Brailvi Books

فتاویٰ رضویہ جلد نمبر۴(کتاب الطہارۃ)
70 - 2323
مسئلہ۱۶۰: ازقصبہ نجیب آباد وضلع بجنور مرسلہ حافظ محمد ایاز صاحب    ۲۰ صفر ۱۳۳۲ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ جو شخص معذور ہے کہ پاخانہ کی جگہ سے اس کے کچھ چپک سا ہروقت آتا ہے تو اس کے واسطے حضور نے معذور کا حکم فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ وہ شخص ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کرے اور جو پانی غلیظ درہم سے کم ہو اور وہ بہتا بھی نہ ہو تو اُس سے وضو بھی نہیں ٹوٹتا، صورتِ اول میں جو ہر نماز کے واسطے تازہ وضو کی ضرورت ہے اُس وضو کو اگر قبل ازوقت کرلیا۔ مثلاً جمعہ کی نماز کے واسطے بارہ بجے وضو کرکے مسجد کو چلاگیا تو اس وضو سے نمازِ جمعہ اداہوگی یا نہیں اور یا نمازِ مغرب کے واسطے ایک گھنٹہ دن سے وضو کرلیا تو اس سے نمازِ مغرب اداہوگی یا نہیں یا مثلاً نمازِ تہجّد کے وقت جسم وغیرہ دھوکر صاف تہبند یعنی لنگوٹ پاجامہ کے اندر باندھ لیا اور وضو کرے نماز تہجّد وقرآن شریف وغیرہ وغیرہ صبح کی نماز تک پڑھتا رہا جب نماز کا وقت ہوا دو۲ رکعت سنّت صبح کی پڑھ کر مسجد میں جاکر فرض باجماعت اداکیا اور ازاں بعد طلوعِ آفتاب تک وہاں بیٹھا رہا بعد طلوع نمازِ اشراق سے فارغ ہوکر مکان کو آیا۔تو اب اُس تہجد کے وضو سے یہ سب نمازیں اس کی ہوگئیں یا بعد نماز تہجد کے صبح کی نماز کے واسطے مکرر وضو کرنا چاہے اور اُس کے بعد اشراق کے واسطے صبح کی نماز کا وضو کافی ہوگا یا اشراق کے واسطے پھر جدید وضو کرے۔

اور دوسری صورت کو جو غلاظت درہم سے کم ہو اور بہتی نہ ہو بلکہ لنگوٹ سے بار بار پُونچھ جائے اس کے واسطے وضو ونماز کا کیا حکم ہے عنداللہ وعند الرسول مع دلائل ارشاد فرمائیے ورنہ اسی فکر میں یہ عاجز ہمیشہ رہے گا واللہ تعالٰی اعلم آپ کو اجرِ عظیم وثوابِ جمیل عطا فرمائے۔
الجواب: مسئلہ کو پھر دیکھیے نہ بہنے کی صورت میں درم سے کم زائد کی کوئی تخصیص نہ تھی اگر بہنے کے قابل نہیں بلکہ کپڑا لگ کر چھڑا لاتا ہے تو نہ وہ معذور ہوا نہ وضو گیا نہ کپڑا ناپاک ہوا اگرچہ درم سے زائد بھر جائے اور اگر بہنے کے قابل ہے تو اس صورت میں معذور بتایا تھا اور اس میں بھی درم سے کم وزائد کی کوئی قید نہیں ہاں اس صورت میں کپڑا ناپاک ہونے کیلئے درم سے زائد بھرنے کی شرط ہے معذور کا وضو ہمارے نزدیک خروج وقت سے جاتا ہے دخول سے نہیں تو تہجّد کے وضو سے صبح نہیں پڑھ سکتا کہ وقتِ عشا خارج ہوگیا صبح کے وضو سے اشراق نہیں پڑھ سکتا کہ وقت صبح خارج ہوگیا اشراق کے وضو سے ظہر وجمعہ پڑھ سکتا ہے اس بیچ میں کسی فرض نماز کا وقت خارج نہ ہوا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۶۱ و ۱۶۳: از شہر محلہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب۲۸۔ذی القعدہ ۱۳۳۰ھ

(۱) معذور صبح کے وضو سے اشراق کی نماز پڑھ سکتا ہے یا نہیں۔

(۲) معذور نے ایسے آخر وقت میں نماز شروع کی کہ دوسرے وقت میں تمام ہُوئی مثلاً ظہر کی عصر میں یا عصر کی مغرب میں تو نماز ہوگئی یا اس کو پھر قضا پڑھے درصورت ثانیہ جب ایسا وقت آخر ہوگیا کہ نماز دوسرے وقت میں جاکر ختم ہوگی تو نماز پڑھ کر پھر اس کی قضا پڑھے یا نہ پڑھے جب تک وقت دوسرا نہ ہوجائے کہ پہلے نماز اول پڑھے پھر دوسری۔
الجواب:  (۱) نہیں کہ خروج وقت ناقضِ وضوء معذور ہے ہاں اشراق کے وضو سے آخر تک نمازیں فرض ونفل پڑھ سکتا ہے کہ دخولِ وقت ناقضِ وضو نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔

(۲) نماز بالاجماع باطل ہوگئی کہ خروجِ وقت ودخولِ وقت دونوں پائے گئے تو خلال نماز میں وضو جاتا رہا۔ ہاں اگر بعد قعدہ اخیرہ کے قبل سلام وقت جاتا رہے تو صاحبین کے نزدیک نماز ہوجائے گی اور امام کے نزدیک نہیں کمافی المسائل الاثنا عشریۃ (جیسا کہ بارہ مسائل والی صورت میں ہے۔ ت) اگر وقت قلیل رہ گیا اور خلال نماز میں خروج وقت کا اندیشہ ہے واجبات پر اقتصار کرے مثلاً ثنا وتعوذ ودرود دعا ترک کرے رکوع وسجود میں صرف ایک بار سبحٰنک کہے اور اگر واجبات کی بھی گنجائش نہیں تو بجائے فاتحہ صرف ایک آیت پڑھے غرض فرائض پر قناعت کرے اور خروج وقت مشکوک ہوجائے تو شک سے نہ وقت خارج مانا جائے گا نہ وضو ساقط
لان الیقین لایزول بالشک
 (اس لئے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا۔ ت) ہاں اگر اقتصار علی الفرائض پر بھی خروج وقت بالیقین ہوجائیگا تو اگر کسی امام کے نزدیک نماز ہوسکے گی اُس کے اتباع سے پڑھ لے
فان الاداء الجائز عند البعض اولی من الترک کمافی الدر ۱؎
(بلاشبہ ایسی ادائیگی جو بعض کے نزدیک جائز ہو، چھوڑنے کی نسبت اولٰی ہے جیسا کہ دُرمختار میں ہے۔ ت) پھر قضا پڑھے اس وقت مذاہب دیگر کی طرف مراجعت کی مہلت نہ ملی۔ واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ درمختار    کتاب الصلاۃ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۶۱)
مسئلہ ۱۶۲:مسئولہ منشی حفیظ الدین صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ خیر المعاد ضلع رہتک۲۶محرم ۱۳۳۸ھ۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص بعا رضہ بواسیر سخت مبتلا ہے اور اس کی یہ حالت ہے کہ شب وروز تمام مسّے مقعد سے باہر نکلے ہوئے رہتے ہیں اور اُن میں سے ہر وقت رطوبت جاری رہتی ہے اور پاجامہ یا تہبند کو لگتی رہتی ہے اس سے بچاؤ اُس شخص کو غیر ممکن ہے کسی صورت سے وہ اپنا کپڑا نہیں بچاسکتا۔ اگر نیچے لنگوٹ رکھتا ہے تو وہ بھی زیادہ دیر میں تر ہوکر پارچہ تہبند یا پاجامہ کو ناپاک کردیتا ہے ہاں بعد فراغ اجابت طہارت تو وہ بخوبی باقاعدہ کرلیتا ہے رطوبت مسّوں سے کپڑا اس کا کسی صورت سے پاک نہیں رہ سکتا پس ایسا شخص بغیر پاک کیے کپڑے کے ویسی حالت میں نماز اداکرے تو یہ نماز اس کی جائز ہے یا نہیں بموجب شرع شریف کے ہدایت فرماؤ کہ اللہ تعالٰی اس کی جزا دینے والا ہے۔
الجواب: مسّوں سے اگر رطوبت بہہ کر نہ نکلے بلکہ ان کی سطح بالاتر پرتری ہوکہ کپڑا لگ کر چھڑا لائے جب تو اُس سے کپڑا ناپاک نہ ہوگا بے تکلّف نماز پڑھے اور اس تقدیر پر اُس کے نکلنے سے وضو بھی نہ جائے گا لان مالیس بحدث لیس بنجس (کیونکہ جو چیز حدث نہیں وہ ناپاک بھی نہیں۔ ت) ہاں جبکہ بہہ کر نکلتی ہے تو وضو کی بھی ناقض ہے اور درم بھر سے زائد جگہ میں ہو تو کپڑا بھی نجس کرے گی جبکہ وہ ہر وقت نکلتی ہے تو اُسے حکم معذور ہے پانچ وقت تازہ وضو کرے۔ رہا کپڑا اگر سمجھتا ہے کہ پاک کپڑا بدل کر فرض پڑھے گا تو اُس کے ایک درم سے زائد بھرنے سے پیشتر فرض ادا کرلے گا جب تو اُس پر لازم ہے کہ ہر وقت پاک کپڑا بدلے اور اگر جانتا ہے کہ فرض پڑھنے کی مہلت نہ ملے گی اور کپڑا پھر اُتنا ہی ناپاک ہوجائیگا تو اُسے معافی ہے اُسی کپڑے سے پڑھے
لایکلّف اللّٰہ نفساً اِلاّ وسعھا ۱؎
 (اللہ تعالٰی کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ القرآن    ۲/۲۸۶)
باب الانجاس

(نجاستوں کا بیان)
مسئلہ ۱۶۴: از مارہرہ مطہرہ باغ پختہ مرسلہ جناب سید محمد ابراہیم صاحب    ۱۳ رجب ۱۳۰۶ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہاتھی دانت کا استعمال کرنا کیسا ہے اگر سُرمہ دانی دندان فیل کی ہو یا چوب دستی پر نصب کیا جائے تو رکھنا ان کا جائز ہے یا نہیں۔ بینوا توجروا۔
الجواب جائز ہے۔ اخرج البھیقی عن بقیۃ عن عمروبن خالدعن قتادہ عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان یمتشط بمشط من عاج ۱
بہیقی نے بقیہ سے عمروبن خالد سے قتادہ سے انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہٖ وسلم عاج کا کنگھا کرتے تھے۔ (ت)
 (۱؎ السنن الکبرٰی للبیہقی ،  باب المنع من الادھان فی عظام الفیلۃ، مطبوعہ دار صادر بیروت ، ۱/۲۶)
مراقی الفلاح میں ہے: انہ (یعنی الفیل) کسائر السباع فی الاصح ۲؎ الخ واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
اصح قول کے مطابق ہاتھی باقی درندوں کی طرح ہے واللہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔ (ت)
(۲؎ مراقی الفلاح علی حاشیۃ الطحطاوی   فصل یطہر جلد المیتۃ    نور محمد کارخانہ تجارت کراچی    ص۸۹)
مسئلہ ۱۶۵:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ چُوہا راب کے گھڑے میں گر کر مر گیا پھُولا پھٹانہ تھا نکال دیا۔ یہ راب پاک یاناپاک، اور طریقہ تطہیر کیا ہے۔ بینوّوا توجّروا۔
الجواب اگر وہ راب جمی ہوئی ہے جب تو چوہے کی گرد کی تھوڑی راب نکال دیں باقی سب پاک ہے۔
فقدعُدَّ فی الدرالمختار وغیرہ التقویر من المطھرات ۳؎ ۔
دُرمختار وغیرہ میں کُھرچ کر نکالنے کو پاک کرنے والی چیزوں میں شمار کیا گیا ہے۔
  ( ۳؎ درمختار باب الانجاس        مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۵۴)
قال العلامۃ الشامی ای تقویر نحو سمن جامد من جوانب النجاسۃ وخرج بالجامد المائع وھو ماینضم بعضہ الی بعض فانہ ینجس کلہ مالم یبلغ القدر الکثیر اھ فتح ۴؎ اھ ملخصا۔
علامہ شامی نے فرمایا اس کا مطلب یہ ہے کہ نجاست کے اطراف میں جما ہوا (مثلاً) گھی کھُرچنا، لفظ ''جامد'' سے مائع نکل گیا یعنی جو ایک دوسرے سے ملا ہوا ہو وہ تمام کا تمام ناپاک ہے جب تک کثیر کی حد کو نہ پہنچے اھ فتح القدیر، انتہی (خلاصہ)۔ (ت)
 (۴؎ ردالمحتار    باب الانجاس   مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۱)
اور اگر پتلی تھی تو سب ناپاک ہوگئی اور اس کے پاک کرنے کے دو طریقے ہیں: ایک یہ کہ جس قدر راب ہواُتنا ہی پانی اُس میں ملاکر جوش دیں یہاں تک کہ پانی جل جائے، تین بار ایسا ہی کریں مگر اس میں وقت ہے اور عجب نہیں کہ راب خراب ہوجائے۔
قال العلامۃ خسروفی الدرر لوتنجس العسل فتطھیرہ ان یصب فیہ ماء بقدرہ فیغلی حتی یعود الی مکانہ ھکذا ثلث مرات ۱؎ اھ ملخصا۔
  ( ۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام    باب تطہیر الانجاس        مطبوعہ دار السعادۃ بیروت    ۱/۴۵)
علامہ خسرو نے الدرر میں فرمایا: اگر شہد ناپاک ہوجائے تو اسے پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اس میں اتنا ہی پانی ڈال کر جوش دیا جائے یہاں تک کہ صرف شہد رہ جائے تین بار اسی طرح کیا جائے (انتہی) تلخیص۔
وفی ردالمحتار عن شرح الشیخ اسمٰعیل عن جامع الفتاوی ھذا عند ابی یوسف خلافا لمحمد وھو اوسع وعلیہ الفتوی ۲؎ اھ۔
اور ردالمحتار میں شرح شیخ اسمٰعیل سے ہے انہوں نے جامع الفتاوٰی سے نقل کیا کہ یہ حضرت امام ابویوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہے امام محمد رحمہ اللہ کا اس میں اختلاف ہے، لیکن اس میں زیادہ وسعت ہے اور اسی پر فتوٰی ہے۔ اھ (ت)
 (۲؎ ردالمحتار، مطلب فی تطہیر الدھن والعسل    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۲۴۵)
اور تحقیق یہ ہے کہ پانی ملاکر جوش دینا کچھ شرط نہیں اصل مقصود یہ ہے کہ پانی کے اجزاء اس شَے کے اجزا سے خوب خلط ہوکر پانی تین بار جُدا ہوجائے یہ بات اگر صرف پانی ملاکر حرکت دینے سے حاصل ہوجائے کافی ہے۔
کماصرح بہ فی مجمع الروایۃ وشرح القدوری وحققہ العلامۃ الخیر الرملی فی فتاواہ وایدہ العلامۃ الشامی فی ردالمحتار فراجعہ۔
جیسا کہ مجمع الروایۃ اور شرح قدوری میں اس کی تصریح کی گئی ہے، علّامہ رملی نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق فرمائی اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں اس کی تائید کی ہے پس اس کی طرف رجوع کرو۔ (ت)
دُوسرا طریقہ سہل وعمدہ یہ ہے کہ اُس میں ویسی ہی پتلی راب ڈالتے رہیں یہاں تک کہ بھر کر ابلنا شروع ہو اور اُبل کر ہاتھ دو ہاتھ بہہ جائے سارا گھڑا پاک ہوجائے گا یا دُوسرے گھڑے میں پاک راب لیں اور دونوں کو بلندی پر رکھیں نیچے خالی دیگچہ رکھ لیں اُوپر سے دونوں گھڑوں کی دھاریں ملاکر چھوڑیں کہ ہوا میں دونوں مل کر ایک دھار ہوکر دیگچہ میں پہنچیں ساری راب پاک ہوجائے گی،یوں راب ضائع بھی نہ ہوجائے گی مگر اس میں احتیاط یہ ہے کہ ناپاک راب کی کوئی بُوند دیگچہ میں پاک راب سے نہ پہلے پہنچے نہ بعد، ورنہ وہ پاک بھی ناپاک ہوجائیگی لہذا بہتر یوں ہے کہ پاک کی دھار پہلے چھوڑیں بعدہ، اس میں ناپاک کی دھار ملائیں اور ناپاک کا ہاتھ پہلے روک لیں بعدہ، پاک کا ہاتھ روکیں اس میں اگر ناپاک راب گھڑے میں باقی رہ جائے اور پاک ختم ہوجائے دوبارہ پاک گھڑے میں دیگچہ سے بھر لیں اور باقیماندہ کے ساتھ جاری کردیں کہ دیگچہ میں جتنی پہنچ چکی ہے پاک ہوئی ہے اور یہ طریقے کچھ راب ہی سے خاص نہیں ہر بہتی چیز اپنی جنس سے ملاکر یونہی پاک کرسکتے ہیں دودھ سے دودھ، تیل سے تیل، سرکہ سے سرکہ، رس سے رس وعلٰی ہذا القیاس۔
فی القھستانی المائع کالماء والدبس وغیرھما طھارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ کماروی عن محمد کمافی التمرتاشی واما بالخلط مع الماء ۱؎ الخ۔
قہستانی میں ہے مائع، جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ کو اس کی جنس سے ملاکر دھار چھوڑنے سے پاک ہوجاتا ہے جیسا کہ امام محمد رحمہ اللہ سے مروی ہے، تمرتاشی میں ایسے ہی ہے، اوریا پانی کے ساتھ ملاکر پاک کیا جائے الخ۔ (ت)

اس مسئلہ کی تحقیق تام ردالمحتار میں ہے۔ من شاء فلیرجع الیہ ۲؎ (جو تحقیق حاصل کرنا چاہے وہ ردالمحتار کی طرف رجوع کرے الخ۔ ت) واللہ تعالٰی اعلم۔
 (۱؎ جامع الرموز    فصل یطہر الشیئ الخ    مطبوعہ المکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران    ۱/۹۵)

(۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ   مطبوعہ مجتبائی دہلی ، ۱/۱۲۴)
مسئلہ ۱۶۶:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ حالتِ جنابت میں اگر پسینہ آئے اور کپڑے تر ہوجائیں تو نجس ہوجائیں گے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔
الجواب: نہیں جنب کا پسینہ مثل اس کے لعاِب دہن کے پاک ہے۔
فی الدرالمختار سؤر الآدمی مطلقا ولوجنبا اوکافرا طاھر وحکم العرق کسؤر اھ ملخصا ۳؎ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔
درمختار میں ہے: ''آدمی کا جھُوٹا مطلقاً پاک ہے چاہے جنبی ہو یا کافر ہو، اور پسینے کا حکم جھُوٹے جیسا ہے (انتہی) ملخصاً واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت)
 (۳؎ درمختار     باب المیاہ      مطبوعہ مجتبائی دہلی     ۱/۴۰)
Flag Counter