سنّۃ الاسلام کے عرض یہ ہے کہ ایک سبوچہ سرکہ میں چھپکلی گر پڑی اور قریب چار پانچ منٹ کے سرکہ میں پڑی رہی بعد ازاں اسے زندہ نکال لیا کہ بھاگ گئی ایسی صورت میں اُس سرکہ کو کھانا چاہیے یا نہیں، اور حرام ہے یا مکروہ اور اگر سرکے میں مرجائے تو کیا حکم ہے، اور وہ سرکہ کس طرح پاک ہوسکتا ہے۔ جواب سے سرفرازی بخشیے فقط۔
الجواب: جبکہ وہ زندہ نکل آئی سرکہ پاک ہے۔
فی الدرالمختار لواخرج حیاولیس بنجس العین ولابہ حدث اوخبث لم ینزح شیئ الاان یدخل فمہ الماء فیعتبر بسؤرہ ۱؎۔
درمختار میں ہے اگر اسے زندہ نکالا گیا تو وہ نہ تو نجسِ عین ہے اور نہ ہی اس پر پاخانہ یا نجاست لگی ہوئی ہے تو کچھ بھی نہ نکالا جائے مگر یہ کہ اس کا منہ پانی تک پہنچ جائے پس (اس وقت) اس کے جھُوٹے کا اعتبار کیا جائیگا۔ (ت)
(۱؎ درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۳۹)
پھر اگر اس کا مُنہ سرکہ میں نہ ڈوبا بلکہ تیرتی ہی رہی تو اس سرکہ کا کھانا مکروہ تک نہیں اور ڈوب گیا تو غنی کیلئے کراہت تنزیہی ہے فقیر کے لئے اس قدر بھی نہیں۔
فی الدرالمختار سؤرسواکن البیوت طاھر للضرورۃ مکروہ تنزیھا ان وجد غیرہ والالم یکرہ اصلاکاکلہ لفقیر اھ ملخصا ۲؎۔
درمختار میں ہے گھروں میں رہنے والے جانوروں کا جھُوٹا ضرورت کے تحت پاک ہے اس کے سوا موجود ہو تو مکروہ تنزیہی ہے ورنہ بالکل مکروہ نہیں جیسے فقیر کیلئے اس کا کھانا (مکروہ نہیں) اھ ملخصا (ت)
(۲؎ درمختار فصل فی البئر مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱/۴۰)